چیچوں کی ملیاں... پھولوں کی کلیاں
20 دسمبر 2019 2019-12-20

چیچو کی ملیاں ... چیچو کی ملیاں ...

’’ پھولوں کی کلیاں ‘‘ ... ہم نے حسب عادت اِک معروف قصبے کے نام کا ہم وزن ایجاد کر ڈالا ... شاید کبھی کوئی حکومت ہماری اصطلاح پر غور کرلے اور عوام کو چیچو کی ملیاں سے ... نجات مل جائے اور وہ فخر سے کہہ سکیں ہم قصبہ ’’ پھولوں کی کلیاں ‘‘ کے رہائشی ہیں... جیسے مشہور دھوکا منڈی کو اب منڈی فیض آباد کہا جاتا ہے تب سے وہاں کے عوام نے سکھ کا سانس لیا...

’’ چیچو کی ملیاں ‘‘ ؟ کچھ سمجھ نہیں آتا یہ کیا ہے ... کس زبان سے ہے کیوں استعمال ہوا ... پہلی بار کہا اور کیوں بولا گیا وغیرہ وغیرہ ...

’’ سّمہ سمٹہ‘‘ .... لفظ پڑھنے میں ... بولنے میں عجیب سا لگتا ہے . .. میرا نہیں خیال ہم لُغت کی کتابوں میں ڈھونڈیں تو وہاں سے ہماری کوئی مدد ہو ... یا لُغت کی کتابیں حرکت کریں . .. کیونکہ کتابیں لائبریریوں میں پڑی بیمار ہو چکی ہیں۔اکثر جگہ آپ کو لائبریرین بھی سانس کے مرض میں مبتلا دکھائی دیں گے ... لفظ ’’ اکثر‘‘ ... کو ذرا اپنی مرضی سے استعمال کر لیں ... مجھے کوئی اعتراض نہ ہوگا ... بہر حال لائبریریوں کا .. بُرا ہی حال ہے.. بوسیدہ کتابوں کے انبار اور باں باں کرتے بڑے بڑے ’’ ہال ‘‘ چھتوں پر جالے اور کبھی کبھی جنات کی موجودگی کا خوف بھی ؟

نہ ملے کوئی ... جواب تو گوگل والوں کو Disturb کریں ۔ہم فیصل آباد کے نواح میں گئے ... ایک اسّی سالہ بابا جی جنہوں نے انیس سال جیل میں کاٹے تھے ... چار پائی پر بیٹھے ... کچھ Secret سا دیکھ رہے تھے .. ہم وہاں پر موجود جوان لڑکوں کے اکسانے پر پاس گئے تو انہوں نے فون ... چارپائی پر الٹا کر رکھ دیا . .. اور ہمیں سوالیہ نظروں سے دیکھنے لگے ؟!!ہمیں اپنی جوانی کا دور یاد آگیا ’’ پلے بوائے ‘‘رسالہ عام available تھا... تھا کیا؟ ہمیں نہیں بتانا؟!!

بابا جی ... کیا دیکھ رہے ہو . ...ہمیں بھی دکھائو ... ؟!!جاجا بھاگ ... تنگ نہ کر ... !!

بابا جی ... اچھی چیز ہو گی جو اِس قدرانہماک سے دیکھ رہے ہو .. ؟؟تجھے کہا ناں ... بھاگ یہاں سے تنگ نہ کر .. ؟؟بابا کو میری یہ بے جا مداخلت یا دیکھنے کی خواہش بُری لگ رہی تھی؟!!

ہم چل پڑے ... ہمارا تجسّس بڑھ گیا ... ہم نے بھی عہد کر لیا ... یہ سب دیکھ کے چھوڑیں گے ... جیب میں پندرہ بیس چلغوزے پڑے تھے سو ہم نے بابا جی کو محبت سے پیش کئے ...انہوں نے محبت بھرا Unique گفٹ سمجھ کر کھا ڈالے ... ہم نے پھر درخواست کی منت سماجت کے سے انداز میں ... ’’ بابا جی ... دوستی کر لیتے ہیں..؟!!

ٹھیک ہے دوستی ہو گئی ... وہ بولے ...پھر فرمایا ...’’ پھر کب آئے گا ‘‘ ’’ جلد آئوں گا ‘‘ ...میں نے مسکراتے ہوئے کہا ...(دیکھا لالچ نے معاملات میں ہماری مدد کا پہلو نکال دیا اور ہم کچھ کچھ اپنے مقصد میں کامیاب ہونے لگے؟!

یہ چلغوزے تھوڑے سے اور لے کر آنا ... مزے کے ہیں... ؟!! اتنا مہنگا گفٹ ... میں نے دل ہی دل میں سوچا ... لیکن کھڑے کھڑے سازش تیار ہو گئی ...!! کیونکہ میری سوئی ابھی تک اٹکی ہوئی تھی کہ بابا جی کیا دیکھ رہے ہیں موبائل میں چھپ چھپ کے ..؟

کچھ دن بعد میں پھر پہنچا تو بابا جی دھوپ میں چار پائی ڈالے کچھ دیکھ رہے تھے وہی خفیہ انداز . .. اکیلے ... دنیا جہاں سے بے خبر ... ؟!!

