Sajid Hussain Malik columns,urdu columns,epaper,urdu news papers
20 فروری 2021 (12:43) 2021-02-20

سینیٹ کی اسلام آباد اور چاروں صوبوں سے خالی ہونے والی 48نشستوں کے لیے کاغذاتِ نامزدگی جمع کرانے کا مرحلہ مکمل ہو چکا ہے۔ ان سطور کی اشاعت تک کاغذاتِ نامزدگی کی جانچ پڑتال بھی شاید ہو چکی ہوگی۔ تاہم کاغذاتِ نامزدگی کی واپسی کی آخری تاریخ 25فروری ابھی دور ہے لیکن پھر بھی سمجھا جا سکتا ہے کہ اس تاریخ سے قبل سینیٹ کے انتخابات سے متعلقہ کچھ دوسرے معاملات جن کا تعلق اگرچہ الیکشن کمیشن کی طرف سے جاری کردہ سینیٹ الیکشن کے شیڈول سے نہیں بنتا ہے لیکن اُمیدواروں کی جیت ہار سے ضرور بنتا ہے ، طے پا چکے ہونگے۔ میرا اشارہ سینیٹ کے انتخابات میں بعض امیدواروں کی طرف سے اپنے لیے مطلوبہ ووٹوں کے حصول کو یقینی بنانے وغیرہ کے معاملات سے ہے۔ ایسا ماضی میں بھی ہوتا رہا ہے اور اب بھی اس کا قوی امکان موجود ہے کہ چاروں صوبائی اسمبلیوں اور قومی اسمبلی کے بعض ارکان اپنی پارٹیوں کے نامزد امیدواروں کے بجائے کسی دوسرے امیدوار کو ووٹ دے کر ’’اپنی دنیا سنوارنے‘‘کی راہ اختیار کر لیں۔ یہ اسی صورت میں آسانی سے ہو سکتا ہے جب ماضی کی طرح سینیٹ انتخابات آئین کی دفعہ 226کے تحت خفیہ بیلٹ کے ذریعے سر انجام پائیں۔ اگر سپریم کورٹ سینیٹ کے انتخابات کے لیے صدارتی ریفرنس میں تجویز کردہ اُوپن بیلٹ کے طریقہ کار کے حق میں رائے یا فیصلہ دیتی ہے تو پھر یہ کہا جا سکتا ہے کہ ووٹوں کی خرید و فروخت یا ہارس ٹریڈنگ اس طرح کھلم کھلا نہ ہو سکے گی جیسے ماضی میں ہوتی رہی ہے۔ تاہم ماضی کے برعکس اس بات کے پوری طرح امکانات موجو د ہیں کہ سیاسی جماعتوں کے بعض ارکا ن خاص طور پر برسراقتدار ارجماعت تحریک انصاف کے کچھ ارکان جو اپنی جماعت کی اعلیٰ قیادت سے بوجوہ شاکی ہیں اور وقتاً فوقتاً اس کا اظہار بھی کرتے رہے ہیں۔ وہ ہر چہ بادہ باد کرتے ہوئے اپنی جماعت کے نامزد امیدواروں کو ووٹ دینے کے بجائے کسی آزاد امیدوار یا کسی دوسری جماعت سے تعلق رکھنے والے امیدواروں کو ووٹ دینے کا فیصلہ کر لیں۔ اس طرح کا فیصلہ صرف ہارس ٹریڈنگ کے نتیجے میں ہی سامنے نہیں آسکتا بلکہ کسی دوسری جماعت کے نامزد امیدوار کے وسیع تر ذاتی تعلقات ، اثر و رسوخ یا کسی اور طرف سے دباؤ کے نتیجے میں بھی سامنے آ سکتا ہے۔ ایسا اگر کچھ نہیں ہوتا تو بھی یہ کہنا شاید غلط نہ ہو کہ تحریک انصاف کی اعلیٰ قیادت کو بہرکیف اس بات کے لالے ضرور پڑے ہوئے ہیں کہ سینیٹ انتخابات میں امکانی طور پر جنوبی پنجاب سے تعلق رکھنے والے ان کے کچھ ارکان قومی اسمبلی یا ان کی اتحادی جماعتوں کے کچھ ارکان یا پھر پنجاب اور خیبر پختونخوا کی صوبائی اسمبلیوں کے کچھ ارکان اپنی پارٹی کے نامزد امیدواروں کو ووٹ دینے کے بجائے مخالف جماعتوں کے نامزد یا آزاد امیدواروں کو ووٹ دے سکتے ہیں اس ضمن میں ملتان سے تعلق رکھنے والے سابق وزیر اعظم جناب یوسف رضا گیلانی کاحوالہ دیا جا سکتا ہے جنہیں PDM کی جماعتوں نے اسلام آباد کی جنرل نشست سے(جس کا چناؤ قومی اسمبلی کے اکثریتی ارکان نے کرنا ہے) اپنے متفقہ امیدوار کے طور پر نامزد کر رکھا ہے۔ جناب یوسف رضا گیلانی جو سینئر صحافی اور معروف کالم نگار جناب نصرت جاوید کے مطابق کچے پر پاؤں رکھنے کے عادی نہیں، خاندانی سیاستدان ہیں۔ ایسے افراد خواہ مخواہ کی مشقت برداشت کرنے کو تیار نہیں ہوتے ۔ ان کی اسلام آباد کی جنرل نشست پرPDMکی طرف سے نامزدگی یقینا خالی از علت نہیں ہو سکتی۔ 

سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کی کامیابی کا کس حد تک امکان ہے اس کا تذکرہ آگے چل کر آئے گا۔ پہلے سینیٹ انتخابات کے حوالے سے ایک آدھ ہفتہ قبل وائرل ہونے والی اس ہنگامہ خیز ویڈیو کا تھوڑا ساذکر کرلیتے ہیں جس نے میڈیا کے حلقوں میں ہی نہیں بلکہ سیاسی حلقوں بالخصوص تحریک انصاف کے حلقوں میں ایک طرح کی تھرتھلی مچا رکھی ہے۔ اس ویڈیو میں مارچ 2018ء میں منعقدہ سینیٹ کے انتخابات کے دوران خیبر پختونخوا اسمبلی کے تحریک انصاف سے تعلق رکھنے والے تقریباً ڈیڑھ درجن ارکان کو جہاں نوٹوں کے ڈھیر سمیٹتے ہوئے دکھایاگیا ہے وہاں ویڈیو کے ایک مرکزی کردار کا یہ دعویٰ بھی سامنے آیا ہے کہ تحریک انصاف کے ارکان کی طرف سے نوٹوں کے ڈھیر سمیٹنے کا عمل اُس وقت کے وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا پرویز خٹک کی آشیرباد اور پیشگی منظوری سے اس وقت کے سپیکر خیبر پختونخوا اسمبلی جناب اسد قیصر کی سرکاری رہائش گاہ پر سر انجام پایا۔ یہ ویڈیو کیا ہے اور اس کی حقیقت کیا ہے اس کے بارے میں انتہائی باخبر صحافی اور اینکر پرسن محترم سلیم صافی جن کا اپنا تعلق خیبر پختونخوا سے ہے اور وہ خیبر پختونخوا کی جماعتی اور غیر جماعتی سیاست پر ایک طرح کی اتھارٹی کی حیثیت رکھتے ہیں وہ ’’سینیٹ انتخابات کی منڈی اور تحریک انصاف‘‘ کے عنوان سے چھپنے والے اپنے کالم میں اس طرح رقم طراز ہیں۔ ’’ایک طرف سینیٹ کے انتخابات کی منڈی لگ گئی ہے اور دوسری طرف عدالت کو دباؤ میں لانے کے لئے حکومت کی طرف سے اس کے گزشتہ انتخابات میں خیبر پختونخوا کے ممبران کی خریداری کی ویڈیو لیک کی گئی۔ اس ویڈیو کو اس دلیل کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے کہ پی ٹی آئی اس عمل کو ختم کرنے کے لیے سینیٹ کے انتخابات کا طریقہ تبدیل کرنا چاہتی ہے۔ اگرچہ ابھی وہ کچھ اور کہہ رہے ہیں لیکن یہ ویڈیو عمران خان صاحب کے اعلان کے مطابق انہوں نے 2018ء میں دیکھی تھی ۔ صرف یہ ایک ویڈیو نہیں بلکہ یہ میری معلومات کے مطابق ایسی ایک درجن سے زائد ویڈیوز عمران خان کو فراہم کی گئی تھیں۔ ان میں سے صرف چند حصے اس ویڈیو میں ایڈٹ کرکے لیک کئے گئے ہیں۔ ۔۔۔۔ میں لکھ چکا ہوں 2018ء کے انتخابات میں جب یہ اندازہ ہوا کہ پی ٹی آئی کے ممبران بھی درجنوں کی تعداد میں بکیں گے تو خود پی ٹی آئی نے امیر لوگوں کو ٹکٹ دے کر اپنے ایم پی ایز سے کہا کہ وہ دوسروں کے ہاں نہ بکیں کیونکہ ان کو اپنے امیدوار بھی پیسے دیں گے۔ یوں یہ بات ریکارڈ پر ہے کہ پی ٹی آئی کے ممبران جنہوں نے خود اپنے امیدواروں کو ٹکٹ دیے ان کو بھی پیسے دیئے گئے‘‘۔ 

