بچھڑ گئے۔۔۔ بھلا موئے تے وچھڑے کون میلے؟
20 فروری 2019 2019-02-20

پاکستان کا قیام بلا شبہ 20 ویں صدی کی عالمی تاریخ کا سب سے بڑا سیاسی معجزہ تھا جس کے پیچھے بانی پاکستان بابائے قوم قائد اعظم محمد علی جناح ؒ کی کرشمہ ساز شخصیت اور ان کی عمر بھر کی سیاسی جدو جہد کا ر فرما تھی۔ لیکن یہ افسوس کا مقام ہے کہ زندگی نے ان سے وفانہ کی کہ وہ تخلیق پاکستان کے بعد ملک کی تعمیر نو یا استحکام پاکستان میں اپنا کردار ادا نہ کر سکتے۔ تقسیم ہندوستان پر آگ اور خون کا جو طوفان اٹھا اس نے لاکھوں انسانوں کوموت کی نیند سلا دیا جس پر مشہور پنجابی شاعرہ امرتا پریتم نے وارث شاہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا تھا کہ

آج آکھاں وارث شاہ نوں کتوں قبراں وچوں بول

تے اج کتاب عشق دا کوئی اگلا ورقہ پھول

جس وقت امرتا پریتم نے یہ تاریخی اشعار لکھے تھے ان کے وہم و گمان میں بھی نہیں ہو گا کہ اس واقعہ کے ربع صدی بعد تاریخ ایسا باب رقم کرے گی جس میں پاکستان کا ایک بازو اس سے الگ ہو گا اور تباہی کی یہ نئی داستان ایک بار پھر پاکستان کے جانثاروں اور پاکستان کے دشمنوں کے خون سے لکھی جائے گی۔ بہر حال امرتا پریتم نے کتاب عشق کے جس اگلے ورقے کی بات کی تھی کتاب عشق کا وہ اگلا ورقہ کرنل زیڈ آئی فرخ نے ’’ پھول‘‘ دیا ہے۔ یہ سانحہ مشرقی پاکستان کی تجزیاتی خود نوشت ہے جو ہماری عاقبت نا اندیش سیاسی قیادت کی بصیرت کے فقدان پرماتم کناں ہے گویا پڑھتا جا شرماتا جا والا معاملہ ہے۔ کرنل زیڈ آئی فرخ نے اپنی کتاب کا نام ’’ بچھڑ گئے ‘‘ لکھا ہے۔ بچھڑنا کا لفظ ہی اپنوں اور پیاروں کے لیے ہوتا ہے یہ دشمنوں یا غداروں کے لیے نہیں ہوتا۔ کتاب کے عنوان سے اندازہ ہو جاتا ہے کہ سقوط ڈھاکہ ہماری تاریخ کا ایک درد ناک اور زخم خوردہ پہلو ہے جس کی شدت آج بھی قائم ہے۔ مصنف نے کتاب کے صفحات میں متعدد بار لکھا ہے کہ مشرقی پاکستان کے ساتھ رہنا نا ممکن ہے۔ مغربی پاکستان سے جو سول اور فوجی وہاں تعینات ہوتے تھے وہ علیحدگی کے اس پیش خیمے کو اپنی آنکھوں سے ملاحظہ کر رہے تھے وہاں سے ساری اطلاعات تو اتر کے ساتھ یہاں پہنچ رہی تھیں لیکن اعلیٰ قیادت کے قول و عمل سے لگتا تھا کہ وہ زمینی حقائق سے قطعی طور پر بے خبر ہیں گویا بقول میرتقی میر

