پاکستان کرکٹ بورڈ شکریہ
20 فروری 2020 2020-02-20

کرکٹ بے شک پاکستان کا قومی کھیل نہیں لیکن واحد کھیل ہے جس کے متوالوں میں جنس و عمر کی کوئی قید نہیں، کیا بچے، بوڑھے، جوان یا خواتین کرکٹ میں یکساں دلچسپی رکھتے ہیں۔ کرکٹ ہم پاکستانیوں کے لئے صرف کھیل کا درجہ نہیں رکھتی بلکہ یہ پوری قوم کے مورال کو اپ ڈاؤن کرتی ہے۔ آج جب ہم اپنے بچوں کو بتاتے ہیں کہ پاکستان میں غیر ملکی ٹیموں کا آنا جانا لگا رہا کرتا تھا اور اپنے شہر میں ہونے والا کبھی کوئی ٹیسٹ میچ یا ایک روزہ بین الاقوامی میچ ہم نے دیکھے بغیر نہیں چھوڑا تھاتو یہ بات ان کے لئے حیرانگی کا باعث ہوتی ہے کہ کبھی پاکستان میں بھی اتنے تواتر سے انٹرنیشنل میچز ہوا کرتے تھے۔ میرے پاس ابھی بھی وہ آٹو گراف بک موجود ہے جس پر میں نے پاکستان، ویسٹ انڈیز، نیوزی لینڈ اور آسٹریلیا کے نامور کھلاڑیوں کے آٹو گراف محفوظ رکھے ہوئے ہیں۔

پھر 3 مارچ 2009ء کو سری لنکا کی کرکٹ ٹیم پر وحشیانہ حملے کے بعد جس طرح پاکستان کا امیج خراب کرنے اور انٹرنیشنل کرکٹ کی بندش کی سازش رچائی گئی، اس سے پاکستان کرکٹ کو بہت نقصان پہنچا۔ گزشتہ دس سال سے شائقینِ کرکٹ ٹیموں کی آمد کے منتظر رہے۔ انہی دنوں انٹرنیشنل کرکٹ کونسل نے پاکستان میں شیڈولڈ چیمپئنز ٹرافی کے مقابلے بھی پاکستان سے منتقل کر دیئے۔ دہشت گردی کے اس واقعہ نے ہمارے کرکٹ کے میدان اجاڑ دئے، شائقینِ کرکٹ ٹیلی وژن سکرینوں تک محدود ہو کر رہ گئے۔ ہمارے کھلاڑی غیروں کے میدان آباد کرتے رہے جب کہ ہم اپنے عظیم فیلڈروں، بلے بازوں، گیند بازوں کی مہارتوں سے لائیو لطف اندوز ہونے سے محروم رہے۔ اگر چہ بعد ازاں زمباوے، سری لنکا اور بنگلہ دیش کی ٹیموں نے پاکستان میں آ کر دوبارہ انٹرنیشنل کھیلوں کو بحال کیا۔ لیکن اس سال

پی ایس ایل میں دنیا بھر کے نامور کرکٹرز کی شرکت سے امید کی جا سکتی ہے کہ دنیائے کرکٹ کی مزید بین الاقوامی ٹیمیں پاکستان کا دورہ کر کے اس تاثر کو زائل کریں گی جو امن و امان کی کشیدہ صورتحال کے حوالے سے سازشی طور پر پاکستان پر راسخ کیا جا رہا تھا۔ یقیناً سپر لیگ میں مداحوں کو سنسنی خیز لمحات سے بھرپور میچز دیکھنے کو ملیں گے اور ایک بہترین ماحول میں اچھے مقابلوں سے دنیا کو پاکستان کے بارے میں اچھا پیغام جائے گا۔ انگلینڈ، آسٹریلیا، نیوزی لینڈ، جنوبی افریقہ جیسی ٹیمیں پاکستان نہ آنے کا بہانہ بنا لیتی ہیںلیکن پاکستانی عوام کا کوئی قصور نہیں وہ کرکٹ دیکھنا چاہتے ہیں۔ پاکستانی کرکٹ سے محبت کرنے والی قوم ہے، پاکستان ایک مہمان نواز اور گریٹ کرکٹ کنٹری کی شہرت رکھنے والا ایشیائی ملک ہے جس کے مضبوط سیکورٹی ادارے اپنے مہمانوں کی حفاظت کرنا بخوبی جانتے ہیں۔

