فلسفہء عیدقرباں۔۔۔اورہم
20 اگست 2018 2018-08-20

عیدِ قرباں کا فلسفہ۔۔۔سیدھا اور سادہ سا ہے کہ اپنی تمام تر خواہشات کو بلائے طاق رکھتے ہوئے ’’حکمِ ربی‘‘کے آگے من وعن سرِتسلیم خم کیا جائے۔اس حوالے سے تاریخِ اسلام کے اوراق قربابیوں کے واقعات سے بھرے پڑے ہیں۔ان میں کچھ واقعات تو ایسے ہیں کہ جن کی مثال نہیں ملتی،بالخصوص حضرت ابراہیم ؑ کا اپنے لختِ جگر حضرت اسماعیل ؑ کی قربانی پیش کرنا،اوردوسرا حضرت امام حسینؓکا اپنے 72 عزیزواقارب کے ساتھ بارگاہِ خداوندی میں اسلام کو زندہ رکھنے کی خاطرجانوں کانذرانہ پیش کرنا۔اور ذرانظامِ قدرت دیکھیں کہ سن ہجری کا آغاز بھی خاندانِ نبوت کی قربانیوں سے ہوااور اختتام بھی رضائے الہیٰ کے حصول کیلئے قربانی کے عظیم الشان جذبہء ایمانی پر ۔۔۔سبحان اللہ

آج ہی کا وہ دن ہے کہ جس دن حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے بیٹے حضرت اسماعیل علیہ السلام کی قربانی ربِ قدوس کی بارگاہِ مقدس میں پیش کی تھی،جوربِ قدوس نے قبول فرمائی،اسی خوشی میں ہم عید مناتے ہیں ۔

ربِ غفور نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اس قربانی کو اس قدر پسند فرمایاکہ قیامت تک امتِ مسلمہ کیلئے قربانی کو ضروری قرار دیتے ہوئے’’ یاد گار‘‘ بنا دیا۔ہر سال پوری دنیا میں بسنے والے بے شمار مسلمان حضرت ابراہیم علیہ السلام کی تقلید میں جانوروں کی قربانی کا نذرانہ ،بارگاہِ خداوندِ قدوس میں پیش کرنے کی سعادت حاصل کرتے ہیں۔

احکاماتِ خداوندی کو بجا لانے میں ’’اخلاص‘‘ کا ہونا بے حد ضروری ہے۔حضورِ اقدسؐ کا فرمانِ مقدس ہے کہ’’ بے شک!اللہ تعالیٰ تمہاری طرف اور تمہارے اموال کی طرف نہیں دیکھتا بلکہ وہ تو تمہاری نیت کو دیکھتا ہے۔‘‘

پھر ایک جگہ اللہ تعالیٰ نے دنیا کی سب سے عظیم کتاب قرآن پاک میں ارشاد فرمایاکہ’’خدا وندِ کریم کو قربانی کا گوشت یا خون نہیں پہنچتا بلکہ اُسے تو صرف تمہاراتقویٰ پہنچتا ہے۔‘‘

قارئینِ محترم!عیدِ قرباں کے منانے کا مقصد یہ ہے کہ مسلمانوں کے اندر بھی وہ ’’روحِ ایمان‘‘ پیدا ہو جس کا عملی مظاہرہ ،حضرت ابراہیم علیہ السلام اورحضرت اسماعیل علیہ السلام نے ہزاروں سال قبل کیا تھا۔لیکن دیکھنے میں یہ آیا ہے کہ یہ عظیم الشان دن بھی فقط ایک تہوار بن کر رہ گیا ہے۔اہلِ ثروت لوگ اس مقدس تہوار کے ذریعے بھی نمود ونمائش کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتے ۔جس سے معاشرے کے غریب اور نادارطبقوں میں اس روز احساسِ کمتری پوری شدت سے جنم لیتا ہے۔آج امتِ مسلمہ جن مسائل اورحالات سے دوچار ہے اس کی بنیادی وجہ بھی یہی ہے کہ ہم نے اپنے دینی شعار کی اصل روح کو بھلا دیا ہے۔دنیا کی چاہت اور دیکھا دیکھی اپنے سٹیٹس کو برقرار رکھنے کی خاطر اسلام سے کوسوں دور ہو چکے ہیں ۔اوردنیا تو ایک ایسی ظالم چیز کہ جس کے بارے میں اللہ کے پیارے حبیب صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا فرمان مقدس ہے کہ (مفہوم) ’’دنیا ایک مردار ہے ،اور اس کا چاہنے والا کتا ہے۔‘‘

