پاک سعودیہ تعلقات:ایک اور دریا کا سامنا
20 اگست 2020 (16:14) 2020-08-20

گزشتہ ایک دہا ئی سے پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات میں نشیب وفراز ایک معمول سا بن چکا ہے۔ پیپلز پارٹی کے دور میں آصف زرداری امریکہ کا سرکاری دورہ کرنے کے خواشمند تھے مگر امریکی بے اعتنائی کے باعث ایسا نہ کر سکے تو انہوں نے امریکہ کو پیغام دینے کیلئے ایک تو پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبے کا اعلا ن کردیا دوسرا چائنا کے دورے شروع کر دئیے۔ اس اقدام سے امریکہ سے قطع نظر پاکستان کے دیرنہ دوست سعودی عرب جو ایران کو اپنا ہم پلہ مخالف سمجھتا ہے، اس بات کا برا منایا یہی وجہ تھی کہ جیسے ہی زرداری حکومت ختم ہوئی نواز شریف کے برسر اقتدار آتے ہی سعودی عرب نے اس کا خیر مقدم کیا اور ڈیڑھ ارب ڈالر پاکستان کو دیئے، اسحاق ڈار وزیر خزانہ تھے لیکن سعودی عرب کو دوسرا جھٹکا ن لیگ کے دور میں ملا جب 2015ء میں میاں نواز شریف نے بطور وزیراعظم یمن سعودی محاذ آرائی میں سعودیہ کی حمایت سے معذرت کرلی ۔سعودی عرب کو افسوس اس بات پرتھا کہ فوجی امداد نہیں دینی تھی تو نہ دیتے مگر میاں نواز شریف نے پاکستانی پارلیمنٹ سے قرار دار منظور کروا کر سعودیہ کو رسواکیا یہی وجہ تھی کہ پانامہ کیس میں سعودیہ اور امارات نے میاں صاحب کی حمایت میں خاموش سفارتکاری سے احتراز کیا۔

2018ء میں پی ٹی آئی کے برسر اقتدار آنے کی بعد پاک سعودی تعلقات میں ایک دفعہ پھر بہت زیادہ اضافہ ہوا جب ولی عہد محمد بن سلمان نے عمران خان کی حکومت کو تین ارب ڈالر کی امداد اور اتنی ہی مالیت کا ادھار تیل دینے کا اعلان کیایہ 6ارب کا پیکیج تھا۔محمد بن سلمان پاکستان آئے تو انہوں نے سعودی عرب میں کام کرنے والے پاکستان مزدوروں کے بارے میں کہا کہ آپ مجھے سعودیہ میں پاکستان کا سفیر سمجھیں یہ وہی دورہ تھا جس میں وزیراعظم عمران خان ایئرپورٹ سے وزیراعظم ہائوس تک خود معزز مہمان کی گاڑی چلارہے تھے۔ اسی سال اقوام متحدہ میں اجلاس میں شرکت کیلئے محمد بن سلمان نے اپنا شاہی طیارہ عمران خان کو بھیجا۔ تعلقات کی یہ اعلیٰ ترین سطح تھی۔

اس کے بعد دو واقعات ایسے ہوئے جس کی وجہ سے سعودی عرب پاکستان کے بارے میں خاصا دلبرداشتہ ہے۔یہ ایک دلچسپ بات ہے کہ عمران خان شاہی طیارے میں بیٹھ کر اقوام متحدہ تشریف لے گئے وہاں اجلاس کی سائیڈلائن پر ترک صدر طیب اردوان سے ملاقات میں مسلمان ممالک کی نئی OICبنانے کی تجویز سامنے آئی جس پر عمران خان نے ترکی اور ملائیشیاکو سپورٹ کرنے کا وعدہ کیا یہ سن کر محمد بن سلمان نے غصے میں اپنا شاہی طیارہ واپس لے لیا اور عمران خان کو امریکہ سے کمرشل فلائٹ پر واپس آنا پڑا۔پھر محمد بن سلمان نے کوالالمپور میں ہونے والے مسلم ممالک کے اجلاس میں عمران کی شر کت کو روکنے میں کامیابی حاصل کرلی۔ طیب اردوان پہلا شحض تھا جس نے انکشاف کیا کہ محمد بن سلمان نے فون پر عمران خان کو دھمکی دی تھی کہ اگر وہ شرکت کریں گے تو سعودیہ تمام پاکستانی محنت کشوں کو ملک سے نکال دے گا اور ان کی جگہ انڈین اور بنگلہ دیشی مین پاور بھرتی کی جائے گی۔یہ وقت بھی گزر گیا۔

