سفر اور جشن!
20 اگست 2019 2019-08-20

(گزشتہ سے پیوستہ)

سفر سے میری جان جاتی ہے، مگر سفر میرے مقدر میں لکھا بھی بہت ہے۔ میرا ایک شعر ہے ” ہوئی ہے گم یوں نظر سفر میں.... گذر گیا دِن سفر سفر میں“ .... دِن کیا میری تو زندگی سفر میں گذر گئی۔ پورا سال دنیا کے مختلف ممالک سے دوستوں، عزیزوں خصوصاً میرے شاگردانِ عزیز کے بلاوے آتے رہتے ہیں۔ ظاہر ہے اب سارا سال تو سفر نہیں کیا جاسکتا کہ ” اور بھی دُکھ ہیں زمانے میں سفر کے سوا“.... البتہ گرمیوں (جون ، جولائی) میں جب تعلیمی ادارے بند ہوتے ہیں میں اِس عرصے میں سفر پر نکل جاتا ہوں۔ یہ سلسلہ کئی برسوں سے جاری ہے۔ گرمیوں کی چھٹیوں کے علاوہ بھی بیرون ملک جانا پڑ جاتا ہے۔ میں جب مختلف ممالک کے دورے سے واپس آتا ہوں میرے دوست خصوصاً جناب حسن نثار اور جناب حفیظ اللہ نیازی اکثر مجھ سے سوال کرتے ہیں ” آپ کتنے عرصے کے لئے پاکستان آتے ہیں“؟.... دسمبر یا جنوری میں ہر برس کویت سے بلاوہ آتا ہے۔ اِس بار میرے عزیز چھوٹے بھائی عمر رﺅف نے مجھ سے وعدہ لیا ہوا ہے دسمبر میں ‘ میں اُس کے پاس ماسکو آﺅں گا، وہاں اُس کا وسیع و عریض کاروبار ہے۔ وہ مجھے ” لالچ“ دے رہا ہے 31 دسمبر کو ” نیو ایئر نائیٹ“ پر آپ کے اعزاز میں ایک شاندار ” پارٹی“ کا اہتمام کروں گا۔ وہ یقیناً کسی ” ٹی پارٹی“ کا اہتمام کرنا چاہتا ہوگا کیونکہ اب عمر کے جِس حصے میں ، میں ہوں اُس میں صِرف ” ٹی پارٹی“ ہی انجوائے کی جاسکتی ہے۔ بلکہ اب تو ” ٹی پارٹی“ بھی انجوائے نہیں کی جاسکتی کہ شوگر ” بارڈر لائن “ پر ہونے کی وجہ سے ڈاکٹروں نے چینی سے مکمل طور پر پرہیز کا حکم دیا ہے اور بغیر چینی کے ” ٹی “ یعنی چائے کا کوئی سواد ہی نہیں ہوتا۔ بلکہ میں تو چائے پیتا ہی چینی کے لئے تھا۔ اب شوگر الرٹ کی وجہ سے میں چائے میں چینی نہیں ڈالتا مگر دِل کی تسلی کے لئے چمچ سے چائے کو ہلاتا ضرور رہتا ہوں۔ میری حالت اُس سردار جی جیسی ہوگئی ہے جو چائے میں چینی ملانا بھول گئے مگر چمچ سے چائے کو ہلاتے جا رہے تھے۔ جب چائے کا گھونٹ بھرا ظاہر ہے وہ پھیکی تھی۔ اِس پر اپنے ساتھ بیٹھے سردار جی سے کہنے لگے ” یار کرتار سنگھا اج اِک بوہت وڈا فلسفہ سمجھ وچ آیا اے۔ اے چاء( چائے) وچ کھنڈ (چینی) نہ پاﺅ تے جِنا مرضی ہلائی جاﺅ چاءمیٹھی نیئی ہوندی“۔ میں نے تقریباً چونتیس ممالک کا سفر کیا ہے مگر ماسکو نہیں گیا۔ اِس کے علاوہ چاپان بھی نہیں گیا۔ رواں برس اکتوبر میں اپنے عزیز چھوٹے بھائیوں حسن بٹ اور حاجی وسیم کے ساتھ جاپان جانے کا بھی اِرادہ ہے۔ حسن بٹ اور حاجی وسیم کئی بار جاپان جا چکے ہیں۔ جب کبھی ملتے ہیں جاپان کی خوبصورتیوں کا ذکر چھیڑ دیتے ہیں۔ جاپان کے وزٹ کے لئے ایک ” اُکسا وہ“ میرے بہت ہی محترم افضل چیمہ صاحب کی طرف سے بھی ملتا رہتا ہے۔ وہ جاپان میں پی ٹی آئی کے کرتا دھرتا ہیں۔ جاپان کی بزنس کمیونٹی میں اُن کا بڑا نام ہے۔ سونے پر سہاگہ یہ کہ جاپان میں حکومت پاکستان نے وزارتِ خارجہ کے ایک نفیس ترین افسر جناب امتیاز احمد کو پاکستان کا سفیر بنا کر بھیج دیا ہے۔ وہ میرے بہت مہربان ہیں۔ مجھے یقین ہے جاپان میں کچھ روز اُن کے گذر جانے کے بعد جاپان میں مقیم ہر پاکستانی اُنہیں اپنا مہربان ہی سمجھے گا.... اب میں واپس seattle کی طرف آتا ہوں جہاں اِن دِنوں اپنے ایک انتہائی محترم دوست جناب خالد نذیر کی میزبانی اور مہربانی سے اتنا لطف اندوز ہو رہا ہوں کہ اُس کی تفصیلات لکھ کر پاکستان میں موجود اپنے دوستوں کو میں ” ساڑنا “ نہیں چاہتا۔ خالد نذیر کا تعلق نون لیگ کے شہر گوجرانوالہ سے ہے۔ پہلے یہ ” پہلوانوں“ اور ”کھابوں“ کا شہر ہوا کرتا تھا۔ پھر اللہ جانے اِس شہر کو کِس کی نظر لگ گئی کہ اب اِس شہر کو نون لیگ کے حوالے سے جانا اور پہچانا جاتا ہے۔ پی ٹی آئی گذشتہ الیکشن میں شہر سے ایک سیٹ قومی یا صوبائی اسمبلی کی حاصل نہیں کر سکی۔ اور اب جِس تیزی سے پی ٹی آئی کا گراف گِرتا جا رہا ہے پچھلے الیکشن میں پی ٹی آئی نے گوجرانوالہ سے جتنے ووٹ لئے تھے اگلے الیکشن میں

