عمران خان کا انقلابی خطاب، ایک جائزہ !

20 اگست 2018

میر معید

عمران خان کے خطاب کے بعد سوشل میڈیا کا تفصیل سے جائزہ لینے کے بعد ایک بات بڑے وثوق سے کی جاسکتی ہے کہ اس خطاب کو عوامی سطح پر زبردست پذیرائی ملی ہے۔ عوام نے اپنے زخموں پر مرحم رکھنے ، مسائل کی شاندار نشاندہی اور خاص کر سادے مگر جامع انداز میں سیدھی بات کو بڑے پیمانے پر سراہا ہے البتہ ایک تشنگی ہے کہ باتیں ساری ٹھیک ہیں مسائل حل کرنے کا مصمم ارادہ بھی ظاہر کیا ہے لیکن مختلف مسائل کا حل ہوگا کیسے یہ زکر نہیں کیا۔ لیکن عمران خان کو تنقید کا نشانہ بنانے سے پہلے تھوڑا وقت دینا چاہئے۔ وقت سے پہلے تنقید بے جا ، جانبدار یعنی تنقید برائے تنقید ہوگی۔ اس حقیقت سے انکار نہیں کہ عوام کی کثیر تعداد بشمول ڈھنگ کے رائے کار معترف ہیں کہ یہ روائتی تقاریر سے مختلف تھی اور حق بات کا مرقع تھی اس تقریر کے اہم پہلووں کا ایک جائزہ پیش خدمت ہے
وزیر اعظم نے ابتدا ء اور اختتام سادگی کے درس سیکیا لیکن اس حوالے سے دعوے سے زیادہ وعدے کئے گئے ہیں عمران خان نے قوم سے وعدہ کیا کہ وہ صرف دو گاڑیاں اور 2 ملازم رکھیں گے ، وزیراعظم ہاوس کوریسرچ یونیورسٹی بنائیں گے ، وزیراعظم کے لئے بلٹ پروف گاڑیوں کو نیلام کریں گے، کوئی گورنر۔گورنر ہاوس میں نہیں رہے گا،نیلام شدہ گاڑیوں کا پیسہ ملکی خزانہ میں جائے گا۔ عمران خان نے خلفاء4 راشدین کی مثال دے کر کہا کہ جب انھیں اقتدار ملا تو انھوں نے محل نہیں بنائے بلکہ سادگی کی مثال قائم کی لہازا وہ بھی سادہ ترین زندگی گزار کر دکھائیں گے۔ ایک اور اہم با ت اس منسلک یہ کہ انھوں نے کہا کہ وہ کوئی کاروبار نہیں کریں گے کیونکہ جب حکمران کاروبار کرتا ہے تو وہ خزانے کو اور باقی کاروباری حلقے کو نقصان پہنچاتا ہے۔
ہمارے زرائع کے مطابق وہ ایک نقطہ جس پر عمران خان کی توجہ سب سے زیادہ مرکوز ہے وہ ہے احتساب اور خاص کر لوٹی دولت وطن واپس لانا اس کے لیے انھوں نے نہ صرف وزارت داخلہ کا قلمدان اپنے پاس رکھا ہے بلکہ خطاب میں کہا ہے کہ نیب کو طاقتور بنائیں گے۔ کرپشن کو ملک سے ختم کریں گے کیونکہ یا یہ ملک بچے گا یا یہ کرپٹ لوگوں رہیں گے ، کرپشن کی نشاندہی کرنے والے کو انعام دیا جائے گا ، اداروں سے کرپٹ لوگوں کا خاتمہ کیا جائے گا اور اہم ترین نقطہ یہ کہ کسی بھی مقدمے کی سماعت ایک سال سے زیادہ نہیں ہو گی۔ اگرچے قانون کے طالب علم کے اس پر عمل کرنا ناممکن کے قریب تر ہے لیکن پھر حسن ظن رکھتے ہوئے امید کے دامن کو تھام کر تیل دیکھتے ہیں اور تیل کی دھار۔
عمران خان کا یہ بھی کہنا تھا کہ پولیس کا نظام ٹھیک کریں گے۔ اس حوالے سے عوام کو ان سے بڑی امیدیں ہیں۔ کیونکہ خیبر پختونخواہ پولیس بڑی حد تک خودمختار پولیس ہے جسے فعال بنانے کی جو کوشش کی گئی ہے اس کے ثمرات خیبر پختونخواہ کی عوام کو بخوبی مل رہے ہیں۔ خاص کر پولیس کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال نہ کر کے عمران خان کی گززشتہ خیبر پختونخواہ کی حکومت نے حکمت کی مثال قا ئم کی ہے
ایک اور اہم ترین نقطہ یہ تھا کہ گورنمنٹ اسکولوں کو بہتر بنائیں گے ، پرائیویٹ اسکولوں کے لوگوں کو گورنمنٹ اسکولوں کی حالت کو ٹھیک کرنے کا کہا جائے گا ، مدرسہ میں پڑھنے والے بچوں کا مستقبل روشن ہو گا انہیں بھی میرٹ پر لے کر چلیں گے۔ اور یہ کہ بچوں سے زیادتی کی بیماری کوجڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لیے اس کے خلاف سخت ایکشن لیا جائے گا۔ اگر عمران خان واقعی پلوں اور سڑکوں کی بجائے انسانوں پر سرمایہ کاری کرنے کی مثال قائم کرنا چاہتے ہیں اور تبدیلی لانا چاہتے ہیں تو انھیں سوا دو کروڑ بچہ جو تعلیم سے محروم ہے اس کے لیے اور خاص کر سرکاری سکولوں کے بچوں کی ناگفتہ بہ حالت سدھارنے کے لیے پانچ سال انتھک محنت اور انقلابی اقدامات کرنے ہوں گے۔ ایک اور اہم ترین نقطہ یہ تھا کہ اسپتالوں کا نظام بہتر کریں گے۔ پورے پاکستان میں ہیلتھ کارڈ متعارف کروائیں گے۔
