” تاریخی شاہراہ پر واپسی“
20 فروری 2019 2019-02-20

کیا ہمارے پاس کوئی دوسرا راستہ تھا کہ ہم بدترین مالی بحران میں سعودی عرب کے بااختیار ولی عہد عزت مآب محمد بن سلمان کے دورے کی راہ ہموار نہ کریں، ان کی طرف سے بیس ارب ڈالر سے زائد کے ترقیاتی اور امدادی منصوبوں کو خوش آمدید نہ کہیں، کوئی عقل و شعور رکھنے والا محب وطن پاکستانی انہیں خوش آمدید کہے بغیر نہیں رہ سکتا اگرچہ یہ سوال الگ ہے اور اپنے اقتصادی ہی نہیں بلکہ سیاسی اور تاریخی پہلو بھی رکھتا ہے کہ ہم بدترین مالی بحران کا شکار کیوں ہیں۔اس بحث کا کوئی فائدہ نہیں کیونکہ ہم سب اپنے اپنے اعتقادات کے ساتھ جاتے ہیں۔ جمہوریت پسندوں کو ماضی کے مارشل لا تمام برائیوں کی جڑ نظر آتے ہیں جبکہ دوسر ادھڑا ( ماضی کے) سیاستدانوں کو تمام مسائل کا ذمہ دار سمجھتا ہے۔حال میں واپس آتے ہیں کہ اٹھائیس کھرب روپوں کی سرمایہ کاری اگر مکمل ہوئی تو پانچ برسوں میں ہو گی اوراس کے مکمل اثرات دس سے بیس برسوں میں سامنے آئیں گے مگر پیر اور منگل کی درمیان گزرنے والے بیس گھنٹوں میں ہم ایک مرتبہ پھریوٹرن لیتے ہوئے امریکی کیمپ میںچلے گئے ہیں۔

پاکستان میںامریکا کو گالی دینے کا فیشن ہے، اسے تمام مسائل کا ذمہ دار بھی قرار دیا جاتا ہے لیکن اگر میں جناب عمران خان کی نظر سے دیکھوں تو امریکی کیمپ میں واپسی نہ بدعملی ہے اور نہ ہی گھاٹے کا سودا ہے بلکہ مجھے کہنے دیجئے کہ پچاس کی دہائی میں بھی یہ کوئی غلط فیصلہ نہیں تھا۔ میں ذاتی طور پرپاکستان کے لئے اپنی نوابی چھوڑ کر پھٹی ہوئی جیبوں والے شیروانی میں دنیا سے کوچ کرجانے والے قائد ملت لیاقت علی خان کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتا کہ وہ نوزائیدہ مملکت خداداد پاکستان کے مفاد کے خلاف فیصلہ کر سکتے ہیں۔ میرے جنا ب پرویز مشرف کے خلاف جذبات بھی کوئی ڈھکے چھپے نہیں مگر میں اس کے باوجود یہ سمجھتا ہوں کہ جب امریکا افغانستان میں حملے کے لئے پاکستان کا تعاون مانگ رہا تھا تو مشرف حکومت کے پاس اس کے سوا کوئی دوجا راستہ ہی نہیںتھا اور یہی سب کچھ تاریخ کی مشہور ترین افغان جنگ کے موقعے پر حالات تھے کہ ایک طرف روس تھا جس کے توسیع پسندانہ عزائم سب پر آشکار تھے، وہ ہمارے بدترین مخالف بھارت کا مربی تھا اور ہمارے پاس غیر جانبداری ترک کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا کہ اگر غیر جانبدار رہتے تو شائد باقی ہی نہ رہتے۔’ مجبوری کا نام شکریہ‘ ہوتا ہے اور میں نے اپنی تاریخ سے بڑھ کران چارحرفوں کی بہتر تعریف کہیں نہیں دیکھی۔

