’چیف صاحب تاریخ کے کٹہرے میں ہیں‘
20 جنوری 2019 2019-01-20

ہر شخص میاں ثاقب نثار نہیں ہو سکتا، دنیا او رآخرت کے ہر خوف سے بے پروا، ہر جج سابق چیف جسٹس بھی نہیں ہوسکتا جو یہ کہے کہ آئین وہ ہے جو وہ کہے۔ اس کے لئے بڑی ہمت اور جرا¿ت درکار ہوتی ہے ورنہ بھلا یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ آپ کی ماتحت عدالتوں میں انیس لاکھ مقدمات پھنسے ہوئے ہوں، تین ڈویژنوں میں عدالتی نظام مکمل طور پر بند پڑا ہو اور خود آپ کی ناک کے نیچے زیر سماعت مقدمات تیس ہزار سے بڑھ کے چالیس ہزار ہوجائیں اور آپ میڈیا کو ساتھ لے کرسرکاری اور نجی ہسپتالوں میں برتن بجاتے پھر رہے ہوں۔

کیا یہ دلچسپ امر نہیں کہ جناب ثاقب نثار سابق وزیراعظم محمد نواز شریف کے ہاتھوں 29 مارچ 1997 کو سیکرٹری انصاف و قانون بنائے گئے اورتاریخ میں پہلی بار ایسا ہوا کہ بار کے کسی عہدے دار کو سرکاری ذمہ داری دی گئی ہوکہ وہ نواز شریف کی پہلی وزارت عظمیٰ میں لاہور ہائی کورٹ بار کے سیکرٹری منتخب ہو چکے تھے، نجانے مجھے یہاں ایوب خان کیوں یاد آ گئے جو فوج کے سربراہ تھے اور حکومت کو مضبوط رکھنے کے لئے وزیر دفاع بنا دئیے گئے تھے۔ میاںثاقب نثار22 مئی1998 کو صدر رفیق تارڑ کے ہاتھوں لاہور ہائی کورٹ کے جج بنے اور یہ دور بھی میاں نواز شریف کا ہی تھا جب انہوں نے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کا عہد ہ سنبھالا۔ میں یہ نہیں کہتا کہ انہیں نواز شریف کا کوئی حق نمک ادا کرناچاہئے تھا مگر میں جو کہنا چاہتا ہوں وہ سوشل میدٰیا پرا یک بڑی ہستی سے منسوب قول کی صورت پہلے سے معروف ہے کہ جس پر احسان کرو اس کے شر سے بچو، ایک دوسرا قول یہ ہے کہ انسان اپنی غلطیوں کی سزا دنیا میں ہی بھگت لیتا ہے۔

