Iftikhar Hussain Shah columns,urdu columns,epaper,urdu news papers
20 فروری 2021 (12:41) 2021-02-20

مشہور چینی فلاسفر لائو ذو ( Lao Tsu ) نے کہا تھا’’ Give a man a fish and you feed him for a day .Teach a man to fish and you feed ’’ him for a lifetime یہ چینی محاورہ اپنی عالمگیر صداقت کے پیش نظر پوری دنیا میں ہر دلعزیز اور وسیع سطح پر مستعمل ہے۔ تقریباً ہر ملک اور ہر معاشرہ میں لوگ اسے استعمال کرتے ہیں۔آسان الفاظ میں اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر کسی غریب انسان کو آپ ایک مچھلی دیں گے تو وہ ایک پہر یا ایک دن کی اپنی بھوک مٹا لے گا ،لیکن اگر آپ اسے مچھلی پکڑنا سکھا دیں گے تو وہ پوری زندگی اسی فن کی وجہ سے اپنی روزی روٹی کماتا رہے گا۔ یہ چینی محاورہ پڑ ھتے ہی میرا خیال بے ساختہ میاں شہباز شریف کی ’سستی روٹی سکیم‘ اور موجودہ وزیراعظم عمران خان کے ’پناہ گاہوں‘ پروگرام کی طرف چلا گیا۔آپ شاید یقین نہ کریں کہ میاں شہباز شریف کی ’سستی روٹی سکیم ‘سے لاہور کے کئی فائیو سٹار ہو ٹلز بھی مستفید ہوئے۔آپ کو یقین نہ آئے تو اس شہر کے ’ آواری ‘ اور اُس وقت کے ’ ہالیڈے ان ‘ کا ریکارڈ چیک کر لیں، حقیقت آشکار ہو جائیگی۔لیکن شہباز شریف بنیادی طور پر چونکہ ایک کاروباری شخصیت تھے اس لیے انہیں اس چیز کا ادراک کچھ دیر بعد ہو گیا اور انہوں نے یہ سکیم بند کر دی، لیکن اس غریب قوم کو اس سکیم سے کتنا نقصان ہوا اس کا اندازہ آپ خود لگا سکتے ہیں۔ لیکن بدقسمتی اس قوم کی دیکھیں کہ موجودہ وزیراعظم عمران خان نے ایک پروگرام ـ’’ پناہ گاہیں ‘‘ شروع کر رکھا ہے جس پر وہ فخر کرتے ہیں اور اسے بڑھانے کے عزائم رکھتے ہیں۔ اس پروگرام سے قوم کو کتنا نقصان اُٹھانا پڑ رہا ہے اس کا اندازہ تو خانصاحب کی حکومت جانے کے بعد لگایا جائیگا۔ خانصاحب کی حکومت ایک اور پروگرام کی بھی حوصلہ افزائی کررہی ہے جسے ’ لنگر خانے ‘ پروگرام کہتے ہیں ۔نہ جانے یہ کیسی بد قسمت قوم ہے جسے ایسے لیڈران نصیب ہوتے 

