’نوازیا‘ بمقابلہ’ شہبازیا‘
20 دسمبر 2020 2020-12-20

نوازیا:” شہبازئیے، باز آجاو، تم لوگ اندر خانے مریم نواز کے خلاف پروپیگنڈہ کر رہے ہو،کہہ رہے ہو اسے دو ہی شوق ہیں، ایک میک اپ کا دوسراسیاست کا۔ تم نیشنل ڈائیلاگ کی باتیں کرکے ہمارا بیانیہ اور تحریک خراب کر رہے ہو، تم دودھاری تلوار ہو، تم جماعت کے غدار ہو۔ ہم نے فیصلہ کر لیا ہے کہ عمران خان کے ساتھ ساتھ تمہارا مکو بھی ٹھپنا ہے۔۔“

شہبازیا: ”بس کروبس، آپے سے باہر مت ہوجایاکرو، باتیں جمہوریت کیں مگر ذرا سااختلاف رائے بھی برداشت نہیں، اپنی سوشل میڈیا ٹیم کی چڑھائی کروادیتے ہو،گالیاں دلواتے ہو،توبہ توبہ۔“

نوازیا:”ہاں،ہاں دیکھ لو، سوشل میڈیا پر کس کی واہ، واہ ہے،کس کی فالوئنگ ہے۔ شہبازیوں کو ہم خودنواز لیگ والے غدار سمجھتے ہیں، اسٹیبشلمنٹ کا یار سمجھتے ہیں، یہی اصل رائے عامہ ہے۔۔“

شہبازیا: ”اسی غلط فہمی نے پارٹی کو سوشل میڈیا کے ہاتھوں ہائی جیک کروا دیا ہے۔ڈرائنگ روموں اور بیڈ روموں میں بیٹھ کرلڑنے مرنے کی باتیں کرنے والے کبھی سڑکوںپرنظر آئے ہیں، جاو¿،ان کارکنوں سے پوچھو جو ہر پیشی آتے ہیں، ماریں کھاتے اور اپنے اوپرمقدمے بنواتے ہیںکہ وہ کیا چاہتے ہیں۔ارکان اسمبلی بھی دیوار کے ساتھ ٹکریں مارنا نہیں چاہتے،وہ دیوارمیں راستہ نکالنا چاہتے ہیں۔۔“

نوازیا:” بس ، بس،راستہ ایک ہی ہے کہ یہ دیوار ہمیشہ کے لئے گر جائے، اسٹیلشمنٹ مداخلت ختم کرے، عمران خان استعفیٰ دے کر گھر جائے۔اب اس کے سواکوئی دوسرا راستہ نہیں ہے۔۔“

شہبازیا: ”دوسرا راستہ موجود ہے جس پر چل کر نواز شریف جیل سے لندن پہنچے، جس پر مریم سزا یافتہ ہونے کے باوجود جلسے جلوس کرتی پھر رہی ہیں، مان لو،یہ سب شہباز شریف کی وجہ سے ہے۔۔“

نوازیا:” ہاہاہا،پاگل ہو گئے ہو، شہباز شریف کی وجہ سے ہوتا تو کیا خود شہباز شریف اندر ہوتا، حمزہ کا ڈیڑھ برس جیل میں گزر جاتا، بیوی بیٹی طلب ہور ہی ہوتیں، سلمان اور عمران مفرور ہوتے، او بھائی، نواز شریف اورمریم نواز جہاں ہیں اور جو کر رہے ہیں اپنے بل بوتے پر کر رہے ہیں، عوام کی طاقت سے کر رہے ہیں۔ نواز شریف ایک نظریہ بن چکے اور وہ کسی بیک ڈور پر یقین نہیں رکھتے“۔

شہبازیا:” اچھا توکیا نواز شریف ،شہبازشریف کی ضمانت پر ملک سے باہر نہیں گئے،کیاتم یہ بھی نہیںمانو گے کہ شہباز شریف صرف اپنے بھائی سے محبت اوروفاداری کی سزابھگت رہا ہے۔۔“

نوازیا: ”کون سی وفاداری، سب بیان بازیاںہیں،محبت اور وفاداری ہوتی تو شہباز شریف ،نوازشریف کی وطن واپسی پرجلوس لے کر ائیرپورٹ پر پہنچ جاتا اور تاریخ کا دھارا بدل جاتا۔۔“

شہباز یا:” ہاہاہا، بس یہی باتیں تمہیں دیوانہ ثابت کرتی ہیں، جھلے، بتاو¿، اگر احتجاجی جلوس ائیرپورٹ پہنچ بھی جاتا توکیا دیواریں توڑ کر نواز شریف اورمریم کو رہا کروا لینا تھا،عقل کوہاتھ مارو یار، وہاں سامنے ائیرپورٹ سیکورٹی فور س اوررینجرز تھی جو گرفتاری کے لئے طیارے کے باہر موجود تھی۔ یہ اپنے ہی لوگوں کے خلاف جاوید لطیف کے ذریعے دو دھاری تلوار جیسی باتیں کروانا انتہائی گھٹیا ہے۔۔“

