سندھ، طلباء یونین کی بحالی کے لیے قانون سازی
20 دسمبر 2019 2019-12-20

سندھ میں طلباء یونین بحال کرنے کے لئے قانون سازی کی جارہی ہے۔ طلباء یونین کے بارے میں سندھ اسمبلی میں پیش کیا گیا بل اسٹینڈنگ کمیٹی کو بھیج دیا گیا ہے۔ صوبائی حکمران جماعت نے اقدام گزشتہ ماہ ملک بھر میںنوجوانوں کے طلباء یونین کی بحالی کے لئے مارچ کے جواب میں پیش کیا ہے۔ طلباء مارچ کے موقع پر پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو نے ان کے حق میں ٹوئیٹ کیا تھا۔ وزیراعظم عمران خان نے بھی طلباء یونین کی بحالی کی حمایت کی تھی۔ لیکن ان کی طرف سے پنجاب یا خیبر پختونخوا میںکوئی عملی قدم سامنے نہیں آیا۔ طلباء مارچ میں یونین کی بحالی کے ساتھ ساتھ ہائر ایجوکیشن کمیشن کی فنڈز میں کمی، فیسوں میں اضافے، ہوسٹلز سے متعلق مطالبات بھی اٹھائے گئے تھے ۔ یہ وہ مطالبات ہیں جو طلباء یونین اٹھاتی تھی۔

جنرل ضیاء الحق نے 1984 میں ایک مارشل لاء آرڈر کے ذریعے طلباء یونینز پر پابندی لگائی تھی۔ تعجب کی بات ہے کہ اس پابندی کے خلاف کسی سیاسی جماعت کا مذمتی بیان ریکارڈ پر موجود نہیں۔ یہ امر بھی دلچسپی سے خالی نہیں کہ کراچی اور بعض دیگر شہروں میں طلباء نے اس پابندی کے خلاف ایک سو ر وز تک احتجاج بھی کیا۔ جس کا سیاسی جماعتوں نے بھی کوئی نوٹس نہیں لیا۔ طلبا یونین کی عدم موجودگی پاکستان کی تعلیم ، معاشرے اور سیاست کے لئے تباہ کن ثابت ہوئی۔ ضیاء کو کئی عشرے گزر گئے لیکن اس حکم کو نہیں بدلا جاسکا۔ تاہم پنجاب میں 1989ء میں طلباء یونینوں کے الیکشن کو دیئے گئے تھے۔ تاہم اس کے بعد سے یہ پابندی تین عشروں سے جاری ہے۔ پیپلزپارٹی کے وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے بیان تو دیا لیکن عملی طور پر اقدامات نہ کر سکے۔اب طلباء سے داخلے کے وقت حلف نامہ لیا جاتا ہے کہ وہ کسی سیاسی سرگرمی میں حصہ نہیں لیں گے۔ اصل میں ضیاء الحق طلباء کی مزاحمت سے خوفزدہ تھے۔ بہانہ یہ بنایاگیا کہ یونین کی وجہ سے تعلیمی اداروں میں پرتشدد واقعات ہوتے ہیں اور تعلیمی نظام متاثر ہوتا ہے لہٰذا طلباء سیاست پر مکمل پابندی لگا دی جائے۔ یوں کیمپس غیر سیاسی ہوتے گئے۔ سندھ اور بلوچستان کے تعلیمی اداروں میں قانون نافذ کرنے والے تعینات ہو گئے۔ دوسری طرف جامعات میں اساتذہ، ملازمین اور افسران کی تنظیمیں ابھریں۔ اور ان کو جامعات میں حکومت نے بطور فریق مان بھی لیا۔ تعلیم کے سب سے بڑے فریق طالب علم کو بغیر نمائندگی کے رکھا گیا۔

