تر ک صد ر کا بیا ن اور بھا ر تی کھسیا نی بلی
20 فروری 2020 2020-02-20

قا رئین کرا م، آ پ کو یاد ہو گاکے تر کی کے صدر جنا ب طیب ارد گا ن نے ا پنے حا لیہ دورہِ پا کستا ن کے دو ران رواں ما ہ کی چو دہ تا ر یخ کو و طنِ عز یز کی پا رلیمنٹ کے مشتر کہ اجلا س سے بھی خطا ب کیا تھا۔ اسی خطا ب کے دو ران مقبوضہ کشمیر سے متعلق اْ ن کے بیان سے بھارت تلملا اُٹھا۔ بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان نے ترک صدر کے بیان پر رد عمل دیتے ہوئے مقبوضہ کشمیر کے مسئلے کو ایک بار پھر بھارت کا اندرونی معاملہ قرار دیا اور کہا کہ مقبوضہ کشمیر کا علاقہ بھارت کا اٹوٹ اور ناقابل تقسیم حصہ ہے۔ بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ ہم ترک قیادت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ کہ وہ بھارت کے اندرونی معاملات میں دخل نہ دے اور اس معاملے سمیت پاکستان کی طرف سے بھارت اور خطے میں دہشت گردی کے ابھرتے ہوئے بڑے خطرے کے حقائق کو مکمل طور پر سمجھے۔

گو یا یہ وہ با ت ہے جس کو کہتے ہیں’ کھسیا نی بلی کھمبا نو چے!‘بہر حال ترکی کے صدر طیب اردگان کا پاکستان کی پارلیمینٹ کے مشترکہ جلاس سے خطاب کے دوران پا کستا ن کے مو قف کی تا ئید کر تے ہو ئے مز ید کہنا تھا کہ کشمیر ترکی کے لیے ایسا ہی ہے جیسا پاکستان کے لیے ہے۔ ترکی مسئلہ کشمیر کے پُرامن اور بات چیت کے ذریعے حل کے موقف پر قائم رہے گا۔ مسئلہ کشمیر کا حل طاقت یا جبری پالیسیوں سے نہیں بلکہ انصاف و حقانیت کے اصولوں سے ممکن ہے۔ جمہوریہ ترکی کے صدر کا یہ بھی کہنا تھا کہ فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) میں سیاسی دبائو کے باوجود پاکستان کی بھرپور حمایت کا یقین دلاتے ہیں۔ ادھر جرمنی میں میونخ کانفرنس کے دوران امریکی سینیٹر لنزے گراہم کے منہ سے کشمیر کا ذکر سن کر بھارتی وزیرخارجہ جے شنکر غصے میں آگئے اور سفارتی آداب کو فراموش کر بیٹھے۔ یعنی یہا ں بھی کھسیا نی بلی کھمبا نو چے کی مثا ل صا د ق آ تی ہے۔ کانفرنس کے دوران امریکی سینیٹر لنزے گراہم نے کشمیر کا ذکر چھیڑا اور بھارتی اقدامات کو تنقید کا نشانہ بنایا۔پاکستانی حکومت کی کوششوں سے کشمیر عالمی مسئلہ بن چکا اور پوری دنیا مقبوضہ وادی میں ہونے والے بھارتی مظالم سے بخوبی آگاہ ہو چکی ہے اور اس پر اپنی آواز بھی اٹھارہی ہے۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں خطاب کے دوران وزیراعظم عمران خان نے پوری دنیا کی توجہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم اور اس مسئلے کے حل کی جانب دلائی تھی، انہوں نے ایران اور ترکی کے حکمرانوں سے بھی الگ الگ ملاقات کرکے مسئلہ کشمیر کو اجاگر کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ اسلامی دنیا میں ترکی نے مسئلہ کشمیر پر کھل کر پاکستانی مؤقف کی حمایت کی تو بھارت اس پر تلملا اُٹھا ہے اور اس نے ترکی کے

