پلوامہ حملہ اور بڑھتی کشیدگی
20 فروری 2019 2019-02-20

بھارتی مقبوضہ کشمیر کے ضلع پلوامہ میں جموں سری نگر شاہراہ پر بھارتی سنٹرل ریزرو پولیس فورس کے قاجلے پر ہونے والے حملے کے نتیجے میں پولیس کے 44 اہلکار ہلاک ہو گئے۔ اس حملے کے نتیجے میں مودی سرکار نے ایک بار پھر لفظی گولہ باری کا آغاز کرتے ہوئے پاکستان کو نشانے پر رکھا ہے۔ بھارتی حکومت، میڈیا اور انتہا پسند ہندو گروپ اس حملے کو جواز بنا کر پاکستان، مسلمانوں اور کشمیریوں کے خلاف نفرت انگیز پروپیگنڈے میں مصروف ہیں۔ ہندو انتہا پسندوں کی طرف سے ممکنہ حملوں کے باعث اب تک 6000 ( 6 ہزار) کشمیری مسلمان جموں کے مختلف علاقوں کی مساجد میں پناہ لے چکے ہیں۔ برس ہا برس سے بھارت کے مختلف شہروں میں مقیم کشمیری تاجروں ، طالب علموں اور سرکاری ملازمین کو دھمکیاں دی جا رہی ہیں کہ وہ اپنے گھر بار اور ملازمتیں چھوڑ کر واپس اپنے آبائی علاقوں میں واپس چلے جائیں۔

دوسری طرف بھارتی میڈیا اور حکومتی ذمہ داران مسلسل پاکستان پر حملہ کرنے اور اسے سبق سکھانے کی باتیں کر رہے ہیں۔ بدلہ لینے کی باتیں ہو رہی ہیں۔ اس صورت حال سے خطے میں کشیدگی بڑھ رہی ہے۔ اس حملے نے مودی سرکار کو یہ موقع فراہم کر دیا ہے کہ وہ خطے میں نفرت اور تشدد کو مزید ہوا دے۔ میں نے گزشتہ کالم میں بھی عرض کیا تھا کہ مودی سرکار ہندو انتہا پسندی کو فروغ دے کر مذہبی اقلیتوں اور خصوصاً مسلمانوں کو نشانہ بنا کر مئی 2019 ء میں ہونے والے عام انتخابات جیتنا چاہتی ہے۔ بھارت اس وقت ہندو انتہا پسندی کے نرغے میں ہے۔ BJP کی مودی حکومت سرکاری سرپرستی میں ہندو انتہا پسندی کو فروغ دے رہی ہے۔ انتہا پسندی، میڈیا اور ریاستی اداروں میں سرائیت کر چکی ہے اور پروان چڑھ رہی ہے۔ بھارت کے اندر نفرت، عدم برداشت اور انتہا پسندی کی آگ پھیل رہی ہے۔

اس صور ت حال میں بھارتی رد عمل حیران کن ہر گز نہیں ہے۔ مودی سرکار اور ہندو انتہا پسندوں سے اسی قسم کے رد عمل کی توقع کی جا سکتی ہے۔ نفرت کی سیاست مودی سرکار کے فائدے میں ہے۔ اس لیے وہ عام انتخابات تک کشیدگی کو مسلسل بڑھانے کی کوشش کرے گا۔

