گناہ........
20 دسمبر 2018 2018-12-20

مجھے اس بات کی سمجھ ابھی تک تو نہیں آئی کہ ہم لوگ جتنے مداح مولانا طارق جمیل صاحب کے ہیں، نجانے خود ان کی اپنی جماعت والے کس وجہ سے ان کو وہ اہمیت نہیں دیتے، جتنی ان کی قدر وسیم بادامی، اے، آر ، وائی کے، نصراللہ ملک ،نیونیوز کے، اور پاکستان ٹیلویژن اور کچھ دیگر چینلز والوں کے دل میں ہے۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ جہاں تبلیغ کی ضرورت صرف مسلمانوں کو ہی نہیں دنیا کے تمام انسانوں کے لیے ضروری ہے، وہاں وہ وینا ملک، اداکارہ نور بھارتی اداکار عامر خان، پاکستانی اداکارنعیم بٹ، فیروز، دانش تیمور، اسی طرح سیاستدانوں بلکہ حکمرانوں میں میاں محمد نواز شریف، شہباز شریف، چودھری شجاعت حسین ، چودھری پرویز الٰہی، جن کے ایک بیٹے بھی باقاعدہ تبلیغی جماعت کے رکن ہیں اور اب انہوں نے ملک کے وزیراعظم عمران خان سے ملاقات کی ہے ، اس میں کوئی شک نہیں کہ ان کی ملاقات ہمیشہ مثبت نقطہ نظر سے عوام دیکھتے ہیں، اس کا بہترین حوالہ، ان کا ڈاکٹر طاہر القادری سے جاکر ملنا ، اور انہیں ”انسائیکلوپیڈیا قرآن“ جیسی تقریباً چالیس سالہ محنت شاقہ کے بعد کتاب کی ترتیب، تالیف اور تدوین کا بے مثال کارنامہ سرانجام دینے پر مبارک باد دینا ہے، وہ ہمیشہ اپنی وعظ ونصیحت میں، مسلکی ، گروہی، لسانی تعصبات کے خلاف عوام سے دردمندانہ اپیل کرتے ہیں، اور یہی اپیل وہ علمائ، اور خطباءسے بھی کرتے ہیں کہ خدارا آپ منبر رسول پہ بیٹھے ہوتے ہیں، اپنے اس منصب کی قدرکریں، اور مسالک کی بنیاد پہ ایک دوسرے کو دست وگریبان ہونے سے بچائیں، اور ان کے خطاب کا حاصل یہ ہوتا ہے کہ وہ توبہ کی اہمیت ضرور بیان فرماتے ہیں، ان کی آنکھوں سے ٹپکتے آنسو، ہونٹوں سے بے تحاشہ نکلتی آہوں ، کانپتے بدن اور دعاﺅں کے ساتھ لوگوں کو ریاکاری، حرص وخودغرضی خوشامد وچاپلوسی کی صورت میں دنیا داری کو بالکل جلا کر خاکسترکرکے تن، دھن من سے روحانی دنیا کو حاصل کرنے اور قرب الٰہی کو پالینے کی تمنا لے کر میدان عمل میں آنے کی دعوت دیتے ہیں، پھر یہی وجہ ہے کہ ان کی زبان میں ایسا اثر ہے کہ ہزاروں کی تعداد میں لوگ آکر اور زاروقطار رورو کر اپنے گناہوں کی معافی مانگتے، اور اپنی سابقہ روش کوچھوڑنے پر بھی آمادہ ہوجاتے ہیں، تاریخ بتاتی ہے دنیا میں ہمیشہ ایسی شخصیت موجود ہوتی ہیں کہ جن کی دعائیں اللہ رد نہیں کرتا ،کہا جاتا ہے ، کہ حضرت شیخ عبدالقادر جیلانیؒ، جن کا پچھلے دنوں عرس بھی تھا، ان کی تقریر کے دوران اکثر لوگوں کے جنازے نکلا کرتے تھے، حضرت معین الدین چشتیؒ کی تبلیغ کی وجہ سے اس وقت، جب انسانوں کی اتنی تعداد موجود نہیں تھی، اسی لاکھ کافر مسلمان ہوئے تھے۔

اب اخبارات میں ایک خبر چھپی ہے کہ مولانا طارق جمیل صاحب نے عوام کے نام ایک پیغام میں کہا ہے، کہ سوفی صد یقین ہے، کہ عمران خان، دیانت دار اور مخلص شخص ہےں، کیونکہ عمران خان واحد حکمران ہیں جس نے ریاست مدینہ کی بات کی ہے، اور انہوں نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ عمران خان سے تعاون کریں۔ بس جب مولانا طارق جمیل صاحب نے عوام سے عمران خان سے تعاون کی بات کی، تو مجھے فوراً تحریک تحریر شروع ہوگئی، جو آخر کار تحریک انصاف تک مولانا صاحب کے کہنے پر شاید جا پہنچے ، میں فقط مولانا طارق جمیل صاحب سے پوچھنا، اور دست بستہ سوال کرنا چاہتا ہوں کہ ان کو تو عمران خان سے پوچھنا، اور انہیں سمجھانا چاہیے تھا کہ وہ عوام سے تعاون کریں، ریاست مدینہ کی بات کرنے سے تو صرف وہ خوش نہیں ہوئے، مدینہ شریف کا تو نام آتے ہی ، ہرمسلمان خوش ہو جاتا ہے، اور اللہ اور اس کے حبیب کے نام میں باقی شہروں کا تونہیں پتہ، مگر کراچی والوں نے یقیناً اور خصوصاً ایم کیوایم کی تاوان زدہ حکومت سے تنگ آکر تحریک انصاف کو ووٹ دیا تھا، عمران خان نے تو ہمیشہ نئے پاکستان کی بات کی تھی، مگر اب وہ کراچی والوں کو پرانا پاکستان واپس کررہے ہیں، اور بغیر متبادل جگہ کی فراہمی کے ، لوگوں کو گھروں سے بے گھر، اور دکانیں مسمار کرکے بے روزگار کیا جارہا ہے۔

