Amber Shahid columns,urdu columns,epaper,urdu news papers
20 فروری 2021 (12:40) 2021-02-20

پہاڑوں سے ٹکر لینے کا عزم لیے، اپنے بل بوتے پر وطن کا پرچم بلند کرنے کی خاطر ایک خطرناک چوٹی کو سر کرتے ہوئے ہمارا ہیرو علی سدپارہ دو ساتھیوں سمیت پانچ فروری سے لاپتہ ہوگیا ہے۔ عقل کے تقاضے کہتے ہیں وہ کسی اور دنیا کا مکین بن چکا ہے لیکن تاریخ بتائے گی کہ وہ تو مر کر بھی زندہ رہ گیا 

وہ تو کے ٹو کو ہرا کر پاکستان کا پرچم دنیا بھر میں لہرا گیا۔ 

اس کی آنکھوں میں جیت کی جھلک اور ایک انجانی راہ کی تڑپ ہمیشہ سے دکھتی تھی مگر اب کے بار وہ گیا تو واقعی کچھ کرکے دکھانا چاہتا تھا جیتے جی تو علی سد پارہ کو شائد ہزاروں لوگ جان پاتے مگر اپنی ہمت کی داستان رقم کرنے کے بعد وہ پوری دنیا کے دلوں کی دھڑکن بن گیا۔ 

وہ ایک تاریخ رقم کرگیا اور اپنے بعد نئے کوہ  پیمائوں کے لیے تجسس اور حیرت کے نئے نقش چھوڑ گیا جوپاکستانی سیاحت اور کوہ پیمائی کے شعبے میں انقلاب کے لیے مشعل راہ ثابت ہوں گے۔ 

اس نے اپنے علاقے سکردو کا نام دنیا پھر میں مشہور کردیا اس نے پاکستانی پرچم دنیا بھر کے سامنے روشن کرکے اس کا مثبت چہرہ دنیا کو دکھا دیا۔ اور کیا خواب ہوتا ہے ایک محب وطن کا یہی کہ اپنے وطن کے لیے کچھ ایسا کرجائے کہ پوری دنیا میں اس کا چرچا ہو، جب بھی وطن کا نام لیا جائے اس کے باسیوں کو فخر محسوس ہو۔ اس کے دو تین انٹرویو سنے تو ایک عجیب سی حیرت کا احساس ہوا کہ ایک معمولی طرز زندگی کے حامل انسان کو جسے حکومتی سطح پر کوئی سپورٹ بھی حاصل نہیں تھی۔ کوہ پیمائی کا کتنا جنون تھا اور وہ بتا رہا تھا کہ جب وہ کسی اونچے پہاڑ کو سر کرلیتا اور وہاں پاکستان کے پرچم کے ساتھ اس کی تصویر لی جاتی تو اس کا سینہ چوڑا ہوجاتا اور اس کی رگوں میں خون کی گردش تیز ہوجاتی۔ اس کے حوصلے بلند ہوجاتے۔ اس کو ایک نیا ولولہ ملتا۔

اس کا کہنا تھا کہ اس کو پہاڑوں سے عشق ہے اور کبھی کوئی بلند بالا چوٹی سر کرتے ہوئے موسم کی 

شدت کا سامنا کرنا پڑے تو وہ برف کا گھر بنا کر چار پانچ دن گزارہ کرسکتا ہے۔ 

 جانے کون سی لگن تھی اس کی آنکھوں میں اور اپنے رب کی کون سے نشانیوں کو وہ دیکھنا چاہتا تھا کہ اس کے قدم آگے ہی بڑھتے جارہے تھے۔ منفی ساٹھ درجہ حرارت، موسم کی خرابی کے اشارے کچھ بھی اسے روک نہ پایا۔ ایک رات پہلے کیمپ میں اپنے ساتھیوں کے ہمراہ مقامی رقص کرتے ہوئے اس کے چہرے پر ایک عجیب سی خوشی تھی نہ کوئی موت کا خوف نہ کوئی ہارنے کا ڈر۔ اس کو اپنا مشن اپنی جان سے بھی پیارا تھا۔ وہ پانچ فروری کو کے ٹو پر اپنا پرچم لہرا کر اس کو یوم یک جہتی کشمیر سے منسوب کرنا چاہتا تھا۔ اور واقعی اس نے یہ کر دکھایا ۔ وہ چاہتا تو آدھے راستے سے پلٹ آتا لیکن اس نے اپنا سفر جاری رکھا اور جمعہ پانچ فروری کو چار بجے اپنے ویڈیو پیغام میں خوشخبری سنائی کہ ہم یہ فتح حاصل کرچکے ہیں اور اس نے اپنے بیٹے کو خود بیس کیمپ میں ہی رہنے کا مشورہ دیا تھا۔ 