طلباء یونین ایک ادارہ ہیں جس میں مختلف تنظیمیں ووٹ کے ذریعے منتخب ہو تی تھیں جو طلباء کے مسائل پیش کرتی تھیں۔ جہاں تک تعلیمی اداروں میں اسلح کا معاملہ ہے۔ و ہ خود ریاست کی حمایت یافتہ ہے۔ جس کا مقصد ترقی پسند طلباء کو نشانہ بنانا تھا۔ پھر یہ تشدد طلباء تنظیموں پر قابو پانے کے لئے استعمال ہوا۔ ساٹھ اور ستر کے عشرے میں نظریاتی مقابلہ تھا جو بعد میں ذاتی اور طاقتور افراد کی طرف منتقل ہو گیا۔ کسی تنظیم کے افراد کو ہینڈل کرناحکومت اور ریاستی اداروں کے لئے آسان تھا۔ یہ درست ہے کہ یونینز میںطلباء تنظیموں کے حامی یا نامزد افراد امیدوار ہوتے تھے، لیکن یہ تنظیمیں ایسے امیدوار کھڑا کرتی تھیں جو مقبول ہو یاتعلیمی ادارے کے زیادہ سے زیادہطلباء کے لئے قابل قبول ہو۔ لہٰذا یونین میں آنے والوں کو دوسرے کو برداشت کرنا سکھاتی تھیں اور یہ پیغام نیچے عام طالب علم تک بھی جاتا تھا۔اس سے خود طلباء تنظیموں کی بھی سوشل آڈٹ ہوتی تھی کہ کل انہیں ووٹ لینے کے لئے عام طالب علم سے رجوع کرنا ہے۔ بعد میں کیا ہوا؟ منتخب نمائندوں اور طلباء تنظیموں کی سوشل آڈت کی عدم موجودگی میں کوئی چیک اینڈبیلنس نہیں رہا۔ جامعات میں عدم برداشت بڑھا۔ یہ بھی سب نے مشاہدہ کیا کہ طلباء یونین پر پابندی سے تعلیمی معیار تو نہیں بڑھا اور نہ ہی وہ امن جس کے نام پر پابندی لگائی گی تھی۔

ابھی سندھ حکومت نے طلباء یونین کی بحالی کے لئے جو مسودہ پیش کیا ہے، اس میں طلباء یونین کو ایسوسی ایشن کی طرح رکھا گیا ہے۔ طلباء یونین کے نمائندوں کی جامعات کے فیصلہ ساز یا انتظامی اداروں میں نمائندگی کو تسلیم نہیں کیا گیاہے جبکہ یونین کو متعلقہ ادارے کے ماتحت رکھا ہوا ہے۔

