افغان عمل اورشرانگیزپروپیگنڈہ
20 اگست 2020 (16:13) 2020-08-20

طویل جنگ کے بعد افغانستان امن کی طر ف بڑھ رہاہے بین الافغان مذاکرات شروع ہونے جارہے ہیں افغان حکومت اور طالبان کے نمائندے مذاکرات کی میز پر قطر میں بیٹھ رہے ہیں،لویہ جرگہ نے اہم طالبان رہنمائوں کی رہائی کی منظوری دے دی ہے ،افغانستان کی طرف سے یہ خبریں نہایت حوصلہ افزاء ہیں مگرامن دشمنوں کویہ خبریں ہضم نہیں ہورہی ہیں اسی لیے افغان بارڈرسے ملحقہ پاکستان کے علاقوں میں بدامنی کوہوادی جارہی ہے ،پاک فوج پرحملوں کاسلسلہ تیزکیاجارہاہے ،ایک منصوبہ بندی سے افغان بارڈرسے ملحقہ علاقوں میں دہشت گردی کوپروان چڑھایاجارہاہے ۔

ایک مرتبہ پھرپی ٹی ایم سربراہ منظور پشتین کے پیٹ میں مروڑ اٹھا ہے ،شوال میں جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے پی ٹی ایم کارکنوں کو ہدایت کی ہے کہ کسی بھی چیک پوسٹ پر کسی پشتون کو تلاشی کے لئے روکا جائے تو کارکن وہاں دھرنا دیں اور پوسٹ کا گھیرائو کریں، منظور پشتین نے عیدسے قبل اعلان کیا تھا کہ بلوچ دہشت گردوں اور پشتونوں کا دشمن ایک ہے اور وہ اس کے خلاف عید کے بعد لائحہ عمل کا اعلان کرے گا ،چیک پوسٹوں پر دھرنا یا گھیرائو دراصل دہشت گردوں کوسہولت کاری فراہم کرنے کے مترادف ہے۔

 افغانستان جب امن کی طرف بڑھ رہاہے توایسے میں لامحالہ پاکستان میں بھی امن ہوگا افغانستان سے بھارتی اثرورسوخ ختم ہورہاہے راوراین ڈی ایس نے پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے جوٹریننگ کیمپ بنائے تھے وہ بھی انجام کوپہنچنے والے ہیں ایسے میں پی ٹی ایم کی طرف سے ضم شدہ قبائلی علاقوں میں افراتفری پھیلاناواضح کررہاہے کہ وہ کس ایجنڈے پرکام کررہے ہیں ،اسی کانتیجہ ہے کہ منظور کی اس نفرت اؒؒنگیز تقریر کے ٹھیک تیسرے روز لدھا میں سیکیورٹی فورسز پر ٹی ٹی پی کا خود کش حملہ ہوا جس میں بریگیڈئر اور ان کے ساتھی زخمی ہوگئے ہیں ،منظورپشتین کے حواری ضم شدہ قبائلی علاقوں کے بعد بلوچستان میں چمن بارڈرتک امن کوسبوتاژکرنے میں مصروف ہیںان ہی نفرت انگیزتقاریرکے نتیجے میں گزشتہ سال خڑقمرچیک پوسٹ کاواقعہ ہواتھا مگرحیرت انگیزطورپرخڑقمر پوسٹ پر حملہ آور ٹی ٹی پی کے لوگوں کو سزا دینے کے بجائے مقدمہ ختم کردیاگیا ؟

