پارٹی شروع ہوئی ہے!
20 اگست 2018 2018-08-20

عام انتخابات سے پہلے ایک عجیب بے یقینی کی کیفیت تھی۔ انتخابات ہوں گے یا نہیں؟ پیش گوئیوں کا ایک نہ تھمنے والا سلسلہ تھا۔ انتخابات ہوئے تو کیا تمام جماعتیں انہیں تسلیم کرلیں گی؟ خصوصاً مسلم لیگ ن کی شکست کی صورت میں اس جماعت کا ردِعمل کیا ہوگا؟ کیا کوئی اس کا سامنا کرسکے گا؟ کیا پاکستان تحریک انصاف مطلوبہ نشستیں لے سکے گی؟ اگر کامیابی مل بھی گئی تو کیا عمران خان وزیراعظم بن سکیں گے؟ اگر بن بھی گئے تو کیا اندرونی اور بیرونی قوتیں انہیں خوش آمدید کہیں گی؟

انتخابات ہوگئے۔ سب سے زیادہ معترض جماعت پاکستان مسلم لیگ نہ چاہ کر بھی کچھ نہ کرسکی۔ جبکہ پاکستان تحریک انصاف اکثریتی جماعت بن کر اُبھرآئی۔ عمران خان پاکستان کے وزیراعظم بھی بن گئے۔ اپوزیشن جماعتیں متفق ہوئیں اور شروع کے چند دن تو یوں محسوس ہوا جیسے یہ پاکستان کے متنازع ترین انتخابات بننے جارہے ہیں، لیکن پھر چراغوں میں روشنی نہ رہی۔ متحدہ اپوزیشن بھی بکھرگئی، اس کے خواب بھی بکھرنے والے ہیں۔ اب بھی مگر کئی دانشور حسبِ معمول پیشین گوئیوں سے باز نہیں آرہے۔ ان کا خیال ہے کہ یہ حکومت بمشکل ایک سال پورا کرے گی۔ گویا پاکستانی سیاست میں کوئی بھی دن ہلچل سے خالی نہیں گزرتا۔

پاکستان میں انتخابات سے متعلق نہیں کہا جاسکتا کہ تمام جماعتیں ان پر متفق رہی ہوں۔ ہر بار ہاری ہوئی جماعت دھاندلی ہی کی بات کرتی ہے۔ جیتی ہوئی جماعت اسے تاریخ کے شفاف ترین انتخابات ثابت کرانے پر تلی رہتی ہے۔ لیکن ان دو انتہاؤں سے الگ رہ کر تجزیہ کیا جائے تو کوئی شک نہیں کہ ان انتخابات میں بدترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا گیا۔ 25 جولائی کی شام جب ہم آن ایر بیٹھے تو سب کے ذہنوں میں یہی خیال تھا کہ آج رات 12 بجے تک اکثر نتائج کا اعلان کرکے اُٹھیں گے۔ الیکشن کمیشن جس قسم کے انتظامات کا ڈھنڈورا پیٹتا رہا تھا، اس سے تو کم ازکم یہی یقین تھا۔ یہ وہم وگمان میں نہ تھا کہ اس میں کئی دن بھی لگ سکتے ہیں۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے 2013ء کے انتخابات میں غیرسرکاری نتائج 12 بجے تک آچکے تھے اور اگلے دن کے اخبارات کی سرخیوں اور شہ سرخیوں سے تمام جماعتوں کی اصل پوزیشن بھی واضح ہوچکی تھی۔ اس بار مگر الیکشن کمیشن آف پاکستان نے سستی، نااہلی کے نئے ریکارڈ قائم کردئیے اور اگر ان انتخابات سے متعلق کل کوئی تنازع پیدا ہوتا ہے تو اس کا سہرا اسی ادارے کے سر ہوگا۔ بدقسمتی سے اسی وجہ سے تحریک انصاف کی پہلی حکومت پر بھی سوالیہ نشان ہمیشہ رہے گا۔