سعودی عرب اور پاکستان میں جاری حالیہ چپقلش کا آغاز اس وقت ہوا جب گزشتہ سال 5اگست کو انڈیا نے تمام بین الاقوامی قراردادوں کو با لائے طاق رکھتے ہوئے جموں وکشمیر کو زبردستی انڈین علا قہ قرار دے کر اس کی متنازع حیثیت ختم کر کے اسے ہندوستان میں شامل کرنے اعلان کر دیا۔ پاکستان یہ سمجھتا ہے کہ OICنے اس موقع پر پاکستان کی مدد نہیں کی یہاں تک کے او آئی سی کے وزرائے خارجہ سطح تک کا اجلاس بلانے کا پاکستانی مطالبہ بھی پورا نہیں کیا۔ امارات اور سعودی عرب نے سفارتی چینل کے ذریعے پاکستان کو بتایا کہ کشمیر ہندو مسلم تنازعہ نہیں ہے بلکہ دو ممالک کے درمیان ایک سرحدی تنازعہ ہے جس میں اسلام کو شامل نہیں کرنا چاہیے۔ پاکستان کو اس مؤقف سے اتفاق نہیںہے جبکہ 5اگست کے واقعے کے بعد سعودی عرب، امارات اور بحرین نے وزیراعظم نریندر مودی کے سرکاری دورے کے موقع پر انہیں اعلیٰ ترین قومی اعزانات سے نوازا بلکہ امارات میں ایک عالیشان مندر کی تعمیر کا اعلان کیا گیا۔

پاکستان اور سعودی عرب میں جاری حالیہ اختلافات اس وقت شدت اختیار کر گئے جب وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے او آئی سی کے بارے میں سخت الفاظ استعمال کئے اور سعودی عرب کو دھمکی دی کہ اگر او آئی سی نے کشمیر پر وزرائے خارجہ اجلاس نہ بلایا تو وہ عمران خان کو کہیں گے کہ دوست اسلامی ممالک کا اجلاس بلایا جائے تا کہ کشمیر پر لائحہ عمل تیار کیا جاسکے۔ اس کا صاف مطلب ملائیشیا، ترکی اور ایران کی طرف اشارہ تھا۔ گویا قریشی صاحب نے سعودیہ کی دکھتی رگ پر ہاتھ رکھ دیا۔ جس پر محمد بن سلمان نے پاکستان کے ساتھ تعاون ختم کر دیا، اپنے پیسے واپس مانگے اور پاکستانی لیبر کو ملک بدر کرنے کی دھمکی بھی دے ڈالی ۔یہ بیان 6اگست کا ہے شروع میں تو ہم نے سمجھاکہ پاکستان شاید اپنا سفارتی راستہ بدلنے کا سوچ رہا ہے اور شاہ محمود سے یہ بیان منصوبہ بندی کے ذریعے دلوایا گیا ہے مگر صورت حال اس وقت تبدیل ہوتی دکھائی دی جب آرمی چیف اور ڈی جی آئی ایس آئی جیسے اعلیٰ ترین فوجی عہد یدار سعودی عرب کے دورے پر گئے اور کوشش کی جارہی ہے کہ بگڑتے ہوئے تعلقات کو رفو کیا جاسکے۔

اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ فوج اور وزارت خارجہ کے درمیان مطابقت نہیں ہے۔ آخر شاہ محمود کو یہ بیان دینے کی کیا ضرورت پیش آئی۔ اس میں وزیراعظم کا مؤقف ابھی تک واضح نہیں ہے۔ اگر تو شاہ محمود قریشی نے یہ بیان وزیراعظم سے مشورے کے بغیر دیا ہے تو پھر میرے خیال میں اب انہیں وزارت چھوڑنی پڑے گی۔ یہ بھی سنا جارہا ہے کہ ان کی جگہ محترمہ شیریں مزاری کو وزیر خارجہ بنایا جائے گا ۔شاہ محمود اس سے پہلے پیپلز پارٹی کے دور میں ریمنڈ ڈیوس کے معاملے پر حکومت سے الگ مؤقف اختیار کرنے پر وزارت خارجہ سے نکالے جاچکے ہیں۔ پاکستان میں سب سے زیادہ غیر ملکی زر مبادلہ سعودی عرب سے آتا ہے گزشتہ ایک سال میں سعودیہ میں مقیم پاکستانیوں نے 5بلین ڈالر پاکستان بھیجے جو ایک ریکارڈ ہے۔ 2018کے بعد سعودی عرب نے پاکستان میں 20بلین ڈالر کی سرمایہ کاری شروع کی ہے جس میں 10بلین تو گوادر آئل ریفائزی پر لگائے جا رہے ہیںجہاں سے چائناکو تیل مہیا کیاجائے گا۔ سعودی عرب سے قطع تعلقی پاکستان معاشی طور پر کبھی افورڈ نہیں کرسکتا۔ اگر فوج اور حکومت ایک پیج پر ہوتے تو پھر جنرل قمر جاوید باجوہ کو سعودی عرب کا دورہ نہ کرنا پڑتا۔شاہ محمود جو خود کو عمران خان کے بعد اگلا وزیراعظم سمجھتے ہیں اب ان کا مستقبل کیا ہے؟


ای پیپر