دُرگت خارجہ پالیسی کی
20 اگست 2020 (16:14) 2020-08-20

خدا شاہد ہے مجھے اپنے ملک کے سپہ سالار اور وطن عزیز کی سرحدوں کے محافظ جنرل قمر جاوید باجوہ کی بطور کمانڈر انچیف عسکری صلاحیتوں اور دفاعی سٹرٹیجی کے اعلیٰ دماغ کی حیثیت سے بہترین پیشہ وارانہ کارکردگی پر مکمل اعتماد ہے… وہ افواج پاکستان کے کمانڈر کے طور پر جو خدمات سرانجام دے رہے ہیں ان کے بارے میں ہرگز دورائے نہیں پائی جاتیں… انہوں نے بلاشبہ بھارت کے جارحانہ عزائم کا بار بار منہ توڑ کر اپنی اور ہماری انتہادرجے کی محب وطن فوج کے جذبہ ایثار و قربانی کا ثبوت دیا ہے… قوم بھی انہیں خراج تحسین پیش کرتی ہے… لیکن اس کے ساتھ اس حقیقت کو تسلیم کر لینا چاہئے کہ خارجہ پالیسی ان کا میدان اور شعبہ نہیں… ان کی تربیت اس سے لگا نہیں کھاتی… ہر ملک کا وزیر خارجہ اور اگر یہ محکمہ وزیراعظم نے اپنے پاس رکھا ہو قوم کا منتخب نمائندہ ہوتا ہے… وہ اپنی ہر ہر پالیسی اور اقدام کے لئے عوام کی منتخب کردہ پارلیمنٹ کے سامنے جوابدہ ہوتا ہے… اس کی بازپرس کی جا سکتی ہے… پریس میں اس کے اقدامات کا کھل کر اور بلاخوف و خطر جائزہ لیا جاتا ہے… قدم قدم پر کامیابیوں اور ناکامیوں یا لغزشوں کو علیحدہ علیحدہ کر کے اس کے سامنے رکھا جاتا ہے… جواب میں وہ بھی پارلیمنٹ میں کھڑا ہو کر اپنی پالیسیوں کی وضاحت پیش کرتا ہے… اعتراضات کا جواب دیتا ہے… اپوزیشن کے نقطہ نظر میں اگر کوئی جان ہو تو اسے سمونے کی کوشش کرتا ہے… یوں خارجہ پالیسی مسلسل تطہیر کے عمل سے گزرتی رہتی ہے… اسے شفاف اور قومی تقاضوں کے عین مطابق رکھنے میں مدد ملتی ہے… اس کے باوجود خامیاں رہ جاتی ہیں تو انہیں دور کرنے کی ہمہ وقت کوشش جاری رہتی ہے کیونکہ خارجہ پالیسی اور اس کا اتار چڑھائو قومی مباحثے کا حصہ ہوتا ہے… انتخابات کا موقع آئے تو وزیراعظم اور اس کے وزیر خارجہ کو عوام کے سامنے پیش ہو کر جلسہ ہائے عام کے دوران اور دوسرے مباحثوں میں اپنی کارکردگی کا حساب دینا پڑتا ہے… یہ دنیا بھر کی مہذب، جمہوری اور ترقی یافتہ قوموں کا شعار ہے… اس کے برعکس آرمی چیف کی شخصیت اور اس کا منصب غیرمتنازع ہوتا ہے… وہ اپنی پیشہ وارانہ کارکردگی کی ادائیگی کے دوران پارلیمنٹ یا عوام کے سامنے جوابدہ نہیں ہوتا… اس سے سرعام سوال نہیں کیا جاتا نہ کسی قسم کی بازپرس ہوتی ہے… یہ سارا وزیر دفاع کا کام ہوتا ہے… آرمی چیف ایک فوجی افسر کی حیثیت سے ترقی کی منازل طے کرتا ہوا اس منصب پر پہنچتا ہے… اس دوران اس کی پیشہ وارانہ تعلیم اور تربیت کا تعلق خالصتاً دفاعی امور سے ہوتا ہے… WAR  STRATEGY اس کا موضوع ہوتا ہے… اور دفاع مملکت کے تقاضوں کو سمجھنا اس کا پیشہ ہے… خارجہ پالیسی اس کے لئے ضمنی موضوع ہوتا ہے… آرمی چیف یا کسی فوجی افسر کو اس میں تخصص حاصل نہیں ہوتا… حکومت اور وزیراعظم خارجہ امور کی دفاع وطن کے تقاضوں سے مطابقت رکھنے کی خاطر اس سے مشاورت ضرور کرتے ہیں اس کے پیشہ وارانہ تجربے اور بصیرت سے فائدہ یقینا اٹھاتے ہیں… لیکن یہ سب کچھ پس پردہ اعلیٰ ریاستی مذاکرات میں ہوتا ہے… پالیسی کو آخری شکل ہر صورت منتخب حکومت دیتی ہے اور اس کا فیصلہ حتمی ہوتا ہے… یہ دنیا بھر کے جمہوری ملکوں اور ان کی آئینی حکومتوں کے طے شدہ اصول ہیں… ان سے عموماً انحراف نہیں کیا جاتا…

