خالص محبت (مرحومہ ) کی یاد میں! 
20 فروری 2021 2021-02-20

گزشتہ کالم میں نے ”ویلنٹائن ڈے“ پر لکھا تھا، کچھ لوگ اب اِسے ”لوڈے“ بھی کہتے ہیں۔ لو(Love)کو اُردو میں لکھتے ہوئے بڑی احتیاط کرنی پڑتی ہے کہ ”ل“ کے ساتھ”و“ کی جگہ کچھ اور ہی نہ لگ جائے، ہمارے ہاں محبت اب اُتنی خالص نہیں رہی جتنی کسی زمانے میں ہواکرتی تھی، محبت کی جگہ اب پیار نے لے لی ہے، اب صرف پیارہوتا ہے جو چند لمحوں میں ہو، ہوا کو ختم ہو جاتا ہے، ہمارے پریشان حال معاشرے میں اب سوائے اِس ”تفریح“ کے اور رہ بھی کیا گیاہے؟ ۔ اگلے روز ایک شخص کو میں نے دیوارچاٹتے دیکھا، میں نے اُس سے پوچھا ” یہ تم کیاکررہے ہو؟“۔وہ بولا” میں دیوار سے پیار کررہا ہوں“ً دوسری جانب دیوار بھی چُپ چاپ پیار کروائے جارہی تھی جس پر پہلی بار احساس ہوا دیواروں کے صرف کان ہی نہیں ہوتے، ہماری تاریخ میں جتنی بھی ناکام محبتیں ہیں اُن سب کو بڑی ”کامیاب محبتیں“ سمجھا جاتا ہے، ہماری لوک داستانوں میں ہیررانجھا، سسی پنوں، شیریں فرہاد، سوہنی مہیوال کی ناکام محبتوں کو ”کامیاب محبت“ کے لیے ایک مثال کے طورپر پیش کیا جاتا ہے، ویسے میں بھی کسی حدتک اِن ”تاریخی محبتوں“ کو اِس حوالے سے ”کامیاب محبتیں“ ہی سمجھتا ہوں کہ اِن میں کسی کی شادی نہیں ہوئی تھی، اگر شادی ہوگئی ہوتی تو ان ”تاریخی محبتوں کا نام ونشان مٹ گیا ہوتا،جیسے ایک لڑکی نے لڑکے سے کہا ”پورے پانچ برس بیت گئے ہمیں پیار کرتے ہوئے، اب شادی نہ کرلیں؟“ً لڑکا بولا ”پاگل ہوگئی ایں تُوں پیار مکانا ایں“ ۔ (پاگل ہو گئی ہو تم نے پیار ختم کرنا ہے)۔ پیار کی کئی قسمیں ہوتی ہیں، اب تو جگہیں بھی کئی ہوتی ہیں، ایک لڑکی نے لڑکے سے گلہ کیا ”تم مجھ سے سچا پیار نہیں کرتے“، ایک پیار شادی سے پہلے پہلے ہوکر ختم ہوجاتا ہے، یہ پیار کی وہ قِسم ہے جوشادی کے بعد شروع ہوکر چند دنوں میں ختم ہوجاتا ہے،جیسے میں نے ایک بچے سے پوچھا ” بیٹا آپ کے ابو کیا کرتے ہیں؟، وہ بولا ”انکل مجھے کیا پتہ میں تو جاتا ہوں“ ....اِسی طرح ایک بچے کی آدھی رات کو آنکھ کھل گئی بڑے غصے سے اپنی ماں کی طرف اُس نے دیکھا اور شکایت کی۔“....یہ شکایت امی کے ساتھ ساتھ ابو سے بھی کی جاسکتی ہے مگر اکثر ابوچونکہ ذرا سخت طبیعت کے ہوتے ہیں لہٰذا ”امیوں“ سے بات کرنا یا اُنہیں نخرے دکھانا ذرا آسان ہوتا ہے ....جیسے ایک نوجوان کی اُس کے والدین کوئی ضِد پوری نہیں کررہے تھے۔ وہ چھت پر چڑھ کر نیچے کھڑے اپنے امی ابو سے کہنے لگا ”میری یہ خواہش پوری کردیں ورنہ میں چھلانگ لگاکر خودکشی کرلُوں گا“....ماں روئے جارہی تھی، ہاتھ جوڑ رہی تھی، اُسے سمجھا رہی تھی ”پُترتوں تھلے آجاتوں جو کہویں گا اسی کرلاں گے“....اُس کے برعکس ابا مسلسل اُسے گھُوررہا تھا، اُس سے کہہ رہاتھا ”اگرتم اتنے ہی بہادر ہو تو لگاﺅ چھلانگ“ ....جب ابے کا یہ اصرار بڑھ گیا تو نوجوان بولا ”ابا تُوں چُپ کر امی نوں گل کرن دے“ ....ہمارے ہاں اب صرف محبت ہی نہیں ہرشے ہی دونمبر ہوگئی ہے.... دونمبری کی بات کرتے ہوئے اکثر مجھے احساس ہوتا ہے دونمبر چیزیں تقریباً....خالص ہی ہوتی ہیں، کیونکہ ملاوٹ کے حوالے سے معاملہ اب ”سونمبر“ تک پہنچا ہوا ہے، مجھ سے اگر کوئی یہ کہے ”فلاں شخص بڑا دونمبر ہے، میں اُسے زیادہ بُرا نہیں سمجھتا ، اپنے جیسا ہی سمجھتا ہوں۔ ہمارے ہاں تو ”زہر“ بھی اب خالص نہیں مِلتا۔ میرے ایک دوست نے کچھ وجوہات کی بناءپر اپنی زندگی کے خاتمے کے لیے زہر کھایا۔ اُس کے کتنے ہی دِنوں بعد وہ بے چارہ موت کا انتظار کرتا رہا ۔ اُلٹا اُس کا اثر یہ ہوا اُسے معدے کی پرانی تکلیف تھی جو رفع ہوگئی ۔حتیٰ کہ اُس کی دائمی قبض بھی دُور ہوگئی، میں اُس سے کہہ رہا تھا تم نے یقیناخالص زہر کھایا ہوگا جس کا تم پر کوئی اثر نہیں ہوا اُلٹا نقصان یہ ہوگیا کہ خواہش تم مرنے کی رکھتے تھے جبکہ تمہارا معدہ اور پیٹ ٹھیک ہوگیا جس کے نتیجے میں ظاہر ہے تمہاری عمر اب مزید بڑھ جائے گی .... اصل میں ہمارا جسم ملاوٹی چیزوں کا اِس قدر عادی ہوچکا ہوتا ہے خالص چیزیں اُس پر اثر ہی نہیں کرتیں، بلکہ اُلٹا اُسے نقصان پہنچا دیتی ہیں، جیسے خالص دودھ پینے سے اکثر لوگوں کے پیٹ خراب ہو جاتے ہیں۔ لہٰذا بندے نے خالص دودھ ہی استعمال کرنا ہوتو پینے والا ہرگز نہ کرے۔ .... جہاں تک محبت کے خالص ہونے کا تعلق ہے وہ اب صرف پرانی کتابوں میں ہی ملتی ہے، اور کتابوں سے بھی ہماری محبت ایسی ہی ہے جیسے رشتوں سے ہے، .... اگلے روز میں کہیں پڑھ رہا تھا ”درختوں سے پیار کریں ہمارا پورا ملک ”گُل وگلزار“ بن جائے۔ اُس کے بعد ہمارے حکمرانوں کو یہ جھوٹ بولنے کی ضرورت ہی محسوس نہ ہوکہ اُنہوں نے ملک کو ”گل وگلزار“ بنادیا ہے، یا پھر یہ ملک صرف اُسی صورت میں گُل وگلزار بن سکتا ہے کہ ہمارے کسی آرمی چیف کا نام ”گُل “ ہو اور وزیراعظم کا ”گلزار“ ہو، ایف سی کالج میں ہماری ایک شاگردہ کانام ”عینی“ تھا، اُس کی اپنے کلاس فیلو ”شاہد“ سے شادی ہوگئی، پھر وہ ”عینی شاہد“ ہوگئی ....کچھ نام بڑے رحمتوں اور برکتوں والے ہوتے ہیں جبکہ کچھ نام ساری زندگی انسان کے لیے شرمندگی کا باعث ہی بنتے رہتے ہیں، جیسے ہمارے ایک شاعر ”حیات احمد خان“ہوا کرتے تھے، وہ جب کسی مشاعرے میں اپنا کلام سناتے تو لوگ کہتے ”واہ حیات صاحب، واہ حیات صاحب“....اُنہیں یوں محسوس ہوتا لوگ اُنہیں ”واہیات صاحب واہیات صاحب“ کہہ رہے ہیں.... خالص محبت چراغ لے کر ڈھونڈے سے بھی اب نہیں ملتی، کچھ ہی دیر بعد چراغ بھی بجھ جاتا ہے کیونکہ اُس میں جو تیل ہوتا ہے وہ بھی خالص نہیں ہوتا، .... اگلے روز ایک دوست مجھ سے ملنے آیا، وہ بار بار اصرار کررہا تھا کہ اُسے مجھ سے بڑی محبت ہے، مجبوراً ایک آدھ بار نہ چاہتے ہوئے میں نے بھی اُس سے کہہ دیا ”مجھے بھی آپ سے بڑی محبت ہے“ .... میری اِس بات کو وہ شاید سیریس لے گیا۔ کہنے لگا ” آپ میرا ایک کام کرسکتے ہیں؟۔....ازراہ مروت میں نے فوراً.... ہی کہہ دیا ”آپ حکم کریں“ ۔ وہ بولا ”آپ میری شراب چھڑواسکتے ہیں ؟“....میرا یہ دوست بہت شراب پیتا ہے، میں نے سوچا وہ شاید شراب چھوڑنے کے لیے دینی حوالے سے مجھ سے کوئی وظیفہ وغیرہ پوچھ رہا ہے، جس سے اُس کی شراب چھوٹ جائے، .... میں نے عرض کیا ”ہاں چُھڑوا سکتا ہوں“.... وہ کہنے لگا ”اُٹھو پھر ایئرپورٹ پر میری شراب پکڑی گئی ہے وہ چل کر چھڑوادو“۔ میں نے اُس سے کہا ”لعنت ہے تم پر جوکام تم پندرہ بیس ہزار روپے میں کرسکتے ہو اُس کے لیے اپنے ایک دوست کو استعمال کررہے ہو“ ً وہ ناراض ہوکر چلے گیا، ساتھ ہی محبت بھی اُس کی چلی گئی۔ (انا للہ واناالیہ راجعون)!! 


ای پیپر