یہ محض اتفاق ہے ؟
20 اگست 2018 2018-08-20

عمران خان اسلامی جمہوریہ پاکستان کے 22ویں وزیر اعظم کا حلف اٹھا چکے ہیں لوگ جس تبدیلی کا پچھلے 22سال سے انتظار کر رہے تھے اب وہ آچکی ہے ۔اب قوم اس انتظار میں ہے کہ کب خان صاحب کئے گئے وعدوں کی تکمیل کےلئے عملی کام شروع کریں گے ۔خان صاحب نے اس قوم باالخصوص اس ملک کے نوجوان کو بہت زیادہ امیدیں دلائی ہیں جن کو پورا کرنا تحریک انصاف کی حکومت کے لیئے ایک بڑا چیلنج ہو گا اور مجھے امید ہے کہ کپتان کی ٹیم نے اپنے وعدوں کی تکمیل کے لیئے پورا ہوم ورک کر لیا ہو گا ۔عمران خان 22سال بعد 22کروڑ عوام کے وزیر اعظم بن گئے ہیں ۔1992میں ورلڈ کپ بھی 22رنز سے جیتا تھا ۔ یہ 22کا ہندسہ واقعی خان صاحب کے لیئے خوش بختی کا نمبر ہے یا محض اتفاق ہے ؟

اسی طرح کا اتفاق قومی اسمبلی میں سپیکر اور ڈپٹی سپیکر کے انتخاب والے دن ہوا جب اومنی گروپ کے سربراہ انور مجید کو عدالت سے گرفتار کر لیا گیا،انور مجید جو سابق صدر آصف زرداری کے قریبی ساتھی سمجھے جاتے تھے مگر آج کل زرداری کچھ وجوہات کی وجہ سے انور مجید سے نالاں ہیں ،انور مجید کی گرفتاری زرداری کے لیئے ڈائریکٹ پیغام تھا کہ اگر راستے سے بھٹکے تو دوسرا راستہ آپ کا منتظر ہے۔خیر خورشید شاہ ن لیگ اور متحدہ اپوزیشن کے 146ووٹ حاصل کر سکے جب کہ اُن کے مد مقابل اسد قیصر 176ووٹ لیکر سپیکر قومی اسمبلی منتخب ہو گئے ۔دوسرا اتفاق اس دن ہوا جب قومی اسمبلی میں وزیر اعظم پاکستان کا انتخاب ہونا تھا ٹھیک اسی دن آصف زرداری کے بینکنگ کورٹ سے ناقابل ضمانت گرفتاری وارنٹ جاری ہو گئے،جسکے نتیجے میں پیپلز پارٹی وزیر اعظم کے انتخاب میں نیوٹرل رہی، ن لیگ کے رہنماﺅں نے بلاول بھٹو اور خورشید شاہ کو منانے کی کافی کوشش کی مگر بے سود۔ رانا ثنا ءاللہ کا بیان کہ پیپلز پارٹی کی اپنی مجبوریاں ہیں اس صورت حال میں کافی اہم ہو جا تا ہے اور پیپلز پارٹی جس صورتحال سے گزر رہی ہے اُ س کا منظر نامہ بھی واضح ہو جاتا ہے ،ہو سکتا ہے اگر پیپلز پارٹی ن لیگ کو ووٹ ڈال دیتی تو آج زرداری جیل میں ہو تے کیونکہ انور مجید کی گرفتاری اور زرداری کے وارنٹ گرفتاری کی ٹائمنگ بہت اہم تھی ،میں نے اپنے گزشتہ کالم میں ذکر کیا تھا کہ پیپلز پارٹی اور ن لیگ میں اعتماد کا شدید فقدان ہے اور پیپلز پارٹی کے شریک چیر مین جس گرداب میں پھنسے ہوئے ہیں اس وقت وہ اخلاقی اور جمہوری اقدار کی بجائے جُز وقتی فائدے کی سیاست کر رہے ہیں اور فی الحال وہ اس بھنور سے نکلنا چاہتے ہیں۔

یہ تو سب چلتا رہے گا مگر اہم بات یہ کہ نیا پاکستان معرض وجود میں آچکا ہے جس کے کپتان عمران خان ہیں اور اس نئے پاکستان میں ڈگمگاتی معیشت اور بیرونی قرضوں جیسے چیلنجز منہ کھولے ہمارا تمسخرا ُڑا رہے ہیں مگر اس کے ساتھ ساتھ کچھ اور اہم چیلنجز بھی ہونگے جن سے عمران کو نمٹنا ہو گا ،ذرائع کے مطابق عمران خان صاحب کو واضح پیغام دے دیا گیا ہے کہ وہ اپنے غیر سیاسی وفاداروں کو وزیر اعظم ہاﺅس سے دور رکھیں کیونکہ وزیر اعظم ہاﺅس بہت سارے قومی رازوں کا امین ہوتا ہے اور بہت ساری حساس معلومات شیئر کی جاتی ہیں لہٰذاان غیر سیاسی وفاداروں سے تھوڑا فاصلہ پیدا کیا جائے بطور پارٹی چئیرمین ان لوگوں کا آس پاس رہنا ایک الگ بات تھی مگر اب بطور وزیراعظم انہیں یہ پیغام دیا گیا ہے کہ ان لوگوں کو فارغ کر دیا جائے دوسری اہم بات یہ ہے کہ عمران خان کو سمجھایا گیا ہے کہ جلد یابدیر آپ کو پیپلز پارٹی کے ساتھ بیٹھنا ہو گا تاکہ چھوٹی جماعتوں کے اتحاد سے جو حکومت بنائی گئی ہے وہ بظاہر کمزور ہے اور وہ اپنے مفاد کے لیے کبھی بھی حکومت کو بلیک میل کر سکتی ہے لہٰذا حکومت کو بہتر پوزیشن میں لانے کے لیے تحریک انصاف کو پیپلز پارٹی کے ساتھ بیٹھنا پڑ سکتا ہے مگرعمران خان اس معاملے میں تذبذب کا شکار ہیں کیوں کہ اگر وہ زرداری کے ساتھ بیٹھتے ہیں اس سے ان کی ساکھ اور نظریے کی نفی ہو جاتی ہے ذرائع کا کہنا ہے کہ مائنس زرداری پر شاید تحریک انصاف اعتراض نہ کرے مگر مائنس زرداری پیپلز پارٹی کے لیے قابل قبول نہیں ہے ۔ خیر دیکھیں اب کیا ہوتا ہے مگر جس طرح کے حالات ہیں عمران خان کو مجبورا پیپلز پارٹی کے ساتھ بٹھا دیا جائے۔

