مخلوق خدا کے ساتھ عید کی خوشیاں منائیے !
20 اگست 2018 2018-08-20

حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی رحمتہ اللہ فرماتے ہیں۔ ’’ عید اُن کی نہیں جنہوں نے عمدہ لباس سے اپنے آپ کو زیب تن کیا، بلکہ حقیقتاً عید تو ان کی ہے جو خدا کی وعید اور پکڑ سے ڈر گئے۔ عید اُن کی نہیں جنہوں نے بہت سی خوشبوؤں کا استعمال کیا عید تو اُن کی ہے جنہوں نے اپنے گناہوں سے توبہ کی اور اس پر قائم رہے۔‘‘ خوشیاں منانے کیلئے سب کا اپنا اپنا طریقہ کار ہوتا ہے ۔ہم دیکھتے ہیں پوری دنیا میں ہر دین و مذہب کا کوئی نا کوئی مذہبی تہوار ہوتا ہے ۔ مثلاََ عیسائی کرسمس ڈے ،ہندو ہولی اور دیوالی ،پارسی نوروز وغیرہ تقریباََ سبھی یہ تہورا خوشی کے لیے مناتے ہیں ۔مسلمانوں کی عید دیگر مذاہب و اقوام کے تہواروں سے بالکل مختلف حیثیت رکھتی ہے۔جیسا کہ بڑی عید ، بکرا عید ، عید قربان اور عید الاضحیٰ، یہ سبھی نام اس بابرکت اور عظیم عمل سے وابستہ ہیں جو حضرت ابراہیم ؑ سے منسوب ہے۔
عیدین کے ان ایام کیلئے کچھ مخصوص عبادات ہیں ،کچھ آداب اور عادات بھی مختص بھی ہیں، جن میں سے کچھ یہ ہیں سب سے پہلے تو اس دن صبح جلدی بیدار ہونا چاہیے اور سب سے پہلے غسل کر کے نئے کپڑے پہننا چاہیے ۔یاد رکھیں عید ہرگز لباس جدید کا نام نہیں، عید تو عمل مزید کا نام ہے،اللہ کی شکر گزاری کا نام ہے ۔دوسروں کو اپنی خوشی میں شامل کرنے کا نام ہے ۔اس دن خوشبو لگانی چاہیے ۔اس کے بعد مسجد کی طرف تکبیرات(اَللہ اَکبَر، اَللہ اَکبَر، لَااِلٰہَ اِلَّا اللہْ وَاللہْ اَکبَر، اَللہْ اَکبَر، ولِلّٰہِ الحَمدْترجمہ: اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں، اوراللہ سب سے بڑا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے، اور تمام تعریفیں اللہ ہی کیلئے ہیں) پڑھتے ہوئے ایک راستے سے جانا چاہیے اور دوسرے سے آنا چاہیے ۔واپس آ کر زیادہ وقت فیملی کو دیں ۔ایام عید میں عزیز و اقارب اور قریبی رشتہ داروں سے ملاقاتیں کریں ۔ایک دوسرے کو تحائف دیں ۔ کھانے پینے کا خصوصی اہتمام کرنے میں بھی کوئی حرج نہیں ہے۔کھانا کھانے سے یاد آیا ۔خاتون خانہ کو بھی عید منانے کا حق ہے ۔کھانا پکانے میں ان کی مدد کریں ۔اس سے باہمی محبت والفت پیدا ہوتی ہے جو پائیدارتعلقات کو جنم دیتی ہے ۔
ہر سال یہ شکایت ان کی جانب سے کی جاتی ہے اور
