اب اُداس پھرتے ہو سردیوں کی شاموں میں !
20 فروری 2020 2020-02-20

(تیرہویں قسط، گزشتہ سے پیوستہ)!

میں گزشتہ کالم میں اُن مشوروں کا ذکر کررہا تھا جو وزیراعظم عمران خان کو وزارت عظمیٰ کاحلف اُٹھانے کے چند روز پہلے میں نے دیئے تھے، میں نے یہ بات بڑا زوردے کر کہی تھی ”وزیراعظم بننے کے بعد آپ نے اپنے مخالف سیاستدانوں خصوصاً ایسے سیاستدانوں کا نام تک اپنی زبان پرنہیں لانا جن پر نیب کے کیسز ہیں، ان مبینہ کرپٹ سیاستدانوں کو آپ اداروں کے رحم وکرم پر چھوڑ دیں، وہ ادارے جانیں اور وہ کرپٹ سیاستدان جانیں، آپ ان معاملات سے خود کو الگ رکھیں۔ اِس موقع پر اُن کے مخصوص مزاج کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے یہ بھی میں نے عرض کیا تھا ” اِس حقیقت کا یقیناً آپ کو ادارک ہوگا سابق وزیراعظم نواز شریف کو سزا کرپشن کی نہیں اِس ملک کی اصل قوتوں کے ساتھ پنگا یا پھڈا لینے کی مل رہی ہے، جبکہ اُصولی طورپر سزا اُنہیںکرپشن کی ملنی چاہیے،.... خان صاحب سے میں نے گزارش کی آپ اِس قسم کی غلاظتوں سے خود کو پرے رکھئے گا .... جس نے واقعی کرپشن کی ہے، قومی خزانے کو بے دردی سے لوٹا ہے، اُسے ضرور سزا ملنی چاہیے، چاہے اُس کا تعلق کسی بھی شعبہ سے کیوں نہ ہو ، اور وہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو ، صرف سیاستدانوں کو نشانہ بنایا گیا، اور آپ اِس ”خصوصی مہم “ کا حصہ بنے آپ کو اس کا سیاسی واخلاقی طورپر نقصان ہی ہوگا، .... اس قسم کے معاملات میں غیر ضروری مداخلت کرکے آپ اپنا وقت ضائع نہ کیجئے گا، کسی کے اشاروں پر مخالف سیاستدانوں کو ”چورڈاکو، چورڈاکو“ کہنے کا سلسلہ آپ کے وزارت عظمیٰ کا حلف اُٹھانے کے بعد ختم ہوجانا چاہیے، اِس کا جتنا فائدہ آپ نے اُٹھانا تھا الیکشن میں اُٹھا لیا، یہ سلسلہ وزیراعظم بننے کے بعد اب رُک جانا چاہیے، وزیراعظم بننے کے بعد آپ کے حوالے سے یہ تاثر نہیں اُبھرنا چاہیے آپ اپنے مخالف سیاستدانوں کے لیے اداروں پر اثر انداز ہونا چاہتے ہیں، جبکہ آپ جانتے ہیں آپ کے اثر انداز ہونے کا کوئی فائدہ بھی نہیں ہونا، جنہوں نے مبینہ کرپٹ سیاستدانوں پر کیسز بنائے وہ یہ کیسز اپنے ذاتی مفادات کی خاطر ختم بھی کرسکتے ہیں، آپ کو خوامخواہ منہ پر کالک ملنے کی ضرورت نہیں، .... بجائے اِس کے اِس قسم کی بے کاریوں میں آپ اُلجھے رہیں ، بہتر ہے آپ تین شعبوں پر فوکس کریں، اِن بگڑے ہوئے تین شعبوں میں بنیادی اصلاحات کرنے میں آپ کامیاب ہوگئے بطور حکمران لوگوں کے دلوں میں آپ کی عزت میں اضافہ ہوگا جوکہ عموماً اقتدار میں آنے کے بعد سیاستدانوں کی عزت میں نہیں ہوتا، آپ صرف نظام تعلیم، نظام صحت اور نظام عدل ( لاءاینڈ آرڈر) درست کردیں، کیونکہ جس ملک کے یہ تین نظام درست ہوتے ہیں وہ ملک دنیا میں ہمیشہ ایک بڑے اور منفرد مقام پر کھڑے ہوتا ہے“ ،....ایک اور مشورہ میں نے اُنہیں یہ دیا، میں نے ان سے کہا” میں کوئی ماہر معاشیات نہیں ہوں، پر اپنی سمجھ بوجھ کے مطابق میری آپ سے گزارش ہے وزیراعظم بننے کے بعد آپ ایک پالیسی بنائیں جس کے تحت عام معافی کے بعد یہ اعلان کریں اِس ملک میں جِس جِس کے پاس ” کالا دھن“ ہے، جو اس ملک میں لُوٹ مار کرکے بنایا گیا وہ سارا اب اس شکل میں اِس ملک کو واپس کردیں یہاں انویسٹمنٹ کریں، فیکٹریاں لگائیں، ملیں لگائیں، ریسٹورنٹس کھولیں، یونیورسٹیاں بنائیں، ان سے یہ نہیں پوچھا جائے گا یہ پیسہ اُنہوں نے کہاں سے بنایا، یا کہاں سے آیا؟ اِس سے ملک میں روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے۔ اِس کے علاوہ تاجروں اور صنعت کاروں کے لیے ٹیکس کی وصولی کے نظام میں جو پیچیدگیاں ہیں اُنہیں دورکریں۔ ٹیکسوں کی وصولی کے نظام میں ایسی

