Pakistan, foreign policy, PTI, Imran Khan
20 دسمبر 2020 (12:54) 2020-12-20

ہماری خارجہ پالیسی کیا ہے… کوئی ہے بھی یا نہیں… اگرچہ ایک عدد وزیرخارجہ رکھتے ہیں۔ دفتر خارجہ بھی ترجمانی کا فریضہ ادا کرتا رہتا ہے… اس کام میں دیر نہیں کرتا…جب بھارت لائن آف کنٹرول کی بلااشتعال خلاف ورزی کرتا ہے تو اسلام آباد میں اس کے ہائی کمیشن کے ذمہ دار کو باقاعدہ طلب کیا جاتا ہے… احتجاجی مراسلہ اس کے ہاتھوں میں تھما دیا جاتا ہے اور متنبہ کیا جاتا ہے آئندہ ایسی حرکت کی تو منہ توڑ جواب دیا جائے گا… باز وہ اس کے باوجود نہیں آتا… پرسوں اس نے اس حد تک دیدہ درہنی سے کام لیا کہ اقوام متحدہ کی گاڑی پر جس میں مبصرین سوار تھے فائرنگ کر دی… اگر ہماری خارجہ پالیسی برگ و بار دکھا رہی ہوتی تواس کا عالمی سطح پر نوٹس لیا جاتا… مگر ایسا معلوم ہوتا ہے کسی کے کانوں پر جوں نہیں رینگی ماسوائے اس کے کہ اقوام متحدہ کے دفتر نے وقوعے کی تصدیق کر دی ہے… عین اسی دن ہمارے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے ابوظہبی میں پریس کانفرنس کی کہ بھارت پاکستان کے خلاف سرجیکل سٹرائیک کی تیاریاں کر رہا ہے… انہوں نے کس کو خبردار کیا اور کس کی حمایت یا ہمدردیاں حاصل کرنے کی کوشش کی… پاکستان کے عوام سے تو بھارت کے مذموم عزائم کبھی ڈھکے چھپے نہیں رہے… ہم تو ابھی تک 1971 کے سانحہ مشرقی پاکستان کی تلخ ترین اور بھارتی جارحیت کے نتیجے میں اپنا اکثریتی صوبہ ہاتھ سے چلے جانے کی یادیں نہیں بھلا سکے… بھارت نے اس پر اکتفا نہیں کیا… 5 اگست 2019 کے اقدام کے ذریعے بغیر جنگ لڑے کشمیر ہڑپ کر لیا ہے… اتنے بڑے واقعے پر کوئی ہمارا غم خوار نہیں… نہ کسی نے ہمارے انتہائی جائز اور حددرجہ اصولی مؤقف کی حمایت میں ایک لفظ کہا ہے… کم و بیش یہی صورت حال 1971 میں تھی… تب سعودی عرب وغیرہ ہمارے ہمدرد اور غمگسار تھے اب وہ بھی نہیں … تب پاکستان پر غیرآئینی قوتوں کی براہ راست حکومت تھی اب وہ بالواسطہ طور پر اپنی حکمرانی کا ڈنکا بجا رہے ہیں… بھارت کی اگلی نگاہیں آزاد کشمیر اور بلوچستان پر ہیں… ہمارے وزیرخارجہ نے اس کے سرجیکل سٹرائیک جیسے مذموم عزائم کی جانب درست طور پر نشاندہی کی ہے مگر پرانے زمانے کے جس ہمارے دوست اور برادر مسلمان ملک متحدہ عرب امارات کے دارالحکومت میں بیٹھ کر پریس کانفرنس کی ہے اس کی بھارت کے ساتھ ان دنوں دانتا کاٹی روٹی ہے… بھارت کے آرمی چیف ان دنوں وہاں کا دورہ کیا ہے… یہ ملک ستر اسی نوّے بلکہ دو ہزار کے سالوں تک بیرون ملک گئے ہوئے پاکستانیوں کا دوسرا گھر تھا… ہماری گلی محلوں میں ’دبئی چلو دبئی چلو‘ کی آوازیں بلند ہوتی تھیںاب ان پاکستانیوں کو گوناں گوں مشکلات کا سامنا ہے جبکہ بھارتیوں کو سہولتیں مہیا کی جا رہی ہیں… شاہ محمود قریشی نے پاکستانی مزدوروں کو درپیش مسائل کے