U.S, pressure, Iran, sanctions, relief, potential talks, White House spokeswoman, Jane Sackie
20 فروری 2021 (11:17) 2021-02-20

نیویارک: جوبائیڈن انتظامیہ کا کہنا ہے کہ جوہری معاہدے میں واپسی سے پہلے ایران پر پابندیوں میں نرمی کا کوئی ارادہ نہیں رکھتے ہیں ۔

وائٹ ہاؤس کی ترجمان جین ساکی کا میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہنا ہے کہ سفارتی مذاکرات سے قبل ایران کے حوالے سے مزید اضافی اقدامات کرنے کا کوئی منصوبہ زیر غور نہیں ہے اور نہ ہی ایران پر عائد کی گئی پابندیوں میں نرمی کی جا رہی ہے۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز امریکہ کی جانب سے جوہری معاہدے میں واپسی کے لیے ایران سے بات چیت کرنے کا اعلان کیا گیا تھا۔

امریکی وزیر خارجہ اینٹنی بلنکن کا کہنا ہے کہ اگر ایران جوہری معاہدے پر مکمل طور پر عمل کرتا ہے تو امریکی صدر جوبائیڈن کی انتظامیہ جوہری معاہدے میں واپس لوٹ آئے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ جوہری معاہدے پر مذاکرات کے لیے ایران سے ملاقات کے لیے بھی تیار ہیں۔

خیال رہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے 2018 میں اس معاہدے سے امریکا کو الگ کرتے ہوئے ایران پر یکطرفہ طور پر پابندیاں عائد کر دی تھیں۔

یاد رہے کہ رواں ہفتے ایران نے امریکا کی جانب سے پابندیاں ختم نہ کرنے کی صورت میں سخت اقدام کا اعلان کیا تھا ۔ ایران حکام کی جانب سے اقوام متحدہ مبصرین کو جوہری اثاثوں کے معائنے سے روکنے کی دھمکی بھی دی گئی تھی۔

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے ایک بیان میں کہا تھا کہ اگر امریکا نے اکیس فروری تک ایران کے تین اور بینکنگ سیکٹرز پر عائد پابندیاں نہ اٹھائیں تو اقوام متحدہ مبصرین کو جوہری اثاثوں کے معائنے سے روک دیا جائے گا۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ایرانی حکومت اپنا قانونی حق استعمال کرے گی ، انہوں نے بین الاقوامی طاقتوں سے امریکا پر دو ہزار پندرہ کے جوہری معاہدے پر عمل درآمد کرانے کیلئے دباو ڈالنے کا مطالبہ بھی کیا۔


ای پیپر