حفیظ تائبؒ کی جستجو رسولﷺ
20 فروری 2020 2020-02-20

میں نے اپنی زندگی میں بعض بھائیوں کے درمیان پیار ومحبت، اور روایتی بھائی چارے کی بے مثال یگانگت بلکہ ضرب المثل کی حدتک احترام دیکھا ہے کہ ایسا ادب اور نیازمندی محض والدین کی فرض ہوتی ہے مگر جناب مجید منہاس، اور قابل احترام مجددنعت وثنائ، اور غلامی وعشق خداورسول میں فنا حضرت حفیظ تائبؒ کے درمیان میں نے اس قدر دیکھا ہے کہ وقت کے بدلتے لیل ونہار وگردش ایام، اور موسم بہار وخزاں بھی وقت کے ساتھ اس پیارومحبت وگنہانے کے بجائے روز افزوں اضافہ کرتی جاتی ہے، اور ان شاءاللہ ان کی بقیہ زندگی بھی باآدب گزرے گی جناب مجید منہاس کی اس حوالے سے تڑپ درد وکسک، دیکھ کر یہ معلوم ہوتا ہے کہ انہیں کسی پل چین نہیں بلکہ انہیں کسی بھی پل چین و قرار نہیں، اور وہ ہمہ وقت خدائے ذوالجلال کے حضور کبھی ہاتھ پھیلائے، اور کبھی سرجھکائے بارگاہ ایذدی میں دربار رسالت مآب کے طفیل دعاگورہتے ہیں کہ وہ خودی تو کیا خود فراموشی کے حصار میں چلے جاتے ہیں، کہ حضرت علامہ اقبالؒ کے ان اشعار پہ انسان سوچوں میں گم ہوجاتا ہے، کہ

بہت رنگ بدلے سپہربریں نے

خدا یہ دنیا جہاں تھی وہیں ہے!

ابھی تک ہے پردے میں اولاد آدم

کسی کی خودی آشکار نہیں ہے

قارئین کرام، سپہر کہتے ہیں، آسمان ، فلک، آکاش، اور سماءکو مگرمیں اکثر یہ بات سوچتا رہتا ہوں کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اللہ سبحانہ وتعالیٰ سے درخواست کی تھی، چونکہ حضرت موسیٰ علیہ السلام ”کلیم اللہ“ تھے، اور اللہ سبحانہ وتعالیٰ سے براہ راست بات کرلیتے تھے انہوں نے اللہ تعالیٰ سے التجا کی کہ اے اللہ میری امت کے لوگ بنی اسرائیل والے بہت زیادہ ہیں مجھے انہیں تبلیغ کرتے ہوئے دشواری کا سامنا کرنا پڑتا ہے، لہٰذا میرے بھائی ہارون علیہ السلام کو میرا دست وبازو بنادے، اللہ تعالیٰ نے ان کی یہ دعا بلکہ براہ راست بات فوراً قبول کرلی، اور ان کے بھائی ہارون علیہ السلام کو بھی نبی بنادیا، تاکہ یہ دونوں بھائیبااحسن اور خوش اسلوبی سے فرائض انبیاءادا کرسکیں۔ یہ واقعہ جب بھی میں پڑھتا ہوں، تو ماضی قریب کے یہ دو بھائی مجید منہاس صاحب اور حضرت حفیظ تائب یاد آجاتے ہیں، یہی لگتا ہے کہ حفیظ تائب ؒ نے بھی اللہ تعالیٰ سے دعا کی ہوگی کہ اے اللہ میرے بھائی کو میرا دست وبازو بنادے، اور وہ تیری حمد وثنا اور مدحت رسول میرا لکھا ہوا ایک ایک لفظ محفوظ کرسکے، اور یوں اللہ تعالیٰ نے بھی ان کی بات فوراً قبول فرما لی، اور جب واسطہ و سیلہ درنبی ہوگا، تو پھر استادوں کے استاد جناب احمد جلیل کے الفاظ یہ روپ دھار لیتے ہیں۔

