Dog, antagonism, well-known, fact, Islamic culture
20 دسمبر 2020 (12:43) 2020-12-20

ستمبر 2001ء سے جو ’اصلاحِ مذہب‘ کی تخم ریزی مسلم دنیا میں کی گئی تھی، اب وہ برگ وبار لا رہی ہے، عین یورپ کے نقش قدم پر درجہ بدرجہ مذہبیت سے مسلمانوں کو آزاد کروانے کے لیے بیس سالوں میں ہمہ گیر سرمایہ کاری ہوئی۔ دانشوری، ابلاغیاتی، تعلیمی، سیاسی، ثقافتی ذرائع سے اصلاح کرتے کرتے اسلام بیزاری اور سیکولر ازم کی راہیں ہموار کی گئیں۔ امت کے مرکز وحدت پر جو کاری ضرب لگی اس پر سبھی دم بخود تھے کہ قانونی ضابطے امارات میں حرمتیں پامال کرنے آن اترے۔ روحانی خودکشی کے سبھی آثار نمایاں ہیں۔ حکمرانوں کی ذاتی مثالوں سے سیکولر مظاہر سامنے آئے۔ مشرف دور میں کتے بغل میں داب کر تصویر کچھوائی گئی تھی تاکہ روشن خیالی کی سند رہے۔ اسلامی تہذیب میں کتے سے مغائرت ایک معلوم حقیقت ہے۔ دینی قوتوں نے ہمہ گیر یلغار کے نتیجے میں کچھ مظاہر سے صرف نظر کی۔ بیس سالوں میں کتا پرستی بچوں کے نصابوں، گھروں اور ڈاگ شوز تک جا پہنچی۔ کتوں بارے اسلام کا رویہ حدیث مبارکہ میں واضح ہے۔ (غامدیت اور انکار حدیث کے ذریعے بیس سالوں میں تحریفات کی راہ آسان کرنے کا بہت کام ہوا ہے۔) صحیح مسلم میں سیدہ عائشہؓ سے مروی حدیث: ’حضرت جبرئیل علیہ السلام نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کسی ایک گھڑی میں آپؐ کے پاس حاضر ہونے کا وعدہ کیا تھا۔ وہ گھڑی تو آگئی مگر جبرئیلؑ نہ آئے۔ سیدہ عائشہؓ فرماتی ہیں، آپؐ کے ہاتھ میں لاٹھی تھی آپؐ نے اسے ہاتھ سے پھینک دیا اور زبان مبارک پر یہ الفاظ آئے: اللہ اپنے وعدے کے خلاف نہیں کرتا اور نہ اس کے رسول۔ پھر آپؐ نے نظر دوڑائی تو دیکھا کہ آپؐ کی چارپائی کے نیچے ایک پلّا تھا۔ فرمایا: یہ کتا کب اندر آیا؟ سیدہ عائشہؓ نے فرمایا: اللہ کی قسم مجھے تو اس کا پتا نہیں۔ چنانچہ آپؐ نے اس کی بابت حکم دیا۔ اسے باہر نکالا گیا تو جبریل امین تشریف لائے۔ آپؐ نے دریافت فرمایا: تم نے مجھ سے وعدہ کیا تھا، میں بیٹھا رہا تم نہ آئے۔ جبریلؑ نے عرض کیا، مجھے کتے نے روکے رکھا جو آپؐ کے گھر میں تھا۔ ہم اس گھر میں داخل نہیں ہوتے جس میں کتا ہو یا کوئی تصویر۔‘ صحیح بخاری کی ایک حدیث میں شکاری کتے، یا جانوروں کے محافظ یا کھیتی کی حفاظت کے لیے پالے جانے والے کتے کا استثناء آیا ہے۔ ان وجوہات کے سوا کتا پالنے (اتباع مغرب یا تفریح طبع/ فیشن) پر اجر میں سے ہر روز دو قیراط گھٹنے کا فرمان ہے۔ اب واضح احکام کی موجودگی میں ریاست مدینہ کی مالا جپنے والے وزیراعظم بڑی چاہت اور ناز کے ساتھ پانچ تصاویر قوم کی نذر (انسٹاگرام) کرتے ہوئے بتا رہے ہیں کہ وہ اپنا بہترین وقت شیرو اور ٹائیگر، اپنے محبوب کتوں کو دے رہے ہیں۔ فرات کے کنارے کتے کے بھوکے مر جانے کی فکر میں گھلنے والے والیٔ ریاست مدینہ کی ادنیٰ ترین شباہت یہاں نہیں ملتی جہاں بے روزگاری اور بھوک کے ڈیرے ہیں۔ جہاں باپ اپنے بھوکے بچوں کو نہر میں پھینک دیتا ہے کہ وہ انہیں بھوک سے مرتا نہیں دیکھ سکتا۔

