آدمی مسافر ہے ۔۔۔ آتا ہے جاتا ہے
20 اگست 2018 2018-08-20

’’فائیو سٹار‘‘ ہوٹل میں کھانا ۔۔۔ ہمیں جب بھی کھلایا جاتا ہے یا ایسے کھانے کی دعوت جب بھی ہمیں دی جاتی ہے ہم ’’سارے کام‘‘ چھوڑ کر جا پہنچتے ہیں ۔۔۔ ’’کہاں‘‘؟ بھئی جہاں ہمیں بلوایا جاتا ہے ۔۔۔؟! ’’خوراک‘‘ کا معاملہ ہے ۔۔۔

رات والا کھانا بھی خوب تھا کیونکہ اُس کھانے میں سب ہم سے سینئر تھے کچھ عمر میں، کچھ مرتبے میں اور کچھ ’’گپ بازی‘‘ میں ۔۔۔ ہمیں ’’گپ بازی‘‘ میں سینئر لوگوں کی محفل میں بیٹھ کر بڑا اچھا لگتا ہے، مزہ آتا ہے ۔۔۔ کیونکہ ہم خود بھی تو ’’گپ بازی‘‘ میں اپنی مثال آپ ہیں ۔۔۔ استاد کمر کمانی کہتا ہے کہ اگر ’’تم گزشتہ صدی کے اوائیل میں بغداد میں پیدا ہوتے تو تمہارا شمار بغداد کے اُن بڑے ’’گپ بازوں‘‘ میں ہوتا جو بغداد کے چوک چوراہوں میں بڑے بڑے مجمع لگاتے اور لوگوں کو ایسی ایسی ’’خوفناک‘‘ مزہ دینے والی گپیں سناتے کہ لوگوں کو گھنٹوں سمجھ نہ آتی کہ ہم گپیں مزید سنیں یا گھر کے کام کاج کو نکلیں ۔۔۔ جیسے بچپن میں ہمیں امی ’’مونگی کی دال‘‘ لینے دوکان پر بھیجتیں تو ہم مشہور بنگالی بابا ’’کالے خان مستانہ‘‘ کے میلے یا تماشے میں گھس جاتے جہاں پر ہر رنگ ہر انداز کی بے ہودگی دونوں جانب سے عوام بھی جُغت بازی کا مظاہرہ کرتے اور تماشہ لگانے والا ۔۔۔ تو مت پوچھیں؟ ۔۔۔ ہمیں اُس وقت پتہ چلتا جب گھر سے بھائی جان مجمع میں ہمیں ’’بڑے انہماک‘‘ سے تماشتہ دیکھتے ہوے رنگے ہاتھوں پکڑ لیتے اور پھر ۔۔۔ باقی کی باتیں ضروری نہیں کہ ہم آپ سے Share کریں آپ خود بھی تو اپنا دماغ استعمال کر لیں ۔۔۔

Share سے یاد آیا ۔۔۔ میں پسندیدہ کباب کھانے میں رات محو تھا کہ بچے کا گھر سے SMS آیا ۔۔۔ ’’ذرا اپنے نئے وزیر اعلیٰ کی وائرل ہونے والی ’’ویڈیو‘‘ تو چیک کریں جس میں وہ شور مچا رہے ہیں ۔۔۔ غصے کر رہے ہیں تڑپ رہے ہیں پھڑک رہے ہیں کیونکہ دوستوں نے اُنھیں مری کی ’’چےئر لفٹ‘‘ پر بٹھا دیا اور اُن کا خوف کے مارے جو بُرا حال ہوا ۔۔۔؟!‘‘ ایک یہ فیس بک پر وائرل ہونے والی Videos بھی اب روتے ہوؤں کو ہنسانے کے لیے کافی ہیں ۔۔۔

ہم نے فیس بک جو کھولی تو ’’کانپ‘‘ گئے ’’ہاسا‘‘ نکل گیا ۔۔۔ میں نے Boss Jee کو بھی دکھائی وہ بھی ہنس ہنس کے دوہرے ہو گئے ۔۔۔ عزیر بھائی کے منہ سے تو ہنسی کے مارے کباب ۔۔۔ نکل کے دور جا گرا ۔۔۔ ہم نے دیکھا ۔۔۔ منہ سے نکل کے گرنے والا کباب دور پڑا