رہے گی ہرگز نہ جھولی خالی وہاں پہ پہنچے گا جو سوالی

درنبی پر چلو وہاں پر نوازشیں ہی نوازشیں ہیں

حضرت حفیظ تائب کو پوری دنیا ایسے ہی تائب نہیں کہتی، اللہ سبحانہ وتعالیٰ کا وعدہ ہے کہ انسان کے گناہ اگر فرش سے عرش تک بھی ہوں اور وہ اگر سچے دل اور سچی نیت سے مجھ سے معافی مانگے، تو مجھے اپنی رحمت کی قسم، جو میری تمام ترصفات، مثلاً جبار وقہار پہ حاوی ہے، تو میں اس کے گناہ اس طرح سے معاف فرما دیتا ہوں، جیسے نوزائیدہ بچہ ماں کے پیٹ سے معصوم آتا ہے کچھ کم فہم وعلم ایسے بھی ہیں، کہ جو حفیظ تائب کو حضرت لکھنے یا رحمت اللہ علیہ لکھنے پہ معترض ہوتے ہیں، ان کی نظر میں کیا حفیظ تائب صاحب کے گناہ اس قدر زیادہ تھے کہ جو ناقابل معافی تھے؟ اللہ تعالیٰ تو سوانسانوں کو قتل کرنے والوں کو بھی معاف کردیتا ہے، دراصل اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان بھی ہر انسان کو ذہن نشین کرلینا چاہیے کہ میں انسان کے گمان کے قریب ہوتا ہوں، یعنی انسان میرے بارے میں جو بھی گمان رکھتا ہے، میں اس گمان کے مطابق کرتا ہوں، اور اس حوالے سے حفیظ تائبؒ خود یہ فرماتے ہیں، کہ

کتنا بڑا کرم ہے کہ تائب سابے ہنر

توصیف مصطفیٰ کیلئے چن لیا گیا!

تھی ہزار تیرگی فتن ، نہ بھٹک سکا مرافکر وفن

میری کائنات خیال پر نظر شہ عربی رہی

جناب حفیظ تائب صاحب کی ایک دھن ایک لگن ،اتنی بے مثال تھی، کہ جس کی جتنی قدر کی جائے کم ہے، وہ ایک عمرہ کرکے واپس آتے، تو دوسرے عمرے کے لیے پیسے جوڑنے شروع کردیتے، ان کا بس چلتا یا ان کے لیے کسی بھی طرح ممکن ہوتا، تو وہ حرمین شریفین کے ہی ہوکے رہ جاتے، مگر یہ بات مستند ہے کہ ان کا وجود وطن عزیز میں ہوتا، مگر دل ودماغہمیشہ دربار رسالت مآب پہ حاضر رہتا، وہ خود فرماتے ہیں، کہ

آب جو کی طرح ہوں سرگرداں

نکل آیا ہوں، کوہ سارے دور

اک گل حیرت و ملال ہوں میں

مسکرایا ہوں شاخسار سے دور

ایک خصوصی صفت، جو انہیں اپنے ہم عصروں میں ممتاز بتائی ہے، وہ واضح طورپر ان کی کسرنفسی تھی، اور ان کا اخلاق، اخلاق کریمانہ کے مالک کی پیروی میں اپنی انتہا کو پہنچا ہوا تھا، کہ انسان کو حیرت کی وسعتوں میں گم کردیتا تھا، اور وہ اپنے ہرعمل میں تقلید نبی کی پیروی کرتے نظر آئے آخر میں یہ عرض کرنا ضروری سمجھتا ہوں کہ جناب مجید منہاس کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ انہوں نے اپنے بھائی کی تحریر کا ایک ایک حرف، اور ایک ایک لفظ اس طرح سے محفوظ کیا ہوا ہے کہ بے اختیار داددینے کو دل مجبور ہو جاتا ہے، شاید اسی خوبی اور انسیت کے جذبے کی قدر کرتے ہوئے، حفیظ تائب ؒ اپنے بھائی مجید منہاس سے باپ، بیٹے کی طرح پیار کرتے تھے، بلکہ انہیں امت مسلمہ سے بھی ایسا ہی پیار تھا۔

یارب حرم کی خیرہو، اہل حرم کی خیر

سارے عرب کی خیرہو سارے عجم کی خیر

انسانیت پہ رحم ہو، رحمت کا واسطہ

خیرالوریٰ کے صدقے میں خیرالامم کی خیر


ای پیپر