تبدیلی آگئی ہے۔۔۔!

20 اگست 2018

ساجد حسین ملک

تحریک انصاف کے چیئرمین جناب عمران خان نے ملک کے 22ویں وزیر اعظم کا حلف اُٹھا لیا ہے ۔ اُنہوں نے 16وزراء اور 5مشیروں پر مشتمل اپنی 21رُکنی کابینہ کا بھی علان کر دیا ہے جو اِن سطور کی اشاعت تک حلف اُٹھانے کے بعد اپنے فرائض کی سرانجام دہی شروع کر چُکی ہوگی۔ وفاق میں تحریک انصاف اور اتحادیوں کی حکومت کی تشکیل کے ساتھ چاروں صوبوں میں بھی صوبائی اسمبلیوں کے سپیکر اور ڈپٹی سپیکرز کے انتخابات سمیت چاروں صوبائی وزراء اعلیٰ کے انتخابات بھی مکمل ہو چکے ہیں۔ 25جولائی کے اعلان کردہ انتخابی نتائج (یہ الگ بات ہے کہ مسلم لیگ ن اور متحدہ مجلسِ عمل سمیت کئی سیاسی جماعتوں کو اِن نتائج پر شدید تحفظات اور اعتراضات ہیں) کے بعد یہ کوئی تعجب خیز بات نہیں کہ وفاق ، پنجاب اور خیبر پختونخواہ میں تحریک انصاف اور اُس کی اتحادی جماعتوں کی حکومتیں بلکہ یہ کہنا زیادہ مناسب ہوگا کہ تحریک انصاف کی حکومتیں زمامِ کار سنبھال چکی ہیں۔ بلوچستان میں مخلوط پارلیمانی گروپ جس میں تحریک انصاف بھی شامل ہے کے نامزد اُمیدوار جام کمال جن کا اپنا تعلق بلوچستان عوامی پارٹی سے ہے وزیر اعلیٰ کے منصب پر فائز ہو چکے ہیں۔ بلوچستان کو چھوڑ کر باقی تین صوبوں میں تحریک انصاف سے تعلق رکھنے والے نئے گورنروں کا اعلان بھی ہو چکا ہے ۔ گویا کہا جا سکتا ہے کہ سندھ کو چھوڑ کر جہاں پیپلز پارٹی کے مراد علی شاہ نے وزارتِ اعلیٰ کا منصب سنبھالا ہے پورے ملک میں تحریک انصاف کا ڈنکا زور شور سے بجنے لگا ہے ۔ یقیناًیہ بہت بڑی کامیابی ہے جو تحریک انصاف کو 25جولائی کے انتخابات کے نتیجے میں ملی ہے ۔
سچی بات ہے کہ تحریک انصاف نے خود بھی شاید اتنی بڑی کامیابی کا خواب نہیں دیکھا ہوگا۔ زیادہ سے زیادہ خیبر پختونخواہ میں اور اُس کے ساتھ وفاق میں کچھ سیاسی جماعتوں یا آزاد ارکانِ اسمبلی کو ملا کر تحریکِ انصاف کی حکومتیں بننے کے امکانات ضرور سامنے لائے جاتے رہے۔ لیکن پنجاب میں تحریک انصاف کی حکومت اور مسلم لیگ ق کے رہنما چوہدری پرویز الہٰی کی بطورِ سپیکر پنجاب اسمبلی کامیابی کا شاید کم ہی لوگوں کو خیال اور گمان تھا۔ لیکن اَب برسرِ زمین حقیقت یہی ہے کہ تحریک انصاف برسر اِقتدار آچکی ہے اور اُس کے چیئرمین جناب عمران خان نے بطورِ وزیر اعظم ملک کے چیف ایگزیکٹیو اور حکومت کے سربراہ کا منصب سنبھال لیا ہے ۔ اس طرح تحریک انصاف پچھلے کئی برسوں سے ملک میں جو تبدیلی کا نعرہ لگا رہی تھی وہ اس حد تک پورا ہو چکا ہے کہ بنی گالا اسلام آبادنے جاتی امرا رائیونڈ اور ماڈل ٹاؤن لاہور کی جگہ اقتدار و اختیار کے نئے مرکز کی حیثیت اختیار کر لی ہے ۔ یقیناًیہ ایک بڑی تبدیلی ہے لیکن اس تبدیلی کا صحیح طور پر اُس وقت اندا زہ ہوگا جب اِس کے نتیجے میں ملک و قوم کی مجموعی صورتِ حال میں بہتری نمایاں ہوگی۔ ہمیں یقیناًاُس کے لئے انتظار کرنا ہوگا کہ اِس تبدیلی کے نتیجے میں ملک و قوم کی عزت و وقار، قوموں کی برادری میں مقام و حیثیت میں کتنا اضافہ ہوتا ہے ، ملک و قوم کو درپیش مسائل و مشکلات سے کتنی نجات ملتی ہے ، کرپشن، بدعنوانی، لوٹ مار، انتہا پسندی ، عسکریت پسندی اور لسانی اور علاقائی تعصبات کے عفریت جو ملک و قوم کی جڑوں کو کھوکھلا کیے ہوئے ہیں اِن سے کتنا چھٹکارا ملتا ہے ، ملک میں امن و امان کا قیام اور گُڈ گورنس اور میرٹ کی فرما ں روائی کس حد تک قائم ہوتی ہے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ عام لوگوں بالخصوص خطِ غربت سے نیچے زندگی بسر کرنے والے عوام کی زندگیوں میں کیا انقلاب آتا ہے اور اُنہیں روزی،
رِزق اور روزگار کے کتنے وسائل دستیاب ہوتے ہیں۔ غرضیکہ یہ سب معاملات ایسے ہیں جن کا تعلق تحریکِ انصاف کے تبدیلی کے نعرے سے جڑتا ہے ۔
تحریکِ انصاف تبدیلی کے عمل کو کس حد تک بروئے کار لاتی ہے اور اس میں اُسے کتنی کامیابی ہوتی ہے ۔ وقت گزرنے کے ساتھ اِس کا اندازہ ہونا شرو ع ہو جائے گا۔ فی الحال دیکھتے ہیں کہ انتقالِ اِقتدار کے مختلف مراحل کی تکمیل کے پچھلے ہفتہ عشرہ کے دوران کچھ سیاسی رہنماؤں، سیاسی جماعتوں اور اِقتدار کے سنگھا سن پر براجمان ہونے والی قومی شخصیات نے عام توقعات اور روایات سے ہٹ کر کس طرح کے رویوں اور لائحہ عمل کا مظاہرہ کیا۔ جمعتہ المبارک کو قومی اسمبلی میں قائدایوان (وزیر اعظم) کے انتخابات کا مرحلہ درپیش تھا۔ عمران خان کے مقابلے میں مسلم لیگ ن کے صدر میاں شہباز شریف کا نام کئی دِن سے لیا جا رہا تھا۔ متحدہ حزب اختلاف کے فیصلوں کے مطابق سپیکر، ڈپٹی سپیکر اور قائد ایوان کے عہدوں کے انتخابات میں علی الترتیب پیپلز پارٹی، متحدہ مجلس عمل اور مسلم لیگ ن کے اُمیدواروں نے تحریک انصاف اور اس کے اتحادی جماعتوں کے ان عہدوں پر نامزد اُمیدواروں کا مقابلہ کرنا تھا۔ سپیکر کے عہدے کے لئے پیپلز پارٹی کے سید خورشید شاہ، ڈپٹی سپیکر کے لئے متحدہ مجلس عمل کے مولانا اسد محمود اور قائد ایوان (وزیر اعظم) کے عہدے کے لئے مسلم لیگ ن کے میاں شہبا ز شریف کے نام سامنے آچکے تھے۔ لیکن جب قائد ایوان کے انتخاب کے لئے کاغذاتِ نامزدگی داخل کروانے کا مرحلہ آیا تو اچانک پیپلز پارٹی کی طرف سے یہ موقف سامنے آیا کہ وہ میاں شہبا ز شریف کو ووٹ نہیں دے گی، مسلم لیگ ن کسی اور اُمیدوار کو اس عہدے کے لئے نامزد کرے۔ پیپلز پارٹی کا عین آخری وقت میں یہ مطالبہ بڑا عجیب و غریب تھا۔ مسلم لیگ ن اگر چند دِن پہلے اپنے کسی دوسرے اُمیدوار کی نامزدگی کا فیصلہ کر لیتی یا پیپلز پارٹی شروع میں ہی واضح لفظوں میں بتا دیتی کہ اُسے اپوزیشن کی طرف سے میاں شہباز شریف کی بطورِ قائد ایوان نامزدگی پر اعتراضات ہیں تو کچھ اور بات تھی لیکن آخری وقت میں میاں شہباز شریف کے نام پر اعتراض کرنا اور قومی اسمبلی میں قائد ایوان کے انتخاب کے موقع پر میاں شہباز شریف کے حق میں ووٹ نہ ڈالنا یقیناًایسا فیصلہ ہے جس سے بہت سارے لوگوں کو مایوسی ہوئی۔ پھر یہ بات بھی اہم ہے کہ قائد ایوان کے انتخاب میں اگر تحریک انصاف کی طرف سے اُس کے چیئرمین جناب عمران خان اُمیدوار تھے تو اُن کے مقابلے میں مسلم لیگ ن سے کسی اُمیدوار نے سامنے آنا تھا تو اس کے لئے مناسب ترین شخصیت مسلم لیگ ن کے صدر میاں شہباز شریف کی ہو سکتی تھی ۔لیکن پیپلز پارٹی کی قیادت بالخصوص جناب آصف علی زرداری کی اپنی سوچ ہے اور انہوں نے میاں شہباز شریف کو قومی اسمبلی کے ایوان میں ووٹ نہ دینے کا فیصلہ کر کے اس سے کیا فوائد سمیٹے ہیں اس بارے میں مختلف طرح کی چہ مگوئیاں ہو رہی ہیں۔ تاہم اِتنی بات طے ہے کہ تحریک انصاف کا مقابلہ کرنے کے لئے متحدہ اپوزیشن کا جو غلغلہ بلند ہوا تھا اس میں کمزوری کے آثارابھی سے ہی نمایاں ہو گئے ہیں۔ تاہم یہ بات حوصلہ افزا ہے کہ مسلم لیگ ن نے پیپلز پارٹی کے قائد ایوان کے انتخاب میں میاں شہباز شریف کو ووٹ نہ دینے کے فیصلے کے سامنے آنے کے باوجود سپیکر کے انتخاب میں پیپلز پارٹی کے اُمیدوار سید خورشید شاہ اور ڈپٹی سپیکر کے انتخاب میں متحدہ مجلس عمل کے مولانا اَسد محمود کو ووٹ دیا۔ یقیناًمسلم لیگ ن اس طرح سر خرُو رہی۔
قائد ایوان کے انتخاب میں جناب عمران خان کو 176ووٹ ملے ۔ 342ارکان پر مشتمل ایوان میں سادہ اکثریت کے لئے 172ارکان کی حمایت ضروری ہے گویا عمران خان نے سادہ اکثریت سے صرف 4ووٹ زائد لئے۔ میاں شہباز شریف نے 96ووٹ حاصل کیے۔ اُنہیں مسلم لیگ ن اور متحدہ مجلس عمل میں شامل جماعت اسلامی کے واحد رُکن مولانا عبدالاکبر چترالی کے سوا دیگر تمام ارکان کے ووٹ ملے۔ خیر جو ہونا تھا وہ ہو گیا لیکن مسلم لیگ ن کے ارکان کی طرف سے کسی کمزوری کا مظاہرہ نہیں کیا گیا۔ قائد ایوان کے انتخاب کے موقع پر جب عمران خان نے جو خطاب کیا اس سے بھی بہت سارے لوگوں کو مایوسی ہوئی ہے ۔ اس طرح کے انتخابات کے موقع پر مخالف جماعتوں کی طرف سے احتجاج کا سامنے آنا کوئی ایسی غیر معمولی بات نہیں۔ ووٹنگ کے نتائج سامنے آجانے کے بعد مسلم لیگ ن اور متحدہ مجلس عمل کے ارکان کا احتجاج خلاف توقع نہیں تھا۔ لیکن جب عمران خان نے اس احتجاج کی تاب نہ لاتے ہوئے اپنے خطاب میں جو انداز اپنایا اور جن خیالات کا اظہار کیا اُن کو زیادہ مستحسن قرار نہیں دیا جا سکتا۔ جناب عمران خان قائد ایوان (وزیر اعظم) منتخب ہو کر بڑی حیثیت ، مقام اور مرتبے کے مالک بنے اُنہیں چاہیے تھا کہ وہ بڑے پن کا مظاہرہ کرتے اور اپوزیشن کے احتجاجی نعروں کا جواب دینے کے ساتھ اپنی حکومت کے آئندہ منصوبوں اور لائحہ عمل کے بارے میں اظہارِ خیال کرتے۔ لیکن اُن کا خطاب ادھورا رہا۔ بعد میں اُن کی جماعت کے وائس چیئرمین جناب شاہ محمود قریشی اپنے خطاب میں وضاحتیں کرتے رہے کہ عمران خان نے یہ کہنا تھا، وہ کہنا تھا وغیرہ۔ اِسے پنجابی محاورے کے مطابق گونگلوؤں سے مٹی جھاڑنا ہی قرار دیا جا سکتا ہے ۔

مزیدخبریں