وہ بھی شاید نہ لے سکے۔ البتہ ایک کام پی ٹی آئی کی حکومت نے بہت اچھا یہ کیا بطور آر پی او گوجرانوالہ ایک ایسے اعلیٰ کردار کے حامل، انتہائی نفیس پولیس افسر طارق عباس قریشی کو تعینات کیا۔ وہ بلاتفریق جِس انداز میں گوجرانوالہ کے مظلوم، بے بس اور مستحق عوام کو تقریباً چوبیس گھنٹے ریلیف فراہم کرنے میں لگے رہتے ہیں اُس سے پی ٹی آئی کی حکومت کی نیک نامی بڑھتی جا رہی ہے۔ اگر انتظامی افسران یعنی ڈپٹی کمشنر اور اِس ٹائپ کے دیگر افسران بھی گوجرانوالہ میں دیانت دار اور اہل لگائے جائیں، پھر میں یہ بات پورے وثوق سے کہہ سکتا تھا اگلے الیکشن میں گوجرانوالہ میں پی ٹی آئی کو ایسی شرمناک شکست کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا جیسی شرمناک شکست کا سامنا گزشتہ الیکشن میں کرنا پڑا.... بہر حال میں اپنے گوجرانوالہ کے دوست خالد نذیر کا ذکر کر رہا تھا جو اپنے بزنس کے لئے اِن دِنوں امریکہ کے شہرseattle میں موجود ہیں۔ امریکہ میں کئی ایسے پاکستانی ہیں جو سالہا سال سے سے پاکستان نہیں گئے۔ دوسری طرف خالد تقریباً ہر پندرہ روز بعد پاکستان (گوجرانوالہ) شاید اِس لئے آتے جاتے رہتے ہیں کہ اُن کی ایک بیگم گوجرانوالہ میں رہتی ہے۔ ایک شاید seattle میں رہتی ہیں اور باقیوں کا مجھے صحیح طرح معلوم نہیں وہ کہاں کہاں رہتی ہیں؟ البتہ اُن کی شرافت کی میں گارنٹی دے سکتا ہوں جس کا ایک ثبوت یہ ہے وہ سوائے شادی کے کچھ نہیں کرتے۔ جبکہ امریکہ میں مقیم ہمارے کئی دوست ہیں جو سوائے شادی کے سب کچھ کرتے ہیں.... جناب خالد نذیر ایک انتہائی محبِ وطن انسان ہیں۔ پاکستان کے ساتھ اُن کی محبت کا عالم یہ ہے امریکہ میں اُن کے پاس اللہ کا دیا بہت کچھ ہے۔ میں یہ بات پورے یقین سے کہہ رہا ہوں اتنا کچھ اُنہیں کم از کم کاروباری لحاظ سے پاکستان نے نہیں دیا جتنا کچھ امریکہ نے دیا ہے۔ اِس کے باوجود پاکستان کے لئے اُن کے دِل میں ایسی لگن ایسی تڑپ موجود ہے اُن کا بس چلے امریکہ میں موجود ہر آسائش کو ٹھوکر مار کر مستقل طور پر پاکستان آجائیں۔ پر ظاہر ہے وہ ایسا نہیں کر سکتے۔ کیونکہ امریکہ میں جو اُن کا کاروباری سیٹ اپ ہے اُس سے کئی لوگ جڑے ہوئے ہیں جِن میں بہت بڑی تعداد پاکستانیوں کی بھی ہے۔ چنانچہ یہ سلسلہ توڑ کر وہ فی الحال مستقل طور پر پاکستان نہیں آسکتے۔ حالانکہ جی اُن کا بہت چاہتا ہے۔ (جاری ہے)


ای پیپر