کیا میاں نواز شریف نے میاں ثاقب نثار پر کوئی احسان کیا تھا تو اس کا جواب فریقین ہی دے سکتے ہیں مگر میرا خیال ہے کہ یہاں میرے کالم کو یوٹرن لے لینا چاہئے اور بات میاں نوا زشریف پر آجانی چاہئے جن کا المیہ ہے کہ انہیں انسانوںکی پہچان ہی نہیں ہے۔ نواز شریف اور شہباز شریف جس شخص کے جوتے سیدھے کرتے رہے، مکے مدینے جسے اپنے کندھوں پر بٹھا کے دوڑیں لگاتے رہے، جسے اتفاق مسجد کا امام بنا کے عزت دولت اور شہرت دی وہ اسے بھی اپنا نہیں بنا سکے۔ ان کے والد نے جس شخص کو آج سے عشروں پہلے پچاس کروڑ روپے دئیے تاکہ وہ اپنی والدہ کی یاد میں ایک ہسپتا ل بنا سکے ، انہوں نے بطور وزیراعلیٰ انہیں قیمتی پلاٹ الاٹ کئے اور پھر جا کے اس ہسپتال کا سنگ بنیاد بھی رکھا وہی شخص ان کا بدترین دشمن بن گیا تو ایسے میں میاں ثاقب نثار پر تو ان کے کچھ ایسے بڑے احسانات بھی نہیں تھے، بھلا عہدہ اور عزت دے دینا کہاں کابڑا احسان ہے۔ مسئلہ ان شخصیات کے ساتھ نہیں بلکہ نواز شریف کے ساتھ ہے کہ وہ جس نیب کے ہاتھوں خاندان اور پارٹی سمیت ذلیل ہو رہے ہیں اس کے سربراہ کی تعیناتی بھی ان ہی کے ہاتھوں ہوئی ہے۔اس ریکارڈ کو کون جھٹلا سکتا ہے کہ جناب ثاقب نثارنے بطور چیف جسٹس جو عدالتی تاریخ لکھی ہے اس میں ایک ہی سیاسی جماعت کٹہرے میں کھڑی نظر آتی ہے۔ درست، پاناما والے بنچ میں جناب ثاقب نثار خود شامل نہیں تھے مگر جناب عمران خان کا یہ بیان گواہی ہے جس میں انہوں نے چیف جسٹس سے ملاقات کے بعد پاناما کیس کا کریڈٹ جناب ثاقب نثار کو ہی دیا۔ نواز شریف کو ایک ایسے مقدمے میں وزارت عظمیٰ سے ہی نااہل نہیں کیا جسے پہلے رجسٹرار سپریم کورٹ کی طرف سے مسترد کیا جا چکا تھا بلکہ اس مقدمے کے سینکڑوں ملزمان میں سے سزا پانے والے وہ واحد باپ بیٹی تھے، جس بنیاد پر نااہلی ہوئی وہ درخواست کاحصہ ہی نہیں تھی اور یہ کہ نواز شریف براہ راست کسی آف شور کمپنی کے مالک بھی قرار نہیں پائے تھے اور جو سیاستدان آف شور کمپنیوں کے مالک تھے وہ صادق او رامین قرار ٹھہرے، ان کی ناجائز تعمیرات کو ریگولرائز کرنے کا حکم آیا، ناجائز اولاد کے الزام کو لفٹ ہی نہیں کروائی گئی، پارٹی فنڈنگ میں گھپلوں کی طرف نظر ہی نہیں کی گئی اور صدقات و عطیات کے غبن کودیکھا ہی نہیں گیا۔ پنجاب میں مقدمات اور تفتیش میں ایک پہلو مدنظر رکھاجاتا ہے کہ کسی بھی جرم سے فائدہ کس کو پہنچ رہا ہے، اس سے بہت ساری گتھیاں سلجھ جاتی ہیں۔