ڈی جی آئی ایس پی آرمیجرجنرل بابرافتخارنے بھی اسی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہاہے کہ افغانستان میںامن ہوگا توپاکستان میں بھی امن ہوگا انہوں نے کہاکہ بارڈ رمینیجمنٹ اور آپریشنز کے ذریعے قبائلی علاقوں میں امن قائم ہوا۔ انہوں نے بتایا پاک افغان سرحد پر اقدامات جاری ہیں۔ دو ہزار 611 کلومیٹر پر باڑ کا کام مکمل ہو چکا ہے جبکہ پاک ایران سرحد پر باڑ کا کام جاری ہے۔مگرلروبرکے حامیوں کویہ برداشت نہیں ہورہاافغانستان کی کٹھ پتلی حکومت نے اس پرچیخ وپکارشروع کردی ہے کہ افغان بارڈرپرباڑغیرقانونی ہے ، ترجمان دفترخارجہ نے بارڈرپر باڑ لگانے کے عمل کو غیرقانونی گرداننے کو مسترد کرتے ہوئے کہاہے کہ سیکیورٹی تحفظات دور کرنے کے لئے باڑلگائی جارہی ہے، باڑلگانے کا عمل عالمی قوانین کے عین مطابق ہے، باڑ لگانے کے عمل میں افغان سرزمین پر تجاوز نہیں کیا جارہا۔ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ افغان سائیڈ کو مشورہ ہے کہ بارڈر معاملات پر کوئی غلط فہمی دور کرنے کے لئے متعلقہ ادارہ جاتی میکینزم پر بات کرے، افغانستان کی طرف سے مشترکہ ٹوپوگرافک سروے کی پاکستانی تجویز کا مثبت جواب نہیںدیا گیا،۔

دوسری طرف نام نہادپشتون رہنمائوں نے پاک فوج اورپاکستان کے خلاف اپنی پروپیگنڈہ مہم تیزکردی ہے ،مقبوضہ کشمیرسے توجہ ہٹانے اورپاکستان کے بیانیے کوسبوتاژکرنے کے لیے بھارت اقوام متحدہ میں پی ٹی ایم رہنمائوں کواستعمال کررہاہے تاکہ اس عالمی فورم پرپاکستان کوکائونٹرکیاجاسکے ، نام نہادپشتون رہنماء ضم شدہ قبائلی علاقے میں دہشت گردی کے خلاف جنگ کے اقدامات کواقوام متحدہ میں چیلنج کررہے ہیں اورامریکہ میں مقیم فضل الرحمن آفریدی ودیگرنے اقوا م متحدہ کودرخواست دی ہے کہ پاک فوج نے 32ہزارپشتونوں کو ماورائے عدالت قتل کیاہے اس حوالے سے 18سوافرادکی لسٹ اقوا م متحدہ کوبھیجی گئی ہے ،ایک انٹرویومیں فضل الرحمن آفریدی نے بھارتی زبان بولتے ہوئے کہاکہ پاکستان مقبوضہ کشمیرمیں بھارت کے خلاف پشتونوں کواستعمال کررہاہے ،اوراقلیتوں کوحقوق سلب کیے جارہے ہیں انسانی آزادی چھینی جارہی ہے ،

اس پروپیگنڈہ کامقصدپاکستان پر دبائو بڑھانا ہے کہ وہ مقبوضہ کشمیرکے مظلوموں کے حق میں آوازنہ اٹھائے ریاست دشمنی میں وہ اس حدتک آگے بڑھ گئے ہیں کہ اگرپاکستان کی طرف سے کشمیرپربات کی جاتی ہے تواس کے سامنے پشتونوں کاجھوٹامقدمہ پیش کردیاجائے تاکہ پاکستان خاموش ہوجائے ،اس بات میں بھی کوئی شک نہیں رہا کہ پی ٹی ایم غیر ملکی ایجنسیوں کے ہاتھوں میں کھیل رہی ہے۔ اس کی حرکات، نظریات سے یہ بات واضح ہوگئی کہ پی ٹی ایم ایک مخصوص ایجنڈے کی آڑ میں پاکستان کو نقصان پہنچانا چاہتی ہے۔

