ڈبو نہ دے، کہیں یہ نا خدا کی خاموشی
20 دسمبر 2019 2019-12-20

دو ہزارانیس چند دنوں کا مہمان ہے اوردو ہزار بیس کی آمد آمد ہے، لیکن سردی اورمعاشرے میں بڑھتی ہوئی انارکی اورسرد مہری سے لگتا ہے گویا سب کچھ جامد جامد ہے۔

یوں تو گزشتہ کئی سالوں سے عوام اپنی حالت میں بہتری کے خواب سجائے اگلے سال کو خوش آمدید کہتے ہیں لیکن اسے شومئی قسمت کہیے یا پھر اپنے سیاہ اعمال کے دن بدن حالات بہتری کی طرف مائل ہونے کی بجائے ابتر ہوتے جا رہے ہیں آج بھی یاد ہے جب اکیسویں صدی کی آمد کا شور تھا اور بڑے مباحثے ہوتے تھے کہ دیکھنا کیسی ترقی ہوگی یہ ہو جائیگا، وہ ہو جائے گا۔

مگرآج جب بیس سال بعد میں جائزہ لیتی ہوں تو مجھے انیسویں صدی کا وہ آخری عشرہ آج کی نسبت بہت زیادہ بہتر معلوم ہوتا ہے اور جوں جوں پیچھے چلے جائیں آپ کو لگے گا کہ واقعی اس وقت میں ہم زیادہ خوش تھے اور پرسکون تھے۔ مجھے تو ایسا لگتا ہے کہ ہم جسے ترقی سمجھ رہے ہیں وہ سراسر تنزلی ہے یا پھر ایک فریب کے سوا کچھ بھی نہیں ہے۔

بیشک ہم نے بہت ترقی کرلی ہے بڑی بڑی عمارتیں، سڑکوں کا جال،نت نئی ٹیکنالوجی لیکن اس کے بدلے میں جو ہم نے کھویا ہے وہ بہت زیادہ ہے اور وہ ہے انسانیت!

معاشی تنزلی تو بہر حال اپنی جگہ ٹھیک لیکن جو قدغن اقدار پر لگی ہے وہ شاید کبھی نہ مٹ سکے۔ یوں تو ہر روز ایک نیا سانحہ رونما ہوتا ہے اور کوئی دن خیر کی خبر نہیں لاتا۔ لیکن اس سال کا سب سے بدترین المیہ نہتے کشمیریوں پر بھارتی تسلط اور لگاتار ساڑھے چار ماہ سے مسلسل کرفیو کا نفاذ ہے اور اس پر پوری امت مسلمہ کی مجرمانہ خاموشی اور کوئی عملی اقدام نہ اٹھانا اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ واقعی اس کا سودا ہو چکا ہے!

دہشت گردی کی ہر ممکنہ تعریف کے مطابق اس وقت کشمیر میں کھلم کھلا دہشت گردی ہو رہی ہے تو پھر بھارت کو اب تک دہشت گرد ملک قرار کیوں نہیں دیا جا رہا۔ اس مسئلے کو تو آہستہ آہستہ اس طرح دبا دیا گیا گویا سرے سے تھا ہی نہیں!

ارے کوئی اپنی شہ رگ کے بغیر رہ سکتا ہے بھلا! کہاں گئے وہ دعوے؟

اس تناظر میں جماعت اسلامی کا کشمیر کاز پر توجہ دلانے کے لیے اسلام آباد میں ہونے والا مظاہرہ ایک مثبت کوشش ہے۔لیکن حیرانی کی بات ہے کہ جوں جوں یہ مارچ قریب آرہا ہے، نئے نئے ایشو سر اٹھا رہے ہیں اور عوامی توجہ کشمیر سے دور لے جانے کی کوشش کی جار ہی ہے۔اسی تسلسل میں ڈاکٹروں اور وکیلوں کا واقعہ، پھر اسلام اباد میں اسلامی جمعیت طلبا کے معصوم طالبعلم کی شہادت کا واقعہ،وزیر اعظم کا ملائیشیا کا دورہ منسوخ کرنا، پرویزمشرف کی سزا کا فیصلہ آ نا وغیرہ وغیرہ۔ ان ایشوز کو دیکھ کر لگتا یہی ہے کہ کچھ قوتیں یہی چاہتی ہیں کہ کہ قوم کشمیر کاز پر متحدہ نہ ہوجائے ان کو مختلف ایشوز پر الجھا دیا جائے۔

اب زرا اپنے اندرونی معاملات پر نظر دوڑائیں

ملک کے دو پڑھے لکھے طبقوں کو

آپس میں لڑایا گیا، اپنے مقاصد کے حصول کے لیے اور پھر اپنی اپنی مرضی کا میڈیا خرید کر کسی ایک فریق کو صحیح اور دوسرے کو غلط ثابت کیا جا رہا ہے۔

بار بارایک لفظ سننے میں آتا ہے فلاں کی دہشت گردی سے یہ ہوا فلاں نے یہ دہشت گردی کی!