انحراف کی صورت میں وہ تضاد پیدا ہوتا ہے اور بالآخر ایسا خلفشار جنم لیتا ہے جس سے نہ صرف خارجہ پالیسی متاثر ہوتی ہے… اس کی منزل متعین نہیں ہو پاتی… حکومتی اور ریاستی سطح پر کئی سوچیں جنم لیتی ہیں… کیونکہ یہ پورے کا پورا عمل گھوڑے کے آگے گاڑی باندھنے کے مترادف ہوتا ہے جو اپنی جگہ کئی مسائل کو جنم دیتا ہے… پاکستان کی خارجہ پالیسی ہمیشہ اصولوں پر مبنی رہی ہے… لیکن جب جب اس کی باگیں غیرآئینی قوتوں اور غیرمنتخب عناصر نے اپنے ہاتھوں میں لی ہیں خواہ وہ کتنے طاقتور ہوں اور ان کی 

حب الوطنی ہر قسم کے شک و شبہ سے بالا کیوں نہ ہو قوم کو ایسی رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑا ہے کہ منزل نزدیک نظر آنے کے باوجود دور رہتی ہے… قوم اور حکومت دونوں خلفشار کا شکار رہتی ہیں… موجودہ حکومت برسراقتدار آئی تو اس کے وزیراعظم کا خارجہ پالیسی کے میدان میں کوئی تجربہ نہ تھا… شاہ محمود قریشی وزیر خارجہ مقرر ہوئے تو توقع تھی وہ اپنے سابقہ تجربے کے پیش نظر اس خلاء کو پورا کریں گے… لیکن وزیراعظم کی مانند وہ بھی مقتدر قوتوں کے سامنے پسپائی اختیار کرتے چلے گئے… چین قدرے ناراض تھا… اسے منانے کے لئے آرمی چیف وزیراعظم کے ہمراہ بیجنگ پہنچے… امداد کی باقاعدہ اور سرعام بھیک مانگی گئی… سی پیک پر اس عظیم ہمسایہ دوست ملک کے تحفظات دور کرنے کی کوشش کی گئی… سی پیک ہماری طرح چین کی بھی بہت بڑی سٹرٹیجک ضرورت ہے… اس نے قدرے تعاون کا یقین دلایا… اربوں ڈالر بھی عنائت فرمائے… یہی طرز عمل ہم نے سعودی عرب کے ساتھ اختیار کیا اور ڈالروں کی امداد حاصل کرنے کے لئے ترلے منتوں کی انتہا کر دی… سعودی ولی عہد پاکستان تشریف لائے، ہوائی جہاز کی سیڑھیاں چڑھ کر استقبال کرنے والوں میں عمران خان یعنی وزیراعظم پاکستان خود گاڑی چلا کر مہمان معظم کو ان کی قیام گاہ پر لے گئے… اس دوران خوب واویلا مچایا گیا لٹ گئے مارے گئے… خزانہ خالی پڑا… راہ خدا چند ارب ڈالر عنائت فرما دو… امریکہ جانا ہوا تو وزیراعظم کے ساتھ آرمی چیف بھی تھے… عمران خان وہائٹ ہائوس چلے گئے… جہاں انہیں کشمیر پالیسی پر ثالثی کا جھانسہ دیا گیا… لیکن اصل معاملات پینٹاگون یعنی امریکی وزارت دفاع کے ہیڈکوارٹر میں طے کئے گئے جہاں جنرل صاحب کے استقبال کے لئے سرخ قالین بچھائے گئے…

