مرنا اسی کا نام ہے !
20 دسمبر 2018 2018-12-20

علی اعجاز بھی چلے گئے۔ وہ فلم، ڈرامے اور زندگی کی حقیقت کا ایک اہم کردار تھے۔ یہ کردار اس وقت اُدھورا ہوگیا تھا جب اداکار ننھا اس دنیا سے رخصت ہوا، میں پیار سے علی اعجاز کو ”منا“ کہتا تھا، ایک بار انہوں نے مجھ سے پوچھا ”لوگ مجھے پیار سے ”ججی“ کہتے ہیں، تم کیوں ”منا“ کہتے ہو؟۔ میں نے عرض کیا ”میں آپ کو ننھے کی وجہ سے منا کہتا ہوں۔ ایک زمانے میں یہ ”ننھا منا“ بڑے مشہورتھے، پہلے اداکار ننھے کی کمال احمد رضوی کے ساتھ ”جوڑی“ بڑی مشہور ہوئی، پھر علی اعجاز کے ساتھ ہوگئی۔ جس فلم میں اداکار ننھا ہوتا، اس میں علی اعجاز کا اس کے ساتھ ہونا فلم کی کامیابی کی ضمانت ہوا کرتا تھا۔ بلکہ اس زمانے میں دونوں ایک دوسرے کے بغیر فلم میں کام کرنے کا تصور ہی نہیں کرتے تھے۔ یہ بھی ہوا کوئی فلم ساز یا ہدایت کار اداکار ننھے کے پاس گیا تو اس نے اس فلم ساز یا ہدایت کار سے کہا ”میرا معاوضہ اتنا ہوگا اور علی اعجاز کا اتنا ہوگا“ .... اسی طرح کوئی فلم ساز یا ہدایت کار علی اعجاز کے پاس جاتا، اور انہیں اپنی فلم میں کام کی پیشکش کرتا وہ اپنے معاوضے کے ساتھ ننھے کا معاوضہ بھی بتادیتے۔ مرحوم فلم ساز اور ہدایت کار اسلم ڈار اس حوالے سے بڑا دلچسپ واقعہ سناتے ہیں، ایک بار وہ اداکار علی اعجاز کے پاس گئے اور ان سے کہا ”میں ایک فلم بنانا چاہتا ہوں، میری خواہش ہے آپ اس میں کام کریں “۔ علی اعجاز بولے ” میں دس لاکھ معاوضہ لوں گا اور سات لاکھ ننھے کے ہوں گے“.... اس پر اسلم ڈار نے کہا ”اچھا تو پھر آپ رہنے دیں ہم اس فلم میں ننھے کو لے لیتے ہیں “۔....علی اعجاز نے مذاق میں بُرا سا منہ بنایا اور کہنے لگے ” ٹھیک ہے پھر ننھے کا معاوضہ اکیلے کام کرنے کی صورت میں بیس لاکھ ہوگا“۔ دونوں کی ”جوڑی“ بڑی کامیاب تھی، ننھے کی دنیا سے رخصتی کے بعد میں اس احساس میں مبتلا ہوگیا تھا ”منا“ یعنی علی اعجاز بھی اب شاید زیادہ عرصہ جی نہ سکیں گے۔ زندہ رہنا اور ہوتا ہے جینا اور ہوتا ہے۔ ننھے کے بعد علی اعجاز زندہ رہے مگر جی نہ سکے۔ اس کی موت پر وہ بہت نڈھال دکھائی دے رہے تھے، اس کے جنازے پر مرحوم دلدار بھٹی نے ان کے کاندھے پر ہاتھ رکھا تو دلدار کے دونوں ہاتھ پکڑ کر وہ بولے ”یار میرا کاندھا تو نکل گیا ہے تم نے کس پر ہاتھ رکھا ہوا ہے ؟“ ۔ان کا اشارہ ننھے کی طرف تھا۔ .... کل جب ان کے انتقال کی مجھے خبر ملی ان کے ساتھ گزرے ہوئے چند لمحات رہ رہ کر مجھے یاد آنے لگے۔ ایک زمانے میں ان کا ڈرامہ ”خواجہ اینڈ سن“ بڑا مشہور ہوا، یہ عطاءالحق قاسمی نے لکھا تھا، میں ان دنوں حبیب اللہ روڈ پر رہتا تھا، لاہور کا ٹی وی سینٹر اس علاقے کے بہت قریب تھا، کئی بارایسے ہوا علی اعجاز ڈرامے کی ریہرسل کے بعد میرے گھر تشریف لے آتے۔ سبز کشمیری چائے اور باقر خانی انہیں بڑی پسند تھی، آنے سے پہلے ان کی کال آتی ”کاکا میری چاءتیار رکھ میں آریا واں “.... ایک بار یوں ہوا میں نے باقر خانیوں کے بغیر چائے ان کے آگے رکھ دی تو چائے کا ایک گھونٹ پینے کے بعد بولے ”بھئی خالی چاءداوی اپنا ای سواد اے“ ....میں ان کی بات سمجھ گیا، میں نے ایک قہقہہ لگایا اور عرض کیا ”باقر خانیاں اج ای ختم ہوئیاں نے “ ....کہنے لگے ”اچھا چلو میں کل فیر آجاں گا“ ....کل جب میں نے ٹی وی پر ان کے انتقال کی خبر سنی میں اتفاق سے اس وقت باقر خانی کے ساتھ سبز چائے پی رہا تھا، میں نے پاس بیٹھے اپنے بیٹے کو ان کے بارے میں بتایا، ان کے جنازے کے وقت کا ابھی اعلان نہیں ہواتھا، میں نے ان کی فلم ”سوہراتے جوائی“ لگالی۔ اپنے زمانے میں اس فلم نے کامیابی کے جھنڈے گاڑدیئے تھے۔ اس فلم کی ہیروئن ممتاز اللہ جانے کہاں گم ہیں؟ ہمارے ماضی کی کئی اداکارائیں، اپنے زمانے میں جن کا طوطی بولتا تھا اب پتہ نہیں کہاں ہیں، کس حال میں ہیں، زندہ بھی ہیں یا نہیں؟۔ایک اداکارہ صاعقہ ہوا کرتی تھیں، اللہ جانے وہ کہاں ہیں ؟۔ آسیہ اور عالیہ کے بارے میں بھی کچھ معلوم نہیں۔ اداکارہ نیلی ہمارے دلدار بھٹی مرحوم کو بڑی پسند تھی۔ اس نے جیب میں اس کی تصویر رکھی ہوئی تھی۔ ایک بار وہ سویا ہوا تھا۔ اس کی بیگم ہماری عقیدہ بھابی کو پیسوں کی ضرورت پڑی۔ انہوں نے دیوار پر لٹکی اس کی پتلون کی جیب میں رکھا پرس کھولا تو اس سے نیلی کی تصویر برآمد ہوگئی۔ انہیں بڑا غصہ آیا۔ ان سے برداشت نہ ہوا

