احتساب کا ڈھول بجتا رہے گا
20 دسمبر 2018 2018-12-20

رواں سال کا آخری ہفتہ حالیہ سیاست کے لئے فیصلہ کن ثابت ہوگا۔ آئندہ پیر کو احتساب عدالت سابق وزیراعظم نواز شریف کے خلاف العزیزیہ اور فلیگ شپ ریفرنسز کے فیصلے سنانے جارہی ہے ۔ یہ فیصلے رواں ہفتے محفوظ کر لیے گئے تھے۔سال کے آخری ہفتے میں پیپلزپارٹی کے لئے بھی کوئی اچھی خبر نہیں ۔ اسی روزجے آئی ٹی منی لانڈرنگ کی رپورٹ سپریم کورٹ میں پیش کرنے والی ہے۔ کرپشن کے خلاف مہم بغیر وقفے کے جاری ہے۔ نواز شریف کے بعد سعد رفیق گرفتار ہو چکے ہیں یہ بھی اطلاعات ہیں کہ رانا ثناء اللہ اور مریم اورنگزیب اور بعض دیگر لیگی رہنماؤں کے خلاف دائرہ تنگ کیا جا رہا ہے۔ شہباز شریف کی تجویز کردہ تصادم کے بجائے مصلحت کی حکمت عملی کے تحت نواز شریف اور مریم نواز نے خاموشی اور سیاسی طور پر غیر فعال رہ کر بھی دیکھا۔ یہ نسخہ بھی پارٹی یا اسکی قیادت کے لئے کوئی ریلیف نہیں دلاسکا۔ پیر کے روز متوقع فیصلے میں بھی سابق وزیر اعظم کے لئے کسی خوشخبری کی خوشبو نہیں آرہی۔کیونکہ بعض وفاقی وزراء اعتماد کے ساتھ کہہ رہے ہیں کہ محفوظ فیصلہ جو پیر کو سنایا جائے گا اس میں انہیں سزا ہورہی ہے۔

پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری گرفتاری کی تیاری کر بیٹھے ہیں۔ ان کی ہمشیرہ سیاسی منظر نامے سے گزشتہ انتخابات کے بعد غائب ہیں۔ وہ صرف نیب کی سماعتوں کے موقع پر ہی نظر آتی ہیں۔ بلاول بھٹو اسلام آباد میں بیٹھ کر پارلیمانی تربیت لے رہے ہیں۔ نیب ایگزیکٹوبورڈ کے اجلاس میں پی پی پی سندھ کے صدرنثارکھوڑو اور پی پی پی کے رہنما شرجیل انعام میمن سمیت 16 انکوائریوں کی منظوری دی گئی ہے۔ صورتحال بتاتی ہے کہ پی پی پی سے تعلق رکھنے والے بعض دیگر سابق اور موجودہ وزراء کے خلاف بھی جلد انکوائریاں شروع ہوسکتی ہیں تاکہ پارٹی قیادت کی گرفتاری کے بعدامکانی احتجاج کو روکا جاسکے ان اقدامات کو پی پی پی سیاسی انتقام قرار دے رہی ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق جعلی اکاؤنٹس اسکینڈل کی تحقیقات کرنے والی جے آئی ٹی نے 400 سے زائد ا فراد اور 172اداروں کے خلاف قانونی کارروائی کی سفارش کی ہے جو کہ مبینہ طور پر 104جعلی اکاؤنٹس میں 220ارب روپے منتقل کرنے میں ملوث ہیں۔ تحقیقات کاروں نے9ستمبر،2018کے بعد سے جے آئی ٹی کی تحقیقات کے دوران تقریباً620افراد کو طلب کیا۔24دسمبر کو سپریم کورٹ میں پیش کی جانے والی یہ رپورٹ 7ہزار5سو صفحات اور 10والیمز پر مشتمل ہے۔ رپورٹ میں 35سے زائد ملزمان اور ان کے بیرون ملک اثاثوں کی تفصیلات ہیں۔70ملزمان نے یا تو جے آئی ٹی نوٹسز کا جواب دینے سے انکار کردیا یا پھر وہ بیرون ملک مقیم ہیں۔جے آئی ٹی نے 20ہزار سے زائد منتقلیوں سے متعلق تحقیقات بھی مکمل کرلی ہیں۔

