سعودی ولی عہد کا دورہ پاکستان۔آدھی تصویر مکمل ہوئی
20 فروری 2019 2019-02-20

اس فریم کا ایک حصہ مکمل ہو گیا ہے۔ سعودی ولی عہد پاکستان کے دو روزہ دورے سے ملک کے بہت سے لوگ بہت خوش ہیں ۔اور یہ خوشی دوسرے بہت لوگوں کو بھی خوشی دے رہی ہے ۔ سعودی عرب سے ہمارا رشتہ دوستی سے بڑھ کے عقیدتوں کا ہے ۔مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ مسلمانوں کی سینے میں دھڑکتے دلوں کی اصل دھڑکن ہیں۔جو بات میرے پاکستانیوں کو بہت خوش کر رہی ہے وہ یہ کہ ہمارے وزیر اعظم نے سعودی عرب میں قید پاکستانیوں کی رہائی کے لیے دردمندی سے درخواست کی ہے ۔اور سعودی ولی عہد دریا دلی کاثبوت دیتے ہوئے ان قید پاکستانیوں کی فوری رہائی کے احکامات بھی جاری کردئیے ہیں ۔ایک طرف ہمارے وزیراعظم نے سعودی عرب میں قید پاکستانیوں کی رہائی کو ممکن بنایا ہے ۔وزٹ ویزہ فیسسز میں کمی کروالی ہے تو دوسری طرف برادر ملک کے ساتھ 30 ارب ڈالر کی سرمایا کاری کے معاہدے بھی کر لیے ہیں۔ یہ معاہدے کن کن شعبوں میں کیے گئے ہیں اس کی تفصیلات وقت کے ساتھ ساتھ سامنے آتی رہیں گی۔ کیونکہ ابھی تک یہی بتایا جا رہا ہے کہ پاکستان میں 30 ارب ڈالر کی سعودی سرمایہ کاری کے معاہدوں کی ابتدائی یاداشتوں پر دستخط ہوئے ہیں۔عمران خان جب تک کرکٹ کے میدان میں رہے انکے بارے میں پاکستان اور پوری دنیا کا یہی تاثر تھا کہ وہ انتہائی مغرور اور اکھڑ ہیں جو اپنے علاوہ دنیا میں کسی کو خاطر میں نہیں لاتے۔ساتھی کھلاڑی ٹی وی سکرین پر بڑے فخر سے بتاتے ہیں کہ کپتان کا رویہ ان کے ساتھ کتنا سخت ہوتا تھا ۔لیکن آج وہ مغرور شخص کس قدر بدل چکا ہے ۔ہم آج بھی سمجھتے ہیں کہ اسے سیاست نہیںآتی ہے ۔کیونکہ اگر خان صاحب اگر صرف سیاست دان ہوتے تو وہ اپنے ہم وطن قیدیوں کے لیے دنیا بھر کے کیمروں کے سامنے ہاتھ باندھ کر التجا نہ کر رہے ہوتے ۔بلکہ وہ اپنے ٹی وی چینلز پر اپنی اس کامیابی کے اشتہار چلارہے ہوتے ۔خیر بات لمبی ہورہی ہے ۔

ماضی کا اکھڑ اور مغرور شخص کل سعودی پرنس کو کرسی پر بٹھا کر خود کھڑا ہوتا ہے اور اپنے ساڑھے تین منٹ کے خطاب میں پندرہ مرتبہ '' پلیز ''، '' یور ہائی نیس ''، '' میں آپ کا احسان مند ہوں گا '' جیسے ناقابل یقین الفاظ دہراتا ہے تاکہ پرنس سعودی عرب میں موجود پاکستانیوں کی مشکلات آسان کردے، ان کیلئے قوانین میں نرمی کردے اور جیلوں میں بند قیدیوں کے ساتھ آسانی کے معاملات کردے۔

اکھڑ، مغرور اور اپنی ذات میں قید رہنے والا عمران خان جب ہاتھ جوڑے اپنی قوم کے مزدوروں کیلئے سعودی پرنس کو یہ درخواست کررہا تھا تو اس وقت وہاں موجود پاکستانیوں کے ساتھ ساتھ سعودی سفارتکاروں کی بھی آنکھوں میں آنسو آگئے۔اور گھروں میں بیٹھے بہت سے بوڑھے والدین کے ہاتھ اس کی لمبی عمر کے لیے اُٹھ رہے تھے ۔کیونکہ سعودی ولی عہد نے وزیر اعظم پاکستان کی درخواست قبول کرلی اور 21 سو سے زائد پاکستانی قیدیوں کو آزاد کرنے کا اعلان کردیا۔ہم میں سے بہت سے عمران خان کو بھکاری کیا منگتا،ذکوۃ چور اور پتہ نہیں کیا کیا کہتے رہے ہیں لیکن اس ایک کام نے عمران خان کی بارے سب غلط فہمیاں دور کردیں ہیں ۔آج ایک بار پھر وہ سارے پاکستان کے دلوں کے دھڑکن بن چکے ہیں ۔لگتا ہے جیسے ہم نے ایک ورلڈ کپ اور جیت لیا ہو۔جس طرح باپ سارا دن محنت کرکے، دوسروں کی ڈانٹ ڈپٹ برداشت کرکے شام کو اپنے بچوں کیلئے رزق اور آسائشیں خرید کر لاتا ہے، بالکل اسی طرح آج عمران خان اپنے غرور کو اپنے ہی پاؤں تلے کچل کر در بدر پاکستانی قوم کیلئے آسانیاں مانگ رہا ہے۔عمران خان کے ساتھ اللہ کیوں نہ ہو، جب وہ اللہ کی مخلوق کی خاطر اپنا سب کچھ قربان کررہا ہے تو پھر اللہ بھی انشا اللہ خان کا ساتھ دیتا رہے گا!

