مارچ میں مارچ
20 فروری 2020 2020-02-20

جمعیت علما ء اسلام کے مرکزی امیرمولانا فضل الرحمٰن نے حکومت کے خلاف مارچ کا اعلان کرکے ایک بار پھر ملکی سیاست میں ہلچل مچادی ہے۔ مولانا کے مطابق وہ اپنی تحریک کے تیسرے مرحلے کا آغاز ۲۳ فروری کو لاہور میں ایک بڑے جلسہ عام سے کریں گے جسمیں وہ اپنے آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان بھی کریں گے کہ اگلے ماہ مارچ میں لانگ مارچ کو حکومت کے خلاف ایک فیصلہ کن اقدام کے طور پر کیسے کامیاب کرائیں۔مولانا نے واضح کیا ہے کہ وہ لاہور کے جلسے میں پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان مسلم لیگ کو (ن)خود تو دعوت شرکت نہیں دینگے لیکن اگر انکے لوگ آنا چاہیں تو وہ خوش آمدید کہیں گے۔مولانا صاحب کی طرف سے حکومت کے خلاف ایک فیصلہ کن تحریک کا فیصلہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب حکومت قومی محاذ پر بہت سارے چیلنجز سے نبردآزما ہے۔ ایک طرف سیاسی محاذپر حکومت کے اپنے ہی سیاسی اتحادیوں نے حکومت کی مشکلات میں اضافہ کردیاہے تو دوسری طرف اقتصادی محاذ پر حکومت کو درپیش چیلینجز حکومت کیلے عوامی دبائو کا سبب بن رہے ہیں۔ بے روزگار ی روز بروز بڑھتی جارہی ہے۔ ہوشربا مہنگا ئی کی طوفان کے آگے عام آدمی کا قوت برداشت جواب دے رہاہے۔ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت سے جڑے عوامی توقعات مایوسیوں میں بدل رہے ہیں۔ حکومت کی س کارکردگی پر خود حکومتی حلقوں کے اندرسے سوالات اٹھ رہے ہیں۔ حکومت خود اضطراب میں مبتلا

ہے کہ اپنی ڈوبتی نائو کو کیسے سنبھالا دیں۔ایسی صورتحال کا فائدہ اٹھاکر مختلف سیاسی پارٹیاں سیاسی اکھاڑے میں اپنی اپنی سیاسی قوتوں کا مظاہرہ کرنے کیلئے پر تول رہی ہیں۔ مولانا کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے پاکستان پیپلز پارٹی کے چیرمین بلاول بھٹو زرداری نے بھی مارچ میں حکومت کے خلاف تحریک چلانے کا اعلان کیا ہے۔ ادھر پاکستان مسلم لیگ کے صدر شہباز شریف نے بھی لندن سے پاکستان واپسی کا عندیہ دیا ہے ۔ شہباز شریف کی وطن واپسی پر ہی مسلم لیگ کے سیاسی سمت کا تعین ہوگا۔ خیبر پختونخوا میںسیاسی گہماگہمی پہلے ہی عروج پر ہے۔ ۱۱ جنوری کو گرینڈ قبائلی جرگے نے حکومت کے خلاف ۱۱ نکات پر مشتمل چارٹر آف ڈیمانڈ پیش کرتے ہوئے کہا کہ اگر حکومت نے انکے مطالبات نہیں مانے تو وہ سڑکوں پر آکر تحریک چلانے پر مجبور ہونگے۔ مطالبات میں قبائلی اضلاع کیلئے این ایف سی ایوارڈ کی مد میں ۳ فی صد حصہ، قبائلی اضلاع میں لوکل گورنمنٹ کے جلد قیام، علاقے میں صنعتی بستیوں کا قیام اور ترقیاتی کاموں کی رفتار میں تیزی جیسے مطالبات شامل تھے۔ ادھر عوامی نیشنل پارٹی نے بھی مارچ میں گرینڈ جرگہ بلانے کا اعلان کیا ہے۔ پارٹی کی قیادت کے مطابق اس جرگے میں تما م پشتون قام پرست رہنمائوں سمیت قبائلی اضلاع کے سرکردہ مشیران اور سماجی کار کنان کو بھی دعوت دی جائیگی تاکہ پشتونوں کے مسائل کے حل کے حوالے سے کوئی ٹھوس حکمت عملی بنائی جاسکے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ یہ سارے سیاسی کھیل کیا عوامی مفاد میں کھیلے جارہے ہیں؟ اس میں کو ئی شک نہیں کہ جب دو ہاتھی لڑپڑتے ہیں تو نقصان ان کے نیچے گھاس کوہی پہنچتی ہے۔ اسی طرح اس سیاسی دلدل میں اگر کوئی پھنسے گا تو ایک عام آدمی ہی پھنسے گا۔ لیکن خوش قسمتی سے اب ایک عام ٓدمی کو اس بات کا ادراک ہے کہ اس سیاسی اکھاڑے کے سارے کھلاڑی آزمائے ہوئے ہیں اور سارے کے سارے محض چلے ہوئے کارتوس ہیں۔ پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نون نے ماضی میںبار بار عوام کو بے وقوف بناکر مسند اقتدار پر قبضہ جمایا لیکن عوام کی بہتری کیلئے کچھ بھی نہیں کیا۔ اور ہر بار بد عنوانی، سیاسی نااہلی اور اقرباپروری کے الزامات کی بنیادپر انکی حکومتیں توٹتی اور بنتی رہی۔ پھر مذہبی جماعتوں اور قوم پرست جماعتوں نے کبھی مذہب اورکبھی وطن کے نام پر عوام کا استحصال کیا لیکن بے چارے عوام کی حالت بد سے بد تر ہوتی رہی۔ لے دے کے عوام کو امید کی ایک کرن اگر کہیں نظر آئی تو وہ عمران خان ہی تھے لیکن حکومت سنبھالتے ہی عمران خان عوام سے کئے گئے اس عمرانی معاہدے سے یوں انحراف کرگئے جیسے کبھی انہی عوام سے آشنا ہی نہ تھے۔ ایسے میں عوام جائیں تو جائیں کہاں؟ بے روزگاری، غربت اور مہنگائی کے مارے عوام کس سے امیدیں باندھیں، کس پہ تکیہ کریں۔ کس کے حق میں زندہ آباد اور مردہ آباد کے نعرے لگائیں، کس پارٹی کے منشور کو اپنے لئے سیاسی مشعل راہ بنائیں؟ اگر سیاست اسی کا نام ہے تو ایسی سیاست سے ہم باز آئے۔


ای پیپر