بہت دفعہ ایسا ہوتا ہے کہ پاکستان کی قیادت اپنے تئیں عزت اور خودداری کے فیصلے کرتی ہے جیسے ملکی تاریخ کے لیجنڈ لیڈر جناب ذوالفقار علی بھٹو نے کئے۔ میں اقتدار کے حصول کے لئے ان کی جدوجہد کا سخت ناقد ہوں مگر جب انہوں نے ایک’ نیا پاکستان‘ بنا لیا تو پھر واقعی اس کے لئے انہوں نے کام کیا۔ وہ سمجھتے تھے کہ چین کے ساتھ دوستی کی جا سکتی ہے، وہ سمجھتے تھے کہ اسلامی ممالک کابلاک بن سکتا ہے مگر وہ یہ نہیں سمجھتے تھے کہ اس کی قیمت کیا ہو سکتی ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو خوش قسمت نہیں تھے کہ وہ اپنی زندگی نہیں بچا سکے اور ان کی بیوی اور بیٹی کو بھی تاریخ کی مشکل ترین جدوجہد کرنی پڑی۔ ذوالفقار علی بھٹو کے بعد نواز شریف کا خیال تھا کہ وہ ایٹمی دھماکے کر کے قوم کا اعتماد حاصل کر لیں گے،ا نہوں نے ایٹمی دھماکے تو ضرور کئے مگر وہ قوم کا اعتماد حاصل نہ کر سکے اور امریکہ کی نظر میں بھی اپنا اعتماد کھو بیٹھے، قوم کا اعتماد کھونے کی عملی مثال یہ ہے کہ بارہ اکتوبر ننانوے کو جب انہوں نے پیچھے مڑ کے دیکھا تو قدم بڑھا و¿ نواز شریف کے نعرے لگانے والے غائب ہو چکے تھے۔ امریکا کی نظر میں اعتماد کھو دینے والوںکا وہی حال ہوتا ہے جو ذوالفقارعلی بھٹو کا ہوا، صدام حسین کا ہوا، کرنل قذافی کا ہوا مگر نواز شریف خوش قسمت تھے کہ ان کی اہلیہ اور بیٹی انہیں بچا کے سعودی عرب لے گئیں۔ نواز شریف ایٹمی دھماکے کرنے کے بجائے امریکا سے بڑی مالی امداد لے کر ملک میں اقتصادی ترقی کا راستہ کھول سکتے تھے مگر انہوں نے عزت اور غیرت کا راستہ چنا۔ میں پھر کہوں گا کہ نواز شریف خوش قسمت تھے کہ وہ جان بچا کے نکل گئے اور پھر واپس آ کر ایک مرتبہ پھر ملک کے وزیراعظم بنے اور ایک مرتبہ پھر وہی غلطی دہرائی یعنی امریکی اعتراضات کے باوجود سی پیک کو راہ دی اور پھراس کے پیچھے پیچھے دوسری غلطی بھی کرڈالی۔

