کرونا وبا کے مثبت اور منفی سماجی پہلو
20 اگست 2020 (16:11) 2020-08-20

کرونا وائرس کی وبا اگرچہ زوال پذیر ہے لیکن ماہرین طب نے ابھی مکمل کلین چٹ نہیں دی ہے۔دنیا کے بیشتر ممالک میں اس وبا نے دوبارہ سر اُٹھایا ہے لیکن اس کی تباہ کاریوں کی شدت میں کمی واضح طور پر محسوس کی جارہی ہے۔وطن عزیز میں بھی زندگی کرونا وبا سے پہلے والی ڈگر پر چلنا شروع ہوچکی ہے۔ عید الاضحی کے دوران بد احتیاطیوں کے باوجود الحمد للہ مرض کے متاثرین میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں نہیں آیا ہے۔

کرونا وبا کے جہاں منفی اثرات نے خاص کر ہر سطح اور ہر طبقے کی معاشی حالت کو نقصان پہنچایا ہے اس کے ازالہ کے لیے یقیناََ ایک مدت درکار ہوگی۔لیکن جہاں اس وبا کے نقصانات بھی ہیں وہاں سماجی سطح پر بھی ہمارے معمولات زندگی میں چند مثبت اور منفی تبدیلیوں کا سبب بنا ہے۔سرپٹ بھاگتی زندگی رُکی نہیں تو ٹھہری ضرور ہے۔ مادی خواہشات کے حصول میں بے پناہ مصروفیات نے انسان کو سماج سے دور کیا ہی کیاتھا نوبت خاندان سے دوری تک پہنچ چکی تھی۔ہمارے سماجی معمولات کی زوال پذیری کا حال تو یہ ہے کہ ہمارے بنیادی مذہبی فرائض کی ادائیگیوں کے لئے بھی مشکلات پیدا ہوجاتی ہیں۔ لیکن اس وبا نے کیا یہ کہ جو لوگ صرف گھر کو ایک سرائے سمجھتے تھے اور فقط سونے کے لئے گھر آتے تھے، وہ جب گھروں میں قید ہوئے تو انھیں پتا چلا کہ گھر کا سکون کیا ہوتا ہے۔بیوی بچے جنھیں ہفتے یا پندرہ دن میں چند گھنٹے ملا کرتے تھے ان سے قربت کے لمحوں میں بے پناہ اضافہ ہوگیا ۔ہمارے بازار جو دن گیارہ بجے کھلا کرتے تھے اور رات بارہ بجے بند ہوتے تھے وہ شام سے پہلے ہی بند ہونا 

شروع ہوگئے۔ شادی بیاہ میں جہاں رسوم کے نام پر غیرضروری اخراجات پر لاکھوں کا اصراف ہوتا تھا وہ محدود ہو ا اور سفید پوش طبقے نے بھی کچھ سکون کا سانس لیا ۔ ۔ ’’ورک فرام ہوم‘‘ کی اصطلا ح عام ہوئی اور زیادہ تر افراد اپنے دفتری فرائض گھر وں سے ہی ادا کرتے رہے۔ وبا کے دنوں میں ہر فرد نے اپنے ذوق کے مطابق مصروفیت تلاش کی۔ پہلے جو شخص ملنے پر مصافحہ کرتا تھا وہ مہذب کہلاتا اور جو معانقہ کرتا اسے تو مہذب کے ساتھ خوش اخلاق بھی گردانا جاتا ۔ لیکن کرونا کے بعد تو حال یہ ہوا کہ اب جو مصافحہ کے لیے ہاتھ بڑھائے وہ نئے سماجی ضابطوں سے نابلد اور جو معانقہ کے لیے آگے بڑھے وہ انتہائی نابلد اور لاپروہ کہلایا جانے لگا۔