مودی سرکار کا اصل مسئلہ یہ ہے کہ وہ اس حقیقت کو تسلیم کرنے کو تیار نہیں ہے کہ کشمیری بھارت سے آزادی چاہتے ہیں۔ وہ بھارتی غلامی کو تسلیم کرنے کو تیار نہیں ہیں۔ بھارتی حکومت اس حقیقت کو بھی ماننے کے لیے تیار نہیں ہے کہ کشمیر میں جاری تحریک آزادی کو کشمیر یوں نے اپنے خون سے سینچا ہے۔ یہ تحریک کشمیریوں کی اپنی تحریک ہے جس نے بھارتی مظالم اور استبداد کے خلاف جنم لیا ہے ۔ کشمیری نوجوان روزانہ بھارتی قابض فورسز کا سامنا کرنے کے لیے گھروں سے نکلتے ہیں۔ بھارت اس امر کو بھی تسلیم کرنے کو تیار نہیں ہے کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے ظلم و جبر ریاستی وحشیانہ طاقت اور تشدد کے ہر حربے کے استعمال کے با وجود کشمیریوں کا جزبہ آزادی اور حریت دبایا نہیں جا سکا ہے۔ کشمیر میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ در اصل بھارتی پالیسیوں اور حکمت عملی کا براہ راست نتیجہ ہے۔ اپنی غاصبانہ اور ناکام پالیسیوں کو تسلیم کرنے کی بجائے بھارتی حکمرانوں نے آسان

راست یہ چن لیا ہے کہ بھارت اپنے اندرونی حالات کا جائزہ لینے اور کشمیر کے مسئلے کا سیاسی حل ڈھونڈنے کی بجائے ہر برائی کا ذمہ دار پاکستان کو قرار دے دیتے ہیں۔ وہ یہ تاثر دینے کی کوشش کرتے ہیں کہ جیسے بھارت میں تو سب کچھ ٹھیک ہے بس یہ پاکستان سے آنے والے در انداز ہیں جو بھارت میں تشدد اور دہشت گردی کے ذمہ دار ہیں۔

مثلاً پلوامہ کو ہی لے لیں۔ ایک نو جوان 300 کلو بارود سے بھری ہوئی گاڑی کو سنٹرل پولیس ریزرو فورس کے قافلے سے ٹکرا دیتا ہے۔ اگر اس نو جوان پر نو عمری میں بھارتی قابض فورسز نے تشدد نہ کیا ہوتا اور ایسے حالات پیدا نہ کیے ہوتے کہ بہت سارے کشمیری نو جوان عسکریت کے راستے کو چنتے ۔ سیاسی عمل کو راستہ نہ ملنے اور سیاسی حل کی امیدیں دم توڑنے سے ایک بار پھر نو جوانوں کی بڑی تعداد مسلح جدو جہد کا راستہ اختیار کر رہی ہے۔ پتھر برسانے والے ہاتھ کب پتھر چھوڑ کر بندوق تھام لیں اس کا دارومدار حالات پر منحصر ہوتا ہے۔ ریاستی طاقت کا وحشیانہ استعمال نا گزیر طور پر رد عمل کو جنم دیتا ہے۔ بعض اوقات نفرت کا یہ لاوا دیر تک ذہنوں میں جمع رہتا ہے اور پھر کوئی بھی واقعہ اس لاوے کو بہنے کا راستہ دے دیتا ہے۔ سنگینوں کے سائے میں نفرت ہی جنم لے سکتی ہے۔ کشمیر میں کئی دہائیوں سے تشدد کا سلسلہ جاری ہے۔ پلوامہ کا واقعہ اس تشدد کا تسلسل ہے۔ کشمیر میں تشدد بند ہونا چاہیے۔ بھارت کو اس بات کا اندازہ ہونا چاہیے کہ سیاسی تنازعات کا فوجی حل ممکن نہیں ہے۔ فوجی طاقت سے محض تنازعے کو طوالت دی جا سکتی ہے۔ افغانستان کی موجودہ صورت حال اس امر کی غمازی کرتی ہے۔ امریکہ نے فوجی طاقت کے ذریعے افغانستان پر اپنی مرضی کا سیاسی حل بھونپنے کی کوشش کی جو کہ ناکام ثابت ہو گئی۔بال�آخر اسے طالبان سے مذاکرات کے ذریعے سیاسی حل ڈھونڈنے کی طرف آنا پڑا۔

