فرض شناس اور موقع شناس پولیس آفیسر 
20 اگست 2020 2020-08-20

آج میں سوچ رہا تھا کہ کیوں نہ میں اپنے صحافی بھائی جناب ارشاد احمدبھٹی سے پوچھوں کہ آپ اتنی اچھی لفظی شاعری کرتے ہیں، کبھی تووہ لکھی ہوئی ہوتی ہے، اور کبھی آپ نظریہ ضرورت کے تحت، مثبت اور منفی دونوں پہلو اجاگر کرکے خود اپنی رائے دینے سے پہلوتہی کرجاتے ہیں ایسا شاید اس لیے تو نہیں کہ آپ کے پاس اُس کا حوالہ نہیں ہوتا، تو پھر میں نے فون کرنے کا خیال یکدم جھٹک دیا، اور میں نے سوچا، کہ کسی ایسے موضوع پہ کیوں نہ لکھوں، کہ جس میں تصدیق کی ضرورت ہی نہیں ہوتی۔ 

 میں اس کی ابتدا اپنے مرحوم والد محترم سردار فیض محمد خان سے کرتا ہوں جنہوں نے موجودہ نیشنل کالج آف آرٹس ، اور سابقہ میوسکول آف آرٹس سے تعلیم مکمل کی تھی، اور انہیں اس درس گاہ میں علامہ سر ڈاکٹر محمد اقبال نے داخل کرایا تھا۔ یہ 1945ءکی بات ہے کہ انہیں اس وقت کے انگریز پرنسپل سپونن برگ ، نے لیڈزیونیورسٹی لندن میں سکالر شپ پہ یعنی وظیفہ دے کر بھیجنے کے لیے نامزد کردیا، لیکن حیرت انگیز بات یہ بنی کہ میرے والد محترم نے لندن جانے سے انکار کردیا۔ اس کے وجہ بعد میں ہمیں جناب قادری پہلے شعبہ اسلامیات گورنمنٹ کالج اور بعد میں پرنسپل گورنمنٹ کالج ڈیرہ غازی خان اور پھر محکمہ تعلیم کے مختلف اعلیٰ عہدوں پہ فائز رہے، ان کی زبانی پتہ چلا کہ والد محترم کی شادی اوائل عمر میں ہی کردی گئی تھی، اس وقت ان کے پہلے بچے کی پیدائش ہوچکی تھی، انہیں اس سے شدید پیار تھا، جس وجہ سے انہوں نے چارسال تک وطن سے دوررہنے کی بنا پر انکار کردیا تھا۔ 

جناب قادری صاحب کے بیٹے محمد عابد قادری مشہور ڈی آئی جی، جو اس وقت حکمران وطن کی سکیورٹی کے انچارج تھے، بہت نیک نام اور فعال پولیس افسر رہے، اس لیے ان کی تعیناتی اہم عہدوں پہ رہی گو میری ان سے بے تکلفی تو نہیں کہہ سکتا، مگر اتنی قربت ضرور ہے کہ آموں کی دعوت دیئے بغیر بھی میرے گھر تشریف لاسکتے ہیں، جب دلوں کا فاصلہ نہ ہو، تو گارڈن ٹاﺅن، اور کینٹ کا فاصلہ کیا اہمیت رکھتا ہے؟ عابد قادری صاحب کے ساتھ ایک ایسا مشہور سانحہ ہوا تھا، کہ جس سے پورا پاکستان واقف وآگاہ ہے، وہ ہیلی کاپٹر کے ذریعے لاہور آرہے تھے، تو اچانک موسم خراب ہونے اور انتہائی دھند کی وجہ سے پائلٹ کو نظر نہ آنے کی وجہ سے ہیلی کاپٹر والٹن روڈ لاہور کینٹ کی مشہور اور معروف ایک انتہائی اونچے مینار والی مسجد سے ٹکرا گیا، اور ہیلیکاپٹر بلندی سے نیچے گر گیا، مگر اللہ سبحانہ وتعالیٰ کے فضل وکرم سے عابدقریشی صاحب اور غالباً نیک والد کی دعاﺅں سے موت سے تو محفوظ رہے، تاہم وہ خاصے زخمی ضرور ہوئے، ان کا نام سن کر ہم سب گھروالے انتہائی پریشان ہوئے، اور گھر بھابی صاحبہ کو فون کردیا، توپتہ چلا کہ وہ اس وقت نیشنل ہسپتال ڈیفنس میں ہیں، ہم فوری طورپر وہاں پہنچے مگر ملاقات پہ پابندی تھی حتیٰ کہ ان کے گھروالے بھی ان سے نہیں مل سکتے تھے، بہرحال اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے ان پر کرم کیا، اور وہ بچ گئے، اور اس کے بعد بھی وہ مختلف عہدوں پہ تعینات رہے، ایک بات بتانا شاید میں بھول گیا، کہ پولیس میں آنے سے پہلے عابد قریشی صاحب نے فوج میں بھی ذمہ داریاں نبھائی تھیں، وہ انتہائی نیک نام اور قابل افسر ہیں، اللہ ان کے درجات بلند فرمائے۔ 