جانے نہ جانے گل ہی نہ جانے باغ تو سارا جانے ہے

کرنل زیڈ آئی فرخ ( ریٹائرڈ) معروف دفاعی تجزیہ نگار محقق اور دانشور ہیں وہ بطور کیپٹن 30 ستمبر 1970 ء کو پاکستان آرمی سے ایسٹ پاکستان رائفلز ( EPR ) ٹرانسفر ہو کر ڈھاکہ پہنچے جہاں انہیں ہیڈ کواٹرز EPR میں جنرل سٹاف افسر تعینات کیا گیا ان کے فرائض میں انٹیلی جنس معلومات حاصل کرنا اور حکام بالا کو ارسال کرنا شامل تھا جو کہ ایک حساس ترین کام تھا۔ EPR میں 90 فیصد بنگالی اور صرف 10 فیصد مغربی پاکستان سے تعلق رکھنے والے تھے۔ وہ کہتے ہیں کہ میں نے اپنی تعیناتی کے دوران وہاں بغاوت کو اپنی آنکھوں سے بنتے پروان چڑھتے اور کامیاب ہوتے دیکھا ہے۔ وہ دسمبر 1970 ء کے تاریخی الیکشن کے عینی شاہد اور بعد میں ہونے والی 8 ماہ کی خانہ جنگی اور 1971 ء کی جنگ کے غازی ہیں جو انہوں نے نہایت بے سرو ساہانی میں بنگال کی گلیوں میں لڑی ہے جس کے بعد وہ 2 سال 4 ماہ12 دن تک جنگی قیدی کی حیثیت سے انڈیا میں رہے۔

کرنل فرخ کی یہ خود نوشت ستمبر 1970 ء سے مارچ 1975 ء کے پر آشوب دور کا احاطہ کرتی ہے جو چشم دید واقعات احساسات بنگالیوں کے جذبات اور ہمارے من حیث القوم اقدامات کے تاریخی تجزیے کا نچوڑ ہے۔ ساڑھے چار سو سے زیادہ صفحات پر مشتمل یہ دستاویز چار حصوں پر محیط ہے جن میں آپریشن سرچ لائٹ خانہ جنگی اعلان جنگ اور پھر قید اور رہائی شامل ہیں۔ کتاب کے مکمل تجزیہ کے لیے تو کئی کالم درکار ہیں ہمارا یہ تجزیہ پہلے حصے یعنی آپریشن سرچ لائٹ تک محدود ہیں جس میں 1970 ء کے الیکشن اور مجیب الرحمن کو اقتدار حوالے کرنے میں ٹال مٹول اور علیحدگی سے سرشار ڈھاکہ یونیورسٹی کے طلباء اور فوج کے اندر بنگالی اور مغربی پاکستان افسروں کے درمیان فاصلوں اور بغاوت جیسے موضوعات کی تصویر کشی کی گئی ہے۔فرخ بتاتے ہیں کہ مغربی پاکستان سے جانے والے ہر شخص کو وہاں پنجابی کہا جاتاتھااور عوام میں پائی جانے والی ساری نفرت کا ہدف پنجابی تھے۔ بقول ان کے اگر مجیب الرحمن چاہتا تو وہ اس سے پہلے ہی آزادی کا اعلان کر کے الگ وطن حاصل کر سکتا تھا مگر وہ قائد اعظم کی طرح آئینی راستے سے مسائل حل کرنے کے حق میں تھا یعنی انقلاب گویا بنگالیوں کے نزدیک آخری حربہ تھا۔

پنجابیوں کے خلاف نفرت اور تعصب کا یہ عالم تھا کہ جب مشرقی پاکستان میں کشیدگی شدت اختیار کر گئی اور مغربی پاکستان سے فوج کے راشن کی سپلائی متاثر ہونے لگی تو ڈھاکہ کے قصائیوں نے اس بات پر اتفاق کر لیا کہ ایک کلو مٹن مقامی لوگوں کو تو 25 روپے کلو ہی فروخت ہو گا البتہ بہاریوں کو 34 روپے اور مغربی پاکستانیوں کو 45 روپے کلو کے حساب سے ملے گا۔ جب حالات اس نہج پر پہنچ جائیں تو اصلاح احوال کے سارے راستے مسدود ہو جاتے ہیں۔

کرنل فرخ کتاب کے آغاز میں لکھتے ہیں کہ افسوس اس بات کا ہے کہ اس قومی سانحے کے اصل محرکات اور ان کا آغاز سے احاطہ کرنے کی کسی محقق نے کوشش ہی نہیں کی بد ترین حالات میں بے مثال جرات سے لڑنے والی اپنی فوج پر حالات سے نابلد تنقید کرنے والوں نے تاریخی طور پر مطعون تو بنا دیا مگر وہ تمام دریچے بند رکھے جن سے جھانک کر آئیندہ نسلیں یہ سمجھ پاتیں کہ یہ سانحہ کس طرح 1948 ء سے 1971 ء تک مرحلہ وار تیار ہو کر Breaking point تک پہنچا۔ سانحہ مشرقی پاکستان بقول مصنف دبی ہوئی نفرتوں سہمی ہوئی محبتوں اور چھپائی گئی حقیقتوں کی اندرون خانہ کہانی ہے۔