حل کے لیے اچانک وہاں کا دوروزہ دورہ کیا… دبئی کے حکمران شیخ ابن مکتوم اور یو اے ای کے وزیر خارجہ شیخ محمد بن زائد النہیان سے ملاقاتیں کیں… کیا حاصل ہوا اس کی بابت وزیر خارجہ صاحب نے کچھ بتایا نہ یو اے ای کے حکام کی جانب سے کسی قسم کی یقین دہانی کی اطلاع ملی ہے… تو کیا وزیر خارجہ صاحب نے بھارت کے خلاف پریس کانفرنس کرنے کے لیے دبئی اور ابوظہبی کے سفر کی زحمت کی تھی… اس کی خاطر عالمی رائے عامہ کو بیدار کرنا اگر مقصود تھا تو مناسب جگہیں لندن یا نیویارک تھیں… اقوام متحدہ کے دفاتر تھے… قریشی صاحب کو وہاں کا دورہ کرنا چاہئے تھا… متحدہ عرب امارات والوں کی پاکستان کے ساتھ ناراضی یا رقابت تو گوادر کی وجہ سے کچھ کچھ سمجھ میں آتی ہے مگر یہ جو سعودی عرب جیسے محسن اور پاکستان کے ساتھ قیام مملکت خداداد سے لے کر دو ایک سال پہلے تک مثالی دوستی کے حامل ملک کے ساتھ ہمارے تعلقات میں کڑواہٹ پیدا ہو گئی ہے… اور وہ تین ارب ڈالر کا قرضہ جو انتہائی منت سماجت کے بعد لیا تھا اس کے مطالبے پر باامر مجبوری واپس کرنا پڑ رہا ہے… کشمیر پر اس کی جانب سے ایسی سردمہری کا مظاہرہ کیا گیا کہ او آئی سی کا پلیٹ فارم کسی کام کانہیں رہا… ہمارے فوجی اب بھی وہاں کے محلات کی حفاظت کر رہے ہیں لیکن بھارت کے آرمی چیف کو پہلی مرتبہ خادم الحرمین الشریفین کا مہمان بننا نصیب ہوا ہے… کیا 2015 کی یمن والی قرارداد اس کا سبب بنی ہے… جسے منظور کرانے میں خاص حلقوں نے دلچسپی لی تھی… پی پی پی کی شیریں مزاری نے ایسے جملوں کا اضافہ کرایا جن کے بغیر بھی مدّعا واضح کیا جا سکتا تھا مگر اس کے کچھ عرصہ بعد سے ہمارے سابق آرمی چیف جنرل (ر) راحیل شریف سعودی عرب کی سربراہی میں مختلف مسلمان ملکوں کی مشترکہ فوجی قوت کے سپہ سالار بنے ہوئے ہیں۔ وہاں بیٹھ کر بھاری تنخواہ اور 

غیرمعمولی مراعات کے علاوہ موصوف نے پاکستان کے لیے کیا کچھ کیا ہے… یہ سوال پوچھنے کا ہمارے یہاں کسی کو یارا نہیں… قطر کے ساتھ جو خوشگوار اور کئی شعبوں میں قریبی تعاون کے تعلقات تھے وہ بڑی حد تک نوازشریف کے ساتھ اسٹیبلشمنٹ کی چپقلش کی نذر ہو گئے ہیں… یعنی پورے عالم عرب میں اس وقت کوئی ملک حقیقی معنوں میں ہمارا دوست نہیں… بھارت اس صورت حال سے بھرپور فائدہ اٹھا رہا ہے… یہ امر ہماری خارجہ پالیسی کی اگر وہ فی الواقع اپنا وجود رکھتی ہے سخت ناکامی پر دلالت کرتا ہے…

چین کے ساتھ ہمارے تعلقات بلاشبہ خوشگوار ہیں اس لیے کہ سی پیک کا تاریخی تعمیراتی منصوبہ جتنا ہمارے لیے تجارتی اور سٹرٹیجک نقطہ نظر سے مفید ہے اس سے زیادہ اس کے لیے ہے… بلکہ تصور ہی اس کا ہے… پاکستان کے اندر اس ضمن میں چالیس ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا بھی نوازشریف عہد میں اس منصوبے کو پوری طرح بارآور بنانے کے لیے کیا تھا… امریکہ کو مگر