اس ویڈیو کے بارے میں کچھ اور بھی تبصرے اور تجزیے کئے جا سکتے ہیں لیکن انتہائی معتبر، مستند ،نیک نام، تجزیہ نگار، اینکر پرسن اور سینئر صحافی سید طلعت حسین نے اپنے یوٹیوب چینل STHپر جو تبصرہ اور تجزیہ کیا ہے وہ بلاشبہ انتہائی معلومات افزا ، فکر انگیز اور چونکا دینے والا ہے۔ ان کے کہنے کے مطابق یہ پیسے لینے والے پی ٹی آئی کے ہیرے تھے۔ پیسے دینے والے بھی پی ٹی آئی کے لو گ تھے۔ یہ ویڈیو مارچ 2018ء کے سینیٹ کے انتخابات کے موقع پر اس وقت کی خیبرپختونخوا کی تحریک انصاف کی صوبائی حکومت کی ایما پر بنائی گئی۔ تحریک انصاف کے قائد عمران خان نے 2018ء کی اپنی انتخابی مہم کے دوران کئی عام جلسوں میں اس ویڈیو کا ذکر کیا ۔ اس میں نظر آنے والے اس وقت کے رکن اسمبلی سلطان محمود کو 2018ء کے عام انتخابات میں پی ٹی آئی کا ٹکٹ دیا گیا اور کامیابی کے بعد سلطان محمود کو خیبرپختونخوا کی موجودہ حکومت میں وزیرِ قانون بنا دیا گیا۔ ہفتہ عشرہ قبل اس ویڈیو کے سامنے آنے کے بعد سلطان محمود نے اپنی پارٹی کے سربراہ عمران خان کی ہدایت پر وزارت سے استعفیٰ دے کر یہ ظاہر کیا ہے کہ وہ بے گناہ ہیںاسی طرح عمران خان بھی یہ ظاہر کر رہے ہیں جیسے کہ یہ ویڈیو پہلی دفعہ ان کے سامنے آئی ہے اور وہ اس کی بنا پر اپنے ارکان کے خلاف تادیبی کارروائی کر رہے ہیں۔ ویڈیو کا تذکرہ اور بھی پھیل سکتا ہے لیکن واپس جناب یوسف رضا گیلانی کی سینیٹ کے انتخاب میں کامیابی یا ناکامی کے امکان کی طرف آتے ہیں۔ 

 اس ضمن میں معروف سینئر صحافی اور کالم نگار جناب نصرت جاوید ایک قومی معاصر میں ’’یوسف رضا گیلانی بمقابلہ حفیظ شیخ‘‘کے عنوان سے چھپنے والے اپنے کالم میں لکھتے ہیں۔ ’’بظاہر عمران حکومت کو قومی اسمبلی میں کمزور ہی سہی اکثریت یقینی طور پر میسر ہے۔ تحریک انصاف کے نامزد کردہ ڈاکٹر حفیظ شیخ کو لہٰذا بآسانی واک اوور مل جانا چاہیے۔ ایوانِ بالا میں لیکن چند ماہ قبل صادق سنجرانی کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش ہوئی تو اپوزیشن کی نشستوں سے 104کے ایوان میں سے 64اراکین اس کی حمایت میں کھڑے ہوئے تھے ۔ چند ہی لمحوں بعد مگر پولنگ بوتھ کی تنہائی میں بیلٹ پر ٹھپہ لگاتے ہوئے ان میں سے 14اراکین کے’’ ضمیر‘‘ جاگ گئے۔ اب کی بار ’’ضمیر‘‘ دوسری جانب بھی خفیہ رائے شماری کی برکت سے جاگ سکتے ہیں۔ حفیظ شیخ صاحب کی جیت یقینی بنانے کے لیے اب ’’کھلا‘‘ انتخاب درکار ہے اور اس ضمن میں فی الوقت ’’حتمی مدد‘‘ سپریم کورٹ ہی فراہم کر سکتی ہے‘‘۔ 


ای پیپر