۔۔۔ ’’ہنس‘‘ بھی رہا تھا اور اللہ کا شکر بھی ادا کر رہا تھا ۔۔۔

’’ہاسا‘‘ تو اب ہمارا بہت سی باتوں پہ نکلے گا بس ذرا سنسر میں کچھ نرمی ہو جائے ناں ۔۔۔ ’’پھر‘‘ ۔۔۔ ’’سنسر‘‘ اوہ یار ۔۔۔ آپ کو میں کیا کیا سمجھاؤں آپ ’’چینلز کے اس دور‘‘ کے لوگ ہیں سمجھا کریں ناں ۔۔۔ ’’سنسر‘‘ تو ہر دور میں ہوتا ہے اگر سنسر نہ لگے تو لوگ ’’ایسی ویسی‘‘ فلم پوری دلجمعی کے ساتھ مکمل دیکھنے کے بعد سینما کی اینٹ سے اینٹ بجا دیں ۔۔۔ یہ کہتے ہوئے کہ ’’ایسی بے ہودہ فلمیں سینما ہال میں دکھائی جانے لگی ہیں‘‘ ۔۔۔؟!

’’اِن کو شرم آنی چاہئے‘‘ ۔۔۔؟!!!

پنجاب کے نئے وزیر اعلیٰ کے ’’پرانے‘‘ معاملات پر بھی پریس میں بہت سی الٹ پلٹ خبریں چل رہی ہیں لیکن ۔۔۔ فواد چوہدری کی وضاحت بھی تو ساتھ ساتھ ہے ۔۔۔ اس قدر دلچسپ خبروں کا دور ہے کہ ہم تو اپنے محبوب راہنماء میاں نواز شریف کو بھی شاید یاد کرنا بھول چکتے اگر ہمیں عمران خان کی وہ Video بھی فیس بک پر ناں دیکھنے کو ملتی جس کو اب تک 05 لاکھ سے زیادہ لوگ View کر چکے ہیں جب وہ شیروانی کے نیچے جیب میں چھپی اپنی عینک نکالتے ہوئے نہایت ’’مشکل‘‘ کا شکار تھے ۔۔۔ میں نے اس ’’کلپ‘‘ کا جائزہ جتنی بار بھی لیا میرا ’’ہاسا‘‘ ہر بار نکلا اور میں لوٹ پوٹ بھی ہوا ۔۔۔ Boss Jee ۔۔۔ جی جی ۔۔۔ آپ نے صحیح پہچانا جناب عطاء الحق قاسمی صاحب جس محفل میں ہوں وہاں نیا لطیفہ نہ ہو ۔۔۔ ممکن نہیں ۔۔۔ ’’جی جی بجا فرمایا آپ نے حافظ عزیر تو وہاں ہوتے ہی ہیں ۔۔۔ خبر دار آپ نے اُن کو لطیفہ کہا یا سمجھا ۔۔۔ وہ معقول شخص ہیں اور شاعر بھی ہیں ۔۔۔ ’’یقین نہ آے تو اُن کی شاعری کی کتاب مجھ سے طلب کر لیں؟‘‘ ۔۔۔ میرے بکسے میں دس بارہ ابھی تک پڑی ہیں جو اُنھوں نے مجھے تبصرہ کے لئے دی تھیں اور میں نے دوستوں میں ’’وائرل‘‘ کر دیں ۔۔۔؟

