مِکا سنگھ اور بھارتی چینلز پاکستان میں
20 اگست 2019 2019-08-20

حالیہ کشمیری کشیدگی اور عسکری تناﺅ کے باعث، پاکستان نے ہائی کمشنر اجے، جے سوریا کو چوبیس گھنٹوں میں ملک چھوڑنے کا کہا تھا، سولہ اگست سے روزانہ کی بنیاد پر ایل او سی پہ بھارتی فوج نے خلاف ورزی کرکے پاکستانی فوج کے جوانوں، افسروں اور شہریوں کو ”قربان“ کردینا اپنا معمول اور وطیرہ بنالیا ہے۔

کیا امن کی خواہش اور اس کی بنیاد کا مقصد یہ ہے، کہ اپنے آپ کو قربانی کے لیے پیش کردیا جائے، اور خاموشی اختیار کی جائے، تاکہ امن کی کوششوں کو کسی بھی قسم کا دھچکہ نہ لگنے پائے، اور ہم روزانہ لاشیں اٹھاتے رہیں۔ رسول پاک نے فرمایا تھا، کہ کمزور کی سزا موت ہوتی ہے، صدر جنرل ایوب خان 1965ءجنگ بندی کے حوالے سے جب روس گئے تھے، اس وقت کو سیجن ، روس کے حکمران تھے ،جنرل ایوب خان کا بھارتی وزیراعظم شاستری سے ملنے اور مصافحے کا انداز اس قسم کا تھا کہ اس کی وہاں حرکت قلب بند ہوگئی اور ایک اور لاش بھارت پہنچ گئی۔ امریکی صدر نکسن نے بھی 1971ءمیں بھارت سے مل کر ہماری دوستی کو دھوکہ دیا تھا ، سولہ اگست کو پہلی دفعہ بتایا گیا ہے کہ دشمن کے پانچ فوجی ہم نے قتل کردیئے ہیں، ورنہ تو ہمیشہ یہی بتایا جاتا ہے کہ ہم نے دشمن کی چوکی تباہ کردی جبکہ غیرت کا تقاضہ تو یہ ہوتا ہے، کہ چوکی تو پھر دشمن بنا لیتا ہے چوکی میں موجود ایک آدھا دشمن تو ضرور جہنم رسید کرنا چاہیے۔ موجودہ دور کی جنگ میں جسامت یا طوالت کے بجائے ذہانت اور منصوبہ بندی کام آتی ہے، دنیا کو فتح کرنے والے نپولین ، فرانسیسی آرمی چیف کی قد کتنی تھی ؟ جس نے دنیا کے مانے ہوئے مارشل ریسز(Marclall Races)کو ناکوں چنے چبوا کر گھٹنے ٹیکنے پہ مجبور کردیا تھا۔

امیر تیمور لنگ بھی تو لنگڑا تھا، تو پھر کیا وجہ ہے کہ وہ جس بھی ملک میں پہنچا اسے ہرحال میں اپنی منصوبہ بندی کے تحت فتح کرلیا، اس کے اپنے جنگی اور نظام حکومت چلانے کے اصول تھے، جس پر وہ کبھی بھی مصلحت پسندی بھی نہیں کرتا تھا۔

کیا پاکستان نے اس جانب توجہ نہیں دی، پاکستان کی آئی ایس آئی دنیا کی بہترین جاسوسی انٹیلی جنس میں سرفہرست ہے، حتیٰ کہ اس وقت بھی وطن میں موساد، سی آئی اے اور را کا جانفشانی سے مقابلہ کررہی ہے پاکستانی معاشرے میں جاگیرداروں، وڈیروں، سرداروں، ملکوں، اور چودھریوں کے بدمعاش اور کارندے اب بھی کوئی بڑے سے بڑا کام دکھانے یا قتل سے کرنے سے پہلے ہمیشہ اپنے مالکوں کو یہی جواب دیتے ہیں کہ آپ کا دست شفقت اگر ہم پہ ہے تو ہمیں کسی چیز کا ڈر نہیں، اور پھر وہ، وہ کام کرگزرتے ہیں کہ جس کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔ کشمیر میں بھارت نے آئین میں جوترمیم کرکے کشمیر کو اپنا حصہ بنالیا ہے، اور 273کی ترمیم ، ٹرمپ اور عمران خان کی ملاقات اور کشمیر میں امریکی صدر کی ثالثی کی پیش کش کرنے کے فوراً بعد کی تھی ، اس وقت ہمارے آرمی چیف بھی دورہ امریکہ میں ان کے ہمراہ تھے، حالانکہ بہت کم بلکہ ایسا کبھی بھی نہیں ہوتا کہ کسی ملک کے حکمران کے ساتھ اس ملک کا چیف آف آرمی سٹاف بھی ساتھ جائے۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ صدر ٹرمپ نے پاکستانی وزیراعظم کو کس ضرورت کے تحت امریکہ بلوایا تھا، جس کے نتیجے میں اس نے کشمیر کی ثالثی کی پیش کش بھی کر ڈالی۔ ہمیں تو یوں دکھائی دیتا ہے، کہ پاکستان امریکہ کے سیاسی چنگل میں مسئلہ کشمیر کو حل کروانے کی آرزو میں پھنس گیا، دراصل اس حوالے سے یقیناً بھارت نے امریکی قیادت کو اپنے اعتماد میں لیا ہوگا کیونکہ اس کی سہولت کاری اور پشت پناہی پاکستان کے بجائے بھارت کے لیے ہے۔ یہی وجہ ہے کہ امریکہ نے بھارتی حالیہ اقدام کی نہ تو مذمت کی ہے اور نہ ہی کچھ اس قسم کا بیان دیا ہے کہ جس کی بنا پر مسئلہ کشمیر کو حل کرنے کے ساتھ، عالمی امن وسلامتی کو خطرہ لاحق نہ ہوتا، جس طرح آج کل تائیوان، اور فلسطین کے مسائل بھی دنیا کی توجہ چاہتے ہیں، مگر کیا کبھی کسی نے محسوس کیا، کہ عالمی رائے عامہ کی وجہ سے کوئی بھی ملک اپنے مو¿قف سے پیچھے ہٹا ہو؟

