اک بڑا مسئلہ
20 فروری 2020 2020-02-20

دوستو،روزگار اور رزق کے حوالے سے ہمارے معاشرے میں ڈپریشن اور بے چینی زیادہ پائی جاتی ہے۔۔ ہر بندہ چاہتا ہے کہ وہ دنیا کی ہر آسائش حاصل کرے لیکن اسے کوئی زیادہ محنت بھی نہ کرنا پڑے۔۔ حالانکہ اللہ سبحانہ تعالیٰ قرآن پاک کی سورۃ ہودآیت چھ میں فرماتا ہے۔۔زمین پر چلنے والا کوئی ایسا جاندار نہیں ہے جس کا رزق اللہ کے ذمے نہ ہو۔۔پھر سورۃ الملک آیت بارہ میں ارشاد قدسی ہے،وہ کون ہے جو تم کو رزق پہنچاتا ہے‘ اگر اللہ اپنا رزق بند کرلے۔ ۔۔انداز کلام میں کیسا بڑا چیلنج دیا جارہا ہے جس کا آج تک مالک الملک کی بارگاہ میں کوئی جواب پیش نہ کرسکا۔ پس اللہ ہی کی ذات ہے جس کے علم میں سب کا حتیٰ کہ ایک ایک کیڑے مکوڑے کے کھانے اور اس کو سامان زیست پہنچانے کا بندوست ہے۔

رزق کی تنگی، رزق کا نہ ملنا، رزق کے لئے پریشان ہونا ہمارے معاشرے میں عام سی بات ہوگئی ہے، ہر بندہ اس سوچ کا شکار ہے کہ کل کا دن کیسے گزرے گا؟ کوئی جاب کے لئے، کوئی بیوی بچوں کے لئے، کوئی بچوں کے بہتر مستقبل کی ٹینشن لئے گھوم رہا ہے۔۔ اللہ رب العزت قرآن پاک کی سورۃ الطلاق کی آیت نمبردو،تین میں انسانوں سے مخاطب ہے۔۔جو اللہ سے ڈرتے ہیں اللہ ان کیلئے مشکلات سے نکلنے کا کوئی نہ کوئی راستہ پیدا کردے گا اور ایسے راستے سے رزق دے گا جدھر ان کا گمان بھی نہیں ہوتا ہو۔ ۔۔یہ بات اپنی جگہ سوفیصد حقیقت ہے کہ انسان کا ہر عمل اس کے رزق پر اثر ڈالتا ہے۔۔ اچھے عمل سے رزق بڑھتا ہے اور برے عمل سے گھٹتا ہے‘ اچھے برے اعمال رزق میں کمی بیشی کے اسباب ہیں ۔یہ اسباب جب بھی اور جہاں بھی پائے جائیں گے ان کے نتائج ضرور سامنے آئیں گے یہ ایک بنیادی حقیقت ہے۔ دنیا میں رزق تو سب کو ملتا ہے مگر رزق کی دو قسمیں ہیں ایک وہ رزق جو آدمی عزت و ناموس بیچ کرلیتا ہے جس کے پیچھے بندہ بھاگتا ہے‘ محنت‘ مشقت کرتا ہے‘ رسوائی جھیلتا ہے تب جاکر ہاتھ آتا ہے اور وہ بھی تھوڑا تھوڑا یہ رزق مسلط ہے بندہ اس کے قبضے میں ہے اور مصیبت کا شکار رزق مسلط بندے کیلئے خدا کی طرف سے ابتلا اور آفت ہے۔