اس وقت سینیٹ میں اپوزیشن کی اکثریت ہے تحریک انصاف کو کسی بھی طرح کی قانون سازی کے لیے شدید مشکلات کا سامنا ہو گا اگر پیپلز پارٹی تحریک انصاف کے ساتھ شامل ہو جاتی ہے تو یہ مسئلہ کس حد تک حل ہو جائے گا اور اس طرح ن لیگ کی پوزیشن قومی اسمبلی اور پنجاب اسمبلی میں کافی کمزور ہو جائے گی۔پنجاب میں ن لیگ ارکان بھی نظریاتی طور پر منحرف ہیں اور جو لوگ یہ توقع کیے بیٹھے ہیں کہ ن لیگ پنجاب اسمبلی میں حکومت کو ٹف ٹائم دے گی تو یہ محض ایک خام خیالی ہے ،حمزہ شہباز کو بیک وقت اپوزیشن لیڈر اور وزیراعلیٰ کے امیدوار کے لیے نامزدکیا گیا ذرائع بتاتے ہیں حمزہ شہباز کی نامزدگی میں نوازشریف کی مشاورت شامل نہیں،نوازشریف نے اپوزیشن لیڈر کے لیے خواجہ سعد رفیق کا نام دیا تھا مگر صدر مسلم لیگ ن جن کے تحفظات ہیں کہ خواجہ سعد کی زبان مقتدر حلقوں کے خلاف کافی دفعہ شدید سخت ہو جاتی ہے اس لیے نوازشریف کی مشاورت کے بغیر حمزہ شہباز کو نامزد کر دیا گیا کیونکہ ن لیگ کے بہت سارے پارلیمانی رہنما اس وقت مفاہمتی پالیسی پر عمل پیرا ہیں مگر ن لیگ میں ہی کچھ لوگ ایسے ہیں جن کا خیال یہ ہے کہ صدر ن لیگ کو جارحانہ رویہ اپنانا ہو گا کیونکہ مفاہمتی پالیسی کی وجہ سے انہیں مزید دبایا جا رہا ہے نوازشریف کسی بھی طور اپنا سخت بیانیہ چھوڑنے کے لیے آمادہ نہیں اور دوسری طرف شہباز شریف مفاہمتی پالیسی کو اپنائے ہوئے ہیں اور مجبوری یہ ہے کہ وہ کھل کر اس کااظہار پارلیمانی کمیٹی اور پارٹی کے رہنماو¿ں سے نہیں کر سکتے بہرحال اس سب کا فائدہ فی الحال تو حکومت وقت کو ہو گا جو ن لیگی کمزرویوں کو بخوبی جان چکی ہے ۔وزیراعظم نے حلف اٹھا لیا ہے اب اہم مرحلہ کابینہ کی تشکیل ہو گا اب دیکھئے قرعہ فال کس کے نام کا نکلتا ہے مجھے لگتا ہے کابینہ کی تشکیل عمران خان کے لئے حکومت بنانے سے زیادہ مشکل کام ہوگا کیونکہ وزارتیں اور عہدے لینے والوں کی ایک لمبی لائن ہے ایک باوثوق ذرائع نے بتایا کہ مراد سعید آج کل ناراض ہیں انہوںنے خان صاحب سے باتوں باتوں میں گورنری کی فرمائش کی پھر ڈپٹی اسپیکر اور اب وزارت کے لیے اپنے آپ کو عمدہ امیدوار سمجھتے ہیں ۔خیر کے پی کے گورنری تو شاہ فرمان کے حصے میں آگئی جنہوںنے اپنے سیاسی کیرئیر کا آغاز تحریک انصاف سے کیا اور عمران خان کے وفاداروں میں شامل ہوتے ہیں ان کی وفا داری کا عالم یہ ہے جب عمران خان اور تحریک انصاف کی حکومت بننے کے دور دور تک کوئی آثار نہیں تھے وہ تب بھی عمران خان کے ساتھ رہتے اور جب کوئی کام نہیں ہوتا تھا تو وہ کچن میں برتن صاف کرنے کے لیے کھڑے ہو جاتے خیر وزارتوں اور حکومتی عہدوں کے حوالے سے تحریک انصاف کے اندر ماحول کافی گرم ہے اب دیکھیں عمران خان اس مسئلہ کے کو کس طرح ٹھنڈا کرتے ہیں ۔


ای پیپر