شائد اسے کوئی قدرت کی طرف سے اشارہ مل گیا تھا کہ اس کی بیوی ایک ساتھ دو پیاروں کی جدائی  برداشت نہ کرپائے گی ۔

یا شائد اسے قربان ہونا تھا اپنے بیٹے اور اس جیسے کئی کوہ پیمائوں کے مستقبل کے لیے کیونکہ ہماری بدقسمتی یہ ہے کہ ہم اپنے ہیرو کی جیتے جی قدر نہیں کرتے لیکن مرنے کے بعد ہمیں اندازہ ہوتا ہے ہم نے کیا کھویا ہے؟ 

اس بار پانچ فروری کی تیاری وہ بہت جوش و خروش سے کر رہا تھا۔ اور اس نے اپنے بیٹے کو بھی کافی حد تک کوہ پیمائی میں ماہرکردیا تھا۔ مجھے جب پتہ چلا کہ اس کی دو بڑی خواہشیں کیا تھیں تو دل ایک دم چکنا چور ہوگیا۔ اس کا کہنا تھا کہ وہ چاہتا ہے کہ سردیوں میں کے ٹو کو سر کرے اور وہاں پاکستان کا پرچم لہرائے اور دوسرا اس کے بعد اپنی بیوی کو ایک سلائی مشین لے کر دینا اس کا خواب تھا۔ 

کتنا معصوم تھا علی سدپارہ 

اور کتنا محب وطن تھا اس کو وطن کی عظمت اپنی جان سے زیادہ پیاری تھی۔ 

شائد ایسے ہی لوگوں کے لیے شاعر نے کہا ہے۔ 

ارادے جن کے پختہ ہوں نظر جن کی خدا پر ہو 

تلاطم خیز موجوں سے وہ گھبرایا نہیں کرتے

ہم پاکستانی بھی کتنے عجیب ہیں اور ہماری خواہشیں کتنی معصوم ہیں۔ جب پاکستان انڈیا کا کو میچ ہو اور پاکستان کی فتح ہو تو امیر غریب ایک سا جشن مناتے ہیں ملک میں ایسا سماں ہوتا ہے گویا عید کا موقع ہو۔ چاہے ہمارے چولہے بجھ رہے ہوں چاہے ہمارے پاس پہننے کو اچھا لباس نہ ہو چاہے ہماری حکومتیں ہمارے لیے دجال اور وبال سے بڑھ کر ہوں مگر جہاں بات پاکستان کے پرچم کی آتی ہے یا پھر اس کی حرمت کی پھر کوئی فرقہ باقی رہتا ہے نہ مسلم،نہ  رنگ نسل، نہ شیعہ سنی نہ بریلوی نہ ہی ماڈرن یا مذہبی ہر کوئی اس محاذ پر ایک ہوجاتا ہے جس میں پاکستان کی سربلندی ہو شائد یہی اس قوم کی خاصیت ہے جس کے سبب دنیا اس سے خوفزدہ ہے اور اسی جذبے نے پاکستان کو پہلا اسلامی ایٹمی ملک بنادیا تھا۔ یہ وہی قوم ہے جس نے ابھی نندن کو چائے پلا کر بھیجنے پر فضائیہ کو خراج تحسین پیش کیا اور اس بات پر آج بھی ان کے سر فخر سے بلند ہیں۔

 اس قوم کا حکومت اور اداروں سے مطالبہ ہے کہ ملکی سا  لمیت، بقا، خودداری اور مسئلہ کشمیر سمیت خطے کے اہم مسائل کے لیے جرأت مندانہ فیصلے کریں یہ پوری قوم آپ کے شانہ بشانہ ہوگی۔ اس ملک کی آزادی جن لا الہ الا اللہ کے نعروں کی بنیاد پر ہوئی وہ اس کے اسلامی فلاحی ہونے کا واضح ثبوت ہیں۔ یہ ملک ستائیس رمضان المبارک کو آزاد ہوا یہ اشارہ ہے اس بات کا کہ اس پر اللہ کی خاص برکتیں ہیں وہ ملک جس کا سبز ہلالی پرچم پیارے نبی خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وآلہ سلم کے روضہ مبارک سے مناسبت رکھتا ہے۔ اس بات کی دلیل ہے کہ یہاں پر سچے عاشق رسول بستے ہیں جواسلام اورپاکستان کی بقا کے لیے اپنے تن من دھن کی قربانی سے بھی دریغ نہیں کریں گے۔ ان شا ء اللہ!

اس ملک کا ہرشہری علی سدپارہ جیسے جذبات رکھتا ہے بس ذرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی! 


ای پیپر