پاکستان میں میکاولی کی حکمرانی
20 دسمبر 2018 2018-12-20

آج کا یورپ ماضی جیسا نہیں اور نہ ہی کبھی ایسارہا جس کی مثالیں ہمارے کپتان اپنی تقریروں میں دیتے ہیں ۔ دنیا میں بادشاہت اپنے عروج پر تھی۔ جنگل کی حکمرانی تھی۔ آج بادشاہ تاش کے پتوں میں رہ گیا بادشاہوں کی حکمرانی جھلک آج سے ساڑھے پانچ سو سال قبل شہرہ آفاق مصنف میکاولی نے ’’دی پرنس‘‘ نامی کتاب لکھ کر حکمرانی کے اصول بتائے۔ یہ بھی بتایا جھوٹ ، فریب، دھوکہ، مخالف کو بدنام ، گھٹیا، بے اصول ثابت کرنے کا اصل مقصد یہ ہوتا ہے کہ اس کے اقتدا رکو کسی طرف سے خطرہ نہ رہے۔ مخالفین کو کچلنے کے لیے ریاست کے طاقت ور گروہوں کی حمایت اسے ہر صورت میں حاصل رہنی چاہیے تا کہ اس کا اقتدار محفوظ رہے۔ اقتدار برقرار رکھنے کے لیے اُسے بے رحم ہونا چاہیے جو سر اٹھاتا نظر آئے اسے کچل دو، کسی قانون اور انصاف کا ترازو اس کے راستے میں رکاوٹ نہیں بننا چاہیے۔ معاشرے میں مثال بن جائے۔ الیکشن، جمہوریت اور عوام کی طاقت بیکار چیزیں ہیں۔ حکمرانی کا ایک ہی اصول ہے کہ کسی پر نہ رحم کرو اور نہ ترس کھاؤ۔ خود میکاولی کا تعلق یورپ سے تھا۔ اس نے اپنی کتاب میں حکمرانی کے سارے شرمناک اصول اس لیے بیان کر دیئے کیونکہ میکاولی کی بادشاہت کا ڈنکا بج رہا تھا۔ میکاولی کے نظریے کے مطابق زمام اقتدار بے رحم ہو، جہاں نہ عدل اور نہ عدالتوں کا انصاف ہو۔ اگر انصاف کے کچھ ادارے موجود تھے وہ کبھی بادشاہ کو ناراض کرنے والے فیصلے نہیں دیتے تھے۔ میکاولی کو بادشاہ یا پرنس کے مصنف کی حیثیت سے ساڑھے 5 سو سال سے گالیاں پڑ رہی ہیں ۔یہاں تک کہ یورپی زبانوں میں لفظ میکاولیت ’’شیطانیت‘‘ کے برابر سمجھا جانے لگا۔ ان کی کتاب کا مقدر کوڑا دان ہے۔ میکاولی اپنی کتاب کی وجہ سے نہیں بلکہ ان کے نظریے کو آج بھی اونچا مقام ملتا ہے۔ حکمرانی کی جبلت کو میکاولی نے جس انداز سے پیش کیا۔ اس سے بادشاہت ہو ، جمہوری تماشا ہو یا فوجی حکمرانی سب سے پہلے وہ میکاولی کے طرز حکمرانی پر چلتا ہے۔ دیکھتے ہی دیکھتے دنیا بھر میں فوجی حکومتیں اور فوجی آمر اپنے انجام سے دوچار ہوئے۔ دنیا نے وقت اور حالات کے دھارے سے بڑا سبق لیا۔ امریکہ نے عہد جمہور میں کافی کچھ سیکھا اور دنیا بھر میں سول حکمرانی کی حوصلہ افزائی کی مگر ’’اصول میکاولی‘‘ آج بھی مقبول نظریہ ہے خاص طور پر بش انتظامیہ کا ستون مانے جانے والی کونڈا لیزا رائس نے تو دشمن کو سر اٹھانے سے پہلے ہی تباہ کرنے کا نظریہ پیش کیا۔ اس مقصد کے لیے امریکہ نے پاکستان کے دو فوجی سربراہوں ضیاء الحق اور مشرف کو استعمال کیا۔ امریکہ کا اصل مقصد افغانستان سے روسی فوج کو نکالنا تھا سو وہ نکل چکے۔ امریکہ جہاد کا سارا مدعا نواز شریف پر ڈال کر پتلی گلی سے نکل کیا۔ امریکہ کے ہیرو ضیاء الحق جس طرح رخصت ہوئے۔ یہ کہانی بھولنے والی نہیں عدالتیں بھی ان کی مرضی کی آ گئیں ایک مرتبہ نہیں دو مرتبہ ججوں نے مشرف کی وفاداری کا حلف اٹھایا۔ بدنام کرنے کے لیے سکینڈل گھڑے گئے۔ امیر شہر کا حکم ہوتا تھا یہ شخص سیاست کرے گا یہ نہیں کرے گا۔ ہر فرعون کے لیے ایک موسیٰ آتا تھا میکاولی نے جب اپنی کتاب پرنس لکھی تو انہوں نے جابر، ظالم اور نا انصافی کرنے والے کا انجام نہیں لکھا کیونکہ میکاولی خود کئی برس ایک دربار میں ملازم تھا اس نے حکمرانوں کا ہر طرف عروج تو دیکھا تھا مگر کسی کو عوامی طاقت سے زوال پذیر ہوتے نہیں دیکھا تھا۔ 