عمران خان کا کہنا ہے کہ سب سے بڑا مسئلہ پانی کا ہے اس کو ضرور حل کریں گے۔ ڈیم کو بنائیں گے۔ بھاشہ ڈیم کو بنانے کے لئے بیرون ملک پاکستانیوں سے پیسہ مانگے گے۔ شائید یہ اس حکومت کے لیے بڑے چیلنجز میں سے ایک ہو۔ اور ڈیم پر چونکہ وقت بہت زیادہ لگتا ہے اس لیے اس کے لیے ہنگامی اقدامات کرنے ہوں گے۔ پھر وہ کہتے ہیں کہ کسانوں کے لئے پانی کی فراہمی بہتر بنائیں گے۔ کسانوں کے لئے ریسرچ بہت ضروری ہے کہ پانی کا سہی استعمال کیسے کیا جائے گا۔ اور یہ کہ زرعی ملک ہونے کے ناطے کسان کی خوشحالی کیسے یقینی بنائی جائے۔
ان کا دعویٰ ہے کہ سول سروسز کو مدد فراہم کرے گے مل کر کام کرین گے۔ عام آدمی کو عزت دیں گے۔ جو اس کا حق ہے وہ اسے دلوائیں گے۔عام آدمی کا کام ٹائم پر دیں گے۔ اور جو اچھا کام کرے گا اس کی تنخواہوں میں اضافہ بھی کریں گے۔ اگرچے بگڑی سول سروس مارشلاء4 ادوار میں ٹھیک نہ ہوسکی دیکھتے ہیں کپتان کے پاس کیا توڑ اور تریاق ہے کہ یہ بیمار گھوڑا بار برداری کرنے لگے اور ملک کو گھن کی طرح چاٹنا چھوڑ جائے۔ کپتان کی تقریر کا ایک اور اہم۔نقطہ ہے کہ بلدیاتی نظام میں بہتری لائیں گے۔ ناظم کا انتخاب ڈائریکٹ کریں گے، بچوں کے لئے پارک بنائیں گے ، شہروں میں درخت لگائیں گے۔ گندگی کو صاف کریں گے۔ پاکستان انشاء4 اللہ 5 سال بعد ایسا ہو گا کہ بیرون ممالک کہیں کہ پاکستان بہت صاف اور ستھرا ملک ہے۔نوجوانوں کو بلا سود قرضے ، پچاس لاکھ سستے گھر، ہر سال چار نئے بڑے سیاحتی مقام کھولنا بھی ایجنڈے میں شامل ہے ۔ عمران خان کا کہنا تھا کہ بلوچستان کے ایشوز کو حل کریں گے جوکہ کسی بھی حکومت کے لیے بڑا چیلنج ہے ۔ کراچی کے لوگوں کے لئے پانی کی فراہمی ، نیشنل ایکشن پلان پر بھرپور عمل درآمد ، ملک سے دہشت گردی کا خاتمہ ، اسٹریٹ چلڈرن بیوہ عورتوں معزور افراد کی ذمہ داری ریاست لے گی اور خان صاحب کہتے ہیں میں چاہتا ہوں ہم اپنے اندر رحم پیدا کریں شائد یہی ایک نقطہ ہے جس کے زریعے اس ہجوم کو یہ حکومت قوم بنا سکے۔
آخر میں ایک بار پھر وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ ایک ایک پیسہ بچا کر دیکھاوں گا، آپ کا پیسہ ہماری ذمہ داری ہے میں آپ کے پیسے کی حفاظت کر کے دیکھاوں گا ،پاکستان اللہ کی نعمت ہے۔ سرکار کے پیسہ کی ہم سب نے مل کر حفاظت کرنی ہے . ایک دن پاکستان میں آئے گا کہ پاکستان میں کوئی زکات لینے والا نظر نہیں آئے گا۔ سادگی کو بڑے پیمانے پر اپنانا ہوگا غریب کو عزت دینی ہوگی۔
یہ سب باتیں سننے میں شاندار ہیں اور شائید ان پر ساٹھ ستر فیصد بھی عمل ہوجائے تو پاکستان تیسری دنیا سے سیدھا ترقی یافتہ ممالک کی صف میں شامل ہونے کی روش پر گامزن ہوجائے اور واقعی ایک فلاحی ریاست اور انسانوں کا معاشرہ بن جائے۔ ان دعووں پر عمل ہوا تو ہر قدم پر ستائش اور تعریف ہوگی اور اگر یہ وعدے ایفا ہوتے نظر نہ آئے تو ہم جیسے نقاد ہر قدم پر معیاری تنقید جاری رکھیں گے۔ لیکن یہ حقیقت ہے کہ خطاب کی حد تک عمران خان نے میدان مار لیا۔ اب پردہ اٹھنے کی منتظر ہر نگاہ ہے کہ عملاً عمران خان خود کو کردار کے غازی ثابت کر پاتے ہیں یا محظ گفتار کے میدان کے مرد بن کر ناکام قرار پاتے ہیں۔ حسن ظن رکھئے دعا اور دوا جو بن پڑے کیجئے یہ ہم سب کے مستقبل کا سوال ہے۔

مزیدخبریں