ایک بات جو کچھ لوگ کہہ رہے ہیں کہ سعودی عرب کا ساتھ دے کے ہم بہت سے دوسرے ملکوں سے دور ہوجائیں گے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ سرمایہ کاری ملک میں سعودی اثر و رسوخ کو مزید بڑھانے کا باعث بن سکتی ہے لیکن ہمیں زیادہ فکر مند ہونے کی بھی ضرورت نہیں. پاکستان سعودی عرب کی خاطر ایران سمیت کسی بھی اسلامی ملک سے تعلقات کشیدہ نہیں کرے گا. یہ سرمایہ کاری پاکستان کے ساتھ ساتھ سعودی عرب کے لیے بھی معاشی و سیاسی اہمیت کی حامل ہے. ایران کے علاوہ قطر اور ترکی سے سعودی عرب کے بڑھتے اختلافات سعودی عرب کے لیے پاکستان کی اہمیت بڑھانے کا باعث بنے ہیں. اگرچہ پاکستان 80 کی دہائی سے سعودی عرب کی دفاعی و عسکری معاونت کر رہا ہے لیکن بدلتے ہوئے حالات میں سعودی عرب کی داخلی اور خارجی سلامتی کے لیے پاکستان کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے. سعودی صحافی جمال خاشقجی کے قتل پر پاکستان کی خاموشی بھی پاکستان کے کام آئی ہے.

سعودی عرب کی پاکستان میں بھاری سرمایہ کاری کو سمجھنے کے لیے سعودی ولی عہد کے '' معاشی ویژن '' 2030 کو سامنے رکھنا بھی ضروری ہے. سعود عرب 2030 تک اپنی معیشت کا تیل پر انحصار ممکن حد تک کم کرنا چاہتا ہے گوادر بندرگاہ پر سعودی سرمایہ کاری سعودی عرب کی معیشت میں بہتری کے ساتھ ساتھ ایرانی بندرگاہ چاہ بہار پر کا اثر و رسوخ کم کرنے کا باعث بنے گی. اس میں کوئی شک نہیں کہ ایران اب بھی سعودی عرب کے لیے سب سے بڑا چیلنج ہے لیکن ہم ایران سے تعلقات بگاڑے بغیر سعودی عرب سے اپنے تعلقات کو مزید وسعت دے سکتے ہیں. ہمارے لیے حوصلہ افزا بات یہ ہے کہ سعودی عرب کی موجودہ قیادت شدت پسندی کی بجائے معتدل اور لبرل پالیسیوں کو فروغ دینے پر یقین رکھتی ہے. پاکستان کو اپنے طور پر یمن جنگ سمیت سعودی ایران مخاصمت کم کرانے کے لئے کوشاں ہونا چاہیے کہ مسلم دنیا میں شدت و انتہا پسندی کی ایک بڑی وجہ کئی دہائیوں پر محیط سعودی ایران چپقلش بھی ہے ۔

آج ہمارے وزیر اعظم اور ان کے مشیروں کو اس بات کی سمجھ آجانی چاہیے کہ وزیر اعظم ہاوس اور اس میں لگژی گاڑیوں کی کیا افادیت ہے ۔ویسے بھی حکمران جماعت اگر وزیراعظم ہاؤس کو یونیورسٹی بنانا چاہتی تو کب کی بن چکی ہوتی۔کیاانہیں یونیورسٹی بنانے کے لیے ایک صدی چاہیئے؟۔ سمجھ نہیں آتا کہ ان ڈراموں سے اپنی ’’کریڈایبلٹی‘‘ کیوں خراب کی جا رہی ہے؟ وزیراعظم ہاؤس کو یونیورسٹی بنائیں یا گیسٹ ہاؤس بنا دیں یا پھر اسے مسمار کر کے وہاں کرکٹ گراؤنڈ بنا دیں، جب وزیراعظم ہاؤس ہو گا ہی نہیں تو جہاں جی چاہے قیام کریں بنی گالہ میں رہیں یا پھر دھرم شالہ میں،کسی کو کیا پڑی ہے؟ دیکھنا تو یہ ہے کہ حکومت عوام کو کیا ڈلیور کر رہی ہے۔

سعودی ولی عہد کا دورہ ’’دو دن‘‘ جب کہ زندگی ’’چار دن‘‘کی ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ اس دورے کے بعد بھی سیاسی صورتحال اسی طرح کی رہتی ہے جیسی اب ہے یا وقفے کے بعد وہی فلم پھر سے دیکھنے کو ملے گی۔ پاکستان میں سیاسی صورتحال بہتر ہونے کے پیچھے اگر سعودی ولی عہد کا دورہ ہے تو پھر ان سے درخواست کی جا سکتی ہے کہ وہ اس طرح کا دورہ مہینے میں کم از کم ایک بار ضرور کر لیا کریں تا کہ سیاسی استحکام رہ سکے۔اور زیادہ ضرورت پڑنے پر انہیں مستقل قیام کی پیشکش بھی کی جا سکتی ہے۔وزیر اعظم ہاؤ س کی اہمیت کا ااندازہ تو خان صاحب اور انکے ساتھیوں کو ہو گیا ہوگا جہاں ہم نے اپنے شاہی مہمان کو ٹھہرایا تھا یونیورسٹی تو خان صاحب ویسے بھی بنا سکتے ہیں۔


ای پیپر