اس موضوع پر کراچی حیدرآباد اور سندھ کے دیگر شہروں میں طلباء اور سابق طلباء یونین اور طلباء تنظیموں کے عہدیداران کے مشاورتی اجلاس ہورہے ہیں۔ مشاورتی اجلاسوں میں یہ بات سامنے آئی کہ پہلے قانون کے تحت ہر یونیورسٹی کے اپنے قوائدو ضوابط ہوتے تھے۔ لیکن مجموعی طوپر رہنما اصول موجود تھے۔ کراچی یونیورسٹی کی یونین تین سطحوں پر نمائندگی رکھتی تھی۔منتخب عہدیداران کے علاوہ ہر شعبہ سے نمائندے منتخب کیے جاتے تھے۔یہ نمائندگی فیکلٹی کی تعداد کے حساب سے ہوتی تھی۔ شعبوں کے سطح پر کونسل بنتی تھی جس میں کونسلرز کا انتخاب ہوتا تھا، جتنا بڑا شعبہ اتنے ہی زیادہ کونسلرز۔ان کونسلرز کا ایک سپیکر منتخب ہوتا تھا۔ یونین اپنے مسائل کونسل میں پیش کرتی تھی۔ یونیورسٹی سے منسلک کالجز میں بھی یونین ہوتی تھی اور اس کی کونسل اور سپیکر منتخب ہوتے تھے۔ ان کالجز کی ایک انٹر کالج باڈی بنتی تھی جس کے صدر، جنرل سیکرٹری اور کونسل ممبران ہوتے تھے۔طلبا یونین کے امیدوار کے لیے یہ لازم تھا کہ وہ کبھی امتحانات میں فیل نہ ہوا ہو۔ یونیورسٹی کی ایک کمیٹی الیکشن کی نگرانی کرتی تھی اور 10 سے 15 روز میں انتخابات منعقد ہوتے تھے۔ سنہ 1984 تک اس ادارے میں طلبا تنظیموں کی بھی نمائندگی ہوتی تھی۔ یونیورسٹی کی یونین کا صدر اور یونیورسٹی سے منسلک کالجز کا صدر رکن ہوتے تھے۔طلبا کے کئی مسائل یونین خود حل کرتی تھی۔ ٹرانسپورٹ کا انتظام یونین کے پاس ہوتا تھا۔ طلبہ کا ہفتہ منایا جاتا جس میں پاکستان بھر کی بڑی شخصیات سے طلبا کا تعارف کرایا جاتا ۔طلبا یونین اپنے مطالبات کے لیے چارٹر آف ڈیمانڈ پیش کرتے تھے۔ چارٹر آف ڈیمانڈ میں زیادہ تر مطالبات جامعات اور کالجز کی گرانٹس بڑھانا، فیسوں میں کمی، کتابیں اور لائبریوں اور اساتذہ کی تعداد میں اضافے سے متعلق ہوتے تھے۔

نئی قانون سای کے بارے میں منعقدہ اجلاسوں میں طلباء یونین کی زیادہ خود مختاری کی بات کر رہے ہیں۔ یہ رائے سامنے آرہی ہے کہ کہ ایسوسی ایشن کے طور پر اگر طلباء یونین بحال نہیں ہوتی تو یہ کنٹرولڈ ڈیموکریسی جیسی شکل ہوگی اور یونین کو صرف بعض غیر نصابی اور سماجی سرگرمیوں تک محدود کرنے کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ اس کام کے لئے ویسے بھی ملک کا آئین ہر شہری کو تنظیم سازی کا حق دیتا ہے۔ طلبا یونین کے حوالے سے حکومت کے سامنے بعض بڑے چیلنجز بھی ہیں۔اگرچہ مجوزہ بل میں سرکاری اور نجی تعلیمی اداروں میں طلباء یونین قائم کرنے کا ذکر موجود ہے۔ نجی شعبے نے بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کی ، جس کے اپنے مفادات ہیں اور وہ اس سے قبل بھی حکومت کی تعلیم سے متعلق پالیسیوں پر اثرانداز ہوتا رہا ہے۔ نجی شعبے میں چلنے والی جامعات اپنے انتظامی امور میں یونین سازی اور اس کے اختیارات کو مداخلت سمجھیں گے۔ بعض سابق یونین کے عہدیداران کا خیال ہے کہ حکومت کے لئے یہ بھی چیلینج ہے کہ معاشرے کے مختلف شعبوں میں مختلف اداروں کی مداخلت کی وجہ سے نئی قانون سازی ایک مشکل کام ہے۔ مزید یہ کہ آج کا طالب علم کیا چاہتا ہے اس کا فیصلہ خود اس کوکرنے دیا جائے۔ ان کا کہنا ہے کہ نئی قانون سازی میں جانے سے معاملہ اور الجھے گا اور اس میں غیر ضروری تاخیر ہوگی۔اس کے بجائے پرانے قانون اور ضوابط کے ساتھ عمل شروع کردیا جائے۔ دیکھنا یہ ہے کہ سندھ حکومت واقعی طلباء یونین بحال کرتی ہے یا معاملے کو قانون سازی میں پھنسائے رکھتی ہے۔


ای پیپر