مشرقی پاکستان 1971 ء کے الیکشن کے بعد مکمل طور پر مجیب الرحمن کے قبضے میں تھا مگر ان کے 6 نکات اور ان پر مذاکرات کی کوشش سے ظاہر تھا کہ وہ خود مختاری چاہتے تھے۔ پاکستان کے اندر رہ کر یا علیحدہ ہو کر۔ الیکشن کے بعد ہماری بے سروسامان اور مٹھی بھر فوج ( جس میں بنگالی افسران بھی شامل تھے جو مخبری کر دیتے تھے) کو ساڑھے تین انڈین کور 40. BSF بٹالین ڈیڑھ لاکھ مکتی باہنی گوریلوں اور ان کے کروڑوں ہمدوروں کے ساتھ جنگ لڑنی پڑی۔ طاقت کے محور مغربی پاکستان سے لڑنے والی فوج کا فاصلہ 1500 کلو میٹر تھا۔

بنگالی عوام نے الیکشن کے بعد ایسٹ پاکستان سٹوڈنٹس لیگ کے عوامی جلسے میں حلف اٹھایا کہ وہ بنگال کی آزادی کے لیے مجیب الرحمن پر سب کچھ قربان ہونے کو تیار ہیں۔ صڈر یحییٰ خان مجیب سے مذاکرات کے لیے گئے تو انہیں پاکستان کا مستقبل کا وزیر اعظم قرار دیا جو کہ آن ریکارڈ ہے۔ مگر اس کے بعد وہی یحییٰ خان جب لاڑکانہ جا کر بھٹو سے ملے تو صورت حال بدلتی گئی۔

کرنل فرخ ایک جگہ لکھتے ہیں کہ 23 مارچ 1970 ء کو یوم پاکستان منایا جاتا تھا ڈھاکہ یونیورسٹی گراؤنڈ میں جلسہ گاہ کے داخلی دروازوں پر زمین پر قائد اعظم کی تصاویر اس طرح بچھائی گئیں کہ جو بھی داخل ہو گا وہ ان کی تصویر کو پاؤں تلے روند کر اندر جائے گا۔ تقریب میں پاکستان کا پرچم نذر آتش کر کے بنگلہ دیشن کا جھنڈا لگا دیا گیا۔ اگلے دن جب مجیب الرحمن صدر پاکستان سے ملنے گورنر ہاؤس گیا تو اس کی گاڑی پر بنگلہ دیش کا جھنڈا تھا جسے گورنر ہاؤس کے گارڈز نے اتار دیا۔

مصنف نے ان واقعات پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ جب معاملات اس درجہ پر تھے تو اعلیٰ سطح پر مغربی پاکستان میں سیاسی قیادت فوج اور دانشور اشرافیہ نے ان حالات کو کیوں نہیں سمجھا یہ حالات جنگ71 سے کم از کم 8 ماہ پہلے کی باتیں ہیں۔ آپریشن سرچ لائٹ کا پس منظر یہ تھا کہ ایسٹ پاکستان رائفلز اور مکتی باہنی اور بنگالی آزادی پسندوں کا پروگرام تھا کہ ڈھاکہ میں مغربی پاکستان سے تعلق رکھنے والے فوجی جوانوں اور افسروں کو موت کے گھاٹ اتار دیا جائے اس طرح کے واقعات چٹا گانگ میں ہو چکے تھے مگر منصوبے کی بر وقت اطلاع پر چھاؤنی کے بنگالی گارڈز نے اسلحہ چھین کر انہیں غیر مسلح کر کے قید کر دیا گیا جسے آپریشن سرچ لائٹ کا نام دیا گیا۔

اس آپریشن میں مصنف نے خود بھی حصہ لیا اور اپنی جان خطرے میں ڈال کر گارڈ پر رات کے اندھیرے میں حملہ کر کے اس سے رائفل چھین لی کیونکہ وہ انہیں نشانہ بنائے ہوئے تھا۔ اس آپریشن سے بہت سے فوجی افسر جوان اور ان کے اہل خانہ بنگالیوں کے ہاتھوں قتل ہونے سے بچ گئے ۔


ای پیپر