فائل فوٹو

پرویز مشرف کو دراصل کن الزامات پر سزائے موت سنائی گئی؟ جانیئے
20 دسمبر 2019 (11:37) 2019-12-20

خصوصی عدالت نے سنگین غداری کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف کو 5 بار سزائے موت کا حکم سنایا ہے، فیصلے کے مطابق جنرل (ر) پرویزمشرف پر 5 چارج فریم کیے گئے تھے اور ہر جرم پر انہیں ایک بار سزائے موت سنائی گئی ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق پرویز مشرف نے 3 نومبر 2007 کو آئین پامال کیا اور ان پر آئین کے آرٹیکل 6 کو توڑنے کا جرم ثابت ہوتا ہے۔ فیصلے کے مطابق پرویز مشرف پر آئین توڑنے، ججز کو نظر بند کرنے، آئین میں غیر قانونی ترامیم، بطور آرمی چیف آئین معطل کرنے اور غیر آئینی پی سی او جاری کرنے کے آئین شکنی کے جرائم ثابت ہوئے۔

خیال رہے کہ سابق حکمران جماعت پاکستان مسلم لیگ (ن) نے پرویز مشرف کے خلاف آئین شکنی کا مقدمہ نومبر 2013 میں درج کیا تھا۔

یہ مقدمہ پرویز مشرف پر آرمی چیف کی حیثیت سے تین نومبر 2007ء کو ملک کا آئین معطل کر کے ایمرجنسی لگانے کے اقدام پر درج کیا گیا تھا۔ خصوصی عدالت 20 نومبر 2013 کو قائم کی گئی جس نے 31 مارچ 2014 کو پرویز مشرف پر فرد جرم عائد کی تھی۔

رپورٹ کے مطابق پرویز مشرف پر جن 5 الزامات میں فرد جرم عائد کی گئی اس کے مطابق ان پر پہلا الزام یہ تھا کہ انہوں نے 3 نومبر 2007 کو چیف آف آرمی اسٹاف کی حیثیت سے ملک میں ایمرجنسی نافذ کرنے کا اعلان کیا اور غیر قانونی اور غیر آئینی طور پر ملکی آئین معطل کیا۔ آئین کی معطلی سنگین غداری کے زمرے میں آتی ہے۔

جنرل (ر) پرویز مشرف پر دوسرا الزام یہ تھا کہ انہوں نے عارضی آئینی حکم نامہ (پی سی او) جاری کیا جس کے تحت غیرآئینی اور غیر قانونی طور پر صدر کو آئین میں ترمیم کے اختیارات حاصل ہوگئے جب کہ انہوں نے آئین میں دیے گئے بنیادی حقوق کو بھی معطل کیا جو کہ سنگین غداری ہے۔

جنرل (ر) پرویز مشرف پر تیسرا الزام یہ تھا کہ انہوں نے صدرمملکت کی حیثیت سے ججز کے لیے غیر قانونی اور غیر آئینی حلف نامہ جاری کیا تاکہ وہ پی سی او کے تحت حلف لے کر اپنی ذمہ داریاں سرانجام دیں جو کہ چیف جسٹس افتخار چوہدری سمیت اعلیٰ عدلیہ کے متعدد ججز کی معطلی کا سبب بنا۔ یہ بھی سنگین غداری کا اقدام تھا۔

مشرف پر چوتھا الزام یہ تھا کہ انہوں نے آئین میں ترمیمی حکم نامہ جاری کیا جس سے آئین کی دفعات 175، 186 (اے) ، 198، 218، 270 (بی) اور 270 (سی) کی غیر آئینی اور غیر قانونی طور پر ترمیم ہوئی جب کہ آرٹیکل 270 (اے اے اے) کو آئین میں شامل کیا گیا جو کہ بعد ازاں 18 ویں ترمیم کے ذریعے ختم کیا گیا، یہاں بھی جنرل (ر) مشرف نے آئین کو پامال کرکے سنگین غداری کا ارتکاب کیا۔

سابق فوجی صدر پر پانچواں اور آخری الزام یہ تھا کہ انہوں نے (دوسرا ترمیمی) آئینی حکمنامہ 2007 جاری کیا جس کے تحت غیر آئینی اور غیر قانونی طور پر آئین میں ترمیم ہوئی، یہاں بھی پرویز مشرف نے آئین کو پامال کرکے سنگین غداری کی۔

خیال رہے کہ پاکستان کے آئین کے آرٹیکل 6 کے تحت آئین کو توڑنے کو ریاست سے ’سنگین بغاوت‘ کا جرم قرار دیا گیا ہے اس کی سزا پارلیمنٹ نے عمر قید یا موت تجویز کی ہے۔


ای پیپر