دور سے مجھے آتے دیکھا تو فون کو الٹا دیا ... اور مجھے مسکراتے ہوئے Well Come کہا ... ہاتھ آگے بڑھاتے ہوئے محبت سے بولے ...

’’ گفٹ لائے ہو ؟‘‘

جی جی ... میں نے کوٹ کی جیب سے چلغوزے نکال کر پیش کئے ...اِس بار میں نے یہ مہنگی خوراک پیش کرتے ہوئے بتا بھی دیا کہ بندہ دو چار کلو چلغوزے نہ خریدے تو محبوبہ کو گفٹ کرنے کے لئے سونے کی آدھے تولے کی انگوٹھی خرید کر روٹھے ہووں کو منا بھی سکتاہے ؟!!اپنی قدرومنزلت بڑھا بھی سکتا ہے ؟!!

آج کے دورمیں بھی ’’ محبوبہ‘‘ کا ہی لفظ استعمال کرتے ہو... ؟

بابا جی نے معنی خیز نظروں سے دیکھتے ہوئے پوچھا ...

’’ جی جی .. . ایسا ہی ہے محبوبہ تو محبوبہ ہوتی ہے ناں ؟‘‘

’’ مگر اب کہاں سچے عشق ... ؟اب تو سنا ہے شہروں میں ’’ پارٹی بوائے‘‘ ہوتے ہیں یا پھر ماڑدن دنیا میں ’’Society Girls ‘‘ ہوتی ہیں میں گھبرا سا گیا ... یہ بابا جی مجنوں سے لگتے ہیں مگر ... Party Boy ... اور Society Girls ... یا اللہ خیر‘‘

بابا جی ... یہ Hesitation کیوں ہے کھل کے بات کریں مجھے بھی Guide کریں ... میں نے سنجیدگی سے کہا ...

تو ما حول پر پہلے سے زیادہ سنجیدگی طاری ہو گئی ... اصل میں ... کیا نام ہے تمہارا ... ؟!!بابا جی نے محبت سے پوچھا ...

مظفر....

مظفر یا .... پتُر میں جوانی میں ’’ ہیرو ‘‘ بننے کے چکر میں رہا بڑے بڑے پڑھے لکھوں کے ہا ں نوکری کی .... مقصد حیات تھا ... ہیرو بن جانا . .. ہر طرح کے پاپڑ بیلے.. خود کو منوانا چاہا مگر ... منزل تو نہ مل سکی مگر ... جذباتی ہو کر رقیب کو قتل کر دیا اور لمبا عرصہ جیل کی سلاخوں کے پیچھے رہنا پڑ گیا ... پھر جیل سے جان چھوٹی اور دوبارہ پچیس سال بعد سوچا گا ئوں چل کے دوبارہ سے زندگی کا آغاز کرتے ہیں ... مگر یہاں کا ماحول شہر کے ماحول سے زیادہ ... گندگی میں اٹا ہوا تھا ...

سترہ سالہ ملازمہ نے میرے پڑھے لکھے بھتیجے سے معاشقہ چلا لیا ... اچھے ماڈل کا ٹچ فون بھتیجے نے ملازمہ کو گفٹ کیا اور یوں لگا کہ حویلی فروخت ہو گی اور یہ ملازمہ مالکن بن جائے گی ....

مگر اِک رات وہ ٹرک ڈرائیور کے ساتھ بھاگ نکلی ... بھتیجے نے نیند کی گولیاں کھا لیں مشکل سے بچا ... میں نے بتایا بھی کہ لڑکے بچ اِس عشق سے وہ لڑکی بیک وقت دو تین جگہ معاملات چلا رہی تھی ... تمہیں جُل دے کر نکل گئی سچی محبت والے اندھے ہوتے ہیں ... کچھ عرصہ پہلے میں نے درخت کی اوٹ سے دیکھا ... وہ کس قدر چالاکی سے ٹچ موبائل پر بٹن دباتی .... سپیکر نمودار ہوتا تو آہستہ سے کہتی ... ’’ گندی فلمیں گندی فلمیں ‘‘ اور پھر گھنٹوں بیٹھ کر دیکھتی رہتی ... وہ تو ٹرک ڈرائیور کے ساتھ بھاگ گئی . .. بھتیجہ بیمار ہو گیا ... مگر مجھے یہ لت پڑ گئی ... میں جب اکیلا ہوتا ہوں ... تو گوگل ... سے مدد مانگتا ہوں .. اتنی سی بات ہے ... بابا جی نے چلغوزہ کھولتے ہوئے مجھے بتایا.... ؟!!


ای پیپر