قارئین اب بات کرلیتے ہیں، گناہ کے موضوع پر ۔ گناہ کہتے ہیں، احکام الٰہی کے خلاف کسی عمل کو جرم، خطا، قصور اور پاپ کو، اب ذراسوچیے کہ گناہ کس کس کو کہتے ہیں ، کیا بدزبانی، بکواس، مارپیٹ، گالی گلوچ، ڈاکہ زنی، چوری، قتل، ذخیرہ اندوزی ، ملاوٹ، تاوان، دھوکہ دہی، اغوا، زنا، بلیک میلنگ، وغیرہ بے شمار اور ان گنت گناہ جس کی فہرست ہی اتنی طویل ہے، کہ کالم ختم ہوجائے گا ، آج صرف سگریٹ جیسے گناہ عظیم پہ بات کرلیتے ہیں۔

قارئین محترم میں اکثر اپنی تحریروں میں مرشد اقبال کے اشعار لکھتا رہتا ہوں، مگر آج تحریک انصاف کے قانون کے مطابق انہیں تحریک نے گناہ گار قرار دے دیا ہے کیونکہ مفکر ملت صرف سگریٹ ہی نہیں، حقہ بھی پیتے تھے، اور اب بھی پاکستان میں نیک پاک اور نمازی، پرہیز گار لوگ بھی سگریٹ پیتے ہیں، اسلام اس کے بارے میں کیا کہتا ہے ڈاکٹر طاہرالقادری یا مولانا سے پوچھیں ؟ پاکستان میں سگریٹ پینے والے گناہ گاروں کی تعداد تقریباً دو کروڑ ہے، لیکن سوچنے کی بات ہے کہ اگر سگریٹ نوش سگریٹ کی ڈبیا پہ دس روپے، اور گرمیوں میں شربت کی بوتل پہ بھی ٹیکس ادا کردیں گے، تو کیا ان کا گناہ ثواب میں بدل جائے گا؟ اس طرح سے اگر شراب نوشی پہ جو ٹیکس لگتا ہے، وہ بھی ادا کردیا جائے تو وہ شرابی بھی پاک باز شخص کہلایا جائے گا؟ دنیا میں شراب اور سگریٹ اربوں کی تعداد میں لوگ پیتے ہیں، حتیٰ کہ اسلامی ممالک اور ریاستوں میں بھی سگریٹ پی جاتی ہے، مگر وہاں تو یہ الفاظ استعمال نہیں کیے جاتے، الفاظ کا چناﺅ، اگر دل کا گھاﺅ بن جائے ،تو وہ کسی کو بھی اچھا نہیں لگتا، اب یہ لفظ کس کے ذہن کی اختراع ہے، اللہ جانے اس حوالے سے میں، اکثر کہا کرتا ہوں، کہ وزیراعظم کو اپنے مخالفین کو کبھی بھی کمزورنہیں سمجھنا چاہیے، کیونکہ ان کے اردگرد جتنے وزراءہیں، وہ زیادہ تر دوسری جماعتوں کے ہیں، اللہ تعالیٰ نے سورة القلم میں قلم جیسی مقدس چیز کی قسم کھائی ہے، لہٰذا ہم لکھنے والوں پر اس قسم کا جو اطلاق ہوتا ہے، ہمیں اس کی حرمت کا خیال رکھنا چاہیے، کسی بھی سیاسی پارٹی، کسی بھی حکومت، کسی بھی حکمران اور کسی بھی انسان کی اچھائی کو مسخ کرنے کی کوشش نہیں کرنی چاہیے۔

تحریک انصاف نے پنجاب میں ”شیلٹرہوم“ بنانے کی جوابتداءکی ہے اور خیبرپختونخوا میں جس طریقے سے تعمیر کیا ہے، یہ رسول پاک ﷺ کی ریاست مدینہ کا وہ تصور ہے جسے حضرت عمرؓ بن خطاب نے ناداروں اور مسافروں کے لیے نافذ کیا اور جسے مسلمان بادشاہوں اور مغل شہنشاہوں خصوصاً شیرشاہ سوری نے پوری آب وتاب کے ساتھ اپنی قلمر واور ملک میں ہر چالیس میل کے بعد سرائے خانے کی صورت میں تعمیر کرایا، ان کی اس اچھائی اور رعایاکی بھلائی کے اس کام کو صدیاں بیت جانے کے بعد اب وزیراعظم عمران خان نے دوبارہ عملی جامہ پہنایا ہے کہ کئی مسجدیں بنوانے سے بہتر ہے کہ کسی بھوکے کو پیٹ بھر کے کھانا کھلایا جائے، لہٰذا کسی بھی حکمران کو اس چیز کا بھی خیال رکھنا چاہیے کہ اس کے زیرنگرانی ملک میں کوئی بھوکا نہ سوئے۔ اور جہاں بائیس کروڑ عوام کی اکثریت اس رزق سے محروم ہو، تو پھر اس بات میں کوئی شک نہیں رہ جاتا، کہ:

جس دور میں لٹ جائے غریبوں کی کمائی

اس دور کے سلطان سے کوئی بھول ہوئی


ای پیپر