میں اپنے روایتی علم اور فہم سے یہی جانتا ہوں کہ ججوں کو سماجی تقریبات اور مالی معاملات سے دور رہنا چاہئے مگر وہ آبادی کنٹرول کرنے کی مہم چلانے سے بڑھ کے ڈیم بنارہے اورکروڑوںروپوں کے چیک اپنے ہاتھوں سے وصول کر رہے تھے۔ بحریہ ٹاون کے مالک کا مقدمہ بھی تاریخ کا انوکھا ترین مقدمہ ہو گا جس میں ملک کی اعلیٰ ترین عدالت مطالبہ کر رہی تھی کہ ایک ہزار ارب روپے دے دیں تو ان کے تمام مقدمات ختم کر دئیے جائیں گے۔ ہم سب نے ان کی تصاویر ایک ایسے وفاقی وزیر کے ساتھ دیکھیں جس نے اپنے محکمے میں ڈیم کی تعمیر کے لئے ٹیکس لگا دیا۔ اگر قانون کی حکمرانی ہوتی تو پوچھا جاتا کہ ایک وزیر اپنی حیثیت میں بغیر کابینہ اور پارلیمنٹ کی منظوری کے ٹیکس کیسے عائد کر سکتا ہے، جی ہاں، میں ریلوے کی بات کر رہا ہوں۔ آئین ، قانون اور ضوابط کی رو سے ریلوے کے مسافروں پر عائد کیا جانے والا ڈیم ٹیکس غیر قانونی ہے۔ چیف جسٹس صاحب ا س غیر قانونی ٹیکس کے چیک وصول کرتے رہے۔ مسلم لیگ نون کے سینیٹر نااہل کئے گئے تو وہی سیٹیں نئی اسمبلیوں کے ذریعے پی ٹی آئی کی جھولی میں گر گئیں، مسلم لیگ نون کے سینٹ میں امیدواروں کو آزاد ڈیکلئیر کر دیا گیا جس کے نتیجے میں ان کے لوٹے ہونے کے راستے کھل گئے۔ مسلم لیگ نون کے سینیٹراپنی دوہری شہریت سرنڈر کرنے کے باوجود نااہل ہوئے مگر وزیراعظم کے معاون خصوصی قانونی تشریحات کی بنیاد پر اہل رہے۔انصاف کی بڑی شرط یہ ہے کہ انصاف ہونا ہی نہیں چاہئے بلکہ ہوتا ہوا نظر بھی آنا چاہئے۔ سابق چیف جسٹس کے فیصلے پہلے سے معلوم ہوتے تھے اور اس علم کی بنیاد آئین، قانون،دلائل اورعدالتی روایات نہیں بلکہ ان کا رویہ اور رحجان ہوتا تھا۔ وہ سوو موٹو کے ذریعے اپنے اقدامات میں سابق چیف جسٹس افتخار محمد چودھری سے کچھ قدم آ گے گئے اور امید کی جا رہی ہے کہ تاریخ کے اوراق میں بھی ان سے اتنے ہی آگے جائیں گے۔ اب وہ منصف اعلیٰ کی کرسی پر نہیں بلکہ تاریخ کے کٹہرے میں کھڑے ہیں۔ جب سیاستدانوں کے علاوہ کوئی دوسرا شخص کرسی سے اترتا ہے تووہ تاریخ کی گہرائیوں میں گم ہوجاتا ہے حالانکہ اس کے لےے پہلے فیض کے مصرعوں پر بینرز لگ رہے ہوتے ہیں’ منصف ہو تو اب حشر اٹھا کیوں نہیں دیتے‘۔ اطلاعات کے مطابق جناب ثاقب نثار کے عہدہ چھوڑتے ہی اس ڈیم فنڈ میں رقوم کی آمد کا سلسلہ رک گیا ہے جو اب تک نو ارب روپوں تک پہنچ چکی تھیں اوربہت سارے ٹی وی چینلوں نے وہ مفت اشتہار چلانے بند کر دئیے ہیں جو ایک اندازے کے مطابق اب تک چودہ ارب روپے مالیت تک کا ائیرٹائم لے چکے تھے۔

سابق چیف جسٹس نے بہت باتیں کیں، ان کی آبزرویشنز کے الفاظ کی تعداد ہزاروں، لاکھوں او رکروڑوں تک ہو سکتی ہے مگر تاریخ الفاظ سے نہیں بلکہ اعمال سے لکھی جاتی ہے۔ انہوں نے بلاشبہ باتیں بہت اچھی کی ہوں گی مگر ان کے اقدامات، اپنے اثرات اور نتائج کے حوالے سے، اُن کے بہت سارے پیش رووں جیسے ہی تھے۔مجھے نئے چیف جسٹس جناب آصف سعید کھوسہ کی تقریر نے بہت حوصلہ دیا جس میں انہوں نے بھی قرضے اتارنے کی بات کی اور وہ قرضے انیس لاکھ مقدمات کے ہیں، انہوں نے بھی ڈیم بنانے کی بات کی اور وہ ڈیم جھوٹی گواہیوں اورمقدمات میں التوا کے خلاف ہیں مگر مجھے ایک فیملی پکچر نے چونکا دیاہے۔ کہتے ہیں کہ جب نواز شریف کو نااہل کیا جا رہا تھا تو اس وقت بھی ایک فیملی جوش و خروش کے ساتھ فیصلہ سننے کے لئے کورٹ روم میں موجود تھی۔


ای پیپر