لفظ کی پازیپ
20 فروری 2019 2019-02-20

لفظ کی پازیب انسانی شعور کو متوجہ کرتی ہے۔ خاموش لفظ بھی بلند آہنگ ہو سکتا ہے۔ لفظ کا مضراب دل کی تاروں کو یوں مرتعش کرتا ہے کہ انسان کا وجود ایک ستار بن جاتا ہے۔۔۔ لفظ ایسا نغمہ ہے جسے سن کر انسان خود بھی مست ہو جاتا ہے اور اپنے ناظر اور سامع کو بھی سر مست کر دیتا ہے۔ پتوں کی طرح لفظوں کی پازیب بجنے سے بھی کوئی یاد آتا ہے۔ لفظ خاموش بھی ہو تو کلام کرتا ہے۔ انسان کا شرف یہ ہے کہ اسے لفظ عطا ہوا اور لفظ کا شرف یہ ہے کہ اسے خالق نے استعمال کیا۔

لفظ ایک برزخ ہے۔۔۔ ظاہر اور باطن کے درمیان۔۔۔ جسم اور روح کے درمیان۔۔۔ہجر اور وصل کے درمیان۔۔۔ برزخ حد فاصل بھی ہوتا ہے اور حد واصل بھی۔ گویا لفظ فصل اور وصل دونوں کا کام کرتا ہے۔۔۔ اور بخوبی کرتا ہے۔

لفظ خواہ لکھا ہوا ہو‘ یا بولا ہوا۔۔۔انسان کا انسان سے رابطہ لفظ کے ذریعے ہے۔ لفظ انسان کو حال سے ماضی کی طرف لے جاتا ہے اور ماضی کو حال سے متصل کر دیتا ہے۔ انسان کا اپنے خالق سے رابطہ بھی مناجات اور عبادات کے توسط اور توسل سے ہے۔ مناجات اور عبادات الفاظ سے ترتیب پاتی ہیں۔ دعا۔۔۔ تاثیر کو ڈھونڈتا ہوا لفظ ہے۔ درِ علمؑ سے حکم ہوا ‘ بولو‘ تاکہ پہچانے جاؤ۔ گویا لفظ کے بغیر پہچان ممکن نہیں۔ پہچان کا نصاب محبت ہے۔ پہچان چہرے کی ہوتی ہے۔۔۔ چہرہ ذات کا مظہر ہے۔ اس لیے پہچان ذات کی ہوتی ہے۔ صفات کو صرف جاننا کافی ہوتا ہے۔ جاننے اور پہچاننے میں یہی فرق ہے۔ جاننا علم ہے اور پہچاننا معرفت۔ کشف المحوب میں درج ہے‘ معرفت لفظ سے معانی کا سفر ہے۔

لفظ ایک فکری الجھاو بھی ہے اور کسی فکری الجھن کا سلجھاؤ بھی۔ عجب بات یہ ہے کہ الجھن فکر کی سطح پر ہوتی ہے اور اس کا تدارک الفاظ کی مدد سے ممکن ہو جاتا ہے۔ گویا الفاظ براہ راست ہمارے خیال پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ لفظ کے تصرفات ہمارے احساسات اور جذبات پرمسلّم ہیں۔

لفظ کا ماخذ خیال ہے اور خیال کا ماخذ غیب۔ یہ عقدہ غالب پر کھلا تو اس مغلوب الحال فقیر نے اس کا بھید یوں کھولا:

آنے ہیں غیب سے یہ مضامیں خیال میں

غالب صریر خامہ نوائے سروش ہے

کتنے آسان لفظوں میں کہہ دی ‘ وہ بات جو کہنے کی نہ تھی۔۔۔ سر عرش صاحبِ عرش کے ارادے کی سرسراہٹ ایک خیال کی صورت میں صاحبِ خیال کے خانہ دل میں تحریک پیدا کرتی ہے۔۔۔ یہی تحریک لفظ بنتا ہے اور یہی لفظ عالمِ ظاہر میں آئین فطرت کے تقاضوں کے مطابق اپنے وقت پر ترتیب کے ساتھ عمل کی صورت میں وقوع پذیر جاتا ہے۔ گویا خیال کی عملی صورت لفظ ہے۔۔۔ اور لفظ کی صورت عمل ہے۔