19 ویں صدی میں اٹلی میں میکاولی کے نظریے کو شہرت ملی خود میکاولی اٹلی کا رہنے والا تھا۔ ہٹلر ایک جمہوری سیاست دان تھے وہ دو مرتبہ اپنے میکاولیت نظریے کی وجہ سے انتخاب میں بھاری اکثریت سے جیت گیا۔ انہوں نے جرمنی پر مضبوط حکمرانی قائم کر لی اکیلے شخص نے یورپ کو مٹھی میں بند کرنے کا خواب دیکھا۔ فرانس کو تہ و بالا کیا مگر میکاولیت کا انجام سب نے دیکھا کہ اس کی لاش تک نہ ملی۔ آزادی کے بعد ایوب خان جو ہمارے کپتان کے محبوب لیڈر ہیں۔ وہ ایوب کے دور کو معاشی حوالے سے مضبوط سمجھتے ہیں مگر یہ حقیقت ہے پاکستان میں خوشحالی اس وقت آئی جب امریکہ نے پاکستان کی طرف ڈالر پھینکے ایوب سے لے کر مشرف تک ڈالروں کی کہانی یہ سوال فضول ہے کہ ہم نے اتنی امداد لی اور ہمارا اتنا نقصان ہوا۔ امریکہ اپنے مفاد میں پاکستان کو امداد دیتا رہا جس سے پاکستان میں ترقی ہوئی اور معیشت کا پہیہ بھی خوب چلا۔ آپ کے لیڈر کو امریکہ نے روس کی جاسوسی کرنے کے لئے بڈ بیر کا ہوائی اڈا لیا، شمسی ایئربیس دی مجاہدین کو پاکستان کے وسیلے سے اسلحہ ملتا رہا۔ سول حکومتوں نے بھی ’’میکاولیت‘‘ کو اپنا اصول بنایا یہ اصول اس وقت تک ان کا پیچھا کرتا رہا جب بھٹو گڑھی خدا بخش کے قبرستان میں نہ جا سویا۔ نواز شریف کی حکمرانی میں ان کی جھلک آئی تھی جب انہوں نے سیف الرحمن کے فارمولے کو پرموٹ کیا یہ کہانیاں ایسے ہی نہیں سنگین غداری مقدمے کا سامنا کرنے والا مشرف۔ 17 ویں ترمیم کر کے مکر گیا۔ دوسری مرتبہ پسند کی عدلیہ لے آیا۔ میکاولی نے یہ نہیں بتایا کہ جب اس کا بادشاہ شکست کھا جائے تو پھر کیا کرے۔ یونیفارم میں حکمرانی کے مزے لوٹنے والے مشرف 5 سال کے لیے آئینی طریقے سے صدر بنے اور انہوں نے این آر او کے ذریعے ڈاکووں، قاتلوں اور کرپٹ لوگوں کو چھوڑ دیا۔ مشرف کو ایک سال تک صدر رہنا نصیب نہ ہوا انہیں مواخذہ کا سامنا کرنا پڑا۔ سنگین غداری، بینظیر کے قتل میں وہ مفرور ہیں۔ آمدن سے زائد اثاثوں کا کیس بھی کھل گیا۔ مشرف پاکستان نہیں آ سکتا۔ کہانی وہی سے جو 72 سال سے جاری ہے۔ عمران خان وزیراعظم ہیں طرز حکمرانی ایسی ہے زوال پذیر مگر ایک کام پوری حکومت وزیراور مشیر کر رہے ہیں وہ بے رحم احتساب صرف سیاست دانوں کا کر رہے ہیں ہر روز کہانیاں آ رہی ہیں۔ جناب منصف اعلیٰ جسٹس ثاقب نثار کی مدت ملازمت میں ابھی ایک ماہ سے بھی کم عرصہ رہ گیا ہے جب تاریخ بنانے والا چیف جسٹس خود تاریخ بن جائے گا پھر ان کے فیصلوں کو عوامی عدالت نئے سرے سے تولے گی کہ وہ جسٹس منیر کے راستے پر چلے یا انہوں نے جسٹس کارنیلس جسٹس شبیر جسٹس رستم کیانی کا راستہ لیا البتہ یہ سوال بڑا اہم ہے ’’پانامہ سکینڈل‘‘ کے نام پر پوری قوم میں جو ہیجان برپا کیا گیااکیلے نوازشریف کو مکھن سے بال کی طرح نکال کر کس طرح وزارت عظمیٰ سے نکالا گیا۔ پھر انصاف کا ترازو عمران خان اور ان کی پارٹی کے لیڈروں کے حق میں کیوں ڈنڈی مار گیا۔ نواز شریف کے علاوہ بھی چار سو سے زائد آف شور کمپنیاں رکھنے والے تھے کسی ایک کا آج تک بال بیکا نہیں ہوا۔ اب نواز شریف کی قسمت کا فیصلہ تو 24 دسمبر کو ہونا ہے۔ نواز شریف کی قسمت کا جو بھی فیصلہ آئے نوا زشریف تاریخ کا حصہ نہیں بنے گا۔ وہ جیل سے بھی سیاست میں ان رہے گا۔ مگر حکمرانی کا موجودہ انداز میکاولی کے بادشاہ جیسا ہی ہے مگر آج کے دور میں اس نظریہ کا چلنا مشکل ہے۔


ای پیپر