کابینہ کچھ زیادہ نہیں ہے

20 اگست 2018

سہیل سانگی

نئے پاکستان میں نیا میچ شروع ہونے جارہاہے۔ وزیراعظم عمران خان کی نئی ٹیم کا اعلان کیا جاچکا ہے ۔مخالف ابھی ٹیم سازی کا مرحلہ مکمل نہیں کر سکے ۔ پہلے دو مرحلوں میں اسپیکر، ڈپٹی سپیکر اوروزیراعظم کا انتخاب ہو چکا۔ وزیراعظم کے انتخاب میں حزب اختلاف تین حصوں میں تقسیم ہو گئی۔ابھی تین مرحلے باقی ہیں جن میں صدر، سینیٹ کے چیئرمین اور اپوزیشن لیڈر کا انتخاب باقی ہے ۔ ایک سے زائد سلیکٹرز اور ٹیم میں شامل گروپوں کے سیاسی اور ذاتی طور پر مفادات میں کم ہم آہنگی کی وجہ سے پارلیمنٹ میں مضبوط وسیع تر اتحاد کے امکانات کم نظر آرہے ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ عمران کم از نصف آئینی مدت تک اپوزیشن کے دباؤ کے بغیر حکومت چلا لیں گے۔
حکومت ہو یا کرکٹ نہ اکیلا کپتان کھیلتا ہے اور نہ اکیلا وزیراعظم حکومت چلاتا ہے ۔ لہٰذا میچ جیتنے کے لئے ٹیم میں شامل کھلاڑی بڑی اہمیت رکھتے ہیں۔ پارٹی ٹکٹ دینے اور انتخابی حکمت عملی کے موقع پر یہ کہہ کر تحریک انصاف کے کارکنوں کو خاموش کردیا گیاکہ انتخاب جیتنے کے لئے الیکٹ ایبلز اور پیسہ ضروری ہے ۔ لیکن جب کابینہ تشکیل دی گئی اس وقت بھی یہی حکمت عملی کارفرما رہی۔ کابینہ میں بھی کچھ زیادہ نیا نہیں ۔وزیراعظم عمران خان کی ٹیم پر جائزہ دلچسپ منظر نامہ پیش کرتا ہے ۔ ایسا لگتا ہے کہ ریٹائرڈ جنرل مشرف کی روح عمران خان کی کابینہ میں آگئی ہے ۔ اکیس رکنی کابینہ میں سے 12 ارکان مشرف کیساتھ کام کر چکے ہیں۔ سابق جنرل پرویز مشرف کے ترجمان،ان کے سابق اٹارنی جنرل اور ان کی کابینہ اور کور ٹیم کے کئی ارکان شامل تھے۔ کابینہ کے وہ ارکان جو مشرف کے ساتھ کام کرچکے ہیں ان میں فروغ نسیم،طارق بشیر چیمہ،غلام سرور خان،زبیدہ جلال،فواد چودھری،شیخ رشید احمد،خالد مقبول صدیقی،شفقت محمود،مخدوم خسرو بختیار،عبدالرزاق داؤد،ڈاکٹر عشرت حسین اور امین اسلم شامل ہیں۔سینیٹرفروغ نسیم جنہیں قانون و انصاف کا سب سے اہم منصب دیا گیا ہے ان کی ایم کیو ایم سے رفاقت رہی ہے ۔ انہوں نے ہی ایم کیو ایم اور تحریک انصاف کے درمیان مصالحت کا فارمولا بنایا اور اس پر عمل کیا۔ واضح رہے کہ اس فارمولا میں ایم کیو ایم کے سنیئر رہنما فاروق ستار آؤٹ ہیں۔ سینیٹرفروغ نسیم کی دوسری خصوصیت یہ ہے کہ وہ غدار ی کیس میں مشرف کے بڑے وکیل ہیں۔ایم کیو ایم مشرف کی اتحادی رہی ہے ۔ فروغ نسیم وزیر قانون بننے کے بعد مقدمے کی پیروی نہیں کرسکیں گے لیکن ان کا وزیر قانون بننا مشرف کے خلاف غداری کے مقدمے پر اثر اندازہوگا۔ خصوصی عدالت میں دوبارہ سماعت شروع ہوگئی ہے اور سپریم کورٹ نے پرویز مشرف کو واپس لانے کی ہدایت کردی ہے ۔ اصل معاملہ یہ ہے کہ عمران خان کیا فیصلہ کرتے ہیں ۔ یاد رہے کہ پی ٹی آئی رہنما شفقت محمود جو کہ عمرا ن خان کی کابینہ کے حصہ ہیں۔انہوں نے الیکشن کے دنوں میں کیپٹل ٹاک میں گفتگو کرتے ہوئے مشرف کے ٹرائل کی درخواست کی تھی۔ کابینہ کے پانچ اراکین پرویز خٹک،بابر اعوان،شاہ محمود قریشی،فہمیدہ مرزا اور فواد چودھری نے بھی وزیر کے طور پر پیپلز پارٹی کی گزشتہ حکومت میں کام کیا۔یعنی 17 سے زائد افراد مشرف دور یا پھر پیپلز پارٹی کی حکومت میں رہے ہیں۔ یہ سب لوگ اگر اتنے اچھے تھے تو ماضی میں
انہوں نے کیا کردار ادا کیا؟ اپنے اس دور کا وہ دفاع کریں گے؟ یا اپنی کارکردگی بتا ئیں گے؟یا پھر یہ سمجھا جائے کہ ان لوگوں کا شمار ماہرین میں سے ہوتا ہے اور وہ بطور پروفیشنل ان سے کوئی بھی کام لے سکتا ہے ۔ دراصل ایسا نہیں ۔ کابینہ سازی میں بھی مصلحتیں اور سیاسی فیصلے آڑے آئے۔ چوہدری برادران جن کی مدد سے تحریک انصاف نے پنجاب میں حکومت بنائی ہے ، یہ وہی برادران ہیں جن کی وجہ سے عمران خان نے جنرل مشرف کا ساتھ چھوڑا تھا۔ اب انہی کو گلے لگا رہے ہیں اور اہم منصب دے رہے ہیں۔ کابینہ کے تین ارکان اسد عمر،شیریں مزاری اور عامر کیانی وہ ہیں جو پی ٹی آئی کے اپنے ہیں، جو کبھی دوسری پارٹی کا باقاعدہ حصہ نہیں رہے ۔
کابینہ اور دیگر اہم وفاقی عہدوں پر سندھ سے لئے گئے ارکان کا معاملہ قابل غور ہے ۔ جہاں حکمران جماعت نے منصب کراچی تک ہی محدود رکھے ہیں، اور باقی سندھ کو پیپلزپارٹی کے کھاتے میں چھوڑدیا ہے ۔حکمران جماعت کے اتحادیوں میں ایم کیو ایم سب سے زیادہ فائدہ میں رہی، جس کو ایوان میں صرف سات نشستوں کے باوجود کابینہ میں دو منصب ملے ۔مسلم لیگ (ق) سندھ کے گرینڈ ڈیمو کریٹک الائنس ، شیخ رشید کی عوامی مسلم لیگ اور فاٹا کو تحریک انصاف حکومت میں صرف ایک ایک وزارت ملی۔ ایسا لگتا ہے کہ سندھ سے لئے گئے افراد کی نامزدگی کے لئے ایم کیو ایم سے مشاورت کی گئی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ ایک ہفتہ پہلے کراچی کے میئر وسیم اختر نے پیشگی ماحول بنایا۔ انہوں نے وفاقی اردو یونیورسٹی کی ایک تقریب سے خطاب کرت ہوئے کہا کہ کراچی سے اگر کسی کو اہم عہدے پر لیا جاتا ہے تو بعض لوگوں کو تکلیف ہوتی ہے ۔ یہ ان کا اشارہ تھا ۔معاشی و مالی امور کے مشیر سابق گورنر اسٹیٹ بینک عشرت حسین ، اٹارنی جنرل انور منصور، نامزد گورنر سندھ عمران اسمٰعیل اور صدر کے عہدے کے لئے عارف علوی کی نامزدگی سامنے آئی ہے ۔ ان سب کا تعلق کراچی سے ہے ۔ اگرچہ سندھ سے سابق چیئرمین سینیٹ اور مالی امور کے ماہر محمد میاں سومرو تحریک انصاف کی ٹکٹ پر جیت کر آئے تھے۔ اسی طرح سے سید علی نواز شاہ پیپلزپارٹی سے بغاوت کر کے آزاد حیثیت میں منتخب ہوئے تھے۔ لہٰذا سندھ کے اندرونی علاقوں کی حکومت میں شرکت اور نمائندگی خال خال رہے گی۔
