پاکستان میں 160 سے زائد ادویات بھارت سے آتی ہیں : قائمہ کمیٹی
20 اگست 2019 (19:43) 2019-08-20

اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے قومی صحت میں سینیٹر رحمان ملک نے پاکستان میں ٹیٹنس، کتے و سانپ کے کاٹے کی ویکسین سمیت 160 سے زائد مختلف ادویات بھارت سے درآمد کئے جانے کا انکشاف ہوئے کہا ہے کہ ایک طرف ہم بھارت سے جنگ لڑ رہے ہیں دوسری طرف اربوں روپے کا فائدہ دے رہے ہیں ،اربوں روپے کی بھارتی ادویات پاک افغان بارڈر کے ذریعے بھی سمگل ہوتی ہیں ،ن سب ادوایات کا خام مال پاکستان میں موجود ہونے کے باوجود بھی یہ ادویات ملک میں نہیں بنائی جارہیں ۔

یہ انکشاف منگل کو سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے قومی صحت کے اجلاس میں سینیٹر رحمان ملک نے کیا۔ قائمہ کمیٹی میں سینیٹر رحمان ملک کی جانب سے بھارتی ویکسینز اور ادویات کی امپورٹ سے متعلق اٹھائے جانے والے معاملے پر بحث ہوئی۔انہوں نے کہا کہ ایک طرف ہم بھارت سے جنگ لڑ رہے ہیں دوسری طرف اربوں روپے کا فائدہ دے رہے ہیں ،اربوں روپے کی بھارتی ادویات پاک افغان بارڈر کے ذریعے بھی سمگل ہوتی ہیں ۔سینیٹر رحمان ملک نے سوال اٹھایا کہ کیا بھارت سے درآمد شدہ ادویات کا معیار و معیاد کسی لیبارٹری سے چیک کیا جاتا ہے؟ بتایا جائے کہ ماہانہ کتنے روپوں کی ادویات بھارت سے درآمد کیاجاتی ہیں ؟

انہوں نے کہا کہ بھارت سے پاکستان میں اربوں روپے کی ادویات درآمد کیجاتی ہیں ۔ اگر بھارت ادویات بنانے میں نہ صرف خودکفیل بلکہ برآمد بھی کرتا ہے تو پاکستان کیوں نہیں؟پیپلزپارٹی کے سینیٹررحمان ملک نے کہا کہ 70 سالوں میں کیا ہم اس قابل بھی نہ ہوئے کہ جو ادویات بھارت بنا سکتا ہے ہم نہیں بنا سکتے؟سینیٹر رحمان ملک نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ اگر بھارت سے جنگ ہوتی ہے تو پاکستان کے پاس ان ادویات کا متبادل کیا ہے؟سابق وزیر داخلہ رحمان ملک نے مطالبہ کیا کہ پاکستانی ادویات بنانے والی کمپنیوں کو بھارت سے برآمد کی جانے والی ادویات بنانے کا پابند کیا جائے۔ ان سب ادوایات کا خام مال پاکستان میں موجود ہونے کے باوجود بھی یہ ادویات ملک میں نہیں بنائی جارہیں۔


ای پیپر