آسانیاں پیدا کریں ہمارے تاجر اور صنعت کار ٹیکس بچانے کے لیے جو بھاری رقوم بطور رشوت افسروں کو دیتے ہیں، یا وکلاءکو دیتے ہیں وہ پیسہ قومی خزانے میں جائے، ملکی معیشت پر اس کے بُرے مثبت اثرات ہوں گے، ....صنعت کاروں، دکانداروں، تاجروں کے لیے ایسی عزت مندانہ آسانیاں پیدا کریں وہ ٹیکس چرانے کے بجائے ٹیکس دینے میں فخر محسوس کریں، جیسا کہ اکثر ترقی یافتہ ممالک میں ہوتا ہے، وہاں اگر شہری دیانتداری سے ٹیکس دیتے ہیں حکومت اس کے مقابلے میں اُنہیں بے شمار سہولیات دیتی ہے، خصوصاً تعلیم ، صحت اور عدل کے شعبوں میں دی جانے والی سہولیات سے اُن کی زندگیوں میں کئی طرح کی آسانیاں پیدا ہوتی ہیں، پاکستان کا شمار سب سے زیادہ زکوٰة دینے والوں میں ہوتا ہے۔ اِس ملک کا معاشی طورپر جو حشر نشر کردیا گیا ہے لوگ اگر مستحقین کو خوشی سے زکوٰة دے سکتے ہیں تو ” مستحق پاکستان“ کو خوشی سے ٹیکس کیوں نہیں دے سکتے؟ ، بس یہ ہے ایک ایسی معاشی ٹیم لے کر آئیں جو محبت اور عزت سے لوگوں کو اس طرف قائل اور مائل کرلے، پاکستان میں اکثر لوگ صرف محبت کے بھوکے ہوتے ہیں، اس کے بدلے میں وہ اپنا سب کچھ قربان کرنے پر تیار ہو جاتے ہیں، آپ ایک ایسی فضا اور ماحول قائم کیجئے گا لوگ پورا ٹیکس دینے میں فخر محسوس کریں، بلکہ جتنا ٹیکس اب تک وہ چھپاتے یا بچاتے رہے ہیں وہ بھی ادا کرنے کے لیے تیار ہو جائیں، .... انہوں نے میری ساری باتیں غور سے سنیں، پھر وہ اسد عمر کی تعریفیں کرنے لگے، کہنے لگے ” تم دیکھنا وہ ایسی شاندار اصلاحات لے کر آئے گا کسی غیر سے بھیک مانگنے کی ہمیں ضرورت ہی محسوس نہیں ہوگی، سب سے پہلے ہم آئی ایم ایف سے چھٹکارا حاصل کریں گے، مجھے پتہ ہے پاکستان کی معاشی حالت بڑی کمزور ہے، میں اوورسیز پاکستانیوں سے کہوں گا پاکستان کی معاشی حالت سدھارنے کے لیے وہ مدد کریں، پاکستان میں انویسٹمنٹ کریں، اس حوالے سے اسدعمر نے بڑی زبردست تیاری کی ہوئی ہے۔ اس کے نتائج پاکستان کو دنوں میں اُوپر اُٹھا دیں گے۔ (جاری ہے)


ای پیپر