یہ درست ہے کہ تحریک انصاف یا اس کی حامی جماعتوں کی باقی سندھ میں انتخابات کے حوالے سے نمائندگی کوئی زیادہ نہیں ۔ اس میں سندھ کے لوگوں کا اتنا قصور نہیں بلکہ اس کی وجہ خود تحریک انصاف کی اپنی انتخابی حکمت عملی تھی۔ کیونکہ سندھ میں پی ٹی آئی نے اپنے امیدوار کھڑے کئے۔ جیسے اب حکمران جماعت سندھ کی اقتدار میں شرکت کا معاملہ پیپلزپارٹی پر چھوڑ رہی ہے اسی طرح سے انتخابات کا معاملہ اس نے جی ڈی اے پر چھوڑدیا تھا،۔
کراچی سندھ کا ہی دارلحکومت ہے ۔ اور صوبے کا اٹوٹ انگ ہے ۔ لسانی تقسیم اور اس کو کئی برسوں تک ہوا دینے کے بعدکر اچی اور باقی سندھ کی سیاست اور انداز فکر مختلف ہو گیا۔ ہوتا یہ رہا ہے کہ دو لسانی کمیونٹیز کو ایک دوسرے کے آمنے سامنے کھڑا کیا جاتا رہا ہے اور انہیں یہ باور کرایا جاتا رہا ہے کہ ان دونوں کے مفادات ہم آہنگ نہیں بلکہ ایک دوسرے سے متصادم ہیں۔ اس صورتحال سے نکلنے کے لئے جامع پالیسی اور انتھک کوششوں کی ضرورت ہے ۔ سابق اسپیکر قومی اسمبلی فہمیدہ مرزا کی ان کو دیئے گئے قلمدان کی وجہ سے اہمیت ہوسکتی۔ خاص طور پر حالیہ مالی بحران اور وفاق کے اخراجات پورے نہ ہونے جب اٹھارویں ترمیم اور این ایف سی ایوارڈ کو تبدیل کرنے کی باتیں ہو رہی ہیں۔ اس کے علاوہ جنوبی پنجاب کا صوبہ بنانے کا مطالبہ بھی سیاسی طور پر تمام بڑی جماعتیں تسلیم کر چکی ہیں لیکن اس کو عملی شکل دینے میں کئی رکاوٹیں ہیں۔
تحریک انصاف کی موجودہ حکمت عملی میں وہ ایم کیو ایم کے فریم میں خود کو رکھ رہی ہے ۔ ایم کیو ایم اپنی سیاسی بقا کے لئے چاہتی ہے کہ تحریک انصاف لگ بھگ اس کے مطالبات مانے، اور اسی پرانی ڈگر پر چلے۔ایم کیو ایم یہ بھی چاہے گی کہ اس پر چسپاں’’غدار ی کے لیبل‘‘ کو اتارے۔وزیراعظم عمران خان اور ان کی کراچی سے لی گئی ٹیم کے ذریعے کراچی آپریشن میں ریلیف لے ۔ تحریک انصاف نے سندھ کے لئے جو اقتدار میں شرکت کا فارمولا بنایا ہے وہ صرف کراچی فوکسڈ ہے ۔ یہ وہی ماڈل وہ ہے جو مسلم لیگ نواز استعمال کرتی رہی ہے ۔نو از لیگ نے بھی گورنر، وفاقی وزراء، صدر، اسپیکر، ڈپٹی اسپیکر اور مخصوص نشستوں سینیٹ میں باقی سندھ کو نظر انداز کیا۔اس کا منطقی طور پر سیاسی فائدہ پیپلزپارٹی کو ہی ملا۔ یہ درست ہے کہ آج تحریک انصاف سندھ میں گراس روٹ سیاسی جماعت نہیں ۔کیا وہ خود کو آنے والے وقتوں بھی ایسا ہی رکھے گی؟۔

مزیدخبریں