اقوام متحدہ ، سلامتی کونسل کس ملک کے کہنے پہ وجود میں آئی تھی، اور کون ملک اس کا مالک ہے اور اخراجات برداشت کرتا ہے، امریکہ ہی اس کا روح رواں ہے۔ چند ملکوں کو جو پانچ کے قریب ہیں، ان کے ہاتھ میں ویٹو پاور ہے، بھارت کا سلامتی کونسل میں جانے کا خواب اتنی دیر کیوں شرمندہ تعبیر نہیں ہوا کیوں کہ چین اس کو ویٹو کر دیتا ہے۔ یہاں یہ سوال انتہائی ضروری ہے کہ جب تک ان ممالک کے پاس ویٹو پاور نہ رہے گی، کوئی مسئلہ کسی ملک کا حل نہیں ہوگا، کیونکہ ہرملک کا دنیا میں کسی نہ کسی ویٹو پاور والے ملک سے قریبی رابطہ ضرور ہوتا ہے، جس کی بنا پر مسائل حل نہیں ہوتے تو اقوام متحدہ سلامتی کونسل سے رجوع کرنے کا کیا فائدہ؟ دنیا کا ہرکامیاب ملک خواہ اس کی مخاصمت کسی عالمی طاقت یا بڑے ملک سے کیوں نہ ہو، اس کے کامیاب ہونے کی محض ایک صورت ہے، اس کو اپنے دشمن ملک میں خواہ پیسوں کا لالچ دے کر خواہ مراعات دے کر اپنا ہمنوا بنانا ہوتا ہے، جمعے والے دن بلوچستان کا ایک اور دھماکہ اسی حکمت عملی کا نتیجہ ہے، بلوچستان میں رہنے والے کسی بھی پاکستان کے صوبے کی طرح محب وطن ہیں مگر اگر بھارت بنگلہ دیش کی طرح ”مکتی باہنی“ جیسے غداروں کا اکٹھ کوئٹہ میں بنا ہے تو اس کا توڑ کرنا تو ہماری ذمہ داری ہے، سری لنکا میں جاکر توڑ کرسکتے ہیں اپنے ملک میں کیوں نہیں ؟ بلوچستان کے مسئلے کو بھارت اقوام متحدہ لے جانے کی دھمکی دے سکتا ہے تو ہمیں خالصتان حیدرآباد دکن، آسام ناگا لینڈ، جیسی آزادی پسند اقوام، کی مالی اخلاقی مدد کے لیے آواز تو بلند کرنی چاہیے، سکھوں کے لیے راہداری کھول دینا، گویا نہایت اچھا قدم ہے، مگر اس پر نظر رکھنا اس لیے ضروری ہے کہ بھارتی جاسوس ان میں شامل ہوکر نہ آجائیں۔ حکومت نے بڑے احسان کرکے کہا کہ بھارت کا سفارتی اہلکار بے دخل کرنا، تجارت بند کردینا ، بھارتی ڈرامے، چینلز اور فلمیں ہرصورت میں بند کردی گئی ہیں ، مگر یہ سارے کام کشمیر پہ کرفیو، کشمیریوں کے قتل، کشمیریوں کی عصمت دریوں کے باوجود بدستور جاری ہیں وزیراعظم کے احکام پہ محض ایک دن عمل ضرور ہوا تھا۔

آپ کے اور آپ کے وزیروں کے گلے پھاڑ پھاڑ کر کشمیریوں کی خاطر تقریریں کرنے کا کیا فائدہ عملی طورپر سب تعلقات بھارت کے ساتھ ویسے کے ویسے ہیں، پاکستان سے زیادہ بھارتی چینلز چھائے ہوئے ہیں، چلتے چلتے یہ بھی کوئی وزیر جواب دے دے کہ بھارتی گلوکار مکا سنگھ ، جنرل پرویز مشرف کے رشتے دار کی شادی میں مودی کی طرح بغیر ویزے کے شرکت کرکے اور گانے گاکر چلا بھی گیا، اگر وہ ویزے کے بغیر آیا تو کیوں، ویزہ لے کر آیا، تو حکومت پاکستان نے ویزہ کیوں دیا ؟.... مودی کے جیتنے سے مسئلہ کشمیر حل ہو جائے گا، اس کا کیا مطلب تھا ؟ وزیراعظم نے کہا تھا کہ مجھے نہیں معلوم روپے کی قیمت چار گنا کیوں کردی تھی، میں تحقیقات کررہا ہوں، مہربانی کرکے تحقیقات سے قوم کو بھی آگاہ فرمائیں۔


ای پیپر