بات صرف حکمرانوں کی کتا پرستی (پچھلوں کی گھوڑا پرستی، سیب کے مربے کھاتے گھوڑے!) کی نہیں ہے جس کی اسلام میں گنجائش نہیں، عوام سے بے حسی کی بھی ہے۔ یہ کتا پرستی ہمارے حکمرانوں کو ورثے میں اپنے میکے برطانیہ، امریکا سے ملی ہے۔ یہ میگھن ہے، برطانوی شہزادے ہیری کو لے اڑنے والی بیوی۔ اینڈریو مارٹن کی کتاب میگھن بارے بتاتی ہے کہ اس کی پہلی شادی نیویارک کے ایک فلم پروڈیوسر سے ہوئی تھی۔ دونوں نے خاندان بڑھانے کا ارادہ کیا تو میگھن نے کہا کہ وہ اس کے لیے ایک کتا چاہتی ہے۔ چنانچہ کرسمس سے عین پہلے دونوں نے اپنے لیے 6 ہفتے کے دو پلے، پالتو جانور گود لینے کی ایجنسی کے ہاں تلاش کرلیے۔ ایک کالا، ایک سنہری۔ پھر یہ شادی طلاق پر منتج ہوئی۔ پہلا شوہر آہ سرد بھر کر کہتا ہے۔ ’تاہم میگھن نے ہیری کے ساتھ بہ انداز دگر فیملی بڑھائی۔ 2019ء میں ان کے ہاں بیٹا پیدا ہوا۔‘ تقابل تہذیبوں کا دیکھ لیجیے۔ دنیائے کفر میں فیملی بڑھانے کو اولاد کی جگہ پلے اور ہمارے ہاں کتا گریز تہذیب۔ رحمت کے فرشتوں سے محرومی اور اجر میں کمی کا غم۔

وزیراعظم کا یہ رویہ بیک وقت شریعت کے مزاج سے لاعلمی، مغربی اطوار پر اٹھان اور سیکولرازم کے اظہار کا عکاس ہے۔ پاکستان میں سیکولر لابی نے امارات میں شریعت متصادم قوانین کے اجراء پر جو خوشیاں منائی ہیں وہ دیدنی ہیں۔ ملک کی اشرافیہ کے لیے قائم نجی یونیورسٹیوں میں بالخصوص سیکولر ہیومنزم کے پرچار، لامذہبیت کے اظہار کے لیے مسلسل اقدامات کیے جاتے ہیں۔ حال ہی میں کراچی کی حبیب یونیورسٹی نے بڑے پیمانے پر مشتہر ہونے والے اپنے سالانہ لیکچر کے لیے امریکا کے نامی گرامی ہیومنسٹ فلسفی، تاریخ دان، بابائے لسانیات، نوم چومسکی کو دعوت خطاب دی جس کا بہت چرچا رہا۔ یہ علمی دنیا کا ایک بہت بڑا نام ہے۔ یوں کہیے کہ سیکولر ہیومنزم، انسانیت پرستی کا جی دار پوپ ہے۔ یہ مذہب لامذہبیت ہے۔ انکار مذہب خود اب مذہب بن چکا ہے۔ امریکی سپریم کورٹ نے یہ فیصلہ دیا تھا کہ سیکولر ہیومنزم ایک مذہب ہے۔ نظریۂ ارتقاء (Evolution) اس مذہب کا مرکزی اصول ہے۔ سو جس طرح اہل ایمان کے لیے مسجد الحرام، مسجد نبویؐ یا مسجد اقصیٰ کے امام کی آمد اور خطاب کی اہمیت ہے یہاں بعینہٖ یہی سرخوشی سیکولر طبقے پر طاری تھی اتنے بڑے اعزاز پر۔ پروفیسر چومسکی امریکا کی دو بہت بڑی یونیورسٹیوں سے اعلیٰ ترین مناصب کی نسبت رکھتے ہیں۔ پروفیسر ایمریٹس اور پروفیسر لاریٹ۔ ہیومنزم میں مسجد یا چرچ کی طرح تھنک ٹینک یا جامعات ان کے معابد ہوتے ہیں۔ تاہم حبیب یونیورسٹی کا کمال تو یہ ہے کہ سیدنا علیؓ کے ایک فرمان کو موٹو قرار دے کر، اس کی بنیاد پر فخریہ پیش کش پروفیسر چومسکی کی تھی جن کا کہنا یہ ہے کہ ’مذہب میرے لیے کوئی حیثیت نہیں رکھتا۔ میں روشن خیالی کی اولاد ہوں۔ غیرمنطقی نامعقول عقیدہ میرے نزدیک ایک خوفناک مظہر ہے۔ اور میں شعوری طور پر اس سے دور رہنے کی کوشش کرتا ہوں۔‘ پروفیسر موصوف نے جمہوریت کا مرثیہ پڑھا۔ دنیا کو درپیش چیلنجز کا تذکرہ کیا جو آج اظہر من الشمس ہیں۔ انسانیت کے سر پر لٹکتی جوہری 