پاکستان کے پاس بائی پولر ورلڈ میں بھی یہ موقع نہیں تھا کہ وہ امریکا کے علاوہ کسی دوسرے راستے کا چناو¿ کرے کہ ہماری سٹریٹیجک پوزیشن جہاں ہمیں اہمیت دلاتی ہے وہاں ہمیں مجبور بھی کرتی ہے کہ ہمارے ایک طرف بھارت ہے، دوسری طرف افغانستان ہے اور تیسری طرف ایران ہے۔ میں سوچتا ہوں کہ اگر چین کو ہماری حکومتیں بنانے گرانے میں دلچسپی ہوتی تو ہمارا کیا حال ہوتا۔ امریکا کے علاوہ ہمارا اقتصادی اور سیاسی انحصار سعودی عرب پر ہے۔ سعودی عرب مکمل طور پر امریکی کیمپ میں ہے اور عزت مآب محمد بن سلمان کی حکمت عملیوں میںدونوں کا آپسی تعلق مزید مضبوط ہوتا نظر آ رہا ہے۔ نواز شریف کی دوسری غلطی یمن کے تنازعے میں سعودی عرب کا ساتھ دینے کے بجائے غیر جانبدار رہنا تھا حالانکہ یہی سعودی عرب اور قطر تھے جو مشرف دور میں نوازشریف کو جیل کی کوٹھڑی ہی نہیں بلکہ ممکنہ طور پر پھانسی کے گھاٹ سے اتار کے سرور پیلیس میں لے گئے تھے۔ نواز شریف نے یہاں امریکا کے ساتھ ساتھ سعودی عرب کو بھی ناراض کیا حالانکہ ہمارے اہم دفاعی تعلقات انہی دو ممالک کے ساتھ ہیں۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ نواز شریف کو دوسری غلطی کرنے پر تحریک انصاف نے مجبور کیا جب انہوں نے شور مچا دیا کہ یمن کے معاملے پر پارلیمنٹ کو اعتماد میں لیا جائے اور وہاں اصول پسندی کے ڈنکے بجا دئیے۔ پارلیمنٹ نے ایک ایسا فیصلہ کیا جو بالخصوص حکومت کے مفادمیں نہیں تھا اور اب اسی تحریک انصاف نے یوٹرن کو اپنی پالیسی ڈیکلئیر کر دیا ہے۔ وہی تحریک انصاف جو دباو¿ ڈال کر غیر جانبداری کے فیصلے کروا رہی تھی وہی سعودی عرب پر حملے کو پاکستان پر حملہ قرار دے رہی ہے حالانکہ جب محترم عمران خان لفٹر سے گر کر زخمی ہوئے تھے تو انہوں نے اپنے دروازے سے عیادت کے لئے آئے ہوئے سعودی سفیر کو واپس بھیج دیا تھا۔

جناب عمران خان اس راستے پر نہیں چل رہے جو گزشتہ پچاس برسوں میںذوالفقار علی بھٹو اور نواز شریف کی پارٹیوں کا رہا ہے۔وہ جانتے ہیں کہ چین کو پاکستان میں حکومتوں کے گرانے اوربنانے میں کوئی دلچسپی نہیں مگر امریکا کو بہرحال ہے اور سعودی عرب کی دلچسپی کو امریکا کی دلچسپی سے باہر نہیں رکھا جا سکتا۔ وہ سی پیک کے ذریعے چین پر انحصار کی غلطی کا تاثر زائل کرنا چاہتے ہیں لہٰذا ضروری ہے کہ سی پیک میں ایک سے زائد ممالک کی سرمایہ کاری ہواور دوسری طرف چین کے لئے بھی مشکل ہے کہ وہ ( شائد) اب اپنا ہاتھ کھینچ نہیں سکتا۔ ریاستوں کے تعلقات اور مفادات اصول پسندی ضرور ہونی چاہئے مگر اسی وقت تک جب تک وہ آپ کے پاو¿ں نہ جلانے لگے کہ جلتے ہوئے پیروں کے ساتھ آپ آگے نہیں بڑھ سکتے۔ بین الاقوامی تعلقات کی اخلاقیات ہماری عمومی اخلاقیات سے بہت الگ ہیں اور ان میں بھی یوٹرن مکروہ نہیں بلکہ مستحب سمجھتے ہوئے دیوار کو ٹکر مارنا دانش نہیں سمجھا جاتا۔ میں پھر کہوں گا کہ جناب عمران خان نے ذوالفقار علی بھٹو اور نواز شریف کی حماقتوں سے سبق سیکھتے ہوئے اسی تاریخی شاہراہ پر سفر کرنے کا فیصلہ کیا ہے جو آزمودہ بھی ہے اور حکمرانی کے لئے بغیر کسی حادثے کے باسہولت بھی ہے۔ ہماری ستر برس کی مفصل تاریخ بتاتی ہے کہ سیاسی حکمرانوں کو سودن کی زندگی اسی طرح حاصل ہوسکتی ہے۔ رہ گیا ملک و قوم کا مفاد تو بعض اوقات بعض فیصلے ناگزیر بھی ہوتے ہیں۔


ای پیپر