ہم ایک دوسرے کے خیالات سے الفاظ کے ذریعے مطلع ہوتے ہیں۔۔۔ بصورتِ دیگر ہم دوسروں کے متعلق جو بھی رائے قائم کرتے ہیں وہ ہماری اپنی ہی سوچ ہوتی ہے۔ گویا الٖفاظ ہمیں اپنی سوچوں کے گرداب سے نکالنے کیلئے کمند کا کام کرتے ہیں۔ سوچ کے جزیرے سے خیال کے ساحل تک کا سفر لفظ کے سفینے میں طے ہوتا ہے۔

ہماری حاجات کیلیے مناجات اگرچہ الفاظ کی صورت میں ہیں لیکن دعا کیلئے لب کشائی لازم نہیں۔ سلے ہوئے ہونٹ بھی دعا اور بددعا کرسکتے ہیں۔ الفاظ کا زبان سے ادا ہونا لازم نہیں۔ لفظ کی صورت پہلے دل میں بنتی ہے۔ اہل دل وہیں سے سائل کا سوال اور دعا کا مدعا جان لیتے ہیں۔ زبان ہی نہیں ، چہرہ بھی بولتا ہے۔۔۔بلکہ وجود کا انگ انگ بولتا ہے۔ آنکھیں بھی بولتی ہیں۔۔۔ اور آنکھوں کا کلام دل کے کان سنتے ہیں۔ چہرے کا کلام آنکھیں سماعت کرتی ہیں۔ محبت میں ڈوبا ہوا وجود سراپا کلام ہوتا ہے۔ گویا جذبے کلام کرتے ہیں۔ غرور، تکبر، عاجزی ، بانکپن، کاہلی ، مستعدی ، بزدلی، بہادری، حسد ، بغض ، کینہ، محبت اور نفرت۔۔۔غرض انسانی جذبوں کا اظہار الفاظ سے بہت پہلے باڈی لینگوئج میں ہو جاتا ہے۔ زبان سے ادا ہوئے الفاظ محض جذبوں کی تصدیق کرتے ہیں یا تردید۔ بسا اوقات الفاظ اصل مدعا کو بجائے ظاہر کرنے کے چھپانے کیلئے بھی استعمال ہوتے ہیں۔ سچے اور پاکیزہ جذبے الفاظ کو معتبر کرتے ہیں۔ کثیف اور راندہ جذبات الفاظ پر بوجھ ہوتے ہیں۔ لفظ کو اس کے معنی سے جدا ہو جائے تو یہ دھوکہ دہی ہے، منافقت ہے۔ الفاظ غیر مستعمل جذبوں کو چھپانے کیلئے بھی استعمال ہوتے ہیں۔۔۔ یہ لفظوں کی توہین کا باب ہے۔ لفظ کے ساتھ ظلم یہ ہے کہ اسے اپنے اصل معانی سے محروم کر دیا ہے۔ ظلم ‘ ظلمت ہے۔۔۔اندھیر ‘ اندھیرا ہوتا ہے، جبکہ لفظ روشنی کا پیامبر ہے۔ لفظ کے ساتھ انصاف نہ کیا جائے تو لفظ روٹھ جاتا ہے۔ جس سے لفظ روٹھ جائے اس کی رسائی معانی کی دنیا میں نہیں ہو پاتی ۔۔۔ وہ ساری عمر یونہی زمان و مکان کی قید و بند میں گزار دیتا ہے۔۔۔صبح ہوتی ہے شام ہوتی ہے ۔۔۔ اس کی زندگی یونہی تمام ہوتی ہے۔ بس جسم اور جسمانی آسائشیں اس کی زندگی کا مقصد و ماحاصل ٹھہرتی ہیں۔۔۔ اس کی زندگی کسی بڑے مقصد، کسی لافانی آدرش کی تلاش سے محروم ہوجاتی ہے۔۔۔ یہ اصل محرومی ہے۔ خلاصہ کلام یہ کہ کائنات کا خلاصہ یعنی انسان خود کو مادے کے الاؤ کی نذر کر دیتا ہے۔۔۔ یہ رسمِ دنیا۔۔۔ خیال کی ستی ہے۔ زندگی اگر ہمیں زندگی سے باہر نہ نکال سکے تو ہماری سب صلاحتیں خود کش جیکٹ کا کام کرتی ہیں۔ اپنی صلاحیتوں کے ساز و سامان کو سامانِ عبرت نہ بننے دینا چاہیے۔