اس پر رنجش تھی… بھارت کے پیٹ میں اس کے سبب مروڑ اٹھ رہے تھے… موجودہ حکومت کے زمام اقتدار سنبھالتے ہی پہلے تو اس کے بارے میں سوچا کہ سال دو سال کے لیے مؤخر کر دیا جائے… عمران خان کے بااثر مشیر تجارت اور امریکہ کے حامی ہمارے چوٹی کے صنعتکار عبدالرزاق دائود نے اس خیال کے حق میں بیان بھی داغ ڈالا… سی پیک کا منصوبہ بند تو نہ ہوا مگر سست روی کا شکار ہو گیا… چینی حکمرانوں کو شاید اندازہ تھا اسی لیے عمران خان نے وزارت عظمیٰ کا عہدہ سنبھالا تو بیجنگ کی جانب سے زیادہ گرم جوشی کا مظاہرہ نہ کیا گیا… موصوف کا دورہ چین بھی اس صورت میں کامیاب ہوا کہ آرمی چیف خود وہاں گئے… یقین دہانیاں کرائیں… پھر ہمارا یہ عظیم دوست موجودہ حکومت کو امداد اور قرضے فراہم کرنے پر آمادہ ہوا… سی پیک کی گاڑی کے پہیوں میں بھی حرکت آ گئی… اب اس کی اتھارٹی کی چیئرمین شپ جنرل (ر) عاصم سلیم باجوہ جیسی ’’نامی گرامی‘‘ شخصیت کے ہاتھوں میں ہے… کیا چین سے یہ سب ڈھکا چھپا ہے ہے… شاید یہی سبب ہے کہ پچھلے اڑھائی برسوں کے دوران چین کے صدر گرامی چن ژی اور وزیراعظم جیسی چوٹی کی شخصیت نے پاکستان آنا گوارا نہیں کیا… حالانکہ اس سے قبل صدر چین 2013، 2014 (جب عمرانی دھرنوں کی وجہ سے ہوائی جہاز واپس لے کر بھارت جا اترے تھے) اور 2015 میں (جب پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کیا تھا) ہمارے ملک میں تشریف لا چکے ہیں…

دنیا کے دو طاقتور اور صنعتی لحاظ سے نہایت ترقی یافتہ ملک ایسے ہیں جن کے ساتھ پاکستان کے تعلقات کو ہمیشہ غیرمعمولی اہمیت حاصل رہی ہے… امریکہ اور برطانیہ دونوں کے ساتھ تعلقات کی نوعیت اخبارات کے باشعور قارئین کے لیے زیادہ تفصیل کی محتاج نہیں… ہم امریکی دفاعی معاہدوں کے رکن رہے… اسے سابق سوویت یونین کے خلاف اپنی سرزمین پر خفیہ ہوائی اڈوں کی سہولتیں فراہم کرتے رہے… افغان جنگ میں اسے وہ تعاون فراہم کیا کہ اس کے اختتام پر خطہ ارض کی واحد سپر طاقت کے مقام پر فائض ہوا… جواب میں اس نے ہماری فوج کو اسلحہ فراہم کیا… ڈالروں سے مدد کی… سب سے بڑھ کر یہ کہ اپنے مفادات کے مکمل تحفظ کی خاطر ایوب، یحییٰ اور ضیاء الحق کے مارشل لائوں کی بھرپور حمایت کی… جنرل مشرف کے فوجی اقتدار کی پشت پناہی کی… جمہوریت کی خوب خوب بیخ کنی کی گئی… یہ سب کچھ حقیقی معنوں میں کس قدر پاکستان کے لیے فائدہ مند ثابت ہوا… اس پر بہت کچھ لکھا اور کہا جا چکا ہے اس لیے زیادہ تفصیل کا محتاج نہیں… اتنا کہنا کافی ہے ہم نے تو اس کی جنگیں ہراوّل دستہ بن کر لڑیں… لیکن جب جب ہمارا بھارت کے ساتھ فوجی ٹاکرا ہوا امریکہ نے منہ پھیر لیا… اسلحے کی سپلائی بھی روک دی… کشمیر کے تنازع پر کسی قسم کی ثالثی کو بھارت کی آمادگی کے ساتھ مشروط کیے رکھا… اس کے باوجود ہم اتنے سادہ واقع ہوئے ہیں کہ عمران خان وزیراعظم