میں اپنے آپ کو بھی خوش نصیب سمجھتا ہوں، کہ میرا واسطہ تعلق اور دوستی ان پولیس افسران کے ساتھ رہی ہے، جو واقعتاً رزق حلال کھانے والے ہیں، اور دل میں خوف خدا رکھنے والے ہیں، اس حوالے سے اگر میں جناب شاہد حفیظ صاحب کا نام نہ لوں، تو بہت زیادتی ہوگی، میری ان سے دوستی کئی دہائیوں سے ہے، میرے عزیز محترم ایس ایم شجاع صاحب جو ان دنوں ڈیوٹی مجسٹریٹ کے فرائض انجام دے رہے تھے، وہ پی سی ایس افسر تھے بعد میں مختلف عہدوں پہ تعینات رہے، ڈپٹی کمشنر اور سیکرٹری بھی رہے، وہ خاندانی امیر کبیر تھے، ان کی محض ایک زمین دس سال قبل سولہ کروڑکی بکی تھی، جوکہ اتفاق سے میرے بھانجے کے سسر نے خرید لی تھی، جناب ایس ایم شجاع صاحب کی تعیناتی جب اسمبلی ہال میں لگی، تو شاہد حفیظ صاحب کی ڈیوٹی ان کے ساتھ تھی لہٰذا میری ان سے اکثر ملاقات ہوجاتی تھی، کیونکہ میرا زمانہ طالب علمی تھااور میں کالج سے فارغ ہونے کے بعد ان کے پاس چلا جاتا تھا۔ 

قارئین ایک خاص بات میں آپ کو بتاتا چلوں، کہ کسی ایسے مقدمے کا جن کا سر پیر نظر نہ آتا ہو، نہ کوئی دستاویز ہو، تو شجاع صاحب دونوں فریقین کو قائل کرکے اور قرآن پاک پہ حلف لے کر فیصلہ سنا کر مطمئن کردیتے تھے۔ 

شاہد حفیظ صاحب ایس ایس پی شیخوپورہ اور ان کے والد محترم بھی اپنے وقت میں ایس پی رہے، میری ان سے بھی ملاقات تھی، وہ نہایت دھیمے مزاج کے ٹھنڈے دل ودماغ کے افسرتھے، بعد وہ ریٹائرڈ ہوگئے، اس وقت وہ ڈیوس روڈ پہ رہتے تھے، شاہد حفیظ بھی ان کے ساتھ مقیم تھے، اور ان سے بڑے بھائی صاحب بھی ان کے ساتھ رہتے تھے۔ 

شاہد حفیظ صاحب اتنے مشہور ومعروف پولیس افسر ہیں کہ حکومت کو مطلوب اکثر روپوش مجرمان کو گرفتار کرنے میں وہ اپنا ثانی نہیں رکھتے، حتیٰ کہ بلوچستان جیسے دوردراز علاقوں اور سندھ جیسے کچے کے علاقوں میں بھیس بدل کر جانا اور ملزمان اور مجرمان کو گرفتار کرنا، ان کا ایسا معمول ہے کہ یقین ہی نہیں آتا کہ ایسی کارگزاری ایک سلم اور سمارٹ اور نحیف ونزار پولیس افسر نے کردکھائی ہے، ان شاءاللہ باقی آئندہ۔ (جاری ہے)


ای پیپر