اس سے دو تاثر قائم ہوئے… ایک نام نہاد جمہوری حکومت کے باوجود اصل معاملات کی طنابیں پاکستان کے آرمی چیف کے ہاتھوں میں ہیں… دوسرا ماضی کے تمام حکمرانوں کے برعکس عمران خان کھلے عام بھیک منگوں کی طرح امداد مانگ رہے ہیں… ملک و قوم کی بدنامی کا باعث بنے ہوئے ہیں… ایسے میں منتخب حکومت کا وقار کیا باقی رہا… اس پر مستزاد وزیراعظم خان بہادر نے ترکی اور ملائشیا کی بلائی سربراہی کانفرنس کے بارے میں ایسا تاثر قائم کیا کہ ’او آئی سی‘ کے متوازی تنظیم قائم کی جا رہی ہے… سعودی عرب نے فطری طور پر بھڑکنا تھا کہ ہماری بلی اور ہمیں میائوں… پہلے دھمکی دی اگر ملائشیا گئے تو تمام مراعات واپس لے لی جائیں گی… خان بہادر اپنا سا منہ لے کر بیٹھ گئے… کشمیر پر تاریخ میں پہلی مرتبہ سعودی عرب نے سردمہری کا رویہ دکھایا توہین کی نوعیت اس حد کو چھو گئی کہ امریکہ جانے کے لئے وزیراعظم کو سعودی شاہی طیارہ دیا گیا… لیکن واپسی پر صاف انکار ہوا… یکے بعد دیگرے ان واقعات سے ملک بھر میں اضطراب کی لہر پھیل گئی… حکومت اور اپوزیشن دونوں کے سیاستدان حیران تھے سعودی عرب جیسا قابل اعتماد دوست کشمیر جیسے مسئلے پر بھارت کو خوش کرنے پر چل نکلا ہے… دانشور اور میڈیا کے لوگ نت نئے سوال اٹھا رہے تھے… ایسے موقع پر لازم تھا وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی وزیراعظم اور لیڈر آف دی اپوزیشن کے ساتھ مشاورت کے بعد اعلیٰ سعودی حکام کے ساتھ پس پردہ مذاکرات کر کے اپنے دیرینہ دوستوں کو اعتماد میں لینے کی کوشش کرتے ان کے گلے شکوے دور کرنے کی ہرممکن سعی کرتے الٹا ایک بیان داغ ڈالا جس میں کھل کر اور قدرے غصے کے عالم میں اپنے تحفظات کا اظہار کر دیا… کیا ڈپلومیسی اسی کا نام ہے اور دیرینہ اور انتہائی قابل اعتماد بلکہ ہرہر برے وقت میں کام آنے والے دوستوں کے ساتھ یہی طرز عمل اختیار کیا جاتا ہے… ہمارے محترم سعودی دوستوں نے بھی اس دوران میں آئو دیکھا نہ تائو… ایک ارب ڈالر واپس منگوا لئے… ادھار پر تیل فراہم کرنے کی یقین دہانی بھی واپس لے لی… گزشتہ ستر سال کے پاک سعودی تعلقات ایسے صدمے سے کبھی دوچار نہ ہوئے تھے… اسی اثناء میں خبر ملی جناب آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ پہلے سے طے شدہ پروگرام پر مملکت سعودیہ جا رہے ہیں… لیکن ان کے دورے کی خبر سے یہ تاثر پختہ ہو گیا کہ جنرل موصوف پاکستان سعودی تعلقات میں پیدا ہونے والے بگاڑ کو دور کرنے کے مشن پر عازم ریاض ہوئے ہیں… ہر ایک کی زبان پر یہ بات تھی کہ خارجہ پالیسی کی باگیں پوری طرح آرمی چیف کی گرفت میں آ گئی ہیں… نوبت با ایں جا رسید کہ عمران حکومت کی عسکری دماغ اور وفاقی وزیر محترمہ شیریں مزاری نے بیان دے ڈالا کہ وزیراعظم نے تو کشمیر کے بارے میں بہت مؤثر بیانیہ وضع کیا تھا… لیکن وزیر خارجہ اور اداروں نے اسے کچھ کا کچھ بنا دیا ہے… جس کے نتیجے میں تنازع کشمیر پر پاکستان کے اصولی مؤقف کو دھچکا پہنچا ہے اور ہمیں مشکلات کا سامنا ہے… گویا انہوں نے اپنی حکومت کی تمام تر ناکامی کا ملبہ وزیر خارجہ اور اداروں پر ڈال دیا ہے… بھئی آپ نے تو روزاوّل سے آرمی چیف کی چھڑی پکڑکر خارجہ پالیسی کا راستہ اپنایا تھا… یہ امر آپ کی نااہلی اور مقابلے میں کمزور ریاستی طاقت ہونے کا غماز تھا… خارجہ پالیسی کسی اور کا نہیں خالصتاً منتخب حکومت کا (اگر آپ واقعی منتخب اور عوام کی نمائندہ حکومت ہیں) کام ہے… اس کی کسی اور کو ذمہ داری نہیں دی جا سکتی… ایسا کریں گے تو آپ اور قوم دونوں کو سخت سبکی کا سامنا کرنا پڑے گا… جیسا کہ ان دنوں ہماری حالت ہے… سعودی عرب کے دورے پر گئے ہوئے جنرل قمر جاوید باجوہ کی تاحال وہاں کے اعلیٰ فوجی حکام اور نائب وزیر دفاع سے یقینا ملاقاتیں ہوئی ہیں… دوسرے امور بھی لامحالہ زیربحث آئے ہوں گے… لیکن خارجہ پالیسی کی ہمارے یہاںکی دہری حکمرانی کی وجہ سے جو دُرگت بنائی جا رہی ہے اس پر کشمیر کے غاصب بھارت کی خندہ پیشانی دیکھی نہیں جاتی…


ای پیپر