باتیں پاکستان کی!
20 اگست 2018 2018-08-20

وزیراعظم عمران احمد خان نیازی نے وزیراعظم بننے کے اگلے روز قوم سے خطاب کے دوران جو باتیں کیں یوں محسوس ہورہا تھا جیسے یہ باتیں قومی سطح پر کوئی پہلی دفعہ کررہا ہے۔ عوام الناس اپنے گلی محلوں اور جلسے جلوسوں میں توکہتے رہتے ہیں کہ ہمارا پیسہ لوٹا گیا، پاکستان کو کھانے والے مل کر اس کی بربادی کا ساماں کررہے ہیں لیکن شومئی قسمت سے قومی سطح پر ان باتوں کو سنجیدگی سے لینے والا کوئی نہیں تھا۔ یوں عوام کی کربنگ عوام تک ہی رہ جاتی تھی۔ وزیراعظم نے یہ کہہ کر کہ میں بطور وزیراعظم کسی دوسرے ملک سے امداد مانگنے جاؤں گا تو میرا سر شرم سے جھک جائے گا لوگوں کے دل جیت لئے ہیں۔ انہوں نے قوم سے درخواست کی کہ وہ ساتھ دے توہم کسی سے بھیک نہیں مانگیں گے۔ انہوں نے یہ بھی بتا دیا کہ قوم کس طرح سے ساتھ دے سکتی ہے۔ قوم کا ہر ہر فرد جو اس کے ذمے ٹیکس ہے وہ ادا کرنا شروع کردے۔ ہمارے ہاں کے امریکہ اور یورپ پلٹ افراد اکثر اپنے ملک کو بُرا بھلا کہہ رہے ہوتے ہیں اور دیگر ممالک کی تعریفیں کررہے ہوتے ہیں کہ وہاں عوام کی بہت عزت ہے اور عوام کے بہت حقوق ہیں لیکن وہ یہ بات نہیں کرتے کہ عوام کس طرح ذمہ داری سے اپنے ٹیکس ادا کرتی ہے اور اپنے ذمے کے واجبات ادا کرتی ہے بصورت دیگر وہاں کی ریاست کس قدر سختی کے ساتھ وہ ٹیکس وصول کرتی ہے تب کہیں جا کر وہاں کی ریاستیں اس قابل ہوتی ہیں کہ وہ اپنے شہریوں کو مفت طبی سہولیات فراہم کرتی ہیں، بے روزگاروں کو الاؤنس دیا جاتا ہے، بوڑھوں کو عزت و تکریم کے ساتھ رکھا جاتا ہے۔ آبادیوں کو صاف ستھرا رکھنے کے اصول و قواعد ہیں۔ حتیٰ کہ اپنے اپنے گھروں کے سامنے سے برف کے ڈھیر کی صفائی کو یقینی بنانا بھی رہائشیوں کی ذمہ داری ہے۔ وگرنہ بھاری جرمانے عائد کئے جاتے ہیں۔ گھروں میں سرکاری پانی کے نل کھلے رہیں تو جرمانہ ہوتا ہے کہ ضائع ہونے والے پانی پر کسی دوسرے کا حق تھا۔ یہ باتیں ہمیں اس لئے متاثر کرتی ہیں کہ بدقسمتی سے ہمارے ہاں کسی نے قوم کی اس طرح سے تربیت کی ہی نہیں اور ریاست کے حکمرانوں نے معاملات کو قومی غیرت اور حمیت کے حوالوں سے دیکھا ہی نہیں اس لئے ہماری قوم قرضوں کے پہاڑ تلے دبی ہوئی ہے۔ اب تو قرضوں کے اوپر کا سود اُتارنے کے لئے بھی دوسرے ممالک سے نئے قرضے لینے پڑتے ہیں۔ وزیراعظم عمران خان کا یہ عزم کہ ہم قرضوں کی روایت ختم کریں گے خوش آئند ہے۔ ظاہر ہے یہ قرضے بیک جنبش ختم نہیں ہوپائیں گے۔ آئی ایم ایف، ورلڈ بنک اور دیگر ڈونر ممالک سے دھیرے دھیرے ہی چھٹکارا حاصل ہوگا اور اپنے ملک پاکستان میں ٹیکس کا نظام بہتر کرکے اور سادگی اختیار کرکے زرمبادلہ بچانے کی کوشش کی جائے گی اور قرضوں کے حصول کی مد کو کم کرتے کرتے ایک وقت آئے گا کہ پاکستان مکمل طور پر اپنے پاؤں پر کھڑا ہوجائے گا اور بیرونی قرضوں سے چھٹکارا حاصل کرلے گا۔