 آپریشن ضربِ عضب کے بعد تمام دہشت گردوں کا صفایا کیا گیا، سپر پاور سمیت کوئی بھی فوج دہشت گردی کیخلاف کامیاب نہیں ہوئی۔ دہشت گردی کیخلاف جنگ میں پاکستانی فوج نے کامیابی حاصل کی۔فوج پر بہت الزامات لگے لیکن وقت کیے ساتھ سب جھوٹے ثابت ہوئے۔ ہمارے دشمن تو چاہتے ہیں اور اسی کوشش میں ہیں کہ پاکستان کے زیادہ سے زیادہ لوگوں کو پاک فوج کے خلاف کیا جائے بلکہ ہوسکے تو لوگوں میں فوج سے ٹکراوکی کیفیت پیدا کی جائے اوراسی ایجنڈے پرپی ٹی ایم عمل پیراہے ۔

افغانستان چاہتا ہے کہ افغان سرحد پر تعمیر ہونے والی باڑ کو ہر صورت روکا جائے۔ تاکہ دہشت گردوں کو باآسانی پاکستان میں داخل کیا جا سکے۔ افغانیوں کی واپسی کا عمل روکا جائے۔ افغانیوں کے بھیس میں دہشت گردی کی جائے۔ سرحدی علاقوں میں فوجی چیک پوسٹوں کی تعداد کم یا ختم کی جائیں تاکہ دہشت گردوں اور جاسوسوں کے لیے نقل و حرکت میں آسانی ہو۔دشمن کا مقصد ہے کہ پاک فوج کا مورال گرانے کے لیے ان کے خلاف مختلف طرح کی کاروائیاں کی جائیں۔اگر یہ سب ہو تو پاکستان میں ہاری ہوئی پراکسی کو دوبارہ جیتا جا سکتا ہے۔

سوال یہ ہے کہ غیر معروف تنظیمیں کیسے وجود میں آتی ہیں اور ان کے پیچھے کون کون سی درپردہ قوتیں کام کرتی ہیں؟کیا یہ محض اتفاق ہے کہ پی ٹی ایم کا ایجنڈا بالکل دشمنوں کی خواہشات سے مطابقت رکھتا ہے۔ مثال کے طورپر یہ تحریک پاک فوج بلکہ اب پاکستان کے خلاف بھی پشتونوں میں نفرت پھیلا رہی ہے۔منظور پشتین نے ایک بار بھی یہ مطالبہ نہیں کیا کہ پاک افغان سرحد پر باڑ لگائی جائے تاکہ وہاں سے دہشت گرد پشتون علاقوں میں داخل نہ ہو سکیں۔ الٹا اس کے ساتھی باڑ کی مخالفت کر رہے ہیں۔ 

منظور پشتین نے ایک بار بھی افغانیوں کی وطن واپسی کا مطالبہ نہیں کیا۔ البتہ اس کے ساتھی اس کی مخالفت ضرور کر رہے ہیں۔ چیکنگ کو تذلیل کا نام دے کر چیک پوسٹوں کے خلاف عوام کو ابھارا جا رہا ہے۔ پی ٹی ایم نے کبھی نہیں کہاکہ پاکستان میں دہشت گردی کرنے والے کلبھوشن کوپھانسی دی جائے ۔ نہ کبھی وزیرستان کی سرحد پر موجود ان انڈین کونسل خانوں کے بارے میں سوال اٹھایا جہاں سے پشتونوں کے قاتل بھیجے جاتے ہیں ،۔

ہم سمجھتے ہیں کہ پاک فوج کے خلاف منظم مہم بلاوجہ نہیں ہے بلکہ علاقے میں بدلتی صورتحال میں پاک فوج کو تنہا کرنے اور دیگر غیر ضروری محاذوں پر مشغول کرنے کی سازش ہے ۔ نہ صرف پی ٹی ایم بلکہ غیر ملکی قوتوں کے دیگر آلہ کار بھی اپنے اپنے بلوں سے نکل آئے ہیں اور ٹوئٹر پر باقاعدہ پاک فوج کے خلاف اپنی مہم جاری رکھے ہوئے ہیں ۔ بہتر ہوگا کہ پی ٹی ایم کے ساتھ ساتھ ایسے آلہ کاروں کے سدباب کیا جائے ۔


ای پیپر