انسان کی تہذیب کا کل سفر دراصل لفظ کا سفر ہے۔ تقدیر سے تخلیق کا سفر لفظ کا سفر ہے۔ کن سے فیکون تک ساری داستان لفظ کی داستان ہے۔ لفظ انسان کی خارجی کائنات کو باطنی کائنات سے منسلک کرتا ہے۔ باطنی کائنات کا اظہارظاہر کی دنیا میں لفظ کی صورت میں ہوتا ہے۔

لفظ کا معانی سے وہی رشتہ ہے جو جسم کا روح سے ہوتا ہے۔ روح سے محروم الفاظ چلتے پھرتے لاشے ہیں۔۔۔ ان کا نصیب ردّی اور نسیان کا قبرستان ہے۔ تاریخ میں زندہ رہنے والے الفاظ وہی ہوتے ہیں جن کا رشتہ معانی کی دنیا سے ہوتا ہے۔ نو بہ نو معانی کی دنیا روح کی دنیا ہے ۔۔۔ تجرید کی دنیا ہے۔ لفظ تجسیم کا تجرید سے ربط قائم کرتے ہیں۔

بے معنی مہمل ہوتا ہے۔ بامعنی لفظ کو کلمہ کہتے ہیں، کلمے میں معبتر ترین لفظ اسم ہوتا ہے۔۔۔اور اسم کسی مسمیٰ کا پتہ دیتا ہے۔ جب تک کسی ذات کا اتا پتا معلوم نہ ہو، انسان کے سب الفاظ بے معنی ہیں۔۔۔ اس کی زندگی مہمل ہے۔ آدم کو اسما سکھائے گئے۔۔۔ عالمِ امر کے سفیر کیلئے عالمِ اشیا کے اسما بھلا کس کام ؟ صورتِ آدم کی چوکھٹ اس لیے قابلِ سجدہ ٹھہری کہ اسے ان اسما کا حامل بنا دیا گیا تھا جو اپنے مسمیٰ کا پتہ دیتے ہیں۔ اسم کی معرفت انسان معروف مسمیٰ تک پہنچتا ہے۔

اخلاق لفظ کا احسن ترین استعمال ہے۔۔۔ بدخلقی لفظوں کا غیر محتاط استعمال۔ اخلاق کی دنیا میں لفظ سے زیادہ لہجے کی اہمیت ہوتی ہے۔ شائستہ لفظ اگر غیر شائستہ لہجے میں استعمال کیا جائے تو اسے طنز کہتے ہیں۔ طنز کا تیر دل کو زخمی کرتا ہے۔

لفظ ایک طلسم ہے۔۔۔ اگر معانی اور مقصد پر نظر نہ رہے تو انسان الفاظ کے طلسم کدے میں کھو جاتا ہے۔ لفظ کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ انسانی شعور کثافت سے لطافت کی طرف سفر کرے۔ ادب کے نام پر بے ادبی یہ ہے کہ الفاظ کے ذریعے انسانی شعور کو سفرِ معکوس کروایا جائے، یعنی لطافت کے چمنستان سے اسے کثافت کی دلدل کی طرف دھکیل دیا جائے۔ لفظ انسانی تہذیب کی مشترکہ میراث ہے۔اس لیے لفظ کے ذریعے کثیف جذبوں کی ترویج پوری انسانیت کے ساتھ ظلم ہے۔

لفظ بذاتِ خود جھوٹا یا سچا نہیں ہوتا، بلکہ یہ انسان ہے جو سچا اور جھوٹا ہوتا ہے۔ صداقت۔۔۔ واقعات اور اشیا کے حوالے سے نہیں بلکہ انسان کے حوالے سے قائم ہوتی ہے۔ لفظ ایک امانت ہے۔ امانت کسی امین کے حوالے ہی کی جاتی ہے۔ صداقت کا حوالہ صادقؐ اور امین ؐ کی ذاتِ بابرکات ہی ہے۔ مرشدی حضرت واصف علی واصفؒ کا قول ہے ’’سچ وہ ہے جو سچے کی زبان سے نکلے‘‘۔ لفظوں میں سچائی کی معراج یہ ہے کہ وہ صاحبِ معراجؐ کی زبان سے ادا ہوں۔ جو شخص کائنات کے سچے ترین انسانؐ کے جتنا قریب ہوگا اتنا ہی سچائی کے قریب تر ہوگا۔


ای پیپر