تشدد اور دہشت گردی خواہ وہ ریاستی ہو یا پھر انفرادی سطح پر وہ کشمیر کے تنازعے کا حل نہیں ہے۔ کشمیر کے تنازعے کا سیاسی حل ہی اس تشدد اور دہشت گردی کو ختم کر سکتا ہے۔

جنوبی ایشیا کے خطے کو امن ، استحکام اور معاشی ترقی کی ضرورت ہے تاکہ غربت، پسماندگی اور بھوک کا خاتمہ ہو سکے۔ جب تک کشمیری عوام کو خواہشات اور امنگوں کے مطابق کشمیر کا مسئلہ حل نہیں ہوتا اور کشمیری عوام کو غاصبانہ قبضے، تشدد اور ظلم و جبر سے نجات نہیں ملتی اس وقت تک پلوامہ جیسے واقعات اس خطے کے امن و استحکام اور معاشی ترقی کے عمل کو متاثر کرتے رہیں گے۔ کشیدگی کا یہ ماحول بر قرار رہے گا۔ کبھی اس کشیدگی میں کمی آئے گی تو کبھی اضافہ ہو گا مگر صورت حال زیادہ بہتر نہیں ہو گی۔

پاکستان اور بھارت کے درمیان تعلقات اس نہج پر پہنچ چکے ہیں کہ دہشت گردی کا کوئی بھی واقعہ کشیدگی کو اس قدر ہوا دیتا ہے کہ دونوں جنگ کے دہانے پر پہنچ جاتے ہیں۔ اس وقت بھی یہی صورت حال ہے۔ بھارتی حکمران جنگی ہیجان میں مبتلا ہیں۔ اگرچہ اس وقت جنگ کے اوکانات بہت کم ہیں مگر محدود پیمانے پر سرحدی جھڑپوں کے امکان کو خارج امکان قرار نہیں دیا جا سکتا ۔ مودی سرکار عام انتخابات جیتنے کے لیے کس حد تک بھی جا سکتی ہے۔

اس وقت جنوبی انڈیا کی کئی ریاستوں میں ہندو انتہا پسند مذہبی جنوبی پاکستان اور مسلمان مخالف جذبات کو بڑھارہے ہیں اور اسے ہوا دے رہے ہیں۔ پلوامہ حملے میں ہلاک ہونے والے زیادہ تر پولیس اہلکاروں کا تعلق جنوبی انڈیا سے تھا۔ بھارتی عام انتخابات میں کامیابی کے لیے مودی سرکار کو مغربی اور جنوبی ریاستوں میں بہتر کار کردگی دکھاتی ہو گی۔ جنگی جنون اور کشیدگی مودی سرکار کو فائدہ دے سکتی ہے۔ لہٰذا اے بڑھاوا دیا جائے گا۔

جنوبی ایشیا کے عوام کو معاشی تعاون اور امن کی ضرورت ہے۔ تاکہ عوام کی آمدن میں اضافہ ہو۔ انہیں معاشی مواقع میسر ہوں۔ بے روز گاری کم ہو۔ غربت اور بھوک کا خاتمہ ہو۔ اس کے لیے خطے کے ممالک کے درمیان معاشی تعاون اور تجارت ضروری ہے جو کہ جنگی ماحول اور کشیدگی میں پروان نہیں چڑھ سکتا۔

جب تک پاکستان اور بھارت کی حکومتیں مذاکرات کے میز پر نہیں بیٹھیں گی اور کشمیر کے مسئلے کے سیاسی حل کو ڈھونڈ نے کے لیے سنجیدگی کی مظاہرہ نہیں کریں گی اس وقت تک ڈیڑھ ارب انسان اسی طرح مذہبی جنونیت ، جنگی جنون اور تشدد کے ہاتھوں یر غمال بنے رہیں گے۔ پلوامہ جیسے واقعات رونما ہوتے رہیں گے اور کشمیر کے مسئلے کے حل کی ضرورت اجاگر کرتے رہیں گے۔


ای پیپر