سوال مگر یہ ہے کہ ہاری ہائی جماعتیں اور بالخصوص پاکستان مسلم لیگ ن اس انتظامی ناکامی کو ووٹ چوری کا نام دے کر جو کچھ کررہی ہے، کیا اس کی تعریف کی جاسکتی ہے؟ کیا اسے کوئی جواز فراہم کیا جاسکتا ہے؟ بظاہر اس کا مقصد عمران خان سے بدلہ چکانا ہے یا پھر کسی قسم کا دباؤ قائم کرکے اپنی قیادت کو کسی قسم کا ریلیف فراہم کرنا ہے۔ احتجاج کرنا ہر جماعت کا جمہوری حق ہے۔ لیکن ہم نے پچھلے پانچ سال پاکستان مسلم لیگ ن کو یہی کہتے سنا کہ حدود کا خیال رکھا جائے۔ وزیراعظم کے انتخاب والے روز ہم نے ایوان کے اندر جس قسم کا رویہ دیکھا، وہ کسی صورت تعریف کے قابل نہیں۔ پوری دنیا کی نظریں ہم پر تھیں، مسلم لیگ کے لیے یہی موقع تھا کہ وہ ان روایات کو بدل ڈالتی جن کا شکوہ وہ پچھلے پانچ سال تک کرتی آرہی تھی۔ وہ جمہوری انداز میں اپنا احتجاج ریکارڈ کرواتی، لیکن جس انداز سے نعرے بازی کی گئی اور منتخب وزیراعظم کو بولنے نہ دیا گیا، وہ کسی صورت قابل تعریف نہیں۔

شاید یہی وجہ ہے کہ وزیراعظم کے انتخاب والے دن ہم نے پاکستان مسلم لیگ ن کو تنہا دیکھا۔ متحدہ اپوزیشن کا حصہ رہنے والی تمام جماعتیں ان کے اس احتجاج سے لاتعلق رہی۔ بڑی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی نے اس دن ثابت کردیا کہ ہم ایسے کسی احتجاج کا حصہ نہیں بنیں گے۔ جبکہ متحدہ مجلس عمل بھی ہمیں ن لیگ کا ساتھ دیتی نظر نہیں آئی۔ پاکستان پیپلز پارٹی کو اس پر طعنہ دیے جارہے ہیں کہ جس فرینڈلی اپوزیشن کا کردار اس نے ن لیگ کے لیے ادا کیا تھا، اب وہی رول تحریک انصاف کے لیے ادا کیا جائے گا۔ لیکن دیکھا جائے تو انتخابات میں دھاندلی سے متعلق پاکستان پیپلز پارٹی کا موقف ن لیگ سے زیادہ مضبوط رہا۔ بلاول بھٹو زرداری نے جو تقریر کی اور اس میں انہوں نے جس انداز سے تمام خرابیوں کا ذکر کیا، عملیت پسند اسے قدر کی نگاہ سے دیکھ رہے ہیں۔

اب امتحان پاکستان تحریک انصاف کا ہے۔ اسے معلوم ہونا چاہیے کہ وہ اپوزیشن جماعت نہیں رہی، وہ حکومت میں ہے اور حکمران جماعتوں کو ہمیشہ فراخ دلی کا مظاہرہ کرنا ہوتا ہے۔ بدقسمتی سے عمران خان نے اپنی پہلی تقریر میں جو تاثر قائم کیا تھا اور بعد میں اپنے انتخاب تک جس انداز سے وہ چلے تھے، یوں لگ رہا تھا کہ وہ ایک بالکل مختلف عمران خان ہیں۔ لیکن وزیراعظم کے انتخاب والے دن وہ جیسے اپنے پرانے انداز میں ہمیں نظر آئے، وہ نہ صرف حیران کن بلکہ پریشان کن تھا۔ کیا کسی ملک کا وزیراعظم اپوزیشن کو احتجاج پر اُبھارنے کا خوفناک اقدام کرسکتا ہے؟ وزیراعظم کے انتخاب والے دن اپنے مخالفین کو للکارنا اور ’’کسی چور کو این آر او نہیں ملے گا‘‘ جیسے نعرے لگانا ان کے منصب کے منافی تھا۔ پاکستان مسلم لیگ کا مقصد یہی تھا اور وہ اس روز اپنے اس مقصد میں مکمل طور پر کامیاب نظر آئی۔ بقول خواجہ آصف: خان صاحب کی انا کو سوئی چبھوئی اور خان صاحب برس پڑے۔

عمران خان کو بڑے چیلنجز کا سامنا ہے۔ اگر وہ اسی طرح معمولی باتوں پر ردِعمل دیں گے تو وہ کچھ کیسے کرسکیں گے جن کا وعدہ وہ وکٹری اسپیچ اور بعد میں قوم سے خطاب میں کرچکے ہیں۔ ان کے سامنے کئی بڑے چیلنجز ہیں۔ ملکی معیشت، بے روزگاری، غربت، توانائی کے مسائل اور بین الاقوامی تعلقات ایسے معاملات ہیں جن پر سوچتے ہوئے پریشانی لاحق ہوجاتی ہے۔ اہم ترین بات یہ ہے کہ ہر ملک وقوم کے ساتھ یہ مسائل اور مشکلات رہتی ہیں، لیکن عمران خان نے جو خوش کن مناظر دکھائے ہیں، اور جتنے مختصر وقت میں ملک کو درست ٹریک پر چلانے کا وعدہ کیا ہے، اس پر عملدرآمد نہ ہونا مایوسی کو دعوت دے گا۔ خان صاحب کو ووٹ دینے والا ہر فرد اس قدر پرامید ہے کہ خیال ہے کہ عمران خان کے پاس جادو کی کوئی چھڑی ہے، وہ جیسے ہی گھمائیں گے یہ ملک خوشحالی کی راہ پر چل پڑے گا۔