نوازیا:”جو مریم کے خلاف بولے گا تو اسے جواب لازمی ملے گا، ا س وقت تمام بڑے بڑے تجزیہ کار کہہ رہے ہیں کہ مستقبل مریم نواز کا ہی ہے ۔سن لو،پارٹی میں رہنا ہے تو جئے مریم کہنا ہے۔ تم لوگ اپنی حرکتیںٹھیک کرلو، پہلے ائیرپورٹ تک نہیں پہنچے اور اب جلسہ ناکام کرنے کی سازش کی جو مریم نواز نے اپنی محنت اور کرشماتی شخصیت سے ناکام بنا دی ، اگر تم پر رہتے تو مینار پاکستان خالی پڑا ہوتا۔۔“

شہبازیا:” ہوش میں آو¿ ہوش میں، ہم نہ ہوتے تو یہ جلسہ ہو ہی نہ پاتا۔ تمہارے ساتھ ٹوئیٹر کی ممی ڈیڈی کلاس کے سوا کون ہے۔ یہ حمزہ ہی کی بنائی ہوئی تنظیم تھی جس نے پہلے جی ٹی روڈ اور پھر فیروز پورروڈ پر ریلیاں کامیاب بنائیں اور اس کے بعدشدید سردی کے باوجود آخر تک جلسے میں موجود رہے۔اگرتم جیسے کچھ نوازئیے تھے بھی تو وہ خود نواز شریف کی تقریر سے پہلے ہی غائب ہو چکے تھے۔۔“

نوازیا: ”کون سی حمزہ شہبازکی تنظیم، یہ پارٹی نواز شریف کی ہے جو اپنے کارکنوں کو آئی لو یو کہتا ہے ورنہ شہباز شریف کب کارکنوں کو لفٹ کرواتا تھا، ہاں، حمزہ شہباز ضرورکارکنوں کوملتا تھا مگر تم نے اسے ہاتھ ملاتے ہوئے دیکھا ہے، بازو اوپر سے گھما کے لاتا ہے اور آدھا ہاتھ ملاتا ہے۔ حمزہ شہباز اچھا آدمی ہے مگر کرشماتی لیڈر شپ صرف نواز شریف اورمریم نوازکی ہی ہے، شہباز شریف کو کون مانتا ہے۔۔“

شہبازیا:” شہباز شریف کو پنجاب سمیت ملک بھر کے عوام مانتے ہیں۔ وہ مانتے ہیں جو لوڈ شیڈنگ کے اندھیروںکی جگہ روشنیاں ملیں، جو میٹرو بسوں اور اورنج لائن میں سفر کرتے ہیں،وہ ذہین بچے جن کو سکالرشپس اور لیپ ٹاپس ملے۔ شہباز شریف کی محنت اور دیانت ضرب المثل بن چکی ہے۔ جب الزامات اور نفرت کی دھند چھٹے گی تو تاریخ شہباز شریف کوشیر شاہ سوری سے بڑا معمار مانے گی۔۔“

نوازیا:” ٹھیک ہے، ٹھیک ہے مگر اوقات میں رہنا سیکھو۔نواز شریف اور مریم نواز قومی لیڈر ہیں۔ شہباز شریف اور حمزہ شہباز صوبائی لیڈر ۔صوبائی لیڈروں کو چاہیے کو قومی لیڈر وںکو فالو کریں نہ کہ بیچ میں اپنی نیشنل ڈائیلاگ جیسی فضول گھسی پٹی فلاسفیاں گھسیڑتے پھریں۔ کبھی تو کسی نے اٹھنا تھا، کبھی توکسی نے نعرہ لگانا تھا،خدا نے وو ٹ کو عزت دلوانے کا عظیم کام نواز شریف سے لینے کا فیصلہ کر لیا ہے بس تم لوگ پارٹی کے نظرئیے کو کمزور نہ کرو۔ہمیں مریم بی بی نے بتایا ہے کہ ہمارے مخالفین کی صفوں میں دراڑیں پڑ چکی ہیں، ایک پیج ختم ہوچکا ہے، فروری مارچ تک انتظار ہے،بس منزل ملنے ہی والی ہے۔۔“

شہباز یا:” اوکے، اوکے،تم بھی ہوش میں رہنا سیکھو۔ تم جس منزل کی بات کر رہے ہو وہ مجھے تمہارے راستے پر نظر نہیںآ رہی۔ تمہیں ہوش اس وقت آئے گا جب اس مارا ماری کے نتائج پیپلزپارٹی سمیٹ کر لے جائے گی اور تم ہاتھ ملتے اور منہ دیکھتے رہ جاو¿ گے۔ جب نواز شریف ،شہبازشریف خلاف بات نہیںکرتے تو مریم نواز کے وفاداروں کاایک مخصوص گروپ کیوں کرتا ہے۔ شہبازشریف اپنی مرضی سے پارٹی صدر اور قائد حزب اختلاف نہیںہےں انہیں یہ عہدے نواز شریف نے دے رکھے ہیں کیونکہ وہ ایک سیاستدان ہیں اور ایک سیاستدان کبھی سارے دروازے بند نہیں کرتا لہذا اپنا منہ بند رکھو،جو ہو رہا ہے اسے ہونے دو۔۔“


ای پیپر