کوئٹہ کا امن تہہ و بالا کرنے کی سازش
20 فروری 2020 2020-02-20

دو روز قبل کوئٹہ میں یوم حضرت ابوبکر صدیق کی ریلی کے قریب خود کش دھماکے میں پولیس اور لیویز اہلکاروں سمیت8افراد شہید جبکہ 21سے زائدزخمی ہوگئے۔ دھماکے سے پولیس، ایگل اسکواڈ کی موٹر سائیکل سمیت 6 سے زائد گاڑیوں اور قریبی عمارتوں کو نقصان پہنچا۔ خود کش دھماکے میں8سے 10کلو گرام دھماکہ خیز مواد استعمال کیا گیا تھا۔

پولیس اہلکاروںکی جانب سے خود کش حملہ آورکو روکنے کی کوشش کے دوران حملہ آور نے خود کو دھماکے سے اڑا دیا جس سے ہلاکتیں زیادہ ہوئیں۔حملہ آورریلی میں داخل ہونے کی کوشش کر رہا تھا جس پر پولیس اہلکاروں نے اسے روکا تو خودکش حملہ آور نے دھماکہ کر دیا۔ اگر حملہ آور ریلی میں داخل ہو کر اپنے آپ کو ہلاک کرتا تو بہت زیادہ ہلاکتوں کا خدشہ تھا لہذا پولیس اہلکاروں نے جانوں کی قربانی دے کر ریلی کے شرکاء کو بچا لیا۔

دہشت گرد عناصر ایک مرتبہ پھر سوچے سمجھے منصوبے کے تحت صوبے کے امن کو تہہ و بالا کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ ہمیں متحد ہوکرانکے مذموم عزائم کو ناکام بنانا ہوگا۔ وزیر داخلہ اعجاز احمد شاہ نے اپنے بیان میں واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ شرپسند عناصر کو ان کے ناپاک عزائم میں کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔

دیگر حملوں آوروںکی طرح اس خود کش حملے کے مرتکب نوجوان کو بھی یقین کامل دلایا گیا ہوگا کہ وہ دھماکے بعد سیدھے جنت میں جائیں گے جہاں اللہ تعالیٰ کے انعامات ان کے منتظر ہوں گے کیونکہ ان کی برین واشنگ کرنے والوں نے انہیں یہی پڑھایا اور سکھایا ہے لیکن انہیں یہ معلوم نہیں کہ نہتے اور معصوم مسلمانوں کو مارنے والے کو جہنمی کہا گیا ہے۔ ان کو مارنے کے بعد اس کا ٹھکانہ صرف جہنم ہی ہے۔ فورسز کے ہاتھوں گرفتار دہشت گردوںکا کہنا تھا کہ ہم انسانوں کو قتل کر کے جنت میں جانا چاہتے تھے۔ مسجدوںمیں بھی

نمازیوں کوتواتر کے ساتھ قتل کیا تھا۔ یہ کونسا بہشتی ٹکٹ ہے جس سے نہ خدا کا گھر محفوظ ہے نہ قرآن نہ انسان اور نہ ہی بزرگان دین کے مزارات۔

دہشت گرد نہ صرف خود کش حملے کرتے ہیں بلکہ مسلح حملے بھی کرتے ہیں ۔جن میں معصوم لوگوں کا ناحق قتل ہوتا ہے۔ جبکہ املاک کو بھی نقصان پہنچایا جا تا ہے۔ جنکا مقصد مملکت خداداد میں بدامنی اور سورش کو ہوا دینا ہے تاکہ اس کی سالمیت کو زیادہ سے زیادہ خطرات لاحق کئے جا سکیں۔ یہ کون لوگ ہیں جو کہ پیارے وطن کی سلامتی کو نقصان پہنچانے کے درپیش ہیں۔ ایسے افعال کی اجازت دنیا کا کوئی مذہب نہیں دیتا۔ لہذا دہشت گرد سرا سر لعنتی اور بے غیرت لوگ ہیں۔

علماء کرام کا کہنا ہے کہ درندگی اور وحشت کی اسلام ہرگز اجازت نہیں دیتا۔ نہ صرف یہ اسلام کے بلکہ انسانیت کے بھی خلاف ہے۔شدت پسند عناصر مسلمانوں کا روپ دھار کرعالمی امن کے درپے ہیں اور اسلام کو بدنام کر رہے ہیں۔ یہ لوگ اسلام کو ایک شدت پسند دین کے طور پر متعارف کروارہے ہیں۔ راہ راست پر آنے والے دہشت گردوں کو اب احساس ہے کہ خودکش حملے جنت میں نہیں جہنم میں پہنچاتے ہیں۔ ان کے مطابق تربیت دینے والوں سے پھر ملاقات ہوئی تو پوچھیں گے کہ خودکش حملے جنت میں لے جاتے ہیں تو خود کیوں نہیں کرتے ؟‘‘