بیربل کوتوآپ لوگ جانتے ہی ہوں گے، یہ اکبر بادشاہ کے ’’نورتنوں‘‘ میں سے ایک رتن تھا، جس کی دانائی ،حکمت اور حاضر دماغی کا جواب نہ تھا۔۔ روایت کے مطابق ایک رات کو جب بادشاہ اور بیربل بھیس بدل کر شہر کا گشت کر رہے تھے۔ دونوں کا گزر ایک حجام کی جھونپڑی کے پاس سے ہوا۔ حجام جھونپڑی کے باہر چار پائی پر بیٹھا حقہ پی رہا تھا۔ اکبر نے اس سے پوچھا۔ بھائی یہ بتاؤ کہ آج کل اکبر بادشاہ کے راج میں لوگوں کاکیا حال ہے؟؟۔ حجام نے فوراً جواب دیا۔ اجی کیا بات ہے۔ ہمارے اکبر بادشاہ کی اس کے راج میں ہر طرف امن چین اور خوشحالی ہے۔ لوگ عیش کر رہے ہیں۔ ہر دن عید ہے ہر رات دیوالی ہے۔ اکبر اور بیربل حجام کی باتیں سن کر آگے بڑھ گئے۔ اکبر نے بیربل سے فخریہ لہجے میں کہا۔ بیربل دیکھا تم نے ہماری سلطنت میں رعایا کتنی خوش ہے؟ بیربل نے عرض کیا بیشک جہاں پناہ آپ کا اقبال بلند ہے۔چند روز بعد پھر ایک رات دونوں کا گزر اسی مقام سے ہوا۔ اکبر نے حجام سے پوچھ لیا۔ کیسے ہو بھائی؟ حجام نے چھوٹتے ہی کہا۔ اجی حال کیا پوچھتے ہو ، ہر طرف تباہی بربادی ہے۔ اس اکبر بادشاہ کی حکومت میں ہر آدمی دکھی ہے۔ ستیاناس ہو ، اس منحوس بادشاہ کا۔اکبر حیران رہ گیا کہ یہی آدمی کچھ دن پہلے بادشاہ کی اتنی تعریف کر رہا تھا۔ اور اب ایسا کیا ہو گیا ؟۔ جہاں تک اس کی معلومات کا سوال تھا۔ عوام کی بد حالی اور پریشانی کی اطلاع اسے نہیں تھی۔ اکبر نے حجام سے پوچھنا چاہا۔ لوگوں کی تباہی اور بربادی۔ کی وجہ کیا ہوئی۔ حجام کوئی وجہ بتائے بغیر حکومت کو برا بھلا کہتا رہا۔ اکبر اس کی بات سے پریشان ہو گیا۔ الگ جا کر بادشاہ نے بے بیربل سے پوچھا ۔۔آخر اس شخص نے یہ سب کیوں کہا؟؟بیربل نے جیب سے ایک تھیلی نکالی اور بادشاہ سے کہا۔ اس میں 10 اشرفیاں ہیں دراصل میں نے 2 دن پہلے اس کی جھونپڑی سے چوری کروا لی تھی۔جب تک اس کی جھونپڑی میں مال تھا۔ اسے بادشاہ حکومت سب کچھ اچھا لگ رہا تھا۔ اور اپنی طرح وہ سب کو خوش اور سکھی سمجھ رہا تھا۔ اب وہ اپنی دولت لٹ جانے سے غمگین ہے ساری دنیا اسے تباہی اور بربادی میں مبتلا نظر آتی ہے۔ جہاں پناہ ، اس واقعے سے آپ کو یہ گوش گزار کرنا چاہ رہا تھا کہ ایک فرد اپنی خوشحالی کے تناظر میں دوسروں کو خوش دیکھتا ہے۔ لیکن بادشاہوں اور حکمرانوں کو رعایا کا دکھ درد سمجھنے کے لئے اپنی ذات سے باہر نکل کر دور تک دیکھنا اور صورتحال کو سمجھنا چاہئے۔

