زندگی تھک سی گئی ہے!
20 دسمبر 2019 2019-12-20

جاڑا اس بار آیا ہے تو لحاف چھوڑنے کو دل ہی نہیں چاہ رہا! یخ بستہ ہوائیں بھی چلتی ہیں اور دھند بھی چھائی رہتی ہے ہر ذی روح ٹھٹھرا جا رہا ہے!

ٹنڈ منڈ درختوں پر بیٹھے پرندے بہار کے منتظر نظر آتے ہیں۔ ایک ننھی سی چڑیا ہے جو چوں چوں کرتی ادھر سے اُدھرپھدکتی ہوئی دکھائی دیتی ہے۔ خزاں کی زردی چہروں پر بھی چھائی ہوئی ہے جس سے یہ لگتا ہے کہ زندگی بہت اُداس ہے!

برسوں پہلے جب جاڑے کا موسم آتا تو میں ضخیم کتابیں جن میں ناول زیادہ ہوتے خرید لیتا اور رات کے آخری پہر تک ان کا مطالعہ کرتا۔ میں چونکہ ریلوے میں ملازمت کرتا رہا ہوں لہٰذا جنگل میں گھرے کسی چھوٹے اسٹیشن کو بہت پسند کرتا تھا اور اکثر ان ہی اسٹیشنوں پر تعینات رہا وہاں دن اور رات کا منظر مختلف ہوتا۔ رات کومکمل خاموشی اور دن کے وقت خاصی چہل پہل مگر درخت سردیوں میں پت جھڑ کی لپیٹ میں ہوتے بہار میں مگر سبز پتوں اور پھولوں سے مہک اٹھتے۔

رات کی تنہائی میں جہاں مطالعہ کیا جاتا وہاں ٹرانزسٹر بھی سنا جاتا ہلکی ہلکی دیے کی لو میں ماحول طلسماتی ہو جاتا… کیا اچھے دن تھے غم روزگار تو تھا نہیں غم دنیا بھی نہیں تھا لہٰذا موج مستی خوب تھی۔ دلکش نظاروں سے دل بہلانا اور دوستوں کی محفلوں میں شرکت کرنا رہ رہ کر یاد آتا ہے۔

اب ایسا نہیں ہے زندگی تھک سی گئی ہے!

طویل سفر حیات کے بعد بھی خواہشوں کے چراغ روشن نہیں ہو سکے کہ زندگی تو گزری ہے مگر محنت و مشقت کے عوض سامان زیست میسر نہیں آیا

ہر خواب ٹوٹا بکھرا ہے!

سپنوں کی رانی کا کہیں سراغ نہیں ملا؟

جدھر دیکھا دھند ہہی دھند تھی سراب ہی سراب تھا!

اب جب جاڑا آتا ہے تو تڑپا کے رکھ دینا ہے

تنہائیاں گہری ہو جاتی ہیں۔

زندگی بوجھل بوجھل خود سے بیزار بیزار!!

اُدھر دیکھو تو فصیل شہر میں نفرتوں، عداوتوں اور ظلمتوں کی دراڑیں آ گئی ہیں امیر کو شاید اس کی کوئی خبر نہیں۔ شاید اس لیے کہ وہ عشرت کدوں میں رہتا ہے اس کے گرد خوشامدیوں کا ایک ہجوم ہے جو اسے حقائق سے بے خبر رکھے ہوئے ہے اور وہ مطمئن ہے کہ سب اچھا ہے ہر کوئی خوش ہے اُسے اُس وقت علم ہو گا اصل حقیقت کا کہ جب آندھیاں چلنے لگیں گی طوفان برپا ہو جائیں گے۔

اُس کی احساس کی آنکھ تب کھلے گی جب انسانوں کا سیلاب اُس کی جانب بڑھے گا۔

فی الحال وہ اطمینان سے اپنی خوابوں کی پھلواڑی میں جو اُس کے محل کے ایک حصے میں ہے ٹہل رہا ہے اور خزاں رُت کے جانے کا انتظار کر رہا ہے جس نے اُس کے قدموں کے نیچے خشک پتوں کو بکھیر رکھا ہے اور وہ اُن پر کبھی دائیں سے بائیں اور کبھی بائیں سے دائیں چلتا جاتا ہے۔

ہاں تو میں اس موسم میں رات بھر خوب مطالعہ کرتا غم دنیا سے آزاد ایک بہتر امن اور محبت بھرے ماحول کے قیام کے لیے… مگر یہ کیا ہوا کہ جوانی گئی بڑھاپے نے آن دبوچا وہ خیال مجسم نہ ہو سکا جو ذہن میں ابھرا تھا۔