بننے کے بعد وہائٹ ہائوس میں امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ساتھ ملاقات کے لیے گئے تو امریکیوں کو چونکہ افغانستان سے بحفاظت فوجیں واپس بلانے کی خاطر پاکستان کا تعاون مطلوب تھا ٹرمپ صاحب نے وزیراعظم بہادر کو تنازع کشمیر پر ثالثی کا لولی پاپ دے دیا… یہ خوشی سے پھولے نہ سمائے… واپسی پر قوم کو مژدہ سنایا ایک مرتبہ پھر ورلڈکپ جیت کر آیا ہوں… بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کشمیر ہڑپ کرنے کا 5 اگست 2019 کا اقدام اس کے بعد ہی کیا امریکہ تب سے اب تک کشمیر پر چپ سادھے ہوئے ہے… اب جو 3 نومبر کو ٹرمپ کے مقابلے میں ڈیموکریٹک پارٹی کے جوبائیڈن نے صدارتی انتخاب جیت لیا ہے… وہ آئندہ 21 جنوری کو امکاناً عہدہ سنبھال لیں گے… پاکستان اور بھارت کے حوالے سے کیا پالیسی اختیار کریں گے اس کا آنے والے مہینوں میں ہی کچھ اندازہ لگایا جا سکے گا… راقم کی حیثیت تو ایک عام درجے کے مبصر کی ہے ہمارے حکمرانوں کو بھی اس کی بابت زیادہ معلوم نہیں… اتنا کہنا کافی ہو گا امریکہ کے ڈیموکریٹک پارٹی سے تعلق رکھنے والے صدور عمومی طور پر تیسری دنیا کے فوجی حکمرانوں یا فیصلہ سازوں کو زیادہ اہمیت نہیں دیتے… سیاستدانوں کے ساتھ تعلقات سنوارنے کی کوشش کرتے ہیں… ریاستی مفادات کو ری پبلکنز کی مانند وہ بھی مقدم رکھتے ہیں… ڈیموکریٹ صدور کا زیادہ رجحان بھارت کی طرف رہا ہے… جہاں تک برطانیہ کے حوالے سے ہماری موجودہ خارجہ پالیسی کا تعلق ہے تو دوسرے تمام امور سے قطع نظر وزیراعظم بہادر عمران خان کو عہدہ سنبھالنے کے بعد قوی امید تھی انہوں نے چونکہ زندگی کا زیادہ عرصہ برطانیہ میں بسر کیا ہے اس ملک کے حکمران طبقوں کو بخوبی سمجھتے ہیں اس لیے ان کے اور اسٹیبلشمنٹ کے الزامات کے تحت نوازشریف نے 350 بلین ڈالر کی رقم لوٹ کر وہاں جائیدادیں بنائی ہیں وہ چھین لی جائیں گی… اتنی بڑی رقم ملکی خزانے میں واپس آ جائے گی… یہ رقم کرپشن کی تھی یا نہیں اسے ثابت نہ کر سکے اور ابھی تک ایک ڈالر پائونڈ واپس لینے میں کامیاب بھی نہ ہوئے… نوازشریف گزشتہ برس نومبر میں علاج کی خاطر لندن چلے گئے… عمران حکومت کہتی ہے فریب کیا تھا، بیماری محض بہانہ تھی… اب وہ سابق وزیراعظم کو واپس لا کر دم لیں گے… اس کی خاطر خود وہاں پہنچ کر برطانوی ہم منصب کو آمادہ کرنے کی ضرورت پیش آئی تو دریغ نہ کریں گے… کیونکہ سابقہ سسرال کی وجہ سے وہاں کے حکمران طبقوں میں جان پہچان ہے … لیکن ایک تازہ ٹی وی انٹرویو میں زبان حال سے بے بسی کا اظہار کرتے نظر آئے… ان کے وزیر داخلہ شیخ رشید نے کہا ہے نواز اور اسحق ڈار کو اللہ لائے تو لائے… یہ ہے کسمپرسی کا وہ عالم جس میں ہماری خارجہ پالیسی مبتلا ہے… یہ سوال اپنی جگہ باقی ہے اسے حقیقی معنوں میں چلا کون رہا ہے ، طنابیں کس کے ہاتھ میں ہیں…


ای پیپر