جناب سہیل وڑائچ نے عطاء الحق قاسمی صاحب سے جنات کے بارے میں گفتگو کی تو برادر عزیز مشہور کالم نگار اور دانشور ساتھی یاسر پیر زادہ نے ہمیں امریکہ میں لگنے والے اُس مشہور ’’شو‘‘ کا حوالہ دیا کہ جس میں ’’جادو گر‘‘ کہیں چھپتا ہے اور پل بھر میں کہیں اور سے اچانک نمودار ہو کے لوگوں کو ورطہء حیرت میں ڈال دیتا ہے ۔۔۔ اندھیرے میں اُس کی اچانک موٹر سائیکل پر نمودار ہونے کی منظر کشی بھی یاسر پیرزادہ ہی کر سکتے ہیں ۔۔۔ میں جب بھی یاسر پیرزادہ کو دیکھتا مجھے لگتا ۔۔۔ ’’ہونہار بروا کے لمبے لمبے ہاتھ‘‘ ۔۔۔ لیکن اب مجھے ہونہار بروا ایک نہائت صاحب مطالعہ دانشور کے طور پر چاہا جانے والا دوست لگا ۔۔۔ نہائت ’’خوبصورت شکل‘‘ و صورت والا کباب کھاتے ہوئے، عطاء صاحب نے بتایا کہ یہ کباب اپنی اصل خوبی سے یعنی ’’مرچوں‘‘ سے پاک ہیں اور نفاست میں اپنی مثال آپ ۔۔۔ یہ تو لکھنوی کباب لگتے ہیں ضیاءؔ نقشبندی نے اپنی نفیس مسکراہٹ بکھیرتے ہوئے کہا ۔۔۔ (اُس وقت اُن کی توجہ ہماری طرف کم اور ’’کباب‘‘ کی طرف زیادہ تھی) ۔۔۔

’’ہاں سہیل وڑائچ صاحب ۔۔۔ میں ایک بار لکھنو میں مشاعرہ پڑھنے گیا تو صبح سے شام تک دیکھتا رہا کہ لکھنو میں لکھنو کی مشہور کوئی بات نظر آئے ۔۔۔ کوئی لکھنو کا بانکا کہیں ماڈرن لباس میں ہی نظر آ جائے ۔۔۔ مگر مایوس ہی رہا ۔۔۔ لیکن اُسی شام جب ہم ایک تانگے پر سفر کر رہے تھے کہ ۔۔۔ تانگہ بان نے ہمیں لکھنو کی روائتی گفتگو سے بہر حال محظوظ کر ہی ڈالا ۔۔۔ عطاء صاحب نے مسکراتے ہوئے بتایا ۔۔۔

’’ہم نے تانگہ بان سے کہا ۔۔۔ بھائی ہمیں جلدی ہے تانگہ ذرا تیز چلاؤ ۔۔۔ تو وہ تھوڑا گھبرایا اور پھر گھوڑے کی طرف نہایت عقیدت سے ہاتھ کرتے ہوئے بولا ۔۔۔ ’’انھوں نے دراصل صبح سے کچھ نہیں کھایا‘‘ ۔۔۔

ہم گھوڑے کو احترام سے بلائے جانے کے واقعہ پر مسکراتے ہوئے اٹھے تو ۔۔۔ ہوٹل کی لابی میں مشہور گانا ایک گلوکار ۔۔۔ نہائت محبت سے گا رہا تھا اور سب لوگ اُس گانے کے اشعار اور میوزک میں محو تھے ۔۔۔؂

آدمی مسافر ہے ۔۔۔ آتا ہے جاتا ہے

آتے جاتے رستوں میں ۔۔۔ ڈوب جاتا ہے

میں نے محسوس کیا کہ ’’ آدمی واقعی مسافر ہے‘‘ ۔۔۔ آج میاں نواز شریف جیل کی کوٹھڑی میں اپنی بیٹی اور داماد سمیت بند ہیں اور پاکستان کے بائیسویں وزیر اعظم کے طور پر عمران خان نے حلف اُٹھا لیا ۔۔۔ تقریب میں بھارتی سکھ سدھو جی اور دوسرے احباب بھی شریک تھے ۔۔۔ اب عوام منہ کھولے، آنکھیں کھولے، کروڑ نوکریوں کے منتظر ہیں پچاس لاکھ گھروں کی آس میں ہیں ۔۔۔؟؂

حسرت کے میناروں پہ چڑھے لوگ

اور اُن کی ۔۔۔

گہرائی میں ڈوبی ہوئی

سوچیں اُنھیں اِک دن

دولت کے سمندر میں ڈبو دیں گی کہ اکثر

لالچ کی دیواروں میں مقید جو رہے ہوں

’’خوشبو کے سمندر میں بھی ۔۔۔

مایوس رہیں گے۔۔۔؟!!!


ای پیپر