file photo

اسرائیل کے معاملے پر یو اے ای کی پیروی نہیں کرینگے، سعودی عرب
20 اگست 2020 (12:14) 2020-08-20

برلن: اسرائیل فلسطین کے مسئلے پر سعودی عرب بھی پاکستان کا ہم آواز بن گیا۔ سعودی وزیر مملکت برائے وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ اسرائیل کو تسلیم نہیں کریں گے۔ صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے سعودی عرب کے وزیر  خارجہ فیصل بن فرحان کا کہنا ہے کہ ہم اسرائیل کو تسلیم کرنے کے لیے متحدہ عرب امارات کی پیروی نہیں کریں گے۔

بات کو جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اسرائیل جب تک فلسطین کے ساتھ امن معاہدہ نہیں کرتا تسلیم نہیں کریں گے، فلسطینیوں کے بغیر خطے میں امن کا قیام ممکن نہیں۔

سعودی عرب کے وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان کا کہنا ہے کہ مملکت عرب امن منصوبے کی بنیاد پر امن کے قیام کے حوالے سے پابند ہے۔ ہم اسرائیلی پالیسیوں کو ناجائز اور دو ریاستی حل کے لیے نقصان دہ سمجھتے ہیں۔ اسرائیل کے جانبدارانہ اقدامات فلسطینیوں اور اسرائیلیوں کے درمیان امن کی راہ میں رکاوٹ بن رہے ہیں۔

یاد رہے کہ گزشتہ دنوں متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے درمیان تعلقات کی بحالی کے معاہدے کے بعد امریکا نے سعودی عرب پر زور دیا تھا کہ وہ اسرائیل کے ساتھ تعلقات بحال کرے۔ اے ایف پی کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد اور وائٹ ہاؤس کے مشیر جیرڈ کشنر کا کہنا تھا کہ یہ سعودی عرب کے مفاد میں ہوگا کہ وہ اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لائے جیسا کہ متحدہ عرب امارات ( یو اے ای) نے کیا ہے۔

صحافیوں کو ٹیلیفونک بریفنگ میں ان کا کہنا تھا کہ اس سے خطے میں ان کے مشترکہ حریف ایران کے اثر و رسوخ کو بھی کم کیا جا سکے گا اور بالآخر فلسطینیوں کی مدد ہو گی۔

انہوں نے کہا تھا کہ سعودی عرب کے کاروبار، دفاع کے لیے بہت اچھا ہوگا اور میں واضح طور پر کہوں تو میرے خیال سے اس سے فلسطینیوں کی بھی مدد ہوگی۔

خیال رہے کہ اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نتن یاہو نے کہا تھا کہ وہ متحدہ عرب امارات کے ساتھ معاہدے کے حصے کے طور پر مقبوضہ مغربی کنارے کے الحاق میں تاخیر پر راضی ہو گئے ہیں لیکن منصوبہ ابھی بھی  زیر غور  ہے۔

انہوں نے کہا تھا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ معاہدے میں انہوں نے مغربی کنارے کے ساتھ الحاق کے منصوبوں کو موخر کیا تھا لیکن وہ اپنی سرزمین پر حقوق سے کبھی دستبردار نہیں ہوں گے۔ نیتن یاہو، یہودی ریاست میں کئی لوگوں کی طرح مقبوضہ مغربی کنارے کو یہودیہ اور سامریہ بتاتے ہیں اور اس علاقے کو یہودیوں کے تاریخی آبائی حصے کے طور پر دعوی کرتے ہیں۔


ای پیپر