جے آئی ٹی رپورٹ میں اخذ کئے گئے نتائج کو 4کیٹگریز میں تقسیم کیا گیا ہے۔ان میں جعلی اکاؤنٹس کا فارینزک تجزیہ، ایس ای سی پی، اسٹیٹ بینک، نیب، ایف بی آر اور خفیہ ایجنسیوں سے لیا گیا اداروں اور افراد کا ریکارڈ، حکومت سندھ سے تمام کانٹریکٹس کا علیحدہ ریکارڈابھی حاصل ہونا باقی ہے، باہمی قانونی معاونت کے تحت جو درخواستیں کی گئی ہیں ان کے جواب موصول ہونا باقی ہیں۔کہا جارہا ہے کہ حاصل کردہ معلومات پر مزید تحقیقات کی ضرورت ہے۔جے آئی ٹی نے یہ سفارش بھی کی ہے کہ بیرون ملک اثاثے رکھنے والے اہم ملزمان کی تحقیقات کے لیے الگ جے آئی ٹی بنائی جائیں۔ مزید تحقیقات بینکنگ کورٹس، نیب، ایف آئی اے سے کرائی جائیں یا پھر جے آئی ٹی رپورٹ کی بنیاد پر یہ فیصلہ عدالت کرے۔

تحریک انصاف حکومت حال اور مستقبل کے بجائے ماضی میں ہی چیزیں ڈھونڈ رہی ہے۔ معیشت کا پہیہ چلے اس سے معاشی ترقی ہو، اس کے بجائے حکومت کی زیادہ دلچسپی احتساب میں ہے۔ مشرف نے بھی معاشی نمو کا وعدہ کیا تو کیالیکن جب ان کے سامنے دو آپشن آئے معاشی بہتری یا احتساب تو وہ آخری آپشن احتساب پر چل پڑے۔ لگتا ہے کہ اب بھی احتساب سیاسی منظر پر چھایا رہے گا اور حکومت بھی اس ڈھول کو پیٹتی رہے گی کیونکہ اس اشو کے علاوہ کوئی اور اشو نہیں جو لوگوں کو طویل عرصے تک دل جیت سکے۔

مشرف نے سیاستدانوں خاص طور رپر دو بڑی پارٹیوں کو گھر بھیج دیا اور احتساب کا وعدہ کیا۔ اس سے کوئی ریلیف تو نہیں ملا لیکن لوگوں کی ایک امید بنی کہ آگے چل کر حالات بہتر ہو جائیں گے۔ ابتدائی طور پر بعض سیاستدانوں اور بعض تاجروں کو گرفتار کیا گیا۔ کیونکہ ن کے کاروبار اور صنعتیں بینکوں کے قرضے کی باقیدار تھی۔ فوجی حکومت تین سو باقیداروں کی لسٹ جاری کی۔ لیکن نہ یہ مہم جاری رہ سکی اور نہ ہی گرفتار شدگان کی قید۔مشرف کو معاشی بحران کے ساتھ ساتھ اپنی قانونی حیثیت کا بھی مسئلہ درپیش تھا۔ ان کی عدم مقبولیت نے پیپلزپارٹی اور نوا زلیگ کو دوبارہ قوت بخشی۔ عالمی برادری بے شک ملک کے عوام بھول گئے کہ منتخب جماعتیں کرپٹ ہیں۔ہم ایک بار پھر 90کے عشرے میں کھڑے ہیں اور آج ہم کو سیاستدان کرپٹ اور نااہل لگ رہے ہیں۔ جبکہ فوج کی ساکھ بحال ہوئی ہے اور ایک بار پھر اس سے امیدیں وابستہ ہونے لگی ہیں۔

احتساب کا موڈ انتظامی مشنری پر بری طرح اثر انداز ہو رہا ہے۔ یہ بات خود وزیراعظم عمران خان بھی محسوس کرتے ہیں۔ ان کا لاہور اور اسلام آباد میں خطاب بیوروکریٹس کو یقین دہانی کرانا تھا۔ انہوں نے یہ تک کہا کہ نیب چیئرمیں دیکھیں کی ان کا ادارہ بیوروکریٹس کو ہراساں نہ کرے۔

نیب کاروباری برادری کو بھی پھنسا رہی ہے۔ آہستہ آہستہ معاشی پہیہ کی رفتار سست ہو رہی ہے۔ یہ امر ریاست کو مجبور کرے گی کہ وہ احتساب کی مہم کو روکے۔ نیب ایف آئی اے اور عدلیہ بھی اپنی رفتار کم رکھیں لیکن اس سے پیپلزپارٹی یا نواز لیگ کو خود بخود ریلیف نہیں ملے گا ۔ فی الحال ایسا لگ رہا ہے کہ پی ٹی آئی کا سافٹ چہرہ گم ہو رہا ہے ۔ حالات و واقعات بتاتے ہیں کہ سخت معاشی فیصلے اور غلطیاں اور اس کے ساتھ’ سول فوجی تضاد‘آنے والے وقتوں میں شدت اختیار کر سکتے ہیں۔۔ کوئی بھی پارٹی ہمیشہ اچھا کام نہیں کر سکتیے۔ پی ٹی آئی کو چیلینج کرنے والے حالات موجود ہیں۔ آخر ان کو بھی مخالفت کا سامنا کرنا پڑے گا وہ جو ابھی اقتدار میں ہیں ۔