، انہوں نے دلدار کے جاگنے کا انتظار بھی نہ کیا۔ اس کے منہ پر پڑا لحاف زور سے کھینچا اور اس سے پوچھا ”یہ آپ کے پرس میں تصویر کس کی ہے ؟۔ پہلے تو وہ گھبرا سا گیا۔ پھر بولا ” اوہ بیگم صاحب جی وہ میری ایک سٹوڈنٹ ہے۔ یہ تصویر اس نے مجھے کالج کارڈ بنوانے کے لیے دی تھی “ ....عقیدہ بھابی مزید غصے میں آگئیں اور بولیں ”جھوٹ بولتے ہو، یہ تو نیلی ہے “ ،....دلدار بولا ” اچھا فیر پئی پئی نیلی ہوگئی ہونی ایں “ ....کیسے کیسے زبردست لوگ تھے، جو، اب ہم میں نہیں رہے۔ اور ہم بھی اب وہ نہیں رہے کہ ایسے لوگوں کو یاد کرکے، ان کی باتیں کرکے جی خوش کرلیں، طمع ، ہوس ، حرص اور ناشکری کے ایسے منہ زور گھوڑے پر ہم سوار ہیں مسکرانا، قہقہے لگانا، خوش ہونا بالکل ہی بھول چکے ہیں ....معین اختر، ننھا، دلدار پرویز بھٹی ایسے لوگ جب تک زندہ تھے ہمارے من کا دروازہ آکر کھٹکھٹاتے رہتے تھے، ہمیں یاد دلاتے رہتے تھے زندگی میں ہنسنا مسکرانا بھی ضروری ہوتا ہے، اب زندگی میں اہمیت کی حامل صرف ”دولت“ ہے۔ جبکہ اصلی دولت یہ ہے انسان دوسروں کو خوش رکھے اور اس کے نتیجے میں خود بھی رہے۔ اس حوالے سے ہم کتنے”غریب“ ہوچکے ہیں؟ ہمیں اس کا اندازہ ہی نہیں، ....مرحوم علی اعجاز کے ساتھ میری آخری ملاقات چند ماہ قبل غزالی ایجوکیشن ٹرسٹ کے زیراہتمام معذور بچوں کے اعزاز میں سجائی جانے والی ایک تقریب میں ہوئی تھی، وہ میز پر میرے بالکل ساتھ بیٹھے تھے ۔ انہوں نے کیپ پہن رکھی تھی، میں نے انہیں نہیں پہچانا ، انہوں نے مجھے پہچان لیا، اپنا منہ میرے کندھے کے ذرا قریب کرکے انہوں نے ”کھنگورا“ مارا میں چونک گیا، مجھے یاد آیا یہ تو وہ ”کھنگورا“ ہے جو اپنے زمانے کی مقبول ترین ڈرامہ سیریل خواجہ اینڈ سن میں علی اعجاز مارتے تھے۔ یہ ”کھنگورا“ پورے ڈرامے کی جان ہوا کرتا تھا ۔اس کھنگورے کے ساتھ ایک چھوٹا سا ”ہائے“ بھی ان کے منہ سے نکلتا لوگ اس سین کو اتنا انجوائے کرتے ہنس ہنس کر بُرا حال ہوجاتا۔....میں نے مڑ کر دیکھاوہ علی اعجاز تھے۔ میں نے فوراً ان کے پاﺅں چھوئے، کہنے لگے ”اوہ بٹ جی کتھے غائب ہوگئے او؟“....میں نے کہا ”سر بس پاوے شاوے کھان وچ ذرامصروف سی “ .... ایک زبردست قہقہہ انہوں نے لگایا اور سامنے بیٹھے جماعت اسلامی کے رہنما لیاقت بلوچ سے کہنے لگے ” ایک بٹ صاحب سے میں نے پوچھا پچھلے دنوں آپ کا دس لاکھ پرائز بانڈ نکلا تھا۔ آپ نے اس رقم کا کیا کیا ؟“....بٹ صاحب بولے ” پاوے شاوے کھالے سن“ .... (جاری ہے)


ای پیپر