وزیراعظم عمران خان کی کامیابی کا اصل دارومدار ان کی ٹیم پر ہے۔ جس 20 رکنی ٹیم کا انتخاب کیا ہے، کیا اس سے یہ اُمید رکھی جاسکتی ہے کہ وہ ان کے خواب کو پورا کرسکیں گے؟ ان میں سے کئی اہم ترین عہدے فی الحال عمران خان نے اپنے پاس رکھے ہیں۔ برسبیل تذکرہ عرض کردوں کہ نواز شریف پر بڑا اعتراض یہ ہوتا تھا کہ انہوں نے وزارت خارجہ کسی کو نہیں دی، کیونکہ انہیں اپنے سے بہتر کوئی شخص نظر نہیں آرہا تھا۔ اب وزارتِ داخلہ جیسی اہم وزارت کے لیے پاکستان تحریک انصاف میں ہمیں کوئی ایسی شخصیت نظر نہیں آرہی جنہیں یہ اہم منصب سونپا جائے۔ وزارتِ داخلہ کے لیے شیخ رشید، پرویز خٹک اور شفقت محمود اُمیدوار تھے اور تینوں اہم۔ اگرچہ ڈاکٹر شعیب سڈل کو مشیر داخلہ لے کر آنا قابلِ تعریف ہوسکتا ہے۔ وہ ایک قابل اور محنتی انسان ہیں۔ لیکن اتنی اہم وزارت بغیر وزیر یا مشیر کے رکھنا مناسب نہیں۔

کابینہ کی ہی بات کی جائے تو خواتین کی نمایندگی مایوس کن ہے۔ نئے پاکستان سے یہ توقع نہیں تھی۔ اسی طرح شفقت محمود ایک باصلاحیت انسان ہیں۔ انہیں کسی بہتر جگہ پر لگایا جاسکتا تھا۔ شیریں مزاری دفاع اور بین الاقوامی تعلقات پر عبور رکھتی ہیں۔ انہیں انسانی حقوق کی وزارت دینا ان سے جان چھڑانے کے مترادف ہے۔ نئے پاکستان کا وزیر قانون پاکستان تحریک انصاف سے ہی آنا چاہیے تھا، لیکن پرانے پاکستان کے ایک ڈکٹیٹر کے اہم ساتھی کو اس اہم منصب پر لگادیا گیا ہے۔ ڈاکٹر عشرت حسین کو شامل کرنا قابلِ تعریف قدم ہے۔ انہیں انتہائی اہم قلمدان دیا گیا ہے۔ اگر انہیں اختیارات دئیے جائیں، اصلاحات کا موقع دیا جائے اور ان اصلاحات پر عملدرآمد کروایا جائے تو یقیناًیہ ہماری قسمت بدلنے کے لیے اہم ہوگا۔ فیصل واوڈا سے شپنگ یا تجارت کے شعبے میں کام لیا جاسکتا تھا، علی زیدی کو انفارمیشن ٹیکنالوجی کا قلمدان سونپا جاسکتا تھا، لیکن انہیں جو ذمہ داریاں سونپی گئیں، وہ ناقابلِ فہم۔

پاکستان تحریک انصاف کی حکومت سے نئے چہروں کی اُمید رکھی جارہی تھی۔ لیکن ہمیں خاصی مایوسی ہوتی ہے۔ خصوصاً پنجاب کا وزیراعلیٰ ایک ایسے شخص کو بنایا گیا جن کا سابق ریکارڈ زیادہ اچھا نہیں۔ یہ اہم ترین صوبہ ہے، وزیراعلیٰ پنجاب کا مقابلہ شہباز شریف جیسے بہترین مینیجر کے ساتھ ہوگا۔ اگر وہ انہیں شکست دینے میں کامیاب نہیں ہوئے تو یہ پاکستان تحریک انصاف کی بدترین ناکامی ہوگی۔ جبکہ تحریک انصاف کو ناکامی سے بچنا ہر حال میں ضروری ہے۔ وہ اس ملک کی ایک بڑی آبادی یعنی نوجوانوں کی اُمیدوں کا مرکز ہے۔ اگر ان کے خواب ٹوٹ کر بکھرگئے تو شاید دہائیوں تک دوبارہ کسی پر اعتماد اور یقین کرنا مشکل ہوجائے گا۔


ای پیپر