لیکن غضب یہ ہوا کہ بجائے ہم کرونا سے پیدا ہونے والے مثبت پہلوئوں کو آگے لے کر چلتے ہم نے ہمیشہ کی طرح کچھ نہیں سیکھا۔ جو ں ہی حکومت نے لاک ڈائون ختم کیا تو پھر وہ معمولات واپس لوٹ آئے جن کے منفی اثرات نے ہماری زندگیوں کے سماجی پہلووں کو حد درجہ متاثر کررکھاتھا۔بازاروں میں بے ہنگم رش اور وہی معمول کہ صبح دیر سے اور رات دیر تک کھلے رہنے لگے، جہاں بجلی کے دو بلب سے کام چل جائے وہاں بیس بلب لگا کر بجلی کے بل کا بوجھ بھی گاہک کی جیب پر ڈالنے کی روش دوبارہ ااختیار کرلی۔مغربی ممالک میں رہنے والے بتاتے ہیں کہ وہاں شام کے بعد بڑی مارکیٹیں بند ہو جاتی ہیں سوائے محلے کی چند چھوٹی دوکانوں کے ۔ 

 نجی دفاتر میں جہاں احتیاط کے نام پر ’’ورک فرام ہوم‘‘ کی اصطلاح کو متعارف کروایا گیا اب کرونا کی معاشی تباہیوں کا بہانہ بنا کر ’’ ریلیز فرام جاب‘‘ کی خبر سنادی گئی۔ہمارے معاشی تجزیہ کاروں نے کبھی ہمیں یہ نہیں بتایا کہ کسی بھی تجارتی یا صنعتی ادارے کے اخراجات میں سب سے کم ملازمین کی تنخواہیں اور مراعات ہوتی ہیں ،لیکن جب بھی کسی کاروباری ادارے کو نقصان کا اندیشہ ہوتا ہے تو پہلی ضرب ملازمین کی تنخواہوں اور دوسری ضرب ان کی نوکریوں پر پڑتی ہے ۔

مگر کیا یہ ممکن ہے کہ ہم کرونا وباکے مثبت پہلوئوںکو مستقل اختیار کرلیں ؟لیکن اس کی ابتداء کہاں سے ہوگی گھر سے انفرادی سطح پر یا پر اجتماعی طور پر ؟

پس ِ تحریر:گزشتہ کالم تحریک آزادی 1857ء میں پنجاب کے کردار کے بارے میں پروفیسر تراب الحسن صاحب کی کتاب کے حوالے سے تھا۔کالم پر مختلف ردِ عمل آیا۔ممتاز محقق ڈاکٹر معین الدین عقیل صاحب نے کالم کو سراہتے ہوئے اصلاح فرمائی کہ یہ مکمل طور پر درست نہیں کہ 1857ء کی جنگ آزادی کی تاریخ عصبیت کی بنیاد پر لکھوائی گئی۔ تاریخ لکھنے والوں میں صرف شمالی ہند اور دہلی والے نہیں تھے بلکہ ہر علاقے اور قومیت سے تعلق رکھنے والے تھے۔اسی طرح معروف محقق اور تاریخ دن ڈاکٹر حسن بیگ صاحب نے بتایا کہ جنگ آزادی اور بغاوت پر سب سے زیادہ کتب مستشرقین کی ہیں اور ان کا ہی نقطہ نظر پیش کیا گیا ہے۔ ان کے مطالعے کے مطابق مولانا غلام رسول مہر صاحب کی کتاب 1857ء اور اکرام چغتائی صاحب کی 1857ء ہیں جن میں پنجاب کے بارے میں چند صفحات ہیں۔ زیادہ تفصیل جناب سلیم اختر صاحب کے مضمون سہ ماہی اردو۔ جنوری ۔ مارچ1988ء میں ملتی ہے جس کے سترہ صفحات میں صرف پانچ صفحات میں موجودہ پنجاب کا ذکر ہے۔لیکن اس میں بھی شبہ نہیں کہ عام مسلمانوں کے جذبات باغیوں کے ساتھ تھے۔ 


ای پیپر