مغرب نے تو در اصل اسلام داڑھی اور جہاد کو دہشت گردی سے منسوب کر رکھا ہے باقی مسلمان چاہے فلسطین کے ہوں شام کے یا کشمیر کے ان پر جتنے بھی مظالم ڈھالیے جائیں وہ دہشت گردی کے زمرے میں نہیں آتے۔

جبکہ یہاں ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت ملک کے دو اہم طبقات کو لڑانا اور اپنے کوئی اور مقاصد حاصل کرنا بھی تو ایک قسم کی دہشت گردی ہی ٹھہری نا۔ مگر دردناک پہلو یہ ہے کہ اپنے مقاصد حاصل کرنے کے لیے معصوم انسانوں کی جانوں کا ضیاع ہی کیوں کیا جاتا ہے، جیسا کہ پی آئی سی میں کیا گیا۔

کیا اپنے منصوبوں پر اس کے بغیر عمل ممکن نہیں؟

بہرحال میرے نزدیک ہمیں اب دہشت گردی کی تعریف کو تھوڑا بدلنا پڑے گا

وہ اس طرح کے وہ وکیل جو کسی بھی طرح کی مار پیٹ میں ملوث ہوئے وہ دہشت گرد ہیں۔

اگر کوئی وکیل اپنی بھاری بھرکم فیس لے کر بھی سائل کے چکر لگواتا ہے یا عدالتیں بر وقت انصاف نہیں کرتیں تو وہ بھی اسی زمرے میں آتی ہیں؟

اسی طرح اگر ڈاکٹر اپنے مطالبات کے لیے یا انا کی جنگ کے لیے بار بار ہسپتالوں کو بند کر دیتے ہیں یا سرکاری ہسپتالوں میں مریضوں سے جان چھڑا کر ان کو پرائیویٹ علاج پر مجبور کرتے، مہنگی دوائیاں تجویز کرتے یا بلا وجہ لیب ٹیسٹ کروا کر اس کا کمیشن کھاتے ہیں تو وہ بھی دہشت گرد کہلائیں گے؟

تعلیمی ادارے بھاری بھرکم فیسیں لے کر بھی اگر بچوں کو اخلاقیات اور علم نہ سکھاتیں تو یہ بھی دہشت گردی ہے۔

اس کے بعد عوام کو تحفظ فراہم کرنے والے ادارے اگر خودعوام کو لوٹنے لگیں یا ان کے جان و مال کی حفاظت نہ کرسکیں تو یہ بھی دہشت گردی ہے

اگر میڈیا سچ کو چھپائے اور کسی ایک طبقے کی طرفداری کرے جانبداری کا مظاہرہ کرے تصویر کا ایک رخ دکھائے یا پھر کسی خبر کو بالکل غلط رنگ دے دے تو پھر یہ میڈیا کی دہشت گردی ہے جیسا کہ حال ہی میں اسلام آباد میں اسلامک یونیورسٹی میں اسلامی جمعیت طلباء کے پرامن پروگرام کے دوران ایک لسانی تنظیم کے طلبا کے حملے کے دوران میڈیا پر مسلسل یہ خبر چلتی رہی کہ دو طلبا تنظیموں میں تصادم کے نتیجے میں یہ ہوا جبکہ یہ بالکل جھوٹ ہے تصادم کا مطلب تو لڑائی ہے جبکہ یہاں تو ایک پرامن پروگرام پر باقاعدہ حملہ کیا گیا جس کے دوران ایک نوجوان سید طفیل الرحمان کی شہادت ہوئی اور کئی طلبا زخمی ہوئے۔

اس طرح کے کتنے ہی حقائق ہیں جن کو توڑ مڑور کر پیش کیا جاتا ہے جو بلاشبہ دہشت گردی ہے

اور پھر وہ عوامی نمائندے جن کو ووٹ دے کر اسمبلیوں میں بھیجا جاتا ہے لیکن وہاں وہ صرف مراعات کے بدلے میں ہر اس فیصلے کی تائید کرتے ہیں جس میں عوام کوصرف رگڑا لگتا ہے۔

۔ وہ سب حکمران دہشت گرد ہیں جن کی حکمرانی میں عوام بد سے بدترین حالات پر پہنچ گئے۔میرے دماغ میں دو ہزار انیس کی ایک فلم چل رہی ہے صلاح الدین، ساہیوال کیس، کشمیر کا سودا، مہنگائی کا طوفان، انسانیت کا قتل الغرض ایک لامتناہی سلسلہ ہے!

میں کیوں نہ افسردہ ہوں کہ ایک طرف ملک کو لوٹنے والے باعزت فرار ہورہے ہیں،بھکاریوں کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے۔ پڑھے لکھے طبقے سوشل میڈیا پر ایک دوسرے کو نیچا دکھانے میں مصروف ہیں جبکہ دوسری طرف

دسمبر کا جان لیوامہینہ، سقوط ڈھاکہ اور اے پی ایس سانحہ کے بعد اب کشمیرمیں کیا ہونے جارہا ہے۔

یہ سوچ کر ہی مرا دل دھڑکنے لگتا ہے

ڈبو نہ دے کہیں یہ ناخدا کی خاموشی

(عنبر)


ای پیپر