عا لمی بر دا ری اور تنازع کشمیر
20 دسمبر 2018 2018-12-20

یو ں تو مقبو ضہ کشمیر کی تحریکِ آ ز ادی ستر بر س سے جا ری ہے،مگر حا ل ہی میں اس نے شد ت اختیا ر کر لی ہے۔ چنا نچہ اب معاملہ خاصا سنگین ہوچکا ہے۔ بھارتی سیکورٹی فورسز کے مظالم میں بھی شدت پیدا ہوگئی ہے۔ میڈیا کی اطلاعات کے مطابق بھارتی فوج کے ہاتھوں 11 کشمیریوں کی شہادت پر تیں روز وادی میں مکمل ہڑتال کی گئی جبکہ حریت رہنما یاسین ملک اور میر واعظ عمر فاروق کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔ مقبوضہ کشمیر کی بگڑتی ہوئی صورت حال پر او آئی سی نے رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ کشمیریوں کا قتل عام دہشت گردی ہے جس کی مذمت کرتے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق بھارتی مظالم کے خلاف حریت قیادت نے تین روزہ ہڑتال کی کال دی ہے جس کے باعث پیر کے روز بھی مکمل شٹر ڈاؤن ہڑتال رہی۔ حریت رہنما میر واعظ اور یاسین ملک کو اس وقت گرفتار کیا گیا جب وہ سرینگر میں بھارتی فوج کے ہیڈکواٹر کی طرف مارچ کر رہے تھے۔ احتجاجی مارچ کو روکنے کے لیے قابض حکام نے سرینگر کے بادامی باغ میں واقع فوجی چھاؤنی کے اردگرد 10 کلو میٹر کے علاقے میں کرفیو نافذ کیے رکھا۔مقبوضہ کشمیر کا تنازعہ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ہے۔ دنیا کی طاقتور اقوام سے لے کر افریقہ اور ایشیاء کے پسماندہ ممالک تک اس تنازعہ سے پوری طرح آگاہ ہیں۔ لیکن افسوناک امر یہی ہے کہ اس تنازعہ کے حل کے لیے طاقتور اقوام نے اپنا حقیقی کردار ادا نہیں کیا یورپ میں بوسنیا کے ایشو کو کسی نہ کسی انداز میں حل کرلیا گیا ہے۔ مشرقی تیمور کے ایشو کو بھی فوراً حل کیا گیا۔ جنوبی سوڈان کو بھی آزادی دلادی گئی لیکن کشمیر کی طرف بڑی طاقتوں کی کوئی توجہ نہیں ہے۔ یہی حال تنازعہ فلسطین کا ہے۔ یہ دو مسئلے ایسے ہیں جو اقوام متحدہ کے ایجنڈے پر آج بھی موجود ہیں لیکن ان کے حل کی جانب حقیقی پیشرفت نہیں ہورہی۔ پاکستان اپنی بساط کے مطابق کشمیریوں کی سفارتی مدد کر رہا ہے لیکن اس حوالے سے بھارت دنیا میں منفی پروپیگنڈا کرتے ہوئے کشمیریوں کی تحریک کو دہشت گردی قرار دینے پر کمربستہ ہے۔ پاکستان آج بھی کشمیریوں کا ہر ممکن ساتھ دے رہا ہے۔ اگلے روز قومی اسمبلی نے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی ظلم و جارحیت کے خلاف مذمتی قرارداد اتفاق رائے سے منظور کرلی۔ قرارداد میں کہا گیا ہے کہ قومی اسمبلی مقبوضہ کشمیر کے بہادر اور غیور عوام کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتے ہوئے بھارتی فوج کے ہاتھوں 14 کشمیریوں کی شہادت کی سخت مذمت کرتی ہے۔ کشمیریوں کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے تحت حق خود ارادیت دیا جائے جبکہ بھارتی مظالم رکوانے کے لیے عالمی برادری کردار ادا کرے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فورسز کے مظالم پر ٹویٹر پر جاری اپنے بیان میں کہا ہے کہ معصوم کشمیریوں اور لائن آف کنٹرول کے پار سویلین آبادی کو نشانہ بنانے کی بھارتی مقبوضہ فورسز کی ریاستی دہشت گردی انتہائی قابل مذمت ہے۔ بھارتی فوج پیشہ وارانہ سپاہیوں کی اخلاقیات کا خیال رکھے۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ بھارت پر جب تک حقیقی معنوں میں عالمی دباؤ نہیں پڑے گا وہ تنازعہ کشمیر کو حل کرنے کی کوشش نہیں کرے گا۔ ماضی کی تاریخ گواہ ہے کہ بھارت نے تنازعہ کشمیر کے حل کے لیے جو بھی کوششیں ہوئیں، انہیں سبوتاژ کیا ہے۔ بھارتی قیادت کو یہ بات تسلیم کرلینی چاہیے کہ جب تک کشمیر کا تنازعہ طے نہیں ہوتا، جنوبی ایشیا میں امن کا قیام ممکن نہیں ۔ بھارتی قیادت ہر وقت تجارت تجارت کا راگ الاپتی ہے، تاہم اسے یہ حقیقت تسلیم کرنی چاہیے کہ تجارت اسی وقت ممکن ہے جب تنازعہ کشمیر طے ہوجائے۔ اگر تنازعہ کشمیر طے ہوجاتا ہے تو بھارت کے لیے وسط ایشیا تک تجارت کے دروازے خود بخود کھل جائیں گے۔ بھارت کی صنعتی ترقی کی رفتار کو تیز کرنے کے لیے ضروری ہے کہ اسے وسط ایشیا تک تجارت کا محفوظ روٹ مل جائے۔ اگر تنازعہ کشمیر طے ہوجاتا ہے تو پاکستان بھارت کو یہ سہولت دے سکتا ہے۔ پاکستان اگر بھارت کو یہ سہولت دیتا ہے تو اس کے لیے افغانستان سے لے کر قازقستان تک اور چین کے صوبے سنکیان تک کے تجارتی راستے کھل جاتے ہیں۔ بھارت کو زمینی حقائق کا ادراک کرنا چاہیے۔ آج کی دنیا جنگوں کی دنیا نہیں ہے بلکہ تجارت کی دنیا ہے۔ بھارتی قیادت کو اس حقیقت کا جلد از جلد ادراک کرلینا چاہیے۔ جہاں تک پاکستان کا تعلق ہے تو پاکستان کے کرتار پورہ کوریڈور کھول کر اپنی نیک نیتی ثابت کردی ہے۔ اب اس سلسلے میں بھارت کی باری ہے۔

تا ہم یہا ں یہ ضبطِ تحر یر میں لا نا ضر ور ی ہے مقبوضہ کشمیر میں آزادی کی تحریک کو دبانے کے لیے بھارتی جبر و استبداد نئی بات نہیں۔ مقبوضہ وادی کا چپہ چپہ کشمیریوں کے خون سے رنگین ہے۔ ہزاروں کشمیری اس تحریک میں شہادت کا رتبہ پاچکے ہیں لیکن جذبہ آزادی ہے کہ کسی طور کم ہونے میں نہیں آرہا۔ ہر شہید ہونے والے کشمیری کا خون آزادی کی اس تحریک میں نیا رنگ بھرتا اور ایندھن کا کام کرتے ہوئے جذبہ حریت کو مزید ہوا دیتا ہے۔ بھارتی ظلم و جبر میں جتنی تیزی آتی چلی جارہی ہے کشمیریوں کا جذبہ حریت اتنا ہی طاقتور ہوتا چلا جارہا ہے۔ بھارتی فوج نے کشمیریوں کی تحریک کو دبانے کے لیے ظلم و جبر کے نئے ہتھکنڈوں میں پیلٹس گن کا اضافہ کرکے اور سینکڑوں کشمیریوں کو اس کا نشانہ بنا کر بھی دیکھ لیا مگر کشمیری ہیں کہ وہ کوئی دم پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں۔ بھارتی فوج سرچ آپریشن کے نام پر گھروں میں گھس کر بے گنا کشمیریوں کو شہید کردیتی ہے اور دنیا کی آنکھوں میں دھول جھونکنے اور اپنے ظلم پر پردہ ڈالنے کے لیے انہیں مجاہدین کا نام دے دیتی ہے۔بھارتی فوج کی فائرنگ سے شہید ہونے والے شہداء کے جنازے میں لاکھوں کشمیری امڈ آتے ہیں۔ ادھر کسی شہید کی نئی قبر میں اضافہ ہوتا ہے تو ادھر کشمیری پھر سینہ تان کر بھارتی فوج کے سامنے آزادی کے نعرے لگاتے آکھڑے ہوتے ہی۔ اب آزادی کی اس تحریک میں نوجوانوں کے ساتھ ساتھ خواتین اور لڑکیاں بھی شامل ہوچکی اور پوری دنیا کو پکار پکار کر یہ کہہ رہی ہیں کہ انہیں بھارت کے ظلم و ستم سے نجات دلا کر آزادی کی نعمت سے ہمکنار کیا جائے لیکن اقوام متحدہ سمیت تمام عالمی طاقتیں اس ظلم پر خاموش تماشائی کا روایتی کردار ادا کر رہی ہیں۔ حیرت تو اس بات پر ہے کہ او آئی سی اور عرب لیگ نے کبھی بھارتی فوج کے اس ظالمانہ رویے پر آواز نہیں اٹھائی۔ بھارتی حکومت کو بھی اس عالمی حقیقت کا بخوبی علم ہے کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں جتنا چاہے ظلم کرلے دنیا کی بے حسی کا تسلسل اسی طور جاری رہے گا۔ بھارت کا خیال ہے کہ وہ اپنے ظالمانہ ہتھکنڈوں کے ذریعے کشمیر کو اپنا حصہ بنائے رکھنے میں کامیاب ہوجائے گا لیکن ایک طویل عرصے تک جاری کشمیریوں کی تحریک یہ اعلان کر رہی ہے کہ وہ کسی بھی صورت بھارتی غلامی کو قبول نہیں کریں گے۔ کشمیری 14 اگست کو پاکستان کا یوم آزادی بھرپور طور پر مناتے اور پوری وادی میں سبز ہلالی پرچم لہرا کر پاکستان سے اپنی محبت اور دلی وابستگی کا علی الاعلان اظہار کرتے ہیں جبکہ اس کے اگلے ہی روز بھارتی یوم آزادی کو یومِ سیاہ کے طور پر منا کر بھارت سے اپنی نفرت کو واضح کرتے ہیں۔ پاکستان بھارت کو متعدد بار پیشکش کرچکا ہے کہ مسئلہ کشمیرکے حل کے لیے پُرامن مذاکرات کا راستہ اپنایا جائے اور بھارت پر یہ واضح کرچکا ہے کہ وہ کسی بھی طور پر کشمیریوں کی تحریک کو دبانے میں کامیاب نہیں ہوگا۔ لیکن موجودہ بھارتی حکومت کسی بھی طور پر مذاکرات کی جانب نہیں آرہی اور جب بھی مذاکرات کی بات چلتی ہے تو کوئی نہ کوئی بہانہ تراش کر وہ اسے سبوتاژ کردیتی ہے۔ بھارت کو یہ یاد رکھنا چاہیے کہ اپنے تمام تما مظالم کے باوجود ایک دن کشمیر کے مسئلے پر پسپائی اختیار کرتے ہوئے اسے کشمیریوں کو آزادی دینا ہوگی۔


ای پیپر