ہیں، لیکن کہتے ہیں کہ جیسے عوام ہوتے ہیں و یسے ہی اس کے حکمران ہوتے ہیں۔لگتا ہے یہ چینی محاورہ خانصاحب کی نظروں سے نہیں گزرا، اگر گزرا بھی ہے تو خانصاحب نے اسے قابل توجہ نہیںسمجھا۔لیکن اپنے ملک میں کچھ ادارے ایسے کام بھی کر رہے ہیں جو نا صرف قابل ستائش بلکہ قابل حوصلہ افزائی بھی ہیں۔پچھلے دنوں میرا رابطہ میجر (ریٹائرڈ) شاہنواز بدر سے ہوا۔ بدر صاحب پنجاب صوبائی سروس کے نہایت خو ش گفتار اور مثبت سوچ کے حامل آ فیسر ہیں۔میں نے ان کے ساتھ حکومت پنجاب کے لیبر ڈیپارٹمنٹ میں بطور سیکریٹری ورکرز ویلفیئر بورڈ اور محکمہ جنگلات میں بطور ڈائریکٹر جنرل وائلڈ لائف اینڈپارکس کام کیا ہے۔ ویسے تو وہ ریٹائرڈ آفیسر ہیں لیکن باتوں باتوں میں پتہ چلا کہ وہ آجکل بطور چیئرمین پنجاب ووکیشنل ٹریننگ کونسل کام کر رہے ہیں۔ میرے پوچھنے پر انہوں نے بتایا کہ یہ ایک خود مختار ادارہ ہے جس کا بنیادی مقصد پنجاب بھر کے غریب اور مستحق نوجوان مرد و خواتین کو ان کی دہلیز پر مفت فنی تعلیم و ہنر سے آراستہ کرکے انہیں با عزت روزگار کمانے کے قابل بناتا ہے۔سچ پوچھیں جو لوگ یا ادارے غریبوں کے لیے کام کرتے ہیں وہ میرے دل کے بہت قریب ہو جاتے ہیں کیونکہ میرے مشاہدے کے مطابق اس ملک میں جو سلوک غریبوں کے ساتھ ہو رہا ہے ، اللہ کی پناہ۔ ہمارے معاشرہ کا ہر فرد وزیراعظم سے لے کر چپڑاسی تک غریبوں کا استحصال مختلف انداز میں کر رہا ہے۔ ظاہر ہے میری دلچسپی اس ادارے میں بڑھ گئی ۔ میں نے میجر صاحب سے کہا کہ اب ہماری ملاقات ووکیشنل ٹریننگ کونسل میں ہی ہو گی اور پھر میں ان کے دفتر واقع قائد اعظم انڈسٹریل اسٹیٹ لاہور پہنچ گیا۔میری خواہش پر انہوں نے میرے لیے اس ادارے کے متعلق ایک بریفنگ کا اہتمام کر رکھا تھا۔بریفنگ سے معلوم ہو ا کہ اس ادارہ کا وجود صوبہ پنجاب کے چھتیس اضلاع کی ہر تحصیل میں موجود ہے۔یہ اپنے 208 ووکیشنل ٹریننگ انسٹی ٹیوٹس کے ذریعے پنجاب بھر کے پسماندہ اور ضرورت مند گھرانوں سے تعلق رکھنے والے نوجوان مرد و خواتین کو مارکیٹ کے رجحان کے مطابق 65 منفرد کورسز میں پیشہ ورانہ تعلیم مہیا کرکے انہیںبا عزت طریقے سے بر سر روزگار کرنے میں اپنا کردار ادا کر رہا ہے۔ پی وی ٹی سی اب تک 840296 نوجوان مرد و خواتین کو فنی و پیشہ ورانہ تربیت فراہم کرکے با عزت روزگار کمانے کے قابل بنا چکا ہے۔یہ ادارہ زکوٰۃ فنڈز کو بذریعہ ہنر مستحق لوگوں کی بحالی اور پائیدار روزگار کی فراہمی کے لیے استعمال کرنے والا واحد ادارہ ہے۔پی وی ٹی سی نے پنجاب بھر میں ہر تحصیل میں ووکیشنل ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ قائم کر رکھا ہے تاکہ کم آمدنی اور محدود وسائل رکھنے والے طلبا ء کو ہنر کے حصول میں مشکلات پیش نہ آئیں۔یہ ادارہ اپنے ٹرینیز (trainees ) کو مفت کتابیں ، یونیفارم اور لیبارٹری میٹریل کے ساتھ ساتھ ماہانہ وظیفہ کی صورت میں مالی معاونت بھی فراہم کرتا ہے۔اس ادارے کے ان پراجیکٹس نے مجھے بہت متاثر کیا جس میں انہوں نے افغان مہاجرین ، سوات کے انتہا پسند عسکری عناصر ، جیل کے قیدیوں اور اس ملک کی اقلیتوں کے بچوں کو فنی تعلیم سے بہرہ مند کرکے، ایک مثبت شخصیت میں ڈھال کر معاشرہ کو لوٹا دیا۔یہ ادارہ اس ملک کے غریبوں کے بچوں کے لیے واحد سہارہ ہے۔ یہاں مجھے ایک عیسائی لڑکی کی کہانی سننے کو ملی جسے اس ادارہ نے نئی زندگی دی ۔ اس لڑکی کی کہانی یہ تھی کہ چھوٹی عمر میں اُس کی شادی کر دی گئی ۔ شادی کے بعد اس کا پہلا بچہ اس کی بیٹی تھی۔ اس کا خاوند اسے پکڑ کر ماں باپ کے گھر چھوڑ گیا۔ وہ دکھوں کی ماری اپنی چھوٹی سی بچی کے ساتھ لوگوں کے کام کرتی پھرتی تھی کہ اس کا رابطہ اس ادارے سے ہو گیا ۔ اس ادارے نے اسے بیوٹیشن کے کورسز کرائے اور وہ اپنے گھر پر ہی کام کرنے لگ گئی ۔ سنا ہے اب اس کا بہت بڑا اور کامیاب پارلر ہے جہاں اس کی بیٹی بھی اس کے ساتھ کام کرتی ہے ۔ اس ادارے نے ایک تباہ حال گھرانے کو نئی زندگی بخش دی۔ یہ ہوتا ہے کسی کو مچھلی پکڑنے کا فن سکھانا ۔حکومت کو چاہیے کہ ایسے اداروں کو ترجیح دے جو اس ملک کے غریبوں کو ایک مفید شہری بنائیں۔


ای پیپر