وزیراعظم عمران خان نے جو باتیں کیں وہ دل کو اس لئے بھی لگیں کہ پاکستان کی باتیں تھیں، وہ پاکستان کے غریب عوام کی باتیں تھیں اور درحقیقت وہ دل کی باتیں تھیں جو درد کے ساتھ کی گئیں کہ ان میں ایک عزم اور جنون بہرکیف دکھائی دیا۔ وزیراعظم کی جماعت کی پالیسیوں سے کسی کو اختلاف ہوسکتا ہے۔ اگر کسی کی رائے مختلف ہے تو وہ اس کا اظہار آئینی انداز سے جاری رکھے لیکن اب عمران خان صرف ایک جماعت کے سربراہ نہیں وہ اس مملکت خداداد کے سربراہ ہیں، وہ اگر کوئی مثبت ایجنڈا اور افکار رکھتے ہیں تو عوام الناس کو ان کے ہاتھ مضبوط کرنا ہوں گے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ جو لوگ کرپشن سے پردہ اُٹھائیں گے تو جو رقم کی وصولیاں ہوں گی اس میں سے کچھ حصہ یعنی 20 فیصد ان کو بھی دیا جائے گا۔ اس طرح سے عوام کے لئے ایک قسم کی ترغیب اور ذمہ داری دونوں ہیں کہ وہ قومی دولت لوٹنے والوں اور غبن کرنے والوں کے بارے میں حکومتی اداروں کو آگاہ کریں تاکہ ملک کے خزانے سے لوٹی ہوئی رقوم واپس ملکی خزانے میں جمع ہوسکے۔ تبھی جا کر ممکن ہوسکے گا کہ پاکستان کے ہر شہری کے پاس ہیلتھ کارڈ ہو اور وہ ملک کے کسی بھی ہسپتال میں جا کر اپنا علاج باعزت طریقے سے کروا سکے اور انہیں در در کی ٹھوکریں نہ کھانی پڑیں۔ پولیس نظام کو ٹھیک کرنے کی بات بھی وزیراعظم نے کی اور برملا کی۔ یقیناًہمارا پولیس کا نظام بہت فرسودہ ہے جہاں سائل کے لئے مسائل ہی مسائل ہیں۔ تھانوں میں عام آدمی کی کوئی عزت نہیں۔ پیسے اور عہدے والوں کی ہے۔ بہت سارے لوگ رشوت دے کر اپنے بچوں کو پولیس کے محکمے میں بھرتی کرواتے ہیں اُنہیں پتہ ہوتا ہے کہ بعد میں یہ پیسے پورے کرنا کوئی مسئلہ ہی نہیں ہے۔ بہت سے لوگ پولیس میں ایسے آتے ہیں جن کو رزقِ حلال کا کانسپٹ ہی نہیں ہے کہ کسی کو ڈرا دھمکا کر، بلیک میل کرکے، مجبوری سے فائدہ اُٹھا کر جو پیسہ کمایا جاتا ہے وہ حرام کا پیسہ ہوتا ہے۔ لیکن نہ تو ماں باپ ان کی تربیت کرکے عملی زندگی میں بھیجتے ہیں اور نہ ہی محکمانہ ٹریننگ کے دوران اخلاقی تربیت کی جاتی ہے اور عملی زندگی میں تو اوپر سے لے کر نیچے تک آوے کا آوا ہی بگڑا ہوا ہوتا ہے۔ پولیس میں یقیناًایسے افسران اور ملازمین ہیں جو حرام رزق کے قریب بھی نہیں جاتے لیکن اُن کی تعداد بہت کم ہے اور ان میں سے اکثر کھڈے لائن ہی لگے رہتے ہیں۔ بہر طور وزیراعظم نے پولیس ریفارمز، سول سروسز ریفارمز سمیت بہت سے اقدامات کرنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔ ان کے لئے دل سے دعا نکلتی ہے اُن کی نیت ٹھیک ہے تو اﷲ تعالیٰ اُن کے لئے راستے آسان بنائے اور وہ عملی طور پر پاکستان اور پاکستان کے عوام جو اپنی بہتری کے لئے ایک عرصے سے ترس رہی ہے کے لئے ایک ایسا ’پیراڈائم شِفٹ‘ لانے میں کامیاب ہوجائیں جس کا خواب علامہ اقبال اور بانی پاکستان قائداعظم محمدعلی جناح نے دیکھا تھا۔


ای پیپر