سوال یہ ہے کہ مساجد، مزارات پر حملے کرنیو الے کون ہیں۔ ان کے پیچھے ایک باقاعدہ سازش کار فرما ہے جس کا مقصد ملت اسلامیہ میں اتحاد و یگانگت اور ہم آہنگی کو نقصان پہنچانا ہے۔ کبھی شیعہ سنی اختلافات کوہوا دے کر انہیںآپس میں لڑا یاگیا تو کبھی دیو بندی، بریلوی مسالک کو۔ سوچنے کی بات یہ ہے کہ ہر خود کش حملہ کے بعد اس کی ذمہ داری تحریک طالبان پرکیوں ڈال دی جاتی ہے؟ یوں ذمہ دار اداروں کی ساری توجہ طالبان کی طرف مبذول ہو جاتی ہے اور اصل مجرم صاف نکل جاتے ہیں۔

اسلام پسند عناصر نہ تو دہشت گرد ہوتے ہیں اور نہ ہی ظالم۔ غیر ملکی عناصر ملک میں خوف و ہراس پھیلانے کیلئے طالبانائزیشن کا نام استعمال کر رہے ہیں۔ یہ لوگ اسلام کو دہشت گرد دین کے طو ر متعارف کرانا چاہتے ہیں۔ بے گناہ افراد کی ہلاکت جیسے بزدلانہ فعل سے اسلام کی کوئی خدمت نہیں ہوتی۔ ملک دشمن عناصر عدم استحکام پیدا کر رہے ہیں۔ یہ لوگ اسلام اور ملک کے دشمن ہیں خوف و ہراس پھیلا کر امن تباہ کرنا چاہتے ہیں۔ یہ بے رحم لوگ اپنے مذموم مقاصد کیلئے دین اسلام کا نام لیتے ہیں۔ مگر اس کے سائے میں اپنے لوگوں کو زیر دست بنانا چاہتے ہیں۔ وطن عزیز میں خود کش حملے، دہشت گردی اور خواتین کو اسلام کے نام پر قتل کرنا ملک و قوم کے نام پر بدنما داغ ہے۔ اسلام کسی مسلمان کو دوسرے مسلمان یا انسان کی بلاوجہ جان لینے کی اجازت نہیں دیتا۔ اسلام تو امن و سلامتی کا علمبردار ہے۔اسلام کسی بھی صورت میں کسی مسلم یا غیر مسلم کو دہشت گردی یا خود کش حملوں کے ذریعے جان سے مارنے کی سختی سے ممانعت کرتا ہے۔ جہادی تنظیموں اور مذہبی انتہا پسندوں کے خلاف کارروائی کی آڑ میں ہنود و یہود و نصاریٰ اور ہمارا دشمن بھارت اپنے مذموم مقاصد حاصل کرنا چاہتا ہے جس کا مقصد جہاد کو دہشت گردی کے کھاتے میں ڈال کر دین اسلام کو بدنام کرنا، مسلمانوں کے جذبہ جہاد کو کاری ضرب لگانا ہے۔ ہماری لیڈر شپ کو بھی ان خارجی سازشوں کا مقابلہ کرنے کیلئے پختہ عزائم کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ سیاسی ، انتظامی اور مذہبی قیادت مل بیٹھ کر دہشت گردی، بدامنی پر قابو پانے کیلئے تدابیر سوچے اور قوم میں اتفاق و اتحاد کی فضا پیدا کرے۔

یہ وقت ہے کہ پوری قوم متحد ہو کر یک جان ہوجائے تاکہ ہم اپنے مقدس وطن کے خلاف سازشیں کرنے والے عناصر اور ان کے چھپے ہوئے اصل آقائوں کو بے نقاب کریں۔ ہمیں غور و خوض کرنا چاہیے کہ خود کش حملہ کے پیچھے چھپے اصل راز کیا ہیں؟ یہ عناصر اسلام اور پاکستان دشمن ہونے کے علاوہ اور کچھ بھی نہیں یہ صرف اور صرف غیر ملکی سازش کے تانے بانے اور ان کے ہمدرد اور خیر خواہ ہیں۔ ان کا خواب یہ ہے کہ پاکستان کمزور ہو اور معاشی طور پر دوسروں کا باجگزار بن کر گذارہ کرے جو کہ انشاء اللہ تعالیٰ پورا نہیں ہو گا۔


ای پیپر