ساتھ ہونے والی تجارت میں کمی کرنا شروع کردی ہے اور اس طرح ترکی کو دبائو میں لانے کی ناکام کوشش کی کہ وہ اپنے موقف سے دستبردار ہوجائے۔ لیکن بھارت کے ان تمام حربوں کے باوجود ترک حکومت اپنے موقف پر قائم رہی اور مسئلہ کشمیر پر پاکستان کی حمایت جاری رکھی۔ اب پاکستان کے دورے پر آئے ہوئے ترک صدر طیب اردگان نے جمعہ کے روز پارلیمینٹ کے مشترکہ اجلاس کے خطاب میں کھل کر مقبوضہ کشمیر پر پاکستانی موقف کی حمایت کی تو اس پر بھارت نے احتجاج کرتے ہوئے ترک صدر کے بیان کو مسترد کرتے ہوئے مقبوضہ کشمیر کو اپنا علاقہ قرار دیا۔ ادھر یورپی یونین نے بھارت پر زور دیا ہے کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں عائد پابندیاں فوری طور پر ہٹالے۔ اطلاعات کے مطابق یورپی یونین اور کئی ملکوں کے سفیروں کے حالیہ دورہ مقبوضہ کشمیر کے بعد یونین کی ترجمان برائے امور خارجہ اور سلامتی پالیسی نے بھارتی اخبار انڈیا ٹوڈے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ کشمیر میں نافذ پابندیوں کو فوری طور پر ہٹانا ناگزیر بن گیا ہے۔ کشمیر میں ابھی تک کئی پابندیاں عائد ہیں جن پر نظر ثانی کی ضرورت ہے۔ جموں و کشمیر میں انٹرنیٹ پوری طرح بحال نہیں ہے اور سیاسی قیدی ابھی تک نظر بند ہیں اور ان سبھی معاملات کو دیکھنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یورپی یونین کی جموں و کشمیر کی صورت حال پر گہری نظر ہے اور علاقے میں انٹرنیٹ کی فوری بحالی اور نظر بند رہنمائوں کی رہائی کے لیے بھارتی حکومت پر دبائو ڈالا جائے گا۔ عالمی دنیا جب مقبوضہ کشمیر میں ہونے والے مظالم پر احتجاج اور اس مسئلے کو حل کرنے پر زور دیتی ہے تو بھارت ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے اس مسئلے کو دبانے کی ناکام کوشش کرتا ہے۔ لیکن اسے اب اس حقیقت کا ادراک ہوجانا چاہیے کہ اس کا یہ منفی رویہ اس مسئلے میں رکاوٹ نہیں بن سکتا۔ بھارت نے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرکے وہاں کرفیو نافذ کردیا جس کے باعث پوری وادی جیل کا منظر پیش کررہی ہے۔ کرفیو کے باعث کشمیریوں کو سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ بھارت نے اپنے مظالم پر پردہ ڈالنے اور دنیا کو اس سلسلے میں اندھیرے میں رکھنے کے لیے مقبوضہ وادی میں انٹرنیٹ سروس مکمل طور پر بند کر رکھی ہے کیونکہ جب سوشل میڈیا کے ذریعے بھارتی مظالم کی خبریں آ تی ہیں تو پوری دنیا میں بھارتی فوج اپنے مظالم کے باعث بدنام ہوتی ہے۔ مودی سرکارنے اپنے تئیں نہ صرف مقبوضہ وادی کو اپنا حصہ بنالیا ہے بلکہ اندرون ملک آباد مسلمانوں کے خلاف متنازع شہریت بل بھی نافذ کرکے پورے بھارت میں افراتفری مچادی۔ بھارت بھر میں اس متنازع بل کے خلاف مسلمانوں سمیت دیگر اقلیتی اقوام نے بھی مظاہرے شروع کر رکھے ہیں اور بھارتی حکومت پر دبائو ڈال رہے ہیں کہ وہ اس بل کو واپس لے لیکن ابھی تک متعصب مودی سرکار اپنی ہٹ دھرمی پر ڈٹی ہوئی ہے۔ بی جے پی کی حالت یہ ہے کہ دہلی اسمبلی کے الیکشن میں اسے زبردست شکست کا سامنا کرنا پڑا اور عام آدمی پارٹی نے دوبارہ اقتدار حاصل کرلیا حالانکہ اس بار بی جے پی کی قیادت کا دعویٰ تھا کہ وہ دہلی اسمبلی کے الیکشن میں بھاری اکثریت سے کامیاب ہوگی، لیکن یہ خواب پورا نہیں ہوسکا۔ بھارتی حکومت کے اپنے متنازع قوانین ہی نے پوری دنیا کی توجہ اس جانب مبذول کرائی ہے اور وہ بھارت کو کہہ رہے ہیں کہ وہ ان قوانین پر نظر ثانی کرے۔ بھارتی حکومت اپنے متعصبانہ نظریے کے باعث نہ صرف پاکستان کے لیے مسائل پیدا کررہی ہے بلکہ اندرون ملک مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کی زندگی بھی اس نے اجیرن بنا رکھی ہے۔ سرحدی علاقوں پر بھارتی فوج کی پاکستانی شہریوں پر فائرنگ روزمرہ کا معمول بن چکی، پاکستان ان سرحدی خلاف ورزیوں پر متعدد بار بھارت سے احتجاج کرچکا ہے لیکن بھارتی حکومت اس کو خاطر میں نہیں لارہی۔ اقوام متحدہ اور عالمی طاقتیں مسئلہ کشمیر پر مسلسل بے حسی کا مظاہرہ کررہی ہیں۔ اگر ترکی کے صدر کی طرح وہ بھی بھارت پر دبائو ڈالیں تو ممکن ہے کہ بھارت مسئلہ کشمیر کے حل کی جانب آجائے۔


ای پیپر