اپنے حصے کا چراغ جلایا مگر وہ گھپ اندھیرے کو ختم نہ کر سکا کیونکہ کچھ روحیں تاریکیوں سے مانوس ہو چکی ہیں روشنیوں کو پسند نہیں کرتیں لہٰذا جو کوئی بھی شمع روشن کرتا ہے وہ جلد ہی بجھ جاتی ہے اُسے زیادہ دیر تک نہیں روشن کیا جا سکتا؟

بس جی چاہتا ہے اب واپس لوٹ جاؤں!

اُس ماضی میں جہاں کوئی فکر نہ تھی!

شعور و آ گہی نہ تھی ادراک و فہم نہ تھا مختصر دنیا تھی اور وہ شاد آباد تھی محبت و پیار سے بھری پڑی تھی۔ سادی تھی تصنع بناوٹ سے مبرا تھی اقدار انسانی ٹوٹ پھوٹ نہیں گئی تھیں۔ ہر کوئی ایک دوسرے کا سہارا تھا مگر کیا کیا جائے زمانہ بدل چکا۔ انسانیت فراموش کر دی گئی۔ اجلے چہرے میلے ہو گئے کوئی کسی کا نہیں رہا۔ ہر کوئی ایک دوسرے کو نوچ رہا ہے کھسوٹ رہا ہے۔ یہ سماج دل کے درد سے خالی ہوتا جا رہا ہے طاقتور، طاقت مزید حاصل کرنے کی کوشش میں ہے۔ وہ کبھی چالاکی دکھاتا ہے اور کبھی سینہ زوری دوسروں کے حقوق پامال کر رہا ہے انہیں دبا اور جھکا رہا ہے۔

اس سے خیالات تیزی سے بدل رہے ہیں۔ حالات کو بھی جیسے پہیے لگ گئے ہیں ۔ وہ خوفناکی کے قریب ہیں اگر یہ خوفناک ترین ہوتے ہیں تو کیا نہیں ہو جائے گا زندگی مایوسیوں کے صحرا میں نہیں کھو جائے گی پھر جب جاڑا آئے گا تو ویرانیاں ہی ویرانیاں نہیں ہوں گی ہر سو مگر کون سوچتا ہے یہاں سبھی تو اختیار و اقتدار کے بھنور میں چکر کاٹ رہے ہیں۔

ان دنوں دیکھا جا سکتا ہے کہ کس قدر کھینچا تانی ہو رہی ہے مگر افسوس صد افسوس کوئی بھی فریق انسانوں کا مفاد ملحوظ خاطر نہیں رکھ رہا۔ ظاہر یہی کیا جا رہا ہے کہ وہ عوام کے لیے حالت اضطراب میں ہیں جبکہ یہ سراسر غلط ہے ایسا بالکل نہیں۔ انہیں اپنا دُکھ ہے اپنی تکالیف ہیں۔ جس کی بناء پر باہم دست و گریباں ہیں۔

یوں زندگی ایک ڈراؤنی صورت میں بدلتی جا رہی ہے کسے خیال ہے مگر اس امر کا؟

کئی بار سوچا یہ سب کچھ بھلا دیا جائے۔ حالات سے سمجھوتا کر لیا جائے سب کو درست اور سب کو ٹھیک مان لیا جائے مگر اس جسم کو جو چرکے لگتے ہیں اور جو مصائب دل و داغ پر ہتھوڑا بن کر برستے ہیں وہ کسی ایسی سوچ سے واپس لے آئے ہیں۔

سنو اہل زرو اہل اختیار!

تمہارا آخری سفر جیون آساں نہیں ہو سکتا۔

تمہارے سامنے بہت سی مثالیں موجود ہیں۔

کیوں مجبوروں اور کمزوروں پر تمہارے قوانین وحشت بن کر ٹوٹتے ہیں

لہٰذا آج جو بدمزدگی ہے جو حیرانی اور پریشانی ہے۔ اُسے برا مت کہو ابھی تو اس کا آغاز ہے آگے چل کر بہت کچھ ہونا باقی ہے مگر میں خاموشی سے کسی ویران گوشے کا انتخاب کروں گا تا کہ جو سانسیں باقی ہیں وہ کتابوں میں کھوکر گزار دوں کیونکہ یہ دنیا سوائے دکھوں کے اور کچھ نہیں دے سکتی…!


ای پیپر