دن بہ دن بگڑتی ہوئی صورت حال کا اگر آج جائزہ لیں تو تقریباََ ہر دوسرا شخص صرف اورصرف اپنی دنیا بنانے کے چکروں میں اخلاقی اقدار کو بھی پس پشت ڈالتے ہوئے اپنی آخرت سے بے نیاز ہے۔تیس ہزار ماہانہ تنخواہ لینے والا بھی ’’اوپر‘‘کی کمائی کیلئے ہاتھ پاؤں مارنے میں ذرا شرم محسوس نہیں کرتا۔حکمران طبقہ کی تو بات ہی کیا کرنی کہ وہ تو اس حد تک’’گِر‘‘چکے ہیں کہ بیان کرتے ہوئے بھی شرم آتی ہے۔ساری دنیا پہ حکومت کرنے والا حکمران ذولقرنین جب قریب المرگ تھا تو اُس نے وصیت کی تھی کہ’’مجھے دفن کرتے وقت میرے دونوں ہاتھوں کو قبر سے باہر نکال دیناکہ لوگ اس بات سے سبق سیکھیں کہ ساری دنیا پہ حکمرانی کرنے والابادشاہ بھی اس دنیائے فانی سے کوچ کرتے ہوئے ’’خالی‘‘ہاتھ جارہاہے۔‘‘

حضرت عمرؓکے وصال کے کچھ عرصہ بعد ایک شخص نے خواب میں حضرت عمرؓ کی زیارت کرتے ہوئے عرض کی کہ حضور! سنائیں کیسے گزری؟تو آپؓنے فرمایا کہ’’چھ ماہ حساب دیتے ہوئے ہی گزر گئی۔‘‘جب ایسے بے مثل حکمران کہ جن کا نقطہء نظر یہ تھا کہ اگر دریائے دجلہ پہ کتا بھی بھوکا مر گیا تو اُس کا حساب بھی عمرؓ کو دینا ہوگا،کو حساب دیتے ہوئے چھ ماہ گزر گئے۔تو آج کے یہ حکمران کس باغ کی مولی ہیں کہ جن کا ہر ہر لمحہ احکاماتِ خداوندی سے انحراف اور بے شمار مسائل میں گھری عوام سے بے نیازی میں گزررہا ہے۔نہ جانے کتنے ہی لوگ بھوک وافلاس اور دیگر مسائل کے باعث خود کشی کررہے ہیں۔

کیا ہی اچھا ہو کہ اب کی بار عید قرباں پہ غریب ملک (غریب تھا نہیں بد قسمتی سے گدوں کے نوچنے سے غریب ہوا)کے تمام امیر ترین احباب اور دیگر مقتدر شخصیات غریبوں کی خون پسینے کی لوٹی ہوئی دولت واپس اپنے ملک میں لانے کی قربانی دیں اور وہ غریب اور بے چارے معذور اربابِ اختیار جو اربوں کے قرضے این،آر،او،کے تحت معاف کرواچکے ہیں بھی اس ملک اور اس میں بسنے والی غریب عوام پہ رحم کرتے ہوئے اربوں روپے کے قرضے واپس کرنے کی قربانی دیں۔خدائے واحد آپ پر رحم کرے گاابھی بھی وقت ہے ،نہیں خبر کہ سانسوں کی مالاکب اور کس وقت ٹوٹ جائے ۔اور خدانخواستہ کہیں ایسا نہ ہو کہ خالی ہاتھ ہی نہیں اعمالِ صالح سے دامن بھی خالی ہو۔

عید قرباں کے اس عظیم تہوار منانے کا بھلا اس سے اچھا طریقہ اور کیا ہوسکتا ہے کہ ہم سب اجتماعی طور پر اور فرداََفرداََ اس روز اللہ تعالیٰ کے احکامات کا پاس رکھتے ہوئے رسولِ کریمؐ کی لائی ہوئی شریعتِ مطہرہ کے عین مطابق اپنی زندگی کے شب وروزگزارنے کا عہد کریں۔

خدائے واحد کی بارگاہِ مقدس میں دعاہے کہخدائے واحد اپنے پیارے محبوب خدائے واحد کے صدقے ہمیں شیطان کے شر سے بچا کر ،اسلام میں پورا پورا داخل ہو نے کی توفیق و ہمت عطا فرماتے ہوئے ہمارے ایمان کی سلامتی فرمائے اور ہمارے دلوں سے دنیا کی محبت نکال کر ،اپنی اور رحمتِ عالم ؐ کی محبت پیدا فرمائے۔آمین۔


ای پیپر