یہ سال پاکستانی کرکٹ کے لئے بڑا خوش آئند ہے۔ رواں صدی میں پاکستان میں اتنا بڑا ایونٹ اس سے پہلے کبھی نہیں ہوا۔ گزشتہ صدی کی آخری دہائی میں پاکستان میں کرکٹ کا ورلڈ کپ منعقد ہوا تھا۔ پاکستان میں کھیلوں کے سونے میدان آباد ہونا اور برطانیہ کی جانب سے پاکستان کے متعلق بہترین ایڈوائزری جاری کرنا اس بات کا ثبوت ہیں کہ پاکستان کے حالات بالکل پر امن ہیں۔ اس سے پاکستان کی بہترین ساکھ اجاگر ہو رہی ہے کہ ہمارے ملک میں اب دہشت گردی کا نام و نشان بھی نہیں ہے۔ پوری دنیا سے کھلاڑی، شو بزنس سے تعلق رکھنے افراد اور ٹورسٹ بلا خوف و خطر پاکستان آ سکتے ہیں۔

پی ایس ایل فائیو ٹرافی کی رونمائی کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیئر میں کرکٹ بورڈ و پی ایس ایل احسان مانی نے کہا آج ہم اپنا وعدہ پورا کرنے جا رہے ہیں۔ دنیا کو بتانا چاہتے ہیں کی ہم آئی سی سی کے ایونٹس کر سکتے ہیں۔ اتنی بڑی تعداد میں غیر ملکی کھلاڑیوں کی آمد سے غیر ملکی ٹیموں کا بھی اعتماد بحال ہو گا۔ انہوں نے اعلان کیا کہ پی ایس ایل کے اگلے ایڈیشن میں پشاور اور کوئٹہ میں بھی میچز کا انعقاد کیا جائے گا۔ قومی سا لمیت اور بھائی چارے کے فروغ میںمعاون ہو گا کیونکہ کسی قوم اور ریاست کو جوڑے رکھنے میں اور بہت سے عوامل کے ساتھ کھیلوں کا بھی اہم حصہ ہوتا ہے۔ کسی بھی ملک کے مقبول کھیل میں وہاں کی مختلف قومیتوں، گروپوں اور کمیونٹیز کی یکساں دلچسپی موجود ہوتی ہے۔ پاکستان سپر لیگ کا مکمل طور پر پاکستان میں انعقاد بڑی مسرت کی بات ہے، جس کا تمام کریڈٹ پی سی بی کی انتظامیہ کو جاتا ہے جنہوں نے غیر ملکی ٹیموں کا اعتماد بحال کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ شائقینِ کرکٹ غیر ملکی کھلاڑیوں کو اپنے میدانوں کھیلتے دیکھنے کے تصور سے پرجوش ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ سیکورٹی اداروں کی بھی تعریف کی جانی ضروری ہے جن کی کوششوں کی بدولت ملک میں امن و امان قائم ہوا۔ جنہوں نے بہت سی قربانیاں دے کر ملک سے دہشت گردی کا خاتمہ کیا۔ وطنِ عزیز کا ماضی گواہ ہے کہ یہاں دہشت گرد، انتہا پسند اور ملک دشمن عناصر دندناتے پھرتے تھے۔ یہ ایک ایسی صورتحال تھی جب پاکستان میں خود کش حملوں اور بم دھماکوں کا ایک لامتناہی سلسلہ شروع ہوا۔ کوئی دن ایسا نہ تھا جب بے گناہ قیمتی جانیں دھماکوں کی نظر نہ ہو رہی ہوں۔ ایسے میں ہماری سیکورٹی فورسز نے نہ صرف دہشت گردوں بلکہ ان کے سہولت کاروں کے خلاف کارروائیاں عمل میں لائیں اور آپریشن کے 100 فیصد نتائج حاصل کئے گئے۔ دہشت گردوں اور ان کے ٹھکانوں کا صفایا کیا اور آج پاکستان ایک محفوظ ملک کا درجہ حاصل کر چکا ہے۔ انہی قربانیوں کی بدولت دنیا بھر کے کھلاڑی یہاں پی ایس ایل کے ایونٹ میں شریک ہو رہے ہیں۔ شکریہ پاکستان کرکٹ بورڈ، شکریہ غیور و بہادر افواج۔


ای پیپر