وزیر اعظم عمران خان اور پاک امریکہ تعلقات؟
20 اگست 2018 2018-08-20

پاکستان تحریک انصاف کے قائد عمران خان اپنی بائیس سالہ سیاسی جدوجہد کے بعد اسلامی جمہوریہ پاکستان کے بائیسویں وزیر اعظم منتخب ہو گئے ہیں۔ وزیر اعظم عمران خان کی شخصیت جدوجہد سے عبارت ہے انہوں نے کرکٹ کی دنیا میں پاکستان کو چیمپےئن ٹرافی سے نوازا‘پسماندہ ضلع میانوالی میں نمل یونیورسٹی تعمیر کی‘لاہور‘کراچی اور پشاور میں کینسر ہسپتال تعمیر کئے اور عمران خان فاؤنڈیشن کے پلیٹ فارم سے غریبوں کیلئے جدوجہد کی اور جب انہوں نے سیاست میں قدم رکھا تو اسی جہد مسلسل نے انہیں سیاست کے میدان میں کامیاب سیاستدان کے طور پر منوایااور آج عمران خان اس ملک و ملت کے وزیراعظم بن چکے ہیں۔ عمران خان نے اپنے پہلے قومی خطاب میں ایک عام فرد کی ترجمانی کی جس کو عوامی حلقوں میں غیر معمولی پذیرائی ملی۔ عمران خان مسند اقتدار پر تو براجمان ہوگئے ہیں لیکن اس وقت ملک کے خزانے میں ریاستی امور چلانے کیلئے پیسہ نہیں ہے ‘زرمبادلہ کے ذخائر کم ہیں‘ملک میں بیروز گاری‘ مہنگائی‘ توانائی بحران‘ تعلیم و صحت کی صورتحال ناقص ہے۔ پانی کی کمی کا مسئلہ شدید تر ہے ۔ان تمام مسائل کے حل کیلئے حکومت کو بیرونی قرض کی ضرورت ہوگی کیونکہ اس کے بغیر نہ ہی ملک کے مسائل حل ہو سکتے ہیں اور نہ ہی ملک کے معاملات اپنی سمت متعین کر سکتے ہیں۔ عمران خان کو وزارت عظمی کا منصب سنھبالنے سے قبل سعودی حکومت کی جانب سے تین بار فون کالز موصول ہو چکی ہیں اور سعودی حکومت پاکستان میں سرمایہ کاری کرنے کی شدید خواہش رکھتی ہے اور سعودی ولی عہد بھی اس سلسلے میں مسلسل رابطے میں ہیںیقیناًاسلامی ممالک سے بہتر روابط پاکستان کو معاشی طور پر استحکام بخش سکتے ہیں لیکن حکومت کو چاہئے کہ خطے میں از سر نو تعلقات کی داغ بیل ڈالنے سے قبل اس بات کا جائزہ لے کہ پاکستان کیلئے بہتری کی گنجائش کہاں ہے۔کہیں سعودی امداد اور سرمایہ کاری کسی گروپ بندی کا پیش خیمہ تو ثابت نہیں ہوگی کیونکہ سعودی عرب ابھی تک امریکہ بہادر کی گڈ بک میں شامل ہے۔امریکی محکمہ خارجہ کی جانب سے پاکستان میں بننے والی نئی حکومت کیساتھ ملکر کام کرنے کا پیغام دیا گیا ہے۔ عمران خان کو چاہئے کہ خارجہ پالیسی اس طرح ترتیب دے جس سے اس کے دیرینہ دوست ممالک ہاتھ نہ کھنچیں اور ملک ملت کے مفادات بھی داؤ پر نہ لگیں۔ترک پر امریکہ کی جانب سے جو اقتصادی پابندیاں عائد کی گئی ہیں عمران خان نے ان پابندیوں کو مسترد کیا ہے اب دیکھنا یہ ہے کہ ترک صدر کو عمران خان نے امریکہ کی جانب سے لگائی جانیوالی اقتصادی پابندیوں کیخلاف خیر سگالی کا جو پیغام پہنچایا ہے اس سے تو ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان امریکی نیت کو بھانپ چکا ہے۔اب عمران خان مسلم ممالک کو ایک صفحہ پر لانے اور ان کے درمیان جاری تنازعات کو ختم کروانے میں کیا کردار ادا کرتے ہیںیہ آنیوالا وقت طے کریگا۔ کیونکہ ایران شام اور ترکی کے بعد نجانے کس کی باری آجائے۔پاکستان ایک مضبوط فوجی اور ایٹمی طاقت ہے۔لہذا پاکستان کو عالمی سطح پر ہونیوالی ایسی تبدیلیوں پر بھی نظر رکھنا ہوگی پاکستان کو اس وقت اندرونی و بیرونی چیلنجز کا سامنا ہے۔ امریکہ میں مقیم معاشی سیسہ گراور مالیاتی ادارے روس‘ترکی اور ایران کیخلاف معاشی ہتھیاروں کو حرکت میں لا چکے ہیں۔ اور اس سلسلے میں ٹرمپ انتظامیہ اور امریکی اسٹیبلشمنٹ یورپ کو بھی خاطر میں نہیں لا رہی ہے۔ امریکہ کے اس سخت رویے نے پاکستان کیلئے بھی خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے کیونکہ امریکہ کی یہ شدید خواہش ہے کہ پاکستان کو معاشی طور پر دیوالیہ کر کے اس ملک کے جوہری اثاثوں کی صلاحیت کو سلب کر لے اور پاکستان بھارت کی علاقے میں حاکمیت کو تسیلم کرتے ہوئے گھٹنے ٹیک دے۔پاکستان اور امریکہ کے تعلقات کو اگر موجودہ حالات کے تناظر میں دیکھا جائے تو یہ اخذ کرنا دشوار نہیں ہے کہ امریکہ پاکستان کو دنیا میں تنہا کرنے کی پالیسی پر گامزن ہے یو ایس ایڈ میں کمی‘ورلڈ بنک‘ایشیائی بنک اور آئی ایم ایف اداروں کے سامنے پاکستان کیخلاف آکھڑا ہے۔اگر ہم پاکستان کی خارجہ پالیسی پر نظر دوڑائیں تو قیام پاکستان سے لیکر ابتک غلطیاں ضرور ہوئی ہیں۔ ہمیشہ پاکستان نے امریکی مفادات کی جنگ کو اپنی جنگ سمجھ کر لڑا۔اگر امریکہ پاکستان کی امداد میں کمی اور اقتصادی پابندیاں عائد کرتا ہے تو پھر یہ سلسلہ یہاں رکتا نظر نہیں آتابلکہ انتہا پسند تنظیموں کی آڑ میں ڈرون اٹیک اور ایبٹ آباد طرز کا آپریشن بھی خارج از امکان نہیں ہے۔ 1980ء سے قبل پاکستان کا شمار اعتدال پسند ممالک میں ہوتا تھا۔اس کے بعد امریکہ کی جنگ کو پاکستان نے اس انداز میں لڑا کہ پاکستان کو پچاس لاکھ مہاجرین‘ اسلحہ‘ منشیات‘ دہشت گردی‘ انتہا پسندی‘ فرقہ واریت اور مذہبی انتہا پسندی ورثہ میں ملی۔ لیکن اس کے باوجود ہیرو شیما‘ ناگا ساکی‘ شام‘ عراق‘ افغانستان‘ اور لیبیا میں اپنی مہم جوئی کی تاریخ لکھنے والا امریکہ پاکستان کی چالیس سالہ قربانیوں سے جڑی رفاقت کو تسلیم کرنے سے انکاری ہے۔وقت کا دھارا پاکستان میں تحریک انصاف کی نئی بننے والی حکومت کو پاک امریکہ تعلقات پر غور و فکر کی دعوت دے رہا ہے۔ ہمیں اپنی داخلہ و خارجہ پالیسیاں از سر نو ترتیب دیتے ہوئے افغانستان سے متعلق عشروں پرانی پالیسی میں بھی تبدیلی لانا ہوگی۔روس‘ چین ‘ایران اور ترکی سے مضبوط روابط برابری کی سطح پر قائم کرنا ہونگے۔ماضی کے جھروکوں میں جھانکتے ہوئے اپنی سمت درست کرنا ہوگیامریکی تعلقات کا از سر نو جائزہ لیتے ہوئے برابری کی سطح کے تعلقات کی بنیاد رکھنا ہوگی تاکہ ایک خود مختار‘غیرت مند ریاست کے طور پر اپنی عزت و وقار سے زندگی گذارنے کے عزم کا اعادہ کر سکیں۔اب چونکہ پاکستان میں نئی حکومت کا قیام عمل میں آچکا ہے۔ پاکستان کے نو منتخب وزیراعظم عمران خان ملک میں اقتصادی اصلاحات کیساتھ ساتھ ملک کی لوٹی گئی دولت واپس لانے کی بھی باتیں کرتے رہے ہیں اب نئی حکومت کو چاہیے کہ ملک میں معاشی استحکام لانے کیلئے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات اٹھائے۔جن افراد نے بھی اس ملک کی دولت کو بیدردی سے لوٹا ہے اور ملک کو معاشی طور پر عدم استحکام سے دوچار کیا ہے۔ان کیخلاف گھیرا تنگ کر کے کٹہرے میں لا کر ان سے لوٹی گئی دولت کی پائی پائی کا حساب لیں۔اگر خدا نخواستہ عمران خان کی حکومت ملک کی دولت لوٹنے والوں کا احتساب کرنے میں ناکام ہو گئی تو پھر ایسا نہ ہو کہ عوام اس نظام کو ہی لپیٹ کر رکھ دیں عمران خان کی حکومت کو عوام نے ملک میں مثبت تبدیلی لانے کی بنیاد پر ووٹ کے ذریعے منتخب کیا ہے مسائل‘بحران اور چیلنجز عمران خان کی حکومت کے سامنے سینہ تان کر کھڑے ہیں۔دوسری طرف امریکہ معاشی طور پر عدم استحکام سے دوچار کرنے کیلئے غیر متزلزل ارادہ کیے ہوئے ہے۔روس‘ وینزویلا‘ کینڈا‘ ایران اور ترکی کی مثالیں پاکستان کیلئے ایک سبق کے طور پر موجود ہیں۔اگر ہم اپنے ملک و ملت کے مفادات کے پیش نظر عالمی سطح پر بہتر تعلقات بنانے میں اور ملکی دولت لوٹنے والوں سے دولت واپس لے کر ملک کی معشیت کو سنبھالا دینے میں ناکام رہے تو پھر ہمیں امریکہ کے مفادات کا رکھوالا بننے کیلئے تیار رہنا چاہیے۔۔۔!


ای پیپر