مناسب ہی کی جاتی ہے کہ عید ان کے لیے ڈبل ڈیوٹی لے کر آتی ہے ۔ان کا کام بڑھ جاتا ہے ۔شادی شدہ خواتین کا کہنا ہے کہ ’’ہماری کاہے کی عید ہوتی ہے ۔ عید تو مردوں اور بچوں کی ہوتی ہے ۔ہم تو سارا دن باورچی خانے میں گزار دیتے ہیں ‘‘دوسری طرف مردوں کا کہنا ہے کہ ’’اصل عید تو خواتین کی ہوتی ہے ،ساری کمائی شاپنگ پر لگ جاتی ہے۔ ان کو ہی میک اپ اور دیگر بننے سنوارنے کا سامان خرید کر دیا جاتا ہے ہم تو ایک لباس میں سارا دن گزار دیتے ہیں۔‘‘ وغیرہ لیکن حقیقت یہ ہے کہ بڑی عید کے موقع پرخواتین کی عید تو نہ ہونے کے برابر ہوتی ہے ،کیونکہ ان کا سارا سارا دن عید کے حوالے سے مزے مزے کے کھانے بنانے میں ہی گزر جاتا ہے ۔ یہ سچ ہے کہ عید تو بچوں کی ہوتی ہے ۔ نئے کپڑے ،نئے جوتے ،عیدی ،اور ان سب سے بڑھ کر سارا دن کھیلنے کی آزادی ۔اکثر بچوں کی عید ایسے ہی ہوتی ہے ۔بچپن گزر جائے تو عید کی خوشیاں بھی کم ہو جاتیں ہیں ۔لیکن کیا یہ سچ ہے کہ سب بچوں کی عید ایسی ہوتی ہے ۔ایک طرف خوشیاں ہوں تو دوسری سمت ماتم بھی ہوتا ہے ۔بہت سے بچے یتیم ہوتے ہیں ۔ان میں سے ایک کثیر تعداد یتیم خانوں میں پرورش پاتی ہے ۔جن کو عید پر بھی اپنے ماں باپ کا قرب نصیب نہیں ہو سکتا یہ کرب وہی جان سکتا ہے جس پر یہ حالات بیتے ہوں ۔تبھی تو آقا صلی اللہ علیہ وسلم عید پر ایک یتیم بچے کو اپنے گھر لے آتے ہیں اسے اپنی خوشیوں میں شامل کرتے ہیں ۔ہمیں اس سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو پورا کرنا چاہیے ۔بہت سے بچے ایسے ہوتے ہیں جن کو حادثات ماں یا باپ سے دور کرتے ہیں ان میں خاص کر وہ بچے جن کے کیس گارڈین عدالت میں لگے ہوتے ہیں ۔
یہ گارڈین ایکٹ ایک ظالمانہ قانون ہے جس کے تحت والد کو اپنی اولاد سے گھر میں ملنے سے روک دیا جاتا ہے۔ ایسے بے شمار والد اس دن اپنے بچوں کی یاد میں غم ناک عید مناتے ہیں اور بچے مجبور ہوتے ہیں اپنی ماں یا باپ میں سے کسی ایک سے مل نہیں پاتے ۔ایسے ہی کچھ جیل میں ہوتے ہیں ، بچوں کے علاوہ جن کو ماں باپ کا سایہ نصیب ہوتا ہے ۔سر پر کوئی بوجھ نہیں ہوتا ہم کہہ سکتے ہیں ان کی عید ہوتی ہے ۔ عید کے یہ ہی چند دن ہوتے ہیں جب تمام غرباََبھی پیٹ بھر کر کھانا کھاتے ہیں وہ گوشت سے ورنہ ملک عزیز میں ایسے گھروں کی اکثریت ہے جہاں پورا پورا سال گوشت نہیں پکتا۔ ان چند دنوں میں وہ تھوڑی اچھی حالت کے کپڑے پہن لیتے ہیں ،اور انہیں احساس ہوتا ہے کہ ہم بھی اللہ کا کنبہ ہیں۔ ہر عید پر کھربوں روپے کا کاروبار ہوتا ہے یہ سارا کاروبار غریب افراد کے ساتھ ہوتا ہے ۔ یہ عید کا تہوار جو صرف مسلمانوں کو نصیب ہوا ہے ۔اس میں سبھی کی خوشیوں کا خیال رکھا جاتا ہے ۔آپ منڈی چلے جائیں وہاں زیادہ تر وہ غریب ہوتے ہیں جو سارا سال جانور پالتے ہیں ۔تاکہ چند پیسے کما سکیں بچوں کے لیے کپڑے جوتے خرید سکیں ۔منڈی سے شروع ہو کر کھالیں اور ہڈیوں کی فروخت تک کاروباری زنجیر بنتی ہے ۔ہم مذہب اسلام کے پیرو کار ہیں عید قربان کے گوشت میں غریبوں کا باقاعدہ حصہ رکھا گیا ہے تاکہ دوسروں کی مدد کا احساس پیدا ہو ۔ ہمیں قربانی کے جانور میں سے ایک تہائی گوشت سے زیادہ گوشت رکھنے کی اجازت نہیں ۔ ایک تہائی سے قرابت داری پوری ہوتی ہے اور ایک تہائی سے خالصتا اللہ کی رضا کے لئے غرباََ میں تقسیم کیا جاتا ہے۔اس دن قصائی لوگوں کی عید ہوتی ہے ۔جس طرح چھوٹی عید پر نائی حضرات کی عید ہوتی ہے ۔آپ نے دیکھا یہ طبقہ بھی غریب افراد پر مشتمل ہوتا ہے ۔ان میں سے تو کچھ ایسے بھی ہوتے ہیں جو موسمی قصائی بن جاتے ہیں اور دیہاڑی لگا کر اپنے بچوں کے لیے عید کی خوشیوں
کی کمائی کرتے ہیں ۔اصل عید کا مقصد ہی دوسروں کو خوشیوں میں شامل کرنا ہے ۔ہمارے ملک کے اکثر سیاست دان ان ایام کو اپنے آبائی حلقے میں لوٹ آتے ہیں اور عید کے یہ ایام اپنے حلقے کے لوگوں کے ساتھ گزارتے ہیں ۔کچھ سیاست دان ملک سے باہر جا کر عید گزارتے ہیں ۔انہیں ایسا نہیں کرنا چاہیے ۔بلکہ ان ایام کو اپنے حلقے کے لوگوں سے مل کر ان کے مسائل حل کرنے پر یہ دن صرف کرنے چاہیے ۔عوام کو بھی چاہیے کہ جو لیڈر خوشیوں کے یہ لمحات ان کے ساتھ نہیں گزار سکتا اسے منتخب ہی نہ کریں ۔غریب طبقے کا کہنا ہے کہ عید تو ان کی ہوتی ہے جن کے پاس پیسہ ہو ،مال ودولت ہو ،غربا میں یہ احساس محرومی صرف اور صرف اسلام کے احکامات پر عمل نہ کرنے کے سبب سے پیدا ہوئی ہے ۔ہمارا مذہب اسلام سب سے زیادہ معاشرتی اور سماجی فلاح، مساوات اور روداری کا درس دیتا اور ہمیں پابند کرتا ہے کہ ہم بے سہارا افراد کا سہارا بنیں۔
دوسرے انسان اصل میں اللہ کا کنبہ ہیں ۔نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا ’’ مخلوق اللہ کی عیال ہے اور اللہ تعالیٰ کو سب سے زیادہ محبوب ہے جو اس کی عیال سے محبت کرے۔‘‘ اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا ’’ خدا کی قسم وہ مومن نہیں، جو خود پیٹ بھر کر کھانا کھائے اور اس کا پڑوسی اس کے پہلو میں بھوک سے کروٹیں بدلتا رہے۔‘‘ عید کے موقع پر حقیقی خوشی ایک دوسرے سے مل کر ہی حاصل ہوتی ہے۔ ہم ان دنوں کو چھٹیاں سمجھ کر انجوائے کرتے ہیں ۔ہم ان ایام کے شرعی مقاصد کو بھولتے جا رہے ہیں یہ ہی وجہ ہے کہ معاشرے میں بہتری نہیں آ رہی ۔پورے معاشرہ عدم تحفظ اور تنہائی کا شکار ہو چکا ہے ۔ہمارے دل پتھر ہوتے جا رہے ہیں ،ہم بے حس ہوتے جا رہے ہیں ۔ہم نہ صرف شرعی احکامات کو بھولتے جا رہے ہیں بلکہ غرباََ و مساکین کا ہماری ذات پہ جو حق ہے اسے بھی فراموش کر چکے ہیں۔ہمیں ان ایام کے منانے کے لیے ان کی روح کو سمجھنا ہو گا ۔اس کی روح یہ ہے کہ ہمیں یہ دیکھنا چایئے کہ کسی غریب کا گھر عید کی خوشیوں سے محروم نہ رہنے پائے۔ اسی سوچ کے ساتھ ہم قربانی کی سنت ابراہیمی ادا کریں تو ہی ہم ایسی قربانی کر سکتے ہیں جو حقیقتاً قربانی ہوگی۔


ای پیپر