پارلیمنٹ میں زرداری اور نواز شریف کا مصافحہ پی ٹی آئی کی حکومت کے خلاف اتحاد کی طرف پیش قدمی ہو سکتی ہے۔ اگرچہ عمران خان کی حکومت کو فوری طور پر کوئی خطرہ نہیں لیکن زیادہ سرگرم اور فعال متحدہ اپوزیشن ایک سست اور ڈھلمل حکومت کے لئے درد سر بن سکتی ہے۔جو ابھی انتظامی حوالے سے ٹھیک سے اپنے پاؤں ہی جما نہیں پائی ہے۔ پیپلزپارٹی اور نواز لیگ دونوں نے عمران خان کی حکومت کے خلاف سخت رویہ رکھنے کا اشارہ دیا ہے۔ یہ رائے پائی جاتی ہے کہ چالاک زرداری نواز لیگ کو استعمال کر کے اپنا کام نکال لے گا ۔ اس وقت دونوں جماعتیں عدلیہ کی ستائی ہوئی ہیں جس کے پیچھے عسکری قوتیں بھی ہیں۔ دونوں کی مجبوری ہے کہ ایک دوسرے کے قریب آئیں۔ پی ٹی آئی کی نااہلی اور غلطیوں نے دونوں جماعتوں کو موقعہ دیا ہے کہ وہ اپنا کھویا ہوا میدان حاصل کریں۔ ملک کو درپیش معاشی بحران ہی خود اس کو لے ڈوب سکتا ہے۔ قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹیوں کی سربراہی پر اپوزیشن 19 کی سربراہی کا مطالبہ کر رہی ہے۔

اپوزیشن کی سرگرمیاں اپنی جگہ پر حکمران اتحاد میں جس میں بھانت بھانت کے لوگ اور گروپ ہیں وہ بھی بیزار ہیں۔ بلوچستان نیشنل پارٹی اور ایم کیو ایم نے قومی اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے لئے گرفتار لیگی رکن اسمبلی سعد رفیق کے پراڈکشن آرڈر نہ نکالنے پر احتجاج میں اپوزیشن کا ساتھ دیا۔

پی ٹی آئی کے اندر بھی ایک کھچڑی پک رہی ہے۔ وہ لوگ ناراض ہیں کہ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی چیئرمن شپ اپوزیشن کو کیوں دی گئی؟ وہ سمجھتے ہیں کہ ایسا کر کے حکمران جماعت نے کمزوری کا مظاہرہ کیا ہے۔ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی سربراہی ہوتی تو کرپشن کا ڈھول پیٹتے۔ بالکل اسی طرح جیسے پہلے تبدیلی کا ڈھول پیٹ رہے تھے۔

چوہدری فواد اور عامر کیانی نے وزیراعظم کے اس فیصلے پر کھلے عام تنقید کی ہے۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ حکومت پارلیمنٹ کو مضبوط کرنے میں ناکام رہی ہے۔ یہ فورم قانون سازی وغیرہ کے بجائے دھواں دھار تقاریر کا پلیٹ فارم بنا ہوا ہے۔ لیکن عملی کام موجود نہیں۔

کرپشن کے نام پر اس طرح کی کارروائیوں سے سیاست اور معیشت نہیں چل سکتی۔ لہٰذا اپوزیشن جماعتوں نے نیب کے چیئرمین کو خط لکھا وہ ان رہنماؤں سے ملنے کے لئے تیار ہو گئے ہیں۔ دوسری طرف حکومت اور اپوزیشن نیب قانون میں ترامیم کے لئے مذاکرات میں مصروف ہیں ایک ترمیم نیب کے مقدمات میں گرفتار ملزمان کی ضمانت اور دوسرا مقدمات احتساب عدالت میں ریفر کرنے سے متعلق ٹائیم فریم کا معاملہ ہے۔ ملزمان متعلقہ احتساب عدالت میں ضمانت کی درخواست دے سکتے ہیں۔ احتساب کا چورن بکتا رہے گا ۔ احتساب کا ڈھول بجتا رہے گا ۔ مقدمات اور کارروایاں چلتی رہیں گی لیکن حکومت کی جانب سے پریشر بٹن کے طور پر نیب قا نون میں ترمیم کام آئے گی۔اور اپوزیشن فی الحال حکومت کی نااہلی اور غلطیوں کے ساتھ کھیلے گی۔


ای پیپر