تصادم کے امکان کی تلوار، ماحولیاتی تباہی کے آثار، وبا کی ہلاکت خیزی پر بات کی۔ ٹرمپ، مودی پر تنقید کی۔ مودی کا سیکولر بھارت کشمیر پر جس جبر سے شکنجہ کسے ہوئے ہے اس پر ناقد ہوئے۔ ان کے نزدیک دنیا کی فلاح سیکولر جمہوریت میں ہے، جس کے اب ہر جگہ پرخچے اڑ رہے ہیں۔ بزنس ورلڈ پوری دنیا میں غیرمعمولی طور پر اقتدار میں ہے۔ نتیجہ یہ کہ عوام پر ڈاکہ پڑ رہا ہے۔ سارا مال اشرافیہ کے 10 فیصد کو نہیں 0.1 فیصد کو جارہا ہے۔ (امریکی انتخابات میں پیسے کی فراہمی کے اعداد وشمار پڑھ دیکھیے! نہایت مہنگی، مخصوص مفادات میں جکڑی ہوئی سیکولر جمہوریت! چومسکی کا خواب چکناچور!) پاکستان کے لیے پروفیسر کا فرمانا تھا کہ ’اگر یہ مذہبی توہمات سے باہر نہ آیا تو اس کا کوئی مستقبل نہیں۔ کبھی پاکستان سائنس کے نوبل انعام یافتگان پیدا کررہا تھا، اب سائنس غائب ہوچکی ہے!‘ ’مذہبی توہمات‘ کی اصطلاح فی نفسہٖ گمراہ کن ہے۔ اسلام سیکولر فلسفیانہ ٹامک ٹوئیوں کے برعکس روشن شفاف عقیدہ عطا کرتا ہے جو فطرت انسانی سے ہم آہنگ، اس کی روح کی پکار اور اندر سے پھوٹنے والے تمام سوالوں کا شافی جواب لیے ہوئے ہے۔ مقام افسوس ہے کہ 92 سال کی عمر میں (آئن سٹائن اور جارج والڈ ہی کی طرح) چومسکی شہ رگ کے قریب حق کو نہ پاسکا۔ا پنی حکمت کے خم وپیچ میں الجھا ایسا، آج تک فیصلۂ نفع وضرر کر نہ سکا! پاکستان کو حامل ایٹم بم بنانے، سائنسی ترقی کی معراج پر پہنچانے والوں کو تو نوبل پرائز نہ ملا، قادیانیت کی بنا پر عبدالسلام کو اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کی طرح نوبل پرائز دینے والوں کا میرٹ تو ازخود واضح ہے۔ انسانیت کو لاحق خطرات کا غم انہیں کھا رہا ہے مگر اصل خطرے کا تذکرہ نہیں کیا۔ سب سے بڑا خطرہ تو اخلاقی گراوٹ، صنفی بحران کا دماغی خلل ہے جو موجب ہلاکت ہے۔ تاریخ کے کسی دور (حتیٰ کہ قوم لوطؑ بھی) میں انسان روحانی پستی کی ان انتہاؤں پر نہیں گیا تھا جہاں آج پوری ڈھٹائی اور بے حیائی سے جا بیٹھا ہے۔ ایسے میں پروفیسر چومسکی نے تباہی کے سبھی عناصر گنوا دیے اور اصل وجہ کو چھوا تک نہیں۔ رہی سائنسی ترقی کی عظمت، تو اس کی قلعی تو کورونا کے آگے بے بسی نے کھول کر رکھ دی۔ اور علم وحکمت اور دانائی کا مقام؟ تو… اے اہل نظر ذوق نظر خوب ہے لیکن، جو شے کی حقیقت کو نہ سمجھے وہ نظر کیا! ابوجہل، علم وحکمت کی سرداری پر فائز ابوالحکم تھا۔ نبوت کا انکار اور روح کی عمیق پکار۔ لاالہ الااللہ کو جھٹلاکر تاریخ میں ابوجہل جانا گیا۔ کاش حبیب یونیورسٹی آپ کو علم وحکمت کے عظیم استاد سیدنا علی رضی اللہ عنہ ہی کے مشربے سے دو جرعے پلا پاتے۔ برا ہو مسلمان کے احساس کمتری اور شکست خوردگی کا!


ای پیپر