سیانے کہتے ہیں،اگر رزق عقل اور دانشوری سے ملتا،تو جانور اور بیوقوف بھوکے مرجاتے۔۔ہر ایک کی خواہش ہوتی ہے کہ رزق میں برکت ہو۔۔اللہ تعالیٰ نے رزق کے سولہ دروازے مقرر کئے ہیں اور اس کی چابیاں بھی بنائی ہیں جس نے یہ چابیاں حاصل کر لیں وہ کبھی تنگدست نہیں رہے گا۔۔پہلا دروازہ نماز ہے جو لوگ نماز نہیں پڑھتے ان کے رزق میں برکت اٹھا دی جاتی ہے وہ پیسہ ہونے کے باوجود بھی پریشان رہتا ہے۔۔دوسرا دروازہ استغفار ہے. جو انسان زیادہ سے زیادہ استغفار کرتا ہے توبہ کرتا ہے اس کے رزق میں اضافہ ہو جاتا ہے اور اللہ ایسی جگہ سے رزق دیتا ہے جہاں سے کبھی اس نے سوچا بھی نہیں ہوتا۔۔ تیسرا دروازہ صدقہ ہے ، اللہ نے فرمایا کہ تم اللہ کی راہ میں جو خرچ کرو گے اللہ اس کا بدلہ دے کر رہے گا، انسان جتنا دوسروں پر خرچ کرے گا اللہ اسے دس گنا بڑھا کر دے گا۔۔چوتھا دروازہ تقویٰ اختیار کرنا ہے جو لوگ گناہوں سے دور رہتے ہیں اللہ اس کیلئے آسمان سے رزق کے دروازے کھول دیتے ہیں۔۔پانچواں دروازہ کثرت نفلی عبادت ہے جو لوگ زیادہ سے زیادہ نفلی عبادت کرتے ہیں اللہ ان پر تنگدستی کے دروازے بند کر دیتے ہیں۔اللہ کہتا ہے اگر تو عبادت میں کثرت نہیں کرے گا تو میں تجھے دنیا کے کاموں میں الجھا دوں گا، اکثر لوگ فرض پر ہی توجہ دیتے ہیں نفل چھوڑ دیتے ہیں۔ ۔چھٹا دروازہ حج اور عمرہ کرنا، حدیث میں آتا ہے حج اور عمرہ گناہوں اور تنگدستی کو اس طرح دور کرتے ہیں جس طرح آگ کی بھٹی سونا چاندی کی میل دور کر دیتی ہے۔۔ساتواں دروازہ رشتہ داروں کے ساتھ اچھے سلوک سے پیش آنا ایسے رشتہ داروں سے بھی ملتے رہنا جو آپ سے قطع تعلق ہوں۔ ۔آٹھواں دروازہ کمزوروں کے ساتھ صلہ رحمی کرنا ہے غریبوں کے غم بانٹنا، مشکل میں کام آنا اللہ کو بہت پسند ہے۔۔نواں دروازہ اللہ پر توکل ہے جو شخص یہ یقین رکھے کہ اللہ دے گا تو اسے اللہ ضرور دے گا اور جو شک کرے گا وہ پریشان ہی رہے گا۔۔دسواں دروازہ شکر ادا کرنا ہے انسان جتنا شکر ادا کرے گا اللہ رزق کے دروازے کھولتا چلا جائے گا۔۔ گیارہواں دروازہ ہے گھر میں مسکرا کر داخل ہونا ، حدیث میں آتا ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ فرماتا ہے کہ رزق بڑھا دوں گا جو شخص گھر میں داخل ہو اور مسکرا کر سلام کرے۔۔بارہواں دروازہ ماں باپ کی فرمانبرداری کرنا ہے ایسے شخص پر کبھی رزق تنگ نہیں ہوتا۔۔ تیرہواں دروازہ ہر وقت باوضو رہنا ہے جو شخص ہر وقت نیک نیتی کے ساتھ باوضو رہے تو اس کے رزق میں کمی نہیں ہوتی۔ ۔چودہواں دروازہ چاشت کی نماز پڑھنا ہے جس سے رزق میں برکت پڑتی ہے حدیث میں ہے چاشت کی نماز رزق کو کھینچتی ہے اور تنگدستی کو دور بھگاتی ہے۔۔پندرہواں دروازہ ہے روزانہ سورہ واقعہ پڑھنا۔۔ اس سے رزق بہت بڑھتا ہے۔۔سولہواں دروازہ اللہ سے دعا مانگنا جو شخص جتنا صدق دل سے اللہ سے مانگتا ہے اللہ اس کو مایوس نہیں کرتا۔۔